میں کون ہوں اے ہم نفسو۔ 8۔ ایچ اقبال کا عروج و زوال


ڈائجسٹوں نے عام آدمی کے لیے ادبی دلچسپی کا نیا ساماں فراہم کیا۔ وقت گزاری سے قطع نظر ان رسالوں نے عوام کے ادبی ذوق کی تربیت کا ساماں فراہم کیا اور کسی حد تک انہیں اچھی کہانی کا تصور دیا۔ کسی کہانی کی ناکامی از خود استرداد کی سند ہوتی تھی۔ پھر انہی کہانیوں میں عالمی ادب کا انتخاب اردو میں شایع ہوا اور لوگوں نے اردو ادب کے انتخاب سے او ہنری سے البرتو موراویا اور موپاساں تک سب کی کہانیاں پڑھ لیں۔

تاہم اکثریت بلکہ سب نے ڈائجسٹوں کی اشاعت کا سلسلہ ایک منافع بخش کاروبار سمجھ کے ہی شروع کیا تھا۔ یہ کسی کا بھی پیشہ نہیں تھا چنانچہ اس شعبے میں عالمی ڈائجسٹ کے سوا سب کے سرمایہ کار ادبی وہی تھے جو تخلیقی ادب میں کوئی نمایاں حیثیت نہیں رکھتے تھے۔ ایسا ہی ایک نام ”الف لیلہ“ ڈائجسٹ کا تھا جو ہمایوں اقبال یا ’ایچ اقبال‘ نے شروع کیا۔ وہ خود کہانی کے علاوہ غزل لکھ سکتا تھا۔ اس کے والد بلگرامی صاحب عالم تھے اور جوش ملیح آبادی سے اس گھرانے کے قریبی مراسم تھے چنانچہ ایچ اقبال نے ’یادوں کی بارات‘ کی اشاعت پر اپنے اعتراضات قلم بند کیے تھے۔ شاید کچھ واقعات اسے خلاف واقعہ لگے یا اسے ترمیم و تنسیخ کا شبہ ہوا۔ واللہ اعلم۔

الف لیلہ کی اشاعت 1975 سے پہلے کا واقعہ ہے۔ اس نے ایک ملاقات میں اپنے مخصوص انداز محبوبی کے ساتھ کہا کہ آپ کی کہانی ہم کب شایع کریں گے۔ حلیہ اس کا وہی جو تمام عمر رہا۔ اجلے سفید وائل کا کرتا اور چوڑے پائنچے کا پاجامہ جس پر داغ کسی نے نہ دیکھا۔ میں گارڈن روڈ پر رہتا تھا۔ ایک روز کہانی دینے گیا تو دیکھا دفتر دستگیر میں ایوب منزل پر 120 گز والے گھر کا ایک کمرہ ہے۔ باقی حصے میں مرحومہ سلطانہ بھابی رہتی تھی۔ چار پانچ افراد کو ایک کمرے کی تنگی کا کوئی احساس نہ تھا۔ ایک رسم وہاں عجیب دیکھی۔ پروف ریڈنگ کی ہر غلطی پر ایک روپیہ جرمانہ وصول کیا جاتا تھا۔ ایک بار 1977 میں سات افراد میری فاکس ویگن میں پیک ہوکے ناظم آباد چورنگی پر ملا احمد کی نہاری کھانے گئے تو جاوید نامی ایک کاتب نے شرط لگا کے سات بوتلیں سیون اپ کی پی لیں گرچہ اسے سانس لینا دوبھر ہو گیا

الف لیلہ تیزی سے مقبول ہوا۔ ایک دن ایچ اقبال نے میری موٹر ساییکل کے پیچھے بیٹھ کے کہا ”یار ایک قالین خریدنا ہے“ ۔ گھوم پھر کے قالین منتخب کرنے کے بعد اس نے حاتم طائی کی قبر پر لات مار کے کہا ”چل تجھے برنس روڈ والے وحید کے فرائی کباب کھلاؤں“ ۔ ان کا شہرہ میں نے بہت سنا تھا۔ شوق کاروبار ہو سکتا ہے لیکن کاروبار شوق نہیں ہوتا۔ اتنے ہی عرصے میں وحید کبابی مثالی ترقی کر کے سوسائٹی کے پوش علاقے میں کئی منزلہ جگمگاتا ہوٹل کھول چکا ہے لیکن الف لیلہ داستان ماضی کے سوا کچھ نہیں۔

