انسانیت:روبندر ناتھ ٹیگور سے جسٹس جواد ایس خواجہ تک کا سفر


زندگی اپنے انجام تک وقت کے دائرے میں خوشی اور غم سے نبرد آزما رہتی ہے۔ شاید اس دائرے میں خوشی کا پھیلاؤ کم اور غم کا زیادہ ہوتا ہے۔ وقت کی آنکھوں میں نہ تو نیند کی لالی چھاتی ہے نہ ہی موت کے خوف سے زرد رنگ۔ اس کا ان دیکھا وجود رہتا ہے۔ وقت کا سفر ایک ایسا سفر ہے جس پر گامزن ہو کر منزل کا ادراک شاید ممکن نہیں۔ مادی دنیا میں انسانی زندگی کا سفر وقت کے ساتھ موت تک جاری رہتا ہے۔ جیسے ایک وجود کو موت آئی تو اس دنیا سے اس کا کردار ختم ہو جاتا ہے۔ زندگی وقت ہے یا وقت زندگی یا دونوں ایک ہی شے کے دو نام ہیں۔ اس میں نہ آج تک کوئی امتیاز کر سکا ہے اور شاید اس میں فرق ممکن بھی نہیں۔ اس پر انسانی عقل حیران ہے۔

بولتا ہے خلاء میں میرا وجود
وقت میری انا کا دھارا ہے
(راوی، جی سی یو لاہور)
انسان کا وجود وقت اور زندگی کا مرہون منت ہے۔ جتنی مہلت یہ دونوں اسے دیں اتنی وہ عمر پاتا ہے۔

اس عمر کو انسان دو طرح سے بسر کرتے ہیں :ایک رائج نظام کے آگے لکیر کے فقیر بن کر اور دوسرے اس گداگری سے بغاوت کر کے۔ کچھ نیا کرنے کا سوچتے ہیں۔ یہ بغاوت اصل میں جو افراد فطری نظام میں بگاڑ یا فساد پیدا کرتے ہیں اس کے خلاف ہوتی ہے۔

ہر فرد کا زندگی میں دو بنیادی نظاموں سے سامنے ہوتا ہے۔ ایک قدرت کا بنایا ہوا اور دوسرا اس کا مخالف نظام یعنی انسانوں کا تشکیل دیا ہوا۔ دونوں کے درمیان ایک کشاکش جاری ہے۔ آخر الذکر افراد کے ہاتھوں تشکیل پاتا ہے اور انسان خود ہی اس کی تعمیر و تخریب کا ذمہ دار ہے۔ جب کہ اول الذکر خود رو و خودکار ہے اور اس کا مکمل طور پر مشیت ایزدی کی تابع ہے۔

انسان کو نئی سوچ کی کامیابی کے لیے مناسب منصوبہ بندی، اقدامات، محنت اور قسمت کے ادراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو یہ ضرورت پوری کر لے اسے کامیابی مل جاتی ہے، پھر عوام کی اکثریت بنا سوچے سمجھے آنکھیں بند کیے کامیاب شخص کی پیروی کے لیے پیچھے دوڑ پڑتی ہے۔ تبدیلی کے لیے نئی فکر یا نظریہ درکار ہوتا ہے۔ اسے اپنی کامیابی کے لیے ایک مقام کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جہاں سے نظریہ

کو اپنا اطلاق و ابلاغ لوگوں کے ذریعے لوگوں پر کرنا ہوتا ہے۔ جس سے ادارے اور تحریکیں ظہور پذیر ہوتی ہیں اگر ان کی بنیاد کسی مخصوص مرکز اور ذاتی فائدے کی بجائے انسانیت کی بھلائی پر رکھی جائے تو آنے والی نسلوں کی تربیت انسانیت کے سنہری اصولوں پر ہوگی ورنہ سرمایہ دارانہ نظام میں تو جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔

