بڑے اخبار جلدی ختم نہیں ہوں گے، مغرب میں بھی یہ نوبت نہیں آئی: اسلم ملک
سرخیاں :
سوچنے سمجھنے والا کوئی شخص غیر جانب دار ہو ہی نہیں سکتا
سینسر شپ کے حوالے سے ضیا الحق کا دور بدترین تھا
عمران دور میں سینسر شپ محض سوشل میڈیا پروپیگنڈا تھا، سب سے زیادہ تو اسی حکومت کے خلاف چھپتا رہا
وبا کے بعد لاہور دوسرے شہروں جیسا ہی لگنے لگا ہے
سینئر صحافی، قلم کار اور معروف علم دوست شخصیت، اسلم ملک سے ایک مکالمہ
انٹرویو نگار: اقبال خورشید
صحافتی سفر پانچ عشروں پر محیط، شوق مطالعہ اس سے بھی قدیم، ادب کے عاشق، علم کے دل دادہ؛ ایسا شخص تو معلومات کا خزانہ ہوتا ہے صاحب۔ اور یہ ہماری نسل کی خوش نصیبی کہ سوشل میڈیا کے وسیلے اس خزانے کا در ہم پر وا ہو گیا۔
موضوع تاریخ ہو، ادب، کھیل، سائنس یا پھر سیاست، اسلم ملک صاحب کے پاس کئی یادگار قصے ہیں، اور ہر قصہ قاری کے لیے ان معنوں میں مفید کہ یہ اس کی معلومات میں اضافہ بھی کرتا ہے اور ذوق سلیم کی تسکین بھی۔ جس ڈھب پر انھوں نے سوشل میڈیا کو برتا، اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ تیس برس وہ جنگ جیسے معتبر اخبار میں رہے۔ اس سے قبل ڈیڑھ عشرے امروز کو دیے۔ سفر کا آغاز بہاول پور کے ایک ہفتہ روزہ سے ہوا تھا۔
علم دوست انسان ہیں۔ نئی نسل کی حوصلہ افزائی، ان کی راہ نمائی کرنے والے۔ مگر خودنمائی سے دور۔ صحافیوں کی اس نسل میں سے ایک، جو کم یاب ہوئی۔ اسلم ملک صاحب سے گزشتہ دنوں ایک دل چسپ مکالمہ ہوا، جو آپ کے ذوق سلیم کے لیے پیش خدمت ہے :
اقبال: ساری زندگی صحافت کی، اخبارات اور کتابوں میں گھرے رہے، کیا ایسی صبح کا تصور کر سکتے ہیں، جب بیدار ہوں، اور خبر ملے کہ پرنٹ میڈیا ختم ہو چکا ہے؟
اسلم ملک: ہماری زندگی میں شاید ایسا نہ ہو۔ یہ تبدیلی اتنی تیزی سے نہیں آئے گی۔ پرنٹ میڈیا میں آہستہ آہستہ کمی آئے گی۔ بڑے اخباروں کی ریونیو پہلے ہی سرکولیشن پر منحصر نہیں۔ اشتہارات بڑا ذریعہ ہیں۔ سرکاری اشتہارات کے لیے متبادل میڈیا پر ابھی غور نہیں کیا گیا۔ اس لیے پرنٹ میڈیا کے جلد خاتمے کا خدشہ نہیں۔ البتہ مالکان اپنے اخراجات میں بڑی کمی کریں گے۔ کارکنوں کی بڑی تعداد فارغ ہوگی۔ ویسے ٹینڈر نوٹس، داخلوں، ملازمتوں وغیرہ کے سرکاری اشتہارات ویب سائٹس پر دینے کا فیصلہ ہوتے ہی پرنٹ میڈیا کا حجم یک دم آدھے سے بھی کم ہو سکتا ہے۔ اخبار پڑھنے کے عادی لوگوں کی تعداد بھی وقت کے ساتھ کم ہو رہی ہے۔ بھارتی پنجاب کے معیاری اردو اخبار ”ہند سماچار“ کے ایڈیٹر دس پندرہ سال پہلے لاہور آئے تھے۔ دوران گفت گو انہوں نے کہا پنجاب میں ہر بزرگ کی موت کے ساتھ ہماری سرکولیشن ایک کاپی کم ہوجاتی ہے۔