اسے گانے اور موسیقی سے بہت رغبت ہے۔ ایک بار وہ مجھے گورا قبرستان کی طرف سلور کوارٹرز میں لے گیا۔ ان کوارٹروں کی چھت دھوپ میں چاندی کی طرح چمکتی تھی لیکن اندر نچلے ترین درجے کے سرکاری ملازمین کو بسا دیا گیا تھا۔ یہاں ایچ اقبال کے کلاسیکی موسیقی سکھانے والے استاد رہتے تھے۔ ان کا نام اب مجھے یاد نہیں لیکن وہ کسی طرف سے بھی مجھے غلام علی خان یا عبدالکریم خان نہیں لگے اور ان کی گائیکی نے مجھے ذرا متاثر نہیں کیا۔ سیکھا تو معلوم نہیں کیا لیکن ایچ اقبال نے ہارمونیم سکھانے کے لیے سرگم پر ایک کتاب لکھی تھی ”ابجد موسیقی“ ۔ ( ہم اسے ابا جی دی موسیقی کہتے تھے )

جب الف لیلہ راکٹ کی طرح اوپر گیا تو ایچ اقبال پر دولت کی برسات ہوگی، اس نے نارتھ ناظم آباد میں ’چیل والی کوٹھی‘ کرائے پر لی اور اس کے ساتھ ہی اسے شاہانہ انداز سے فرنش کرنا بھی شروع کر دیا۔ بیشتر عام آسائش کی چیزیں تھیں جیسے کہ قالین بیڈ یا صوفے۔ لیکن ایک تو اس نے جاپانی ’اکائی‘ کا بیش قیمت میوزک سسٹم خریدا جس کی حسرت ہم خواب میں بھی نہ کرتے۔ دوسرے اس نے بہت بڑی اور شاندار کھانے کی میز بنوائی۔ آخری چیز جو وہ خرید سکتا تھا گاڑی تھی۔ سو اس نے بالکل نئے ماڈل کی چھ ہاتھ لمبی سرخ ٹویوٹا مارک ٹو خرید لی۔ اس کے بعد کوٹھی میں محافل ناؤ و نوش کا چلن ہوا اور نوبت بہ اینجا رسید کہ ایک دن سنا شہنشاہ غزل مہدی حسن کی آمد آمد ہے۔ ؎ وہ آئے بزم میں اتنا تو ہم نے دیکھا میر۔ زمانے کی طرح میں بھی مہدی حسن کا دیوانہ ہوں آج بھی یقین رکھتا ہوں کہ غزل گائیکی میں اس کا ہمسر کوئی ہوا نہ ہو گا۔ قدرت نے اسے راگ داری سکھانے پر عبور دیا تو آواز میں وہ کھرج بھی عطا کی جو پہلے کسی کو ملی تو اس کا نام سہگل تھا۔

ایک صبح میں اپنے گھر سے پیدل چل کے الف لیلہ کے دفتر پہنچا۔ فیڈرل بی ایریا کے بلاک 16 اور 14 کے درمیان صرف سڑک ہی حائل تھی۔ الف لیلہ کے آفس میں مہدی حسن تشریف فرما تھے۔ ایچ اقبال نے مجھے دیکھتے ہی کہا ”اچھا ہوا یار تو آ گیا۔ خان صاحب کو ذرا گھر تک لے جانا تھا“

میں نے کہا ”میں گاڑی نہیں لایا“
اس نے مجھے ایک دو گالیوں سے نواز کے کہا ”اچھا چل پھر یہ میری گاڑی لے جا۔ مجھے کام ہے کچھ دفتر میں“

میں نے صاف انکار کر دیا ”میری چھوٹی سے بیل گاڑی کہاں اور یہ الف لیلوی سواری کہاں۔ بے مہار ٹریفک میں کسی ہم جنس سے لگ جائے گی تو مارا جائے گا یہ غریب کا بچہ“
خان صاحب ہنسے ”مسئلہ در اصل ہمارا ہے۔ ہم ان کے گھر کچھ بھول آئے ہیں“