دنیا میں نسل، رنگ، مذہب، زبان اور مفادات کے دیگر دائروں سے قطع نظر کر کے جو لوگ صرف انسانیت کے بارے میں سوچتے اور ہمہ گیر انسانی بہبود کا درد دل میں رکھتے ہیں اگرچہ اقلیت میں ہیں لیکن ہر دور میں ان کے کارنامے ایسے شاندار رہے ہیں جنہیں فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ جن افراد نے ذاتی فوائد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قوموں کی تقدیر کے دھارے موڑ ڈالے۔ تاریخ کا دھارا بدلنے والوں میں سیاسی میدان سے مہاتما گاندھی ( 1948۔ 1869 ) اور نیلسن منڈیلا ( 2013۔ 1918 ) وغیرہ جب کہ خدمت خلق میں میری ٹریسا المعروف مدر ٹریسا ( 1997۔ 1910 ) اور عبدالستار ایدھی ( 2016۔ 1928 ) کا نام پوری دنیا میں گونجتا ہے۔ اوپر بیان کردہ لوگوں نے اپنی ذات کی نفی کر کے انسان دوستی اور آنے والی نسلوں کو سکھ کا

سانس لینے کے لیے ایک ایسی فضاء فراہم کی۔ جس نے قدرتی نظام میں بگاڑ پیدا نہیں کیا۔ دوسری جانب بعض نے اپنی ایجادات سے قوموں کی ڈوبتی نیاء کو کنارے پر لگایا مثلاً بل گیٹس اور سٹیو پال جابز ( 2011۔ 1955 ) جنہوں نے مائیکروسافٹ اور ایپل کے ذریعے معاشی طور پر ڈوبتے امریکہ کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔ جس کی بنیاد پر جاپان کی معاشی طاقت کے خلاف امریکہ آج سپر پاور ہے۔ ان کی ایجادات نے قدرتی نظام، پہلے سے رائج معاشی، سیاسی، معاشرتی اور مذہبی طور طریقوں کو بدلنے پر مجبور کر دیا ہے۔ لوگوں کو اپنی زندگیوں، نجی تعلقات اور رشتہ داریوں سے بے دخل کر کے ٹیکنالوجی کی دنیا کا اسیر بنا دیا ہے۔ ترقی یا ایجاد بری چیز نہیں بل کہ انسانی زندگی کا لازمی جز ہے مگر پوری دنیا کو ان ایجادات کی بناء پر غلام بنا کر رکھنا انسانیت کے منافی ہے۔

وادی سندھ اور گنگا جمنی تہذیبوں اور بیرونی حملہ آوروں کا تعلق اتنا پرانا ہے کہ معلوم تاریخ اس کی قدیمیت سے بے خبر ہے۔ اس سرزمین کی تاریخ ایک ایسا سمندر ہے جس میں حقائق جاننے کے لیے غوطہ لگائیں تو گہرائی مزید عمیق ہوتی چلی جاتی ہے۔ ”تاریخ کے صدف اور حقائق کی دریافت میں کوئی تیراک یا غواص جتنا کامیاب ہوتا ہے وہ پہلے سے رائج بیانیے کو اتنا ہی چیلنج کرتا نظر آتا ہے۔ بر عظیم کی تاریخ جو مقامی بیانیہ (local narrative) سے سامنے آتی ہے۔“ وہ ریاستی سے بالکل مختلف اور تصویر کا دوسرا اور بڑا ہی تلخ رخ نمایاں کرتی ہے۔ یہ معاشی طور پر آسودہ، میدانوں، پہاڑوں، دریاؤں اور سمندر کے ساتھ گھرا امن پسند خطہ جو اپنی دھن میں سرشار۔