اقبال: کیا یہ سچ نہیں کہ اخبار کی مانگ میں واضح کمی آئی ہے، پھر مستقبل کیا ہے؟
اسلم ملک: یہ درست ہے کہ مانگ میں کمی آئی ہے، لیکن یہ ختم نہیں ہوئی۔ بڑے اخبار جلدی ختم نہیں ہوں گے۔ مغرب میں سب کچھ کئی سال آگے ہے، لیکن ابھی وہاں بھی یہ نوبت نہیں آئی۔
اقبال: لاہور آپ کا شہر ہے، کیا چیز اسے عشق انگیز بناتی ہے؟
اسلم ملک: وبا کے دو ڈھائی سال نے کئی معاملات میں تسلسل نہیں رہنے دیا۔ رابطے کم یا ختم ہو گئے۔ کئی بیٹھکیں نہیں رہیں۔ سچ پوچھیں تو مجھے تو اب یہ دوسرے شہروں جیسا ہی لگنے لگا ہے۔
اقبال: بہت کم لوگ فیس بک کو مثبت اقدار کے لیے استعمال کر رہے ہیں، آپ ان میں سے ایک۔ یہ تجربہ کیسا رہا؟
اسلم ملک: بہت دیر سے اس دنیا میں آیا، لیکن تجربہ بہت اچھا رہا۔ جہاں بیسیوں سال سے منقطع رابطے بحال ہوئے، وہاں بے شمار نئے روابط قائم ہوئے۔ کتنے ہی اہل علم سے تعارف ہوا۔ دور دراز جگہوں پر گھروں میں محدود بچیوں میں علم، ادب اور کتاب سے محبت اور ان کے ذاتی ٹیلنٹ سے آگاہی سے خوش گوار حیرت ہوئی۔ ایسے بھی علم میں آئے، جنہوں نے فیس بک پر ہی لکھنا شروع کیا اور روزانہ کی مشق سے اب ان میں خاصی پختگی آ گئی ہے۔
ان میں بھی خواتین کا تناسب زیادہ ہے۔ یہ وسیلہ نہ ہوتا تو لکھ کر کسی اخبار رسالے کو بھیجنے اور ہفتوں مہینوں انتظار کرنے کا حوصلہ کم ہی کر پاتیں۔ مختلف شعبوں میں مہارت رکھنے والے بہت سے لوگ فراخ دلی سے اپنے علم میں دوسروں کو شریک کر رہے ہیں۔ کسی بھی چیز کے بارے میں پوچھیں، تو بے شمار لوگ اپنے علم تجربے اور مشاہدے سے آگاہ کرتے ہیں، کسی نتیجے پر پہنچنا سہل ہوجاتا ہے۔
اقبال: کہا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا پر زیادہ وقت صرف کرنے والے ادیب، تخلیقی عمل سے دور ہو جاتے ہیں، آپ کا کیا موقف ہے؟
اسلم ملک: میں کوئی ادیب تو نہیں، محض قاری ہوں۔ اگر میرا کچھ پڑھنا لکھنا متاثر/ملتوی ہوتا ہے، تو سب کا ہوتا ہو گا۔ لیکن چونکہ متنوع معلومات بھی ملتی ہیں، تو یہ حساب کرنا مشکل ہے کہ فائدہ زیادہ ہے یا نقصان۔ یہ مختلف لوگوں کے لئے مختلف ہو گا۔
اقبال: کچھ سوشل میڈیا مفکر، جنھیں نوجوانوں کو فالو کرنے کا مشورہ دیں گے؟
اسلم ملک: ایسی فہرست بنانے میں بہت وقت لگے گا، اور مکمل پھر بھی نہیں ہوگی کہ سب تو میری نظر میں نہیں۔ میں بہت مشہور کی بجائے کچھ ایسے نام بتا دیتا ہوں، جو کچھ مختلف لیکن مفید معلومات فراہم کر رہے ہیں، ڈاکٹر طاہرہ کاظمی، ڈاکٹر عقیل عباس جعفری، مبشر علی زیدی، ابن فاضل، محمودالحسن، مریم مجید ڈار، وسیم الطاف، روبینہ شاہین، محمود ربانی انجم۔
اقبال: پسندیدہ شاعر کون ہے؟ اکیسویں صدی میں کس شاعر کو متعلقہ پاتے ہیں؟
