معاشرتی جہالت پر تنی مذہبی چادر
آج سے ایک یا ڈیڑھ دہائی قبل ٹی وی پر خاندانی منصوبہ بندی کے بیشتر اشتہارات چلائے جاتے تھے۔ معلوم نہیں اب بھی ایسا ہے یا نہیں۔ بہرحال اس ذہن سازی کے کوئی دوررس نتائج برآمد ہوتے دکھائی نہیں دیے۔
یہ تشہیر فقط بین ثابت ہوئی، جس کے بجنے کی آواز شاید اتنی کم تھی کہ ڈرائنگ روم میں اوندھے کسی بھی شخص کے پردوں کو نہ چھو سکی۔ یقیناً اس پورے عرصے میں چلنے والی کمپین کا مقصد تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانا تھا تاکہ ایک ایسے پائیدار معاشرے کا قیام عمل میں لایا جا سکے جہاں تمام ریاستی وسائل نہ صرف منصفانہ تقسیم ہو سکیں بلکہ ان پر بڑھتا ہوا دباؤ بھی کم کیا جا سکے۔
آبادی کا بے ہنگم پھیلاؤ بلاواسطہ وسائل کے سکڑنے کی ایک وجہ ہے۔ عالمی درباروں پر ایڑیاں رگڑتی معیشت اپنے لاغر جسم اور کپکپاتے ہاتھوں پر اتنے انسانوں کا یہ بوجھ نہیں اٹھا سکتی۔
امت مسلمہ بشمول پاکستان نے محنت شاقہ اور لگن سے آبادی میں اضافہ کیا۔ اگر کسی نے مستقبل قریب کی نزاکت بھانپتے ہوئے ہاتھ ہلکا رکھنے کا مشورہ دیا تو اسے فرنگی یا صیہونی کیمپ کا خفیہ ایجنٹ قرار دے کر اپنے اس مشن پر کام جاری رکھا۔ جس کی نوید قرطاس کے فرش نازک پر دبے پاؤں ٹہل رہی تھی۔
سوال یہ ہے کہ جن کفار کو نیست و نابود کرنے لیے اہل اسلام غیبی امداد طلب کرتے ہیں۔ وہ کب تک ہم مفت خوروں کا بوجھ اٹھائیں گے۔ خوراک، طب، سائنس اور ٹیکنالوجی کے ہر شعبے کی تقریباً تمام ایجادات کا تعلق انھی غیر مسلموں سے ہے۔ ایک لمحے کے لیے انھیں سسٹم سے باہر رکھنے کا خیال کر بھی لیا جائے۔ تو شاید اس صدی کے مسلم پتھروں کے زمانے میں واپس لوٹ جائیں۔
حقیقت پر سیاق و سباق کے منافی مذہبی ٹچ کی یورش حقیقت کو زیادہ دیر تک جاہلیت کے زندان خانے میں نہیں رکھ سکتی۔ حقیقت یہی ہے کہ اب زمانہ توپ اور توپچیوں کا نہیں بلکہ سائنس اور ہنر کا زمانہ ہے۔ اب عالم کی مہار آدمیوں کی تعداد سے نہیں بلکہ معیار سے تھامی جاتی ہے اور معیار سائنس و ٹیکنالوجی، علم و فن، دلائل اور منطق کی کسوٹی پر پرکھے جاتے ہیں۔
بیشتر مسلم ممالک مفلوک الحال ہیں جو چند ایک آسودہ ہیں بھی تو ان میں زیادہ تر معدنی وسائل بیچ کر اپنی دکان چلا رہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ کاہلی، ہٹ دھرمی اور وہ مذہبی تاویلات ہیں جن کو جواز بنا کر یہ دھڑا دھڑ بچے پیدا کرتے ہیں اور پھر حکمت عملی کی بجائے محض حکمت الہی پر بھروسا کرتے ہیں۔
بڑھتی آبادی سے سکڑتے وسائل اور سکڑتے وسائل کے سبب ہچکولے کھاتی معیشت نے زرعی اور صنعتی شعبے کے پرزے کھول کر رکھ دیے۔ سو نتیجتاً بے روزگاری معمول کا ایک قصہ بنتی چلی گئی۔ بقیہ فرض مہنگائی نے بھڑکتی آگ میں ایندھن پھینک کر پورا کیا۔ جس سے سٹریٹ کرائم جو صرف چند شہروں تک محدود تھے، ملک کے چپے چپے میں سرایت کرتے چلے گئے۔
