سوڈان کا بحران اور عالم اسلام

2011 میں جمہوریہ سوڈان کے دولخت ہونے اور جنوبی سوڈان کے وجود میں آنے سے قبل رقبے کے لحاظ سے سوڈان کا شمار عالم اسلام کے سب سے بڑے ملک کی حیثیت سے ہوتا تھا لیکن اب جب جنوبی سوڈان امریکہ، فرانس اور برطانیہ جیسے مغربی ممالک کی سرپرستی اور اقوام متحدہ کی چھتری تلے ایک نام نہاد ریفرنڈم کے نتیجے میں سوڈان سے علیحدہ ہو کر ایک الگ اور خودمختار ملک بن چکا ہے تب سے سوڈان اسلامی ممالک میں رقبے کے لحاظ سے پہلے نمبر سے نویں پوزیشن پر چلا گیا ہے ۔
سوڈان کو ماضی میں جہاں اس کی مستحکم اسلامی شناخت اور اس کے وسیع و عریض رقبے نیز نو ممالک کی ہمسائیگی اور ایشیا و افریقہ کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے اہمیت حاصل رہی ہے وہاں تیل اور سونے کے وسیع ذخائر بھی اس کی اہمیت کی ایک اہم وجہ رہے ہیں۔ اسی طرح یہاں بعض دیگر عرب اور افریقی ممالک کی طرح جنرل عمر البشیر کی قیادت میں تیس سال تک کا مطلق العنان (ڈکٹیٹرشپ) کا طویل دور اور اسی دور میں طویل خانہ جنگی اور ایک موقع پر یہاں القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن کی سکونت اور امریکی کروز میزائلوں کے ذریعے خرطوم میں ادویات کی ایک فیکٹری کو کیمیاوی ہتھیار بنانے کے خود ساختہ الزام کے تحت نشانہ بنانے کی وجہ سے بھی پچھلی تین دہائیوں کے دوران سوڈان کا عالمی سیاست میں چرچا ہوتا رہا ہے۔
اس پس منظر کے ساتھ سوڈان حالیہ دنوں میں ایک بار پھر دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جس کی وجہ پچھلے ایک ہفتے سے دارالحکومت خرطوم سمیت ملک کے اکثر شہروں میں ملک کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان کی قیادت میں سوڈانی مسلح افواج اور جنرل محمد حمدان دگالو کی قیادت میں ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے نیم فوجی دستوں کے درمیان جاری خون ریز جھڑپیں ہیں جن میں عالمی ادارہ صحت کے مطابق اب تک 500 سے زائد اموات واقع ہو چکی ہیں جن میں زیادہ تر تعداد سویلین آبادی کی ہے جب کہ زخمیوں کی تعداد پانچ ہزار سے متجاوز بیان کی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ کچھ عرصہ پہلے تک دونوں افواج کے رہنما نہ صرف اتحادی تھے بلکہ انہوں نے 2019 میں سوڈان کے صدر عمر البشیر کا تختہ الٹنے کے لیے مل کر کام کیا تھا۔ اس کامیاب بغاوت کے بعد سویلین اور فوجی گروپوں پر مشتمل اقتدار میں شریک حکومت قائم ہوئی تھی جس کا منصوبہ یہ تھا کہ وہ سوڈان کو چند سالوں کے اندر اندر مکمل طور پر سویلین اقتدار کے زیر انتظام حکومت میں منتقلی کی نگرانی کرے گی۔ جنرل عبدالفتاح البرہان اور جنرل محمد حمدان دگالو کے درمیان حالیہ خانہ جنگی کی بنیاد دراصل 2021 میں جنرل البرہان جو پاور شیئرنگ کونسل کے سربراہ بنے تھے کی جانب سے اس کونسل کی یک طرفہ تحلیل اور 2023 میں انتخابات کرانے کے اعلان سے پڑی تھی۔