زمانہ قدیم سے حملہ آور حکمرانوں کے بیانیے اور چالاکیوں سے پیدا ہونے والے دھرتی کے غداروں کی وجہ سے آج تک اپنا وجود منوانے کی جدوجہد کرتا نظر آتا ہے۔ اس ضمن میں اب تو مقامی کے ساتھ عالمی سطح پر ایک مضبوط اسکالرشپ پیدا ہو چکی ہے۔ پاکستان میں مقامی سطح پر محمد آصف خان ( 2000۔ 1929 ) ، شفقت تنویر مرزا ( 2012۔ 1932 ) ، اے، ڈی، اعجاز (وفات: 2019 ) اور ڈاکٹر سعید خاور بھٹا وغیرہ جب کہ عالمی سطح پر ششی تھرور (انڈیا) اور منان آصف (کولمبیا یونیورسٹی، امریکہ) وغیرہ کا کام اپنی جگہ بنا چکا ہے۔

انہوں نے سامراجی و استعماری بیانیے کی نو آفرینی (de۔ construct) کر کے ہندوستان کی تاریخیت کے روشن چہرے کو نمایاں تر کیا۔ یوں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان نے غداروں، منافقوں اور زمین فروشوں کے ساتھ ساتھ ایسے مردان حر بھی پیدا کیے ہیں جنہوں نے لکیر کی فقیری کو قبول نہیں کیا۔ کسی نے اپنا وجود دبنگ انداز میں منوایا اور کسی نے سمجھداری کے ساتھ اپنی شمع جلائی۔

شانتی کیتن یا امن کی جگہ جسے دیبیندر ناتھ ٹیگور ( 1905۔ 1817 ) نے 1863 ء میں بیس ایکڑ زمین ساتھ میں دو السٹونیا سکالرس (Alstonia scolaris) کے درخت لیز پر لے کر رائے پور بنگال کے علاقے میں آباد کیا تھا۔ 1888 ء میں، دیبیندرناتھ نے ایک ٹرسٹ ڈیڈ کے ذریعے اپنی ساری جائیداد ”برہم ودیالیہ“ کے قیام کے لیے وقف کر دی تھی۔ اس کے نوبل انعام یافتہ (برائے ادب، 1913 ) بیٹے روبندر ناتھ ٹیگور ( 1941۔ 1861 ) سترہ سال کی عمر میں یہاں پہلی بار 27 جنوری 1878 ء کو آئے۔ انہوں نے 1901 ء میں یہاں ایک ”برہماچاریہ آشرم“ شروع کیا۔ جو 1925 ء سے ”پتھا بھاونا“ کے نام سے جانا جانے لگا۔

اس ادارے کے ذریعے ٹیگور خاندان نے بنگال کی سماجی و معاشرتی زندگی کو ایسی فضاء مہیا کی جس سے وہاں ادب، موسیقی، ناچ، آرٹ اور تھیٹر کے سنگم سے امن اور خیر کی فضاء نے ایک رواداری آمیز معاشرہ (pluralistic society) کو جنم دیا۔ رابندر ناتھ ٹیگور کا فلسفہ تھا کہ انسان اپنی صلاحیتوں کی نشوونما اور تکمیل کر سکتا ہے اور ساتھ محبت، علم اور حریت کے ذریعے خودمختاری اور عروج و کمال حاصل کر سکتا ہے، اگر وہ خود کو اپنے نفس و ذات کے حبس سے نکال کر آفاقی ہستی سے جوڑنے میں کامیاب ہو جائے۔

اسی فلسفے کو بنیاد بنا کر اس کے ادارے ”پتھا بھاونا“ کو ”وشوا بھارتی“ (ہندوستان کے ساتھ دنیا کا اشتراک) کا نام دے کر 1951 ء میں ایک مرکزی یونیورسٹی اور قومی اہمیت کا ادارہ قرار دیا گیا تھا۔ یونیورسٹی ہیومینٹیز، سائنس اور تعلیم کے متعدد کورسز کے علاوہ، موسیقی، رقص اور آرٹ کے متعدد کورسز آفر کرتی ہے اور مقامی زبانوں کی ترویج پر زور دیتی ہے۔