اسلم ملک: احمد مشتاق، ناصر کاظمی، منیر نیازی، تنویر انجم، عباس اطہر، کاشف حسین غائر، مصطفے ٰ ارباب، عمیر نجمی۔ چوں کہ ایسی کوئی فہرست بنانے کی کبھی ضرورت نہیں ہوئی، اس لیے ہو سکتا ہے کہ ان سے زیادہ پسندیدہ کسی شاعر کا نام فوری ذہن میں نہ آیا ہو۔
اقبال: ملکی اور عالمی ادب سے چند پسندیدہ فکشن نگار؟
اسلم ملک: بیدی، منٹو، غلام عباس، قرۃ العین حیدر، محمد خالد اختر، اسد محمد خاں، احسن فاروقی، ہیمنگوے، دوستووسکی۔
اقبال: وہ کون سی کتاب ہے، جسے بار بار پڑھنے کی آرزو ہے؟
اسلم ملک: مشتاق احمد یوسفی کی کتابیں دوبارہ پڑھنے کی خواہش ہے، لیکن شاید نہ پڑھ سکوں کہ ایسی بھی بے شمار ہیں، جنہیں ابھی پہلی بار بھی پڑھنے کا موقع نہیں ملا اور وقت ظاہر ہے کم ہوتا جا رہا ہے۔
اقبال: عام خیال ہے کہ آج ادیب بے معنی ہو گئے ہیں، اب وہ رائے عامہ کے نمایندے نہیں، کیا اس خیال سے متفق ہیں؟
اسلم ملک: ایسا نہیں ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ رائے عامہ بھی تو متعین نہیں، کتنے ہی دھارے چل رہے ہیں، ادیب ان میں سے کسی سے تو متاثر ہوتے ہیں اور وہ کسی حد تک ان کی تحریر میں بھی در آتا ہے۔
اقبال: ایک روز کے لیے وزیر اعظم بن گئے، تو پہلا حکم کیا ہو گا؟
اسلم ملک: ایک دن کے وزیراعظم کے حکم پر عمل کہاں ہو گا؟ اگر یہ ضمانت ہو کہ اس پر عمل ہو گا، تو آئین کے آرٹیکل 3 پر جلد از جلد لازماً عمل درآمد یقینی بنانے کے لئے کہوں گا جس میں کہا گیا ہے کہ؛ مملکت استحصال کی تمام اقسام کا خاتمہ اور اس بنیادی اصول کی تدریجی تکمیل کو یقینی بنائے گی کہ ہر کسی سے اس کی اہلیت کے مطابق کام لیا جائے گا اور ہر کسی کو اس کے کام کے مطابق معاوضہ دیا جائے گا۔ یا پھر زمین کی حد ملکیت 50 یا 100 ایکڑ مقرر کردوں گا۔
اقبال: کیا ادیب اور صحافی کو غیر جانب دار ہونا چاہیے؟
اسلم ملک: سوچنے سمجھنے والا کوئی شخص غیر جانب دار ہو ہی نہیں سکتا۔ کوئی ادیب ایسا نظر آنے کی کوشش کرے گا، تو منافقت یا بددیانتی ہی کرے گا۔ صحافت میں البتہ ایمان داری کا تقاضا یہ ہے کہ رپورٹنگ اور ایڈیٹنگ میں اپنی پسند ناپسند کو غالب نہ آنے دیا جائے۔ جس طرح کچھ ہوا ہے یا کسی نے کہا ہے، اسے نرم یا تیز کرنے کی کوشش کی جائے نہ اپنی مرضی کے معنی پہنانے اور کوئی اینگل دینے کی۔ ہاں، بائی لائن تحریر میں غیر جانب داری کے ”مظاہرے“ سے احتراز ہی بہتر ہے۔
اقبال خورشید: طویل صحافتی سفر، وسیع تجربہ، آپ بیتی لکھنے کا خیال کیوں نہیں آیا؟
