پنجاب میں اقلیت سمیت معذور افراد کی خالی آسامیاں اور سفری کارڈ؟
کچھ ماہ قبل افراد باہم معذوری سے تعلق رکھنے والے معذور افراد کے بارے میں تحقیق کرنا شروع کی تو معلومات تک رسائی کے قانون کو استعمال میں لاتے ہوئے سرکاری اداروں سے خط و خطابت شروع کی۔ میں نے اپنی ایک تحریر ”معذور افراد کو سرکاری اداروں میں ریمپ اور بیت الخلاء کی سہولت کب میسر ہوگی“ کے عنوان سے آرٹیکل لکھا۔ یہ آرٹیکل بھی تحقیق پر مبنی تھا۔ میرا مقصد معذور افراد کے مسائل کی نشاندہی کرنا اور حقائق پر مبنی معلومات قارئین تک پہنچانا اور مسائل کو حل کرنے کے لئے حکومتی اداروں کی نظر مبذول کروانا ہے۔
اس سے قبل کہ میں ان اعداد و شمار کو آپ کے سامنے پیش کروں۔ میں چیف انفارمیشن کمشنر محبوب قادر شاہ اور ان کے کمشنرز اور پاکستان انفارمیشن کمشنرز کا بے حد شکر گزار ہوں کہ ہمیشہ ان کی بدولت مجھے معلومات مل جاتی ہیں اور اس سے بھی زیادہ مشکور ہوں سی پی ڈی آئی آرگنائزیشن کا جن کی انتھک کوششوں اور محنتوں کی بدولت پاکستان میں اس قانون کی بنیاد رکھی گئی اور پہلی بار آئین میں جاننے کے حق کو تسلیم کیا گیا اور بعد از باقاعدہ ایکٹ اور قانون کی شکل دے کر یہ با اختیار کمیشن بنایا گیا۔
صوبہ پنجاب میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کل 3 لاکھ 85 ہزار 3 سو پندرہ معذور افراد ہیں جن میں 2 لاکھ 40 ہزار 949 مرد، 97 ہزار 668 خواتین، 41 ہزار 771 بچے اور 4 ہزار 927 مذہبی اقلیت سے تعلق رکھنے والے معذور افراد شامل ہیں۔ 12052 مرد، 2810 خواتین، 1365 بچے اور 357 اقلیتی افراد کے پاس سفری کارڈ کی سہولت ہے جبکہ صوبہ بھر میں تین فیصد ملازمت کوٹہ کے تحت 128 خالی آسامیوں پر بھرتی اشد ضروری عمل ہے۔
بہاولپور ڈویژن میں 30 ہزار 380 مرد، 11 ہزار 218 خواتین، 3 ہزار 491 بچے اور 265 اقلیتی افراد شامل ہیں۔ ان میں ایک ہزار پندرہ مرد، 263 خواتین، 6 بچوں اور 17 اقلیتی افراد کے پاس سفری کارڈ کی سہولت موجود ہے جبکہ اس ڈویژن میں تین فیصد ملازمت کوٹہ کی 9 آسامیاں خالی ہیں۔ ڈی جی خان ڈویژن میں 28 ہزار سات مرد، 12 ہزار 183 خواتین، 3 ہزار 124 بچے اور 10 اقلیتی افراد شامل ہیں۔ ان میں ایک ہزار 436 مرد، 219 خواتین، 57 بچوں اور 9 اقلیتی افراد کے پاس سفری کارڈ ہیں جبکہ ایک آسامی خالی ہے۔
فیصل آباد ڈویژن میں 31 ہزار 236 مرد، 10 ہزار 160 خواتین، 3 ہزار 910 بچے اور 545 اقلیتیں شامل ہیں۔ ان میں 885 مرد، 94 خواتین، 39 بچوں اور 9 اقلیتی افراد کے پاس سفری کارڈ ہیں جبکہ خالی آسامیاں صفر ہے۔ گجرانوالہ ڈویژن میں 25 ہزار 744 مرد، 11 ہزار 285 خواتین، 8 ہزار 808 بچے اور ایک ہزار 334 اقلیتی افراد شامل ہیں۔ ان میں 2 ہزار 946 مرد، 724 خواتین، 861 بچوں اور 182 اقلیتی افراد کے پاس سفری کارڈ ہے جبکہ یہاں بھی کوئی آسامی خالی نہیں ہے۔
