کیا زرداری اور نواز فیل ہو گئے؟
کچھ عہدوں کی اندھی طاقت اور ان کے پیادوں کی بے لگام قوت نے ہمیں ہی نہیں، ہماری ”جدید“ پود کو بھی غیر حقیقی کر دیا ہے! مجبور اقوام کو اکثر سبز باغ دکھا اور انتخابات کا علم اٹھا کر استحصال کی نذر کر دیا جاتا ہے، حقیقت سے روگردانی کا تعلق صرف جادو ٹونا ہی سے نہیں، سائنس کا وہ طالب علم جس کی کہانی انفارمیشن سے مفروضہ، چھان پھٹک کے بعد قیاس (ڈیڈکشن) کا سرا پکڑتی ہے، پھر، تھیوری اور آخر کسی قانون کو یا سائنسی قانون کو بیان کرتی ہے، گویا مشاہدات و تجربات کا یہ شہسوار اگر سطحی یا کھوکھلا ہے، تو پھر معاشرہ یا ریاست کی اس سے کیا توقع؟ جو ریاست اور والدین نے پڑھایا اس کا کیا مول؟ سوشل سائنسز والے کو عالمی و قومی تاریخ، سماجی نزاکتوں، سیاسی گورکھ دھندوں اور دال روٹی کے چیلنجز ہی کا نہیں پتہ، تو ”شہر میں آ کر پڑھنے والے بھول گئے / کس کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا“؟
جنہوں نے تحریک اور قیام پاکستان میں حصہ لیا اور استحکام پاکستان میں اپنا کردار ادا کیا وہ نسل خاتمے کے قریب ہے، ساٹھ کی دہائی والی نسل جس نے کوئلے کی استری، کنویں اور گھڑے کے پانی کے علاوہ رقعوں سے وٹس ایپ کا سفر کیا، تیزی سے بڑھتی ہوئی جدتوں کو محسوس اور استعمال کیا، یہ لوگ بھی نوجوانوں کے لئے بڑا سبجیکٹ ہیں، بلکہ انگریزی ترتیب والا آبجیکٹ، ورب اور سبجیکٹ بھی، چیلنجز اور راحتوں کے مقام اعراف پر کھڑی یہ نسل اپنی ذات میں انجمن ہے۔ انہیں بتانا ہو گا لالٹین سے برقی قمقموں کا سفر بھی اپنی جگہ ایک بہت بڑی ترقی اور کامیابی تھی۔ مگر افسوس کہ یہ ساٹھ کی دہائی کی پیدائش والی نسل حالیہ نوجوان نسل کو سمجھانے سے قاصر رہی اور غلامی کے بھنور اور نفسیات ہی سے نہ نکل سکی۔ المیہ یہ کہ ایک مضمون ہوتے ہوئے بھی ایسی پسماندگی اور ناکامی تراشی جس نے کمیونزم اور سوشلزم کو عقیدہ سمجھ اور سمجھا کر لوگوں کو ڈرائے رکھا، جس نے نسب کی زنجیروں میں باندھ کر آدھے پاکستان کو بانجھ بنایا، اور یہ پتہ ہی نہ چلنے دیا کہ، ”نسب پرست کبھی رب پرست نہیں ہو سکتا“ نسب پرست کا تو انسان دوست ہونا بھی ممکن نہیں۔ ورنہ کس حسب نسب کے ڈی این اے میں کون کون سی ورائٹی نہیں ہوتی؟
جینیٹکس اور مطالعہ حسن سلوک کر دیکھئے، کیا ایک ایک گھر میں رویوں کا تصادم نہیں دکھتا؟ کس کو نہیں معلوم کہ روٹی کا مہیا ہونا اور نہ ہونا کتنا پراعتماد بناتا اور اعتماد چھینتا ہے؟ حسب نسب کا پرچار مارکیٹنگ اور کاروبار کے وہ حربے ہیں جو اب پرانے ہو چکے، وہ زمانہ اور تھا یہ زمانہ اور ہے، زمانہ جمود کا نہیں حرکت اور ارتقا کا نام ہے۔ کیا سائنس و ٹیکنالوجی، طب اور انجینئرنگ یا انٹرنیشنل ریلیشنز اور سماجی علوم معیشت اور معاشرت کے پیراڈائم شفٹ نہیں؟
