الیکشن نوے دن کے اندر ہونے لازمی قرار
پاکستانی جمہوریت ہمیشہ محفوظ ہاتھوں میں رہی۔ بڑے بڑے جمہوری نام ابھی بتائے دیتا ہوں۔ پہلے جنرل ایوب خان پھر اس کا بیٹا اور اب پوتا جمہوریت کے لیے فکر مند کبھی ایک نشان پر الیکشن لڑتا اور کبھی دوسرے پر۔ ظاہر ہے جمہوریت کی خدمت ان کے خون میں ہے۔ پہلے جنرل ضیا الحق اور اب اس کا بیٹا کبھی مسلم لیگ نون، پھر مسلم لیگ مشرف، پھر مسلم لیگ ضیا الحق اور اب پی ٹی آئی کے جھنڈے تلے صرف اور صرف جمہوریت کی فکر لیے پھرتا ہے۔
بشری بی بی کے جنات، گیٹ نمبر 4 پر بیٹھ کر طوطا فال نکالنے والا شیخ رشید اور شہباز شریف یہ سب صرف اور صرف جمہوریت کے لیے گھلے جا رہے ہیں۔ جنرل باجوہ، جنرل راحیل شریف اور ملک ریاض تو ظاہر ہے کہ بنے ہی جمہوریت کی خدمت کے لیے ہیں۔ پنچایت بھی اسی فکر میں گھلی جا رہی ہے۔ کاش کوئی پٹھان قاضی بھی ہتھوڑا لے کر ساتھ مل جاتا تو ہم جرگہ اور پنچایت کو ملا کر ایک نئی اصطلاح جرگایت متعارف کرا دیتے۔
ووٹ کو عزت دینے کا یہی چلن پہلے دن سے ہے۔ اسی لیے تو ہمارے ہاں اسمبلی کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ کسی بھی وقت کسی بھی اسمبلی کو کام پر لگا کر اپنا کام نکالا جا سکتا ہے۔ اسمبلیوں کی شہادت ایسے ہوتی ہے جیسے گاجر مولی کاٹنا۔ یہ ایک ایسے کچے گھڑے کی مانند ہو گئی ہیں جس پر بیٹھ کر سیاست دان دریا پار کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ سیاست دان بھی زیادہ تر بہروپیے ہوتے ہیں اس لیے وہ اس گھڑے کو کچا ہی رکھنا چاہتے ہیں۔
پہلے تو اس کچے گھڑے میں بم فٹ کیے ہوتے تھے جن کو عام زبان میں ہم الیکٹ ایبلز کہتے ہیں۔ یہ گھڑے کو اسی جانب لے جاتے تھے جدھر بم کا مالک کہتا ہے یا بیچ منجدھار کے گھڑا پھٹ جاتا تھا۔ لیکن اب ایمرجنسی استعمال کے لیے پاس ہی ایک ہتھوڑا لٹکا دیا گیا ہے تاکہ پانی میسر نہ ہونے صورت میں بھی اسمبلی کی سمت درست رکھی جا سکے۔
اسمبلیوں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ کپتان نے پاکستان کی قومی اسمبلی اپریل 2022 میں عدم اعتماد کی تحریک کے باوجود آدھی رات کو توڑنے کی کوشش کی۔ کامیابی نہ ہونے پر اسی اسمبلی میں بیٹھنے سے انکار کر دیا جس کا کل تک وہ خود ہی لیڈر تھا۔ پھر شور کرتے رہے کہ ساری اسمبلیاں توڑ دی جائیں۔ اس میں کامیابی نہیں ہوئی تو دو صوبائی اسمبلیوں کے توڑنے کا اعلان ایک جلسے میں ہی کر دیا۔ جو باقی تین اسمبلیاں ابھی قائم ہیں کپتان ہی کی ضد کی خاطر ان کو توڑنے کے لیے جرگہ بیٹھ چکا ہے۔ الیکشن اکٹھے کرانے کا مطلب تو یہی ہے۔
مولانا فضل الرحمان کا ماننا ہے کہ آئین کی شق ”ب“ کو شق ”د“ کے ساتھ ملا کر پڑھیں تو آئین کا تقاضا ہے کہ عمران خان اگر چاہیں تو اسمبلیاں توڑ دینی چاہییں۔ آئین کو اس بات کا احساس ہے کہ کپتان کے لیے پچھلا سال کچھ اچھا نہیں تھا۔ فرح گوگی جیسی نیک خاتون اور قریبی دوست کو ملک چھوڑنا پڑا۔ اس کا کفارہ صرف دو اسمبلیوں کی قربانی سے ادا نہیں ہو سکتا۔ آئین مزید کہتا ہے کہ پاکستان دیوالیہ ہو جاتا، گائیں دودھ دینا مزید کم کر دیتیں یا پھر روس اور یوکرین میں جنگ بندی ہو جاتی تو صرف دو اسمبلیاں ٹوٹنے سے گزارا ہو جاتا لیکن اب ممکن نہیں۔
اس پر شہباز شریف اور اسحاق ڈار عمران خان کو یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ روسی صدر پیوٹن اور پاکستانی گائے پر تو ان کا کوئی کنٹرول نہیں لیکن ملک دیوالیہ ہونے کا تحفہ آج نہیں تو کل انہیں مل ہی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو دیوالیہ کرنے کی عمران حکومت کی کوششیں اب بھی اسی طرح جاری ہیں۔ یہ کوششیں ضرور کامیاب ہوں گی۔ اس کے لئے نوے دن کے اندر الیکشن ہو جائیں گے۔ اگر کوئی شک ہے تو اعجاز الحق سے پوچھ لیں۔ نوے دن کا مطلب ان سے بہتر کون جانتا ہے۔


