کتابوں کا عالمی دن


کبھی کتابیں ڈرائنگ رومز کی زینت ہوا کرتی تھیں جو گھر والوں کے ذوق اور شخصیت کی آئینہ دار ہوتی تھیں۔ شاعری کی کتابیں اور کلاسک ناولز کے مجموعے اعلی ادبی ذوق کی نشانی اور اسلامی کتب ایک دیندار گھرانے کو ظاہر کرتی تھیں۔ اسی طرح انگریزی ناول، ڈائجسٹ اور میگزینز پڑھے لکھے لوگوں کے ڈرائنگ رومز کے ایک کونے میں سلیقے سے سجے ہوا کرتے تھے اور زیادہ ذوق و شوق رکھنے والوں نے گھر کے اندر ایک منی لائبریری بنا رکھی ہوتی تھی جو گھر آئے مہمانوں کو بڑے فخر سے دکھائی جاتی تھی۔

جب ہم پنجاب یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ تھے تو نیو کیمپس جسے دیگر خوبصورتیوں اور اعلی تعلیمی معیار کا حامل سمجھا جاتا تھا وہاں سب سے خاص بات ہر سال تسلسل سے منعقد کیا جانے والا کتاب میلہ بھی تھا اور ہم سارا سال اپنی پسندیدہ کتابوں کی فہرست بناتے رہتے تھے اور ساتھ ہی پاکٹ منی بھی اکٹھے کرتے رہتے تاکہ اس سال بک فیئر سے کتابیں خرید سکیں۔ علی پور کا ایلی، راجہ گدھ، اداس نسلیں، شہاب نامہ، منٹو کے افسانے، کلیات فیض، پیار کا پہلا شہر، جھوٹے روپ کے درشن، خوشبو اور کلاسک ادب کا درجہ حاصل کرنے والی دیگر کئی کتابیں میں نے پنجاب یونیورسٹی کے بک فیئرز سے خریدیں۔

2005 میں یونیورسٹی کو خیر باد کہ دینے کے بعد بھی نیو کیمپس سے ایک تعلق کی سب سے بڑی وجہ ہر سال ہونے والے بک فیئرز تھے جہاں کتابیں خریدنے کے ساتھ ساتھ کئی پرانے دوستوں سے ملاقات کی امید بھی ہوتی تھی۔ کئی پرانے سٹوڈنٹس نیو کیمپس کے اس کتاب میلے میں محض اس لیے آیا کرتے تھے کہ پرانے محبوب سے ملاقات کی ایک امید ہوتی تھی اور جو پوری بھی ہو جایا کرتی تھی کیونکہ کتابوں سے عشق بالآخر مشترکہ ہوا کرتا تھا۔

کتابوں سے وابستہ کئی یادیں بھی ہوتی تھیں۔ کسی کتاب کے سرورق پہ لکھی کوئی تحریر۔ کوئی مصرعہ۔ کوئی نام اور تاریخ۔ کسی کتاب میں رکھا کوئی سوکھا گلاب۔ کتنے ہی قصے کہانیاں کتابوں سے جڑے تھے۔ کتنی ہی محبتیں کتابوں سے جنم لیتی تھیں اور پھر کتابوں میں ہی دفن ہو جایا کرتی تھیں۔ پہلے پہل کے عشق کا سلیقہ کتابیں پڑھ کر ہی آیا کرتا تھا۔ محبت کے لیے دیے جانے والے تحفوں میں کتاب کا تحفہ بھی ایک الگ ہی مقام رکھتا تھا۔

کئی کتابوں کی کہانیوں اور ڈائیلاگز کو سٹوڈنٹس لائف میں مرکزی حیثیت حاصل تھی جیسے راجہ انور کی جھوٹے روپ کے درشن جو پنجاب یونیورسٹی کے نیو کیمپس میں جنم لینے والے عشق کی داستاں پر مبنی ایک ناول تھا جس میں رائٹر کے اپنی کلاس فیلو محبوبہ کو لکھے گئے عشقیہ خطوط کا ایک ایک ڈائیلاگ عاشق مزاج سٹوڈنٹس کو زبانی یاد ہوا کرتا تھا اور یہ کتاب اور دیگر شاعری کی کئی کتابیں سٹوڈنٹس لائف میں عشق کی دنیا میں قدم رکھنے والوں کی زندگی میں سلیبس کا درجہ رکھتی تھیں۔

یہ کوئی اتنی صدیوں پرانی باتیں نہیں ہیں لیکن اب کتابوں سے عشق کم ہوتے ہوتے ختم ہونے کو آیا ہے۔ کتابوں کی خوشبو بھی رخصت ہو گئی اور قصے کہانیاں بھی۔

پھر بھی کوشش کیجئے کتاب سے عشق نبھائیے۔ کتابیں پڑھتے رہیے اور کتاب سے محبت کو فروغ دیجیئے۔ کتابوں کا عالمی دن مبارک

Facebook Comments HS