لاہور ڈویژن میں 35 ہزار 63 مرد، 14 ہزار 874 خواتین، دو ہزار 955 بچے اور 478 اقلیتی افراد شامل ہیں اس ڈویژن میں جان کر حیرانی ہوئی کہ لاہور ضلع میں بچوں اور اقلیتوں کی رجسٹریشن صفر ہے 478 اقلیتی افراد دوسرے شہروں سے ہیں۔ یا تو لاہور میں معذور بچے اور اقلیتیں موجود ہی نہیں یا پھر ان کو رجسٹرڈ نہیں کیا گیا جو کہ سوالیہ نشان ہے۔ ان میں 385 مرد، 102 خواتین، 13 اقلیتی افراد کے پاس کارڈ ہیں جبکہ خالی آسامی صفر ہیں۔
ملتان ڈویژن میں 23 ہزار 576 مرد، 8 ہزار 702 خواتین، پانچ ہزار 207 بچے اور 401 اقلیتیں شامل ہیں۔ ان میں 2 ہزار 509 مرد، 771 خواتین، 236 بچوں اور 99 اقلیتی افراد کے پاس سفری کارڈ ہیں جبکہ ملتان میں 122 خالی آسامیوں پر بھرتی نہ کرنا بھی سوالیہ نشان ہے۔ راولپنڈی ڈویژن میں 35 ہزار 515 مرد، 13 ہزار 881 خواتین، چار ہزار 953 بچے اور 239 اقلیتیں شامل ہیں۔ ان میں 463 مرد اور 80 خواتین کے پاس سفری کارڈ کی سہولت موجود ہے لیکن اس ڈویژن میں اقلیتوں اور بچوں کو سفری کارڈ جاری نہیں کیے گئے۔
جبکہ یہاں دو آسامی بھی خالی ہے۔ ساہیوال ڈویژن میں 17 ہزار 834 مرد، سات ہزار 35 خواتین، چار ہزار 208 بچے اور 536 اقلیتی افراد شامل ہیں۔ ان میں 1209 مرد، 171 خواتین، 15 بچوں اور 9 اقلیتی افراد کے پاس سفری کارڈ ہیں جبکہ آسامی صفر ہے۔ سرگودھا ڈویژن میں 13 ہزار 589 مرد، 8 ہزار 329 خواتین، پانچ ہزار 115 بچے اور 1018 اقلیتی افراد شامل ہیں۔ ان میں 1204 مرد، 386 خواتین، 126 بچوں اور 14 اقلیتی افراد کے پاس سفری کارڈ کی سہولت موجود ہے جبکہ یہاں خالی آسامی صفر ہے۔
یہ تمام وہ لوگ ہیں جو حکومت کے پاس رجسٹرڈ ہیں اگر معذوری رجسٹریشن کے عمل کو تیز کیا جائے تو ہزاروں لاکھوں افراد کا ڈیٹا اکٹھا کیا جا سکتا ہے اور ان کے لئے ترقیاتی منصوبے بنائے جا سکتے ہیں اور ان کے لئے باعزت روزگار کا انتظام بھی کیا جا سکتا ہے۔ میری حکومت پاکستان سے یہ اپیل بھی ہے کہ ہیلتھ کارڈ کی طرح نادرا ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے معذوری کے نشان والے شناختی کارڈ کوہی سفری کارڈ قرار دے دیا جائے اور پبلک ٹرانسپورٹ میں پچاس فیصد رعایت کو یقینی بنایا جائے جبکہ تمام پبلک ٹرانسپورٹ مقامات پر پالیسی کے بینرز آویزاں کروائے جائیں اور معذور افراد کو سہولت فراہم کرنے کے لئے ایسی گاڑیاں متعارف کروائی جائیں جن پر ان کی رسائی کو آسان بنایا جا سکے تو سفری کارڈ جاری کرنے کی ضرورت ہی نہ ہو گی۔ نیز 122 خالی آسامیوں پر بھرتی کر کے معذور افراد کو باعزت روزگار بھی فراہم کیا جائے تو مسائل میں واضح کمی لائی جا سکتی ہے اور بین الاقوامی معاہدوں اور حکومتی قوانین پر عمل درآمد کروایا جا سکتا ہے۔