پاکستان جیسے تیسرے درجے کے قصبے جہاں پانی، گیس، بجلی، خوراک، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات کا فقدان ہو۔ جہاں وسائل کی ایسی غیرمنصفانہ تقسیم ہو کہ سوئی سے نکلنے والی سوئی گیس شہر شہر پہنچ جائے جبکہ سوئی کا محروم طبقہ سوکھی لکڑیوں پر اپنے پرانے خواب سینکتا رہے۔ تو ایسے میں ”ہمارا پاکستان“ کی تعمیر نو میں مزدور پیشہ محکوم کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ یہ دیس صرف حاجیوں اور حافظوں کی کھڑی کی گئی کمپنیوں ہی کی مرہون منت ہے۔
جمہور ان کی بنائی گئی کرائے کی مسجد میں وہ مقتدی ہیں۔ جنہیں ان کمپنیوں کا کسٹمر بن کر شاہی سیٹھوں کے اثاثوں میں اضافہ کرنا ہے۔ سو اس امر کی قطعاً ضرورت نہیں کہ غزوہ ہند اور لال قلعے پر چڑھائی کو تیار مضبوط گوریلا فوج کی غرض سے کنبے بڑھائے جائیں۔ عام آدمی کے لیے ایسی غیر متوقع فتح کی صورت میں بھی مال غنیمت چند ادھڑی لاشوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ خبر زیر گردش ہے کہ ایسی ناگہانی و خیالی فتح کے پیش نظر ”ہمارا پاکستان“ بشمول نیا و پرانا کے چنیدہ لوگوں نے ڈی ایچ اے ممبئی اور بحریہ ٹاؤن دلی پلاٹس کی فائلیں حاصل کر لی ہیں۔ بقیہ مال غنیمت میں تمام دوشیزائیں اہل ذوق و درباری ملا کے نرغے میں آئیں گی۔ عام شہریوں کی حیثیت فقط بچے پیدا کرنے والی مشینوں کی سی ہوگی جو ٹیکس دہندگان کی بھیڑ کا لائف سائیکل چلا سکیں۔
سو حاصل کلام یہ ہے کہ اپنے پاؤں اتنے پھیلاؤ کہ یہ اعتدال کی چادر سے ایک انچ بھی باہر نہ نکلیں۔ افزائش نسل کے ساتھ ساتھ دیگر بنیادی حقوق جیسا کہ تعلیم و تربیت، نان نفقہ وغیرہ والدین کی ذمہ داری ہے۔ اگر کثیر تعداد کے باعث، ماں باپ یہ ذمہ داری نبھانے سے قاصر ہیں تو انھوں نے پیراسائٹس اور ممکنہ طور پر جرائم پیشہ عناصر کو جنم دیا ہے۔
افزائش نسل کو لے کر اگر چند مذہبی نقال یہ جواز پیش کریں کہ ہر آنے والا اپنے حصے کا رزق لے کر آتا ہے۔ تو ایک نظر اردگرد دوڑائیں کہ کیوں اور کیسے آئے روز سالم جوان اپنے معدے کا رزق کنپٹی پر پستول رکھ کر دوسرے کی جیب سے برآمد کرتا ہے۔
مزید برآں گداگروں کے پھیلتے نیٹ ورک یہ آشکار کرتے ہیں کہ نوالہ سیدھا منہ میں نہیں گرتا بلکہ تھوڑا حیلہ درکار ہے۔
سادہ سی بات ہے صاحب، سارا مسئلہ ہی یہاں سے شروع ہوتا ہے۔ جب گھی سیدھی انگلی سے نہ نکلے تو چوری، ڈکیتی، رشوت، لوٹ کھسوٹ اور مار دھاڑ سے نکالا جاتا ہے۔ جس کا نتیجہ معاشرتی انتشار اور عدم استحکام کی صورت میں نکلتا ہے۔ جو آگے چل کر ریاستی ڈھانچے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔
سو اگر اول درجے کے خواب دیکھنے ہیں تو ایسی مذہبی نقالوں سے ہوشیار رہیے جنہوں نے آپ کے گلے میں تنگ نظری کا طوق پہنا دیا۔
جذباتی اور جنونی خول اتار کر اگر دلائل اور منطق کی قبا اوڑھ لی جائے تو شاید کچھ افاقہ ہو سکے۔



کمال