چڑیا گھر کی کہانی
(1)
چڑیا گھر میں گہما گہمی اور ہلچل موجود تھی۔ چڑیوں کی جالیاں، کبوتروں کی کابکیں، بطخوں کے جو ہڑ، لومڑوں، گیدڑوں، بھیڑیوں، گھوڑوں، بندروں اور لنگوروں کے کمرے، شیروں، چیتوں، سوروں، ریچھوں، ہرنوں، ہرنیوں اور بارہ سینگھوں کے پنجرے گوند کی سی چپچپاہٹ سے بھرے دکھائی دے رہے تھے۔ ہلکی سی ٹھنڈی ہوا نے چلنا، یا ذرا سا مینہ برسنا تو موروں نے محو رقص ہو جانا۔ بلبلوں نے گیت گانا شروع کر دینا۔ تو توں نے کھوہوں میں سے لال لال چونچیں اور ہرے ہرے سر نکال کر انسانوں کی بولیاں بولنا شروع کر لینا۔
چڑیا گھر کی ایک بار کی سیر، عمر بھر کی خوشگوار یاد بن کر رہ جاتی۔ اس کے رنگا رنگ نظارے اور پرندوں کی ان گنت بولیوں کا شور، تمام عمر کے لیے دل میں گھر جاتا۔ دور دیسوں کے پردیسی اس کے نظارے سے محظوظ ہونے کے لیے اور اس کی خوشیوں سے لطف کشید کرنے کے لیے، ہمیشہ آتے جاتے رہتے تھے۔ چڑے اور چڑیوں میں سے ایک چڑیا سونے کی تھی جس کا نظارہ ہیروں کی چمک کو بھی شکست دیتا تھا۔ بڑے بڑے ہاتھیوں، شیروں، چیتوں اور بھیڑیوں کے ہوتے ہوئے، اس جگہ کا نام چڑیا گھر پکارے جانے کا کارن یہی سونے کی چڑیا تھی۔
(2)
کہتے ہیں ہونی کو کوئی گھر، سکھ اور چین سے بستا ہوا بھلا نہیں لگتا۔ آخر کار ہونی نے اس گھر کو تاڑ لیا اور وہ جو کہتے ہیں کہ ہونی ہو کے رہتی ہے اسی لیے، ہنستے بستے چڑیا گھر میں، ہونی ہو کے رہی۔
(3)
چڑیا گھر میں سیر سپاٹے کے لیے دور دراز کے علاقوں سے جو پردیسی تشریف لاتے، وہ اپنے بچوں کے ساتھ ہوا کے غبارے بھی لاتے۔ پردیسی ہوا کے غباروں سے چڑیا گھر کے باسیوں نے یہ اثر لیا کہ پہلے چڑیا گھر کی بلبلیں اس کی تعریفوں نغمہ سرا ہوئیں اور پھر توتے زبان غیر میں پنجروں کے دروازے کھولنے کا مطالبہ کرنے لگے اور روزانہ ٹکریں مار مار کے پنجروں سے باہر آنے کے لیے تڑپنے اور کر لانے لگ پڑے۔
(4)
شیر کا پنجرہ چاہے چڑیا گھر کے سارے پنجروں سے مختلف اور ذرا فاصلے پر تھا لیکن پھر بھی اس کی چنگھاڑ پورے چڑیا گھر میں گونجتی تھی اور تمام باسی ایک عرصے سے، اسے اپنا راہنما اور گرو مانتے آئے تھے۔ شیر نے چڑیا گھر کا دروازہ کھولنے کے مطالبے کے بارے میں چڑیا گھر کے باسیوں کو یہ مشورہ دیا، چاہے میں آپ سے دور اور الگ بسیرا کر رہا ہوں مگر یہ بات مجھے صاف دکھائی دیتی رہتی ہے کہ پنجروں میں قید اور سلاخوں کے پیچھے بیٹھے جانور، ایک دوسرے کو بری نظروں، سرخ آنکھوں اور نفرت آمیز انداز سے دیکھتے رہتے ہیں۔