اب پبلک کے پر زور اصرار پر میں نے اللہ کا نام لے کر عروس لالہ جیسی الف لیلوی سواری کو پہلے گلی سے سڑک پر بہت مشکل اور احتیاط سے نکالا۔ پھر مہدی حسن خان کو واٹر پمپ کی طرف لے کر چلا۔ وہ مجھے کچھ کومل سروں کا فرق سمجھا رہے تھے ”دیکھو میاں سارا کمال ’وادی سم وادی‘ کا ہے۔ ایک تو اتنی باریکی میں سمجھتا نہیں۔ پھر سڑک پر ٹریفک کی لا قانونیت کا ایسا مکس اچار تھا جس کا احساس مجھے اپنی غریبانہ سی گاڑی چلاتے وقت کبھی نہیں ہوا تھا۔ اتنی بڑی اور قیمتی گاڑی میرے اعصاب پر سوار تھی اور نروس میں تھا۔ چوک سے آگے خان صاحب نے دروازہ تھوڑا سا کھولا اور جھک کے سڑک پر پان کا ملغوبہ انڈیلنا چاہا۔ میں نروس نہ بھی ہوتا تو سامنے سے ایک کھسرا خود کشی کے لیے آ گیا تھا۔ میں نے ایک دم بریک ماری تو جھٹکے سے استاد باہر جا گرے۔ یا میرے خدا۔ میں نے گاڑی روکی اور اتر کے دوڑا اور خان صاحب کو اٹھا کے گاڑی میں بٹھایا۔ وہ تکلف میں ضرور کہتے رہے کہ کچھ نہیں ہوا میاں ہمیں۔ تم چلو۔ میں خود مجمع لگانا نہیں چاہتا تھا۔ کوئی نوٹ کر کے اعلان کر دیتا کہ گاڑی میں مہدی حسن ہیں تو نکلنا مشکل ہوتا۔

گھر پہنچ کے میں نے جتنی دیر میں گاڑی گھمائی وہ اندر سے بھولی پوئی چیز منہ سے لگائے بر آمد ہوئے۔ حیرت یا صدمہ کی بات نہیں تھی۔ مجھے فکر تھی کہ ایچ اقبال کے سامنے پوزیشن خراب ہوگی۔ ہمت کر کے میں نے خانصاحب سے کہا کہ وہ ایچ اقبال کو کچھ نہ بتائیں تو بڑی مہربانی۔ اور انہوں نے میری حالت غیر دیکھتے ہوئے سر ہلا دیا۔ ایسے تمام مشاغل کا نتیجہ الف لیلہ کی طرف عدم توجہی یا عدم دلچسپی کی صورت نکلا۔ ستم بالائے ستم آفس کے تین مختصر کمروں میں سے ایک کو ’باس‘ کا کمرہ بنایا گیا۔ بالکل بیوروکریٹک سٹائل میں۔ شاہانہ وسیع میز۔ سامنے ملاقاتیوں کی کرسیاں۔ ڈیکوریشن وغیرہ۔ اس کے باہر ’پی اے‘ کی ٹیبل تھی۔ اس پر شمیم نوید بیٹھ گیا۔ اس کے سامنے دو طرح دار لڑکیاں بٹھا دی گئیں جو میز کے پیچھے اچھی لگتی تھیں۔ وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ۔ میں پہنچا تو نقشہ دیکھ کر ٹھٹکا۔

اندر جانے لگا تو شمیم نوید نے روک دیا کہ پیشگی اجازت ضروری ہے۔ مجھے سخت طیش چڑھا کہ یہ کیا ڈراما ہے سبکی بھی محسوس ہوئی۔ شمیم نوید کو ایک طرف کر کے اندر گھس گیا۔ ظاہر ہے اس فلمی سیٹ سے کون متاثر ہوتا۔ لڑکیوں کی وجہ سے آنے جانے والے بہت بڑھ گئے۔