مٹی سے جڑے صاحب کردار لوگ جہاں بھی جائیں اپنے کام سے نقش ضرور چھوڑ جاتے ہیں۔ پاکستان میں سینکڑوں کی تعداد میں ریٹائر ہونے والے فوجی جنرلز، بیوروکریٹ، ججز اکثریت میں اپنی ذات کے اسیر ہوتے ہیں۔ ان کا مقصد نوکری سے اپنی ذات، خاندان کو فائدہ پہچانا، بنک بیلنس بڑھانا اور بیرون ملک رہائش پذیر ہو جانا اور قریب المرگ پھر پاکستان آ کر دفن ہونا ہوتا ہے۔ اس بھیڑ میں بعض لوگ اپنے کردار اور کام کی بناء پر آرنلڈ جے ٹائن بی ( 1975۔ 1889 ) کے نظریہ کریٹو مینارٹی (creative minority) پر پورا اترتے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر پاکستان میں سرکاری عہدوں پر رہنے والے ایسے لوگوں پر نظر ڈالیں تو اے۔ آر۔ کارنیلیس ( 1991۔ 1903 ) ، مسعود کھدر پوش ( 1985۔ 1916 ) اور جسٹس جواد ایس خواجہ وغیرہ۔ اس قطار میں کھڑے نظر آتے ہیں۔

زیر مطالعہ تحریر وزیر آباد کی دھرتی کے روشن چراغ تئیسویں ریٹائرڈ چیف جسٹس آف پاکستان جواد ایس خواجہ پر روشنی ڈالتی ہے۔ آپ آئین و قانون کے سچے سپاہی ہیں۔ آپ نے بطور جج اپنے فیصلوں سے عدلیہ کے وقار میں اضافہ کیا۔ آپ اسی پینل کا حصہ تھے جس نے جنرل پرویز مشرف کی جانب سے 3 نومبر 2007 ء کو لگائی گئی ایمرجنسی کو غیر آئینی قرار دیا تھا اور بیشتر ججوں کو بحال کر دیا تھا۔ جنہیں جبری عہدہ خالی کرنا پڑا تھا۔ اس دن مقدمے میں ایک ہم آہنگ رائے لکھی جس میں قومی مفاہمتی آرڈیننس ( این آر او ) کو ابتدائی طور پر کالعدم قرار دیا گیا تھا۔

جسٹس خواجہ ان چھ ججوں میں سے ایک تھے۔ جنہوں نے پاکستان میں فوجی عدالتوں کے خلاف اختلافی فیصلہ دیا، یہ فیصلہ ان کی بطور چیف جسٹس مدت ملازمت شروع ہونے سے چند روز قبل آیا تھا۔ چیف جسٹس کے طور پر اپنی مدت پوری کرنے سے ٹھیک پہلے، انہوں نے ایک بینچ کی سربراہی کی جس نے ایک تاریخی فیصلہ جاری کیا۔ جس میں حکومت پاکستان کو 1973 ء کے آئین کے مطابق اردو کو سرکاری زبان کے طور پر اپنانے کی ہدایت کی گئی۔ چیف جسٹس نے فیصلہ اردو میں پڑھ کر سنایا۔

یہ فیصلے اس بات کی غمازی کر رہے ہیں کہ وہ ایک بہادر اور سچے محب وطن پاکستانی ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جونہی آپ ریٹائر ہوئے تو آپ نے ”ہرسکھ“ سکول کی بنیاد 2016 ء میں اپنی بیوی بینا جواد کے ساتھ رکھی۔ اس میں آس پاس کے گاؤں سے بچے پڑھتے ہیں۔ جن کو پنجابی، اردو اور انگریزی میں پڑھایا جاتا ہے۔ یہاں پڑھنے والے طلباء و طالبات نو مختلف مادری زبانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس سکول کی خاص بات ہے کہ یہاں پوزیشن اور گریڈز کی دوڑ کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ یہ ادارہ ڈگری کی حصول کے تحت آغا خان یونیورسٹی سے الحاق شدہ ہے۔ یہ ایک کمرے، پانچ طالب علموں اور ایک استاد کے ساتھ شروع ہونے والا ادارہ اب کئی ایکڑز پر مشتمل ایک اسٹیٹ آف دی آرٹ عمارت میں منتقل ہو چکا ہے۔ یہاں تیس کے قریب اساتذہ اور تقریباً سو کے لگ بھگ طلباء و طالبات تعلیم و تدریس میں سرگرم نظر آتے ہیں۔ اس ادارے میں بچوں کی قدرتی صلاحیتوں کو اجاگر کر کے انسانیت کی راہ پر چلنا سکھایا جاتا ہے۔ جس کا عملی نمونہ راقم سکول کے سالانہ پروگرام میں شرکت کر کے دیکھ چکا ہے۔