کہا جاتا ہے کہ موجودہ لڑائی فوج اور RSF کے درمیان سویلین حکمرانی کی مطلوبہ بحالی سے قبل دونوں افواج کے انضمام پر مذاکرات کے ٹوٹنے کے نتیجے میں شروع ہوئی ہے۔ دراصل ان دونوں جرنیلوں کے درمیان اس بات پر اختلاف پیدا ہو گیا تھا کہ اقتدار سویلین حکومت کو منتقلی کے بعد ان دونوں جنرلز میں سے کون سا جنرل کس کے ماتحت ہو گا اور RSF کو کتنی جلدی اور کن شرائط کے ساتھ سوڈان کی قومی فوج میں ضم کیا جائے گا۔
اطلاعات کے مطابق 15 اپریل کو دونوں فریقوں کے درمیان جھڑپوں کے آغاز کے بعد سے دارالحکومت خرطوم کو فضائی حملوں اور توپ خانے کی گولہ باری نے ہلا کر رکھ دیا ہے جب کہ تشدد اب ملک کے دیگر حصوں تک پھیلنے کی مصدقہ اطلاعات بھی آ رہی ہیں جس سے وسیع تر تنازعے کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے جو اس پورے خطے کو غیر مستحکم کر سکتا ہے۔ جب سے اس تنازعے نے جنم لی ہے تب سے اس کی زد میں سب سے زیادہ عام آبادی آئی ہے، جاری شدید گولہ باری سے لوگ گھروں میں محصور ہیں، بجلی اور پانی کا نظام درہم برہم ہے، ہسپتال بند پڑے ہیں بازاروں میں اشیائے خور و نوش کی قلت کی اطلاعات موصول ہونے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی متاثرہ مقامات سے محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کی خبریں بھی آ رہی ہیں۔
مبصرین کا خیال ہے کہ اگر فریقین جنگ بندی پر آمادہ نہ ہوئے اور خدا ناخواستہ اگر یہ جنگ طول پکڑتی ہے تو اس سے سوڈان کے علاوہ پڑوسی ممالک کے بھی متاثر ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ یہ بات کسی سے مخفی نہیں کہ سوڈان سمیت یہ سارا خطہ پچھلی تین دہائیوں کے دوران بدترین خانہ جنگیوں اور قتل و غارت کا شکار رہا ہے حتیٰ کہ ان دنوں بھی لیبیا، صومالیہ، ایریٹریا اور ایتھوپیا بدامنی سے دوچار ہیں۔ یہاں یہ بتانا بھی اہمیت کا حامل ہے کہ افریقی یونین اور پڑوسی ممالک کی جانب سے بیرونی طاقتوں کو سوڈان کی خانہ جنگی سے دور رہنے کے انتباہ کے باوجود مصر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، روس، امریکہ، برطانیہ اور چین جیسی بین الاقوامی قوتوں کی سوڈان کی توانائی، دفاع، کان کنی اور زراعت جیسے شعبوں میں دلچسپی بھی کوئی راز کی بات نہیں ہے۔
اسی طرح سوڈان کے حالیہ بحران کا اگر ایک افسوس ناک پہلو اس بحران کے پیچھے کسی اصولی اور نظریاتی وجہ کی بجائے ذاتی مفادات کا کارفرما ہونا ہے تو دوسری جانب اب تک اس بحران کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ یا پھر افریقی یونین کا کچھ زیادہ فعالیت نہ دکھانا نیز دو مسلمان گروہوں کے درمیان جنگ یا خونریزی کے مدمقابل امن اور صلح کے واضح قرآنی احکامات کے باوجود او آئی سی اور عرب لیگ جیسی مسلمان تنظیموں اور سعودی عرب، ترکی، مصر، ایران اور پاکستان جیسے بڑے اور اہمیت کے حامل اسلامی ممالک کا سوڈان کے جاری بحران سے چشم پوشی کے نتیجے میں یہ مسئلہ حل ہونے کی بجائے مزید گھمبیر صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے جو عالم اسلام کے لیے یقیناً لمحہ فکریہ ہے۔