ہمایوں اقبال لا ولد تھا چنانچہ اس کی بیوی بہت متفکر رہتی تھی اور میری بیوی کے سامنے روتی تھی کہ اپنا گھر بنانے کی بات کروں تو کہتے ہیں یہ چلتا ہوا ڈائجسٹ۔ شاہانہ گاڑی اور لاکھوں کی آمدنی تمہیں کیا کم ہے۔ میں ہی نہ رہا تو تمہارا اتنا دولت مند بھائی بھی ہے اس کے ساتھ رہنا۔ انجام کوئی غیر متوقع نہیں ہوا۔ اشاعت کم ہوئی تو قرض خواہ جان کو آ گئے۔ ایک بار وہ نشے میں سڑک پار کر رہا تھا کہ میری گاڑی کے نیچے آتے آتے بچا لیکن وہ اتنا اپ سیٹ اور خود سے اتنا بے خبر تھا کہ پلٹ کر نہیں دیکھا۔ آخری دنوں میں کرایہ نہ دینے کے باعث گھر خالی کر رہا تھا تو مولانا اکبر انصاری مالک مکان سے پتا چلا جو میرے ہمسائے تھے۔ گھر کا سامان بیچنے کا اشتہار اخبار میں دیکھا تو میرا بیٹا کہنے لگا کہ میں ’اکائی‘ کا میوزک سسٹم خریدنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا کہ بیٹا میں تو اس کے سامنے جا کے اسی سسٹم کا سودا کرنے کی ہمت نہیں رکھتا جو ایچ اقبال نے میرے ساتھ جا کر بڑے چاؤ سے لیا تھا۔ بیٹا خود گیا اور میوزک سسٹم لے آیا لیکن اس نے میرا نام نہیں لیا

اس کے بعد ایچ اقبال سب کچھ چھوڑ چھاڑ کلفٹن پر بیوی کے ساتھ ایک کرائے کے چھوٹے سے گھر میں چلا گیا جو ایک بیکری کے اوپر بنا ہوا تھا مگر رکھ رکھاؤ میں اس کی وضعداری برقرار رہی۔ کہانیاں لکھنے کا فن خداداد تھا۔ معراج رسول مرحوم کبھی کبھی اس کی کہانی شایع کر دیتے تھے اور یوں بھی خاموشی سے سب کی مدد کرنا ان کی فطرت تھی۔

جب میں اسلام آباد چلا گیا تو ایچ اقبال سے رابطہ یکسر ختم ہو گیا۔ درمیاں کی کہانی مجھے کراچی کی ایک خاتون پروفیسر سے معلوم ہوئی۔ انہوں نے ایچ اقبال کی بہت مدد کی تھی۔ ایچ اقبال کی حالت زار پر اور دوستوں سے بھی رابطہ کیا تو پتا چلا دامے درمے سخنے اس کی مدد سب احباب کرتے رہے تھے لیکن الف لیلہ کے ساتھ ہی ایچ اقبال بھی بھولی بسری داستان ہو گیا اگرچہ اس کی لکھی کہانیاں رہیں گی۔

فسانہ شب غم ان کو اک کہانی تھی
کچھ اعتبار کیا کچھ نہ اعتبار کیا

عالمی۔ سورج اور الف لیلہ کے عروج و زوال کی حکایت میں انوکھا کچھ نہیں ہے۔ کاروبار شوق کو بھی اسمعیل میرٹھی کی زبان میں ناؤ کاغذ کی کہا جاسکتا ہے بزنس اصول و قواعد کا پابند ہوتا ہے اور اس کے تقاضوں سے انحراف کسی بھی صورت میں ہو انجام ایک ہی ہوتا ہے۔ لکھنے والے ہمیشہ شکوہ کناں رہے کہ پبلشر نے ان کا استحصال کیا اور دولت مند ہو گیا۔

استحصال کا شکوہ صد فی صد بجا۔ لیکن میرا خیال ہے رائٹر ایک کامیاب پبلشر بھی بننا چاہیں تو نہیں بن سکتے۔ ڈائجسٹوں کے بزنس میں کون کامیاب، ماضی کے دریچے سے دیکھتے رہیے۔

Facebook Comments HS

احمد اقبال

احمد اقبال 45 سال سے کہانیاں لکھ رہے ہیں موروثی طور شاعر بھی ہیں مزاحیہ کہانیوں کا ایک مجموعہ شائع ہو کے قبولیت عامہ کی سند حاصل کر چکا ہے سرگزشت زیر ترتیب ہے. معاشیات میں ایم اے کیا مگر سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں اور ملکی تاریخ کے چشم دید گواہ بھی ہیں.

ahmad-iqbal has 32 posts and counting.See all posts by ahmad-iqbal