پروگرام کا آغاز ایک ڈرامہ ”ماں بولی“ سے کیا گیا۔ ڈرامے کا مرکزی کردار گڈو جس کا خاندان گاؤں سے آ کر شہر آباد ہو گیا ہے۔ وہ دیہاتی ہونے کی بنا پر پنجابی بولتا ہے بلکہ اسے اس بات پر فخر ہے۔ اسے پڑھنے کے لیے ایک انگریزی میڈیم سکول میں داخل کروایا جاتا ہے۔

سکول آنے کے بعد بھی گڈو پنجابی بولنے سے باز نہیں آتا ہے۔ جس سے اسٹاف ممبران اس سے سیدھے منہ بات نہ کرتے ہوئے سختی سے اسے پنجابی بولنے سے منع کرتے ہیں مگر وہ باز نہیں آتا اور گھر میں بھی پنجابی میں بات کرتا ہے۔ جس سے گھر والے اسے لڑتے ہیں اور پنجابی بولنے پر سکول کی بد خوئی شروع کر دیتے ہیں۔ مذکورہ دونوں کی مخالفت کے باوجود وہ باز نہیں آتا۔ آہستہ آہستہ ماں بولی سے اظہار محبت کرنے کے لیے سکول سے کچھ اساتذہ اور طلباء چوری چھپے سنگت (جسے نجم حسین سید نے پنجاب، پنجابی اور پنجابیت کو دوبارہ سے اجاگر کرنے کے لیے ستر کی دہائی میں شروع کیا تھا۔ ) میں جانا شروع کر دیتے ہیں۔ دوسری طرف اساتذہ انگریزی نظام تعلیم کا تفاخرانہ رویہ پنجابی کو کمتر ثابت کرنے کے لیے دکھایا گیا ہے۔ اس کہانی سے ایک بات واضح سمجھ آئی کہ ایک پنجابی بچہ جو اپنی دھرتی کی بولی سے جڑا ہوا ہے وہ اپنے موقف سے پورے تعلیمی نظام کو ہلاتا ہوا دکھائی دیا۔ اس ڈرامہ میں عورتوں کا پنجابی کو لے کر کمپلیکس دکھایا گیا ہے جو واضح طور پر آج کے پاکستانی معاشرے کی جھلک دکھاتا ہے۔ ڈرامے کا اختتام ایک سوچ میں ڈالنے والے پیغام پر ہوتا ہے۔ اگر آپ سب یہی چاہتے ہیں کہ میں اپنی زبان اور شناخت کا گلہ گھونٹ دوں تو لیں پھر ”I am guldeep gentleman“

یوں گڈو جوان ہو کر باہر پڑھنے چلا جاتا ہے۔ جب کچھ سالوں بعد باہر سے تعلیم حاصل کر کے واپس اپنے ملک آتا ہے تو وہ اپنے گھر والوں کو حقیر سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔ انگریزی بابو کے نزدیک اب اس کے اپنے گھر والے شرم کا باعث بن جاتے ہیں۔ وہ عورتیں جو پہلے انگریزی کے حق میں مرے جا رہی تھیں اب وہ گڈو کے اس بدلے رویے پر تنقید شروع کر دیتی ہیں۔

ہرسکھ کے بچوں نے بطور اداکار کہانی کے ساتھ پورا انصاف کیا۔ ڈرامے کے بعد بچوں نے پنجابی اردو میں شاعری پیش کی۔