بات بات پہ، کھر زمین پہ رگڑتے ہیں، پونچھیں ہوا میں لہراتے ہیں اور پنجوں میں سے ناخن نکالتے رہتے ہیں۔ اس لیے وقت کا سب سے بڑا مطالبہ اور فوری ضرورت ہے کہ پنجروں کے دروازے کھلنے سے پہلے، چڑیا گھر کے سارے رہائشی ایک دوسرے سے پیار اور امن کا حلف لیں اور جب تک تمام پرندوں اور جانوروں کا حلف اور اجتماع نہ ہو جائے کسی قفس کا در وا نہ ہو۔
(5)
مگر رب کا کرنا یہ ہوا کہ پنجرے کھولنے کے لیے توتے اس طرح کر لائے کہ ان کے سینے کے بال جل گئے اور کلیجے پھٹ گئے۔ بلبلوں نے اپنے گیت سنائے اور گلے بیٹھ گئے اور پنجرے کے باسیوں نے بھوکے پیاسے رہ کر ایسا شوروغل مچایا کہ اس ہاہا کار نے ایسا ردھم پکڑا کہ ایک دن پنجروں کے دروازے کھڑکھڑائے اور پھر اچانک کھل گئے۔
(6)
شیر پنجرے سے نکلا تو اس کا شکار کرنے کے لیے دور سے دو شکاری دو نالی بندوقیں تان کے دوڑے مگر وہ خوش قسمت ان کی آنکھوں میں دھول جھونک کر بھاگ گیا اور پھر سنا کہ ٹاپو کے جنگل میں وہ جہاں پلا بڑھا تھا، بخیر و عافیت پہنچ گیا۔
(7)
ادھر چڑیا گھر کے پنجروں کے دروازے کھلے اور دروازے کھلتے ہی ریچھ سوروں کے ساتھ گتھم گتھا ہو گئے۔ چیتے چیتوں سے لڑ پڑے، بھیڑیوں نے گیدڑیوں کو چیر کھایا، لمبے دانت لمبے دانتوں سے اور تیز پہنچیاں تیز پہنچیوں سے جا پھنسیں۔ ہرن، ہرنیاں، سیہہ، سیہوں کی لڑائی میں پودوں کی طرح کیچڑ سے آلودہ ہوئے۔ کبوتروں کے انڈے ٹوٹ گئے۔ ہنسوں کی گردنیں ٹوٹ گئیں۔ لومڑ اور بندر فرار ہونے والوں کے آگے اور مارنے والوں کے پیچھے رہ کر جان بچا گئے۔
پروں والے اڑ گئے، بے پروں کی شامت آ گئی، ہاتھی بڑے جسم کے باعث بڑی مشکل میں جا پھنسا، آخر کار وہ اس مصیبت سے جان چھڑانے میں کامیاب ہوا لیکن اس کی دم پھنس گئی۔ جاتے جاتے چڑیا گھر کی زمین لال ہو گئی۔ خالی پنجروں اور خون آلود زمین کی وجہ سے چڑیا گھر کا کوئی کھوج کھرا نہ رہا۔ ہر طرف چپ چاپ، سکوت ہی سکوت، نہ مرغ کی اذان نہ کوئل کی تان۔ دن رات کی طرح اور رات قبروں اور کتبوں کی طرح۔ اب کبھی پرانے برگد سے الو بولتا ہے اور پوچھتا ہے ”بتاؤ او چڑیا گھر والو! پنجرے کھول کے تم نے کیا کمایا ہے؟“ اس کی صدا پہاڑ سے ٹکرا کر پلٹتی ہے اور پلٹتی آواز میں کہیں سے بہت سی نامعلوم آوازیں شامل ہو جاتی ہیں۔