اسلم ملک : من آنم کہ من دانم، چار پشتوں تک اجداد کے نام معلوم ہیں۔ سب کسان تھے۔ ان سے پہلے بھی سب ایسے ہی ہوں گے۔ اسی زمین کے تھے، ماراءالنہر، عراق شام افغانستان ایران سے آنے کی کوئی روایت نہیں۔ نہ یہ معلوم ہے کہ کس زمانے میں اور کیوں اسلام قبول کیا۔ والد کچھ پڑھ لکھ کر سرکاری ملازمت میں شہر نہ آ گئے ہوتے، تو میں بھی کسان ہی ہوتا۔ زندگی نچلے متوسط طبقے کے سب ہی لوگوں کی طرح گزری، کوئی تیر نہیں مارا۔ صحافت میں بھی دفتر بیٹھ کر خبروں کی نوک پلک سنوارنے کا شعبہ تھا۔ رپورٹرز کی طرح شخصیات سے ملنے جلنے اور اہم واقعات دیکھنے کا موقع نہیں ملا۔
لیکن جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ ہر شخص ایک دل چسپ کتاب ضرور لکھ سکتا ہے۔ اپنی یادوں پر مشتمل۔ تو ایسی کوئی بات یاد آتی ہے، تو فیس بک پر شیئر کر ہی دیتا ہوں۔ کبھی کچھ فنی مدد میسر آئی، تو ایسی پوسٹس جمع کر کے پی ڈی ایف میں پیش کردوں گا۔ ویسے مجھے یہ کبھی سمجھ نہیں آیا کہ لوگ کسی سے ملاقات اور گفت گو کس طرح یاد رکھتے ہیں کہ کئی کئی صفحے کی تفصیل لکھ لیتے ہیں۔ گیارہویں یا بارہویں جماعت میں تھا کہ مجھے اور ایک دوست کو مولانا مودودی سے پچیس تیس منٹ علیحدگی میں ملاقات کا مل گیا۔ ظاہر ہے کہ باتیں ہوئیں، لیکن مجھے ایک لفظ بھی یاد نہیں۔
اقبال: صحافتی سفر عشروں پر محیط، یہ فرمائیں، اخبارات پر سینسر شپ کے سلسلے میں آپ کے کیا مشاہدات رہے؟
اسلم ملک: میرا مشاہدہ 1977 سے 2022 کا ہے۔ جو کچھ نیوز ڈیسک تک پہنچتا تھا، اس کے مطابق تو بدترین دور ضیاء الحق کا تھا، جس میں کھلی سینسر شپ تھی۔ تیار شدہ اخبار سینسر آفیسرز سے چیک کرانا ہوتا تھا۔ وہ کافی مواد اتار لیتے۔ اخبار اسی طرح چھپتے یعنی جگہ جگہ سفید قطعات۔ اس میں بدنامی سمجھی گئی، تو حکم ہوا، خالی جگہ نہیں جائے گی۔ متبادل مواد تیار رکھیں اور منظور کرائیں۔ سینسر اس قدر تھا کہ ایک اخبار کے اداریے کے اوپر اول دن یا سات سال پہلے سے چھپتی قرآنی آیت کا ترجمہ (فرعون زمین پر بڑا بن بیٹھا۔) اتار لیا گیا۔ کہا گیا، ہم سمجھتے ہیں یہ سی ایم ایل اے کی طرف اشارہ ہے۔ ضیاء الحق کی اپنی تقریریں سینسر ہوتیں۔ ان کے ماہرین طے کرتے کہ یہ بات نہیں چھپنی چاہیے۔ ہمارے دفتر ”پی آئی ڈی“ کی ایک خاتون کا فون آتا۔ وہ نوٹ کراتیں۔ ایک دن 23 پوائنٹ سینسر کرنے تھے تو مجبوراً لکھ کر فیکس پر بھیجے۔ بے نظیر بھٹو کے ادوار میں سب سے زیادہ آزادی تھی۔ نواز شریف کے آخری دور میں تو روز نیوز ڈیسک پر پرنسپل انفارمیشن افسر اور ڈی جی پی آر کے فون آتے تھے۔ عمران خان کے دور میں ایسے فون بند ہو گئے۔ سینسر شپ محض سوشل میڈیا پروپیگنڈا تھا، سب سے زیادہ تو اسی حکومت کے خلاف چھپتا رہا۔ نواز دور میں تو پنجاب کے ڈی جی پی آر کو اس لئے ہٹا دیا گیا تھا کہ حمزہ کے بارے میں عائشہ احد کا بیان کیوں اخباروں میں چھپ گیا۔