پہلے شاعر کے کلام کا موضوع پنجابی زبان اور اس کی اہمیت کے متعلق تھا۔
بعد میں مہک، صفیہ شاہ اور زوہیب تینوں نے اپنا کلام اردو میں سنایا۔
یہ راگ عشق ہے اور بھیروی ہے
اور سنایا ہے تجھی کو
اگر دیکھا تو دیکھا تجھی کو
اگر سوچا تو سوچا تجھی کو
آخر میں صائم نے ناصر کاظمی کی مشہور غزل گا کر سنائی:نیت شوق بھر نہ جائے کہیں ”۔ اس کے بعد پنجابی مشاعرہ کا آغاز ہوا جس میں صرف تین شاعر مدعو تھے۔ رائے محمد خاں ناصر، بابا نجمی (جو کسی وجہ سے شرکت نہ کر سکے ) اور صابر علی صابر۔ رائے محمد خاں ناصر نے شاعری سنانے سے پہلے کہا:میں اپنے طور پر پنجابی زبان کی بقاء کے لیے جنگ لڑ رہا ہوں مگر اصل کام تو ہرسکھ والے کر رہے ہیں۔ جو پنجابی کی اہمیت کو ان بچوں کے ذریعے آنے والی نسل تک پہنچانے کا اہتمام کر رہے ہیں۔ ہمارا شاعروں کا کیا ہے۔ مشاعرے میں شاعری سنائی۔ کسی کو سمجھ آئی کسی کو نہ۔ اس کے بعد انہوں نے بولیاں، ماہیے، ٹپے، اشلوک، غزل اور نظم پڑھی اور خوب داد سمیٹی۔
تیرے بچیا لیاؤ ہا کھڈونے
اہ ڈھڈھ میری مٹھ میٹ لئی
اوہندی اکھ نیں تماشا کیتا
تے پوہ وچ بیر پک پئے
مٹھا روح نالوں ماہیا جے نہ ہندا
تے ویلنے وچوں موئے لنگھدے
صابر علی صابر نے اپنی غزلوں اور نظموں سے سننے والوں کو محظوظ کیا۔
گنگا اے یا مکہ اے
سدھا سدھا دھکا اے
رب نوں لبھدے پھردے ہو
رب کسے دا سکا اے
مشاعرے کے آخر میں کمپیئر نے اپنا پنجابی کلام سنایا: ”اگ لگی پنجاب راوی تے چناب نوں“
آخر میں بینا جواد اور ان کی تینوں بیٹیوں نے اپنے مخصوص انداز میں کلام گا کر سماں باندھ دیا۔

اس سارے پروگرام میں جس چیز کی کمی تھی وہ بناوٹی پن تھا۔ سارا پروگرام ایک ہال کے فرش پر کسی بناوٹی سیٹ کے بغیر ہوا۔ ہر فرد وہاں برابر تھا چاہے مالک ہو، استاد ہو، شاگرد ہو یا ہم دیکھنے والے۔ میں یہاں پہلی دفعہ بار آیا تھا مگر کسی بے رخی یا تصنع کے نتیجے میں اکثر جس اجنبیت کا احساس دامن گیر ہو جایا کرتا ہے۔ اس ماحول میں اس کا شائبہ تک نہیں تھا۔ جیسے یہ کوئی سکول یا ادارہ نہ ہو بلکہ گھر ہو۔ جس میں سائیں جواد ایس خواجہ (خواجہ صاحب کو سبھی یہاں سائیں کہہ کر بلاتے ہیں) اور بینا جواد ماں باپ ہوں اور باقی تمام ان کی اولاد۔ مجھے تو سچ میں یہ تھیٹر گاؤں کا شانتی کیتن لگا۔ جہاں انسانیت سب سے بڑا مذہب ہے۔ کاش ہمارے جنرل، بیوروکریٹ اور ججز بیرون ملک بنک بیلنس بنانے کی بجائے جواد ایس خواجہ صاحب کی ہر سکھ والی راہ پر چلیں تو پاکستان سچ میں جنت بن جائے۔

Facebook Comments HS