ہماری نسل شاید آج کے بچوں اور نوجوانوں کی تربیت سازی ہی نہ کر سکی کہ یہ آرام سے نیا پاکستان اور پرانا پاکستان کے جھانسے میں آ گئے، ورنہ پاکستان نے کیا کچھ نہیں دیا یہ سب نیا پاکستان سے پوچھئے! نئی نسل اگر اپنے اندر سیاسی مکالمہ کو (1) تاریخ کے فہم کی بنیاد، (2) دستور سازی کے علم کی بنیاد اور (3) معاشرتی اقدار کی بنیاد پر پنپنے دے تو سب واضح ہو جائے، نوجوان خوابوں اور نیون لائٹنگ سے چھٹے بادلوں کی اوٹ دیکھے تو امریکی و روسی طاقتوں، افغانی و بھارتی پڑوس کی نزاکتوں کے باوجود 1947 سے اب تک پاکستان کو کامران پائے گا۔ ہاں، تاریخ پاکستان کا مشرقی و مغربی پاکستان کا باب نئی نسل نے اگر کبھی یاد کیا ہے تو بھولنا نہیں! ایک نظر اس پر بھی کہ 1973 کا آئین، دیار غیر میں پاکستانیوں کے لئے دریچے کھلوانا، ایٹمی دھماکے، موٹر ویز، میزائل سازی، ایچ ای سی کا قیام، سی پیک آمد، نیلم جہلم و دیگر توانائی کے منصوبے، گوادر منصوبہ، این ایف سی ایوارڈ، ایشیا میں کسی پہلی اوپن یونیورسٹی کا کامیاب پراجیکٹ اپنے اپنے زمانے کے پیراڈائم شفٹ ہیں۔ پھر، لوگوں کو شاید نہ بھولا ہو کہ پارلیمنٹ میں کھڑے وزیراعظم یوسف گیلانی کے ایک ایگزیکٹو آرڈر سے اعلیٰ عدلیہ کے جج بحال ہو گئے تھے!
حالانکہ اس بدقسمتی سے بھی دامن گیر رہے کہ، عالمی سطح پر ہمارے عدل کی رینکنگ 129 سے کہیں نیچے آ گئی ہے، یہی وجہ کہ کبھی فیٹف کی بلیک و گرے لسٹ کے سائے تو کبھی آئی ایم ایف کی پابندیوں کے بوجھ، لمبے آمرانہ ادوار میں پھنسا کر کبھی سیاستدانوں کو تہ تیغ کرتے، کبھی ایوانوں میں تقسیم کو ہوا دیتے، لیکن، آخر انہی ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، نواز شریف اور آصف زرداری سے مدد مانگتے رہے، اپنی ناکامیاں چھپانے اور خواہشوں کی تکمیل کے لئے ان پر الزام لگائے جو اور سلیکٹڈ جمہوریتوں سے ہمیشہ بہتر تھے۔
آرٹیکل 62، 63 اپنے زاویوں سے استعمال کرنے اور کرانے والے، 1973 کا آئین ترک کر کے صدارتی نظام چاہنے والے، اپریل 2022 میں عدم اعتماد کے شفاف قانون کو آلودہ کر کے اسمبلیاں توڑنے والا وزیراعظم اور اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے میں پیش پیش صدر سے آئینی اور جمہوری دعووں کو سچ سمجھنا کڑوی گولی نگلنے کے مترادف نہیں؟ سب باتیں اپنی جگہ، بہرحال عدالتیں ہماری امید ہیں، اور حالیہ برکت کہ، بلی تھیلے سے باہر آ چکی، معزز 8 رکنی سپریم کورٹ بینچ اگر سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل ختم بھی کردے، معاملہ ارتقائی شاہراہ ہر آ چکا، آج نہیں تو کل پارلیمان اور بیدار مغز سیاستدانوں نے سرخرو ہونا ہی ہے۔ عالمی منظر نامے گواہ ہیں، مقننہ ہی سے ملک چلتے ہیں، عدلیہ اور انتظامیہ کا امدادی کردار ہے!
معاف کیجئے گا، یہ جو عدالتی معاملات پنچایتی معاملات بنتے جا رہے ہیں، کبھی پرانے چیف جسٹس ثاقب نثار اور کہیں حاضر سروس ججز کے عزیز و اقارب آصف علی زرداری یا میاں محمد نواز شریف کے خلاف علانیہ و خفیہ عمل پیرا ہیں، اور پھر عمران خان پرتجسس پھلجھڑیاں چھوڑتے ہیں کہ پنجاب اور کے پی اسمبلیاں سابق آرمی چیف کے کہنے پر توڑی تھیں، تو یہ قحط الرجال کا منہ بولتا ثبوت اور ہتھوڑا گردی نہیں تو کیا ہے؟ اس سے تو کہیں یہ مطلب نہیں نکل رہا کہ عمران خان اپنے سیاسی تدبر سے جیت رہے ہیں، اور نہ یہ معنی سامنے آرہے ہیں کہ آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کی لیڈرشپ کو کسی شکست یا فیل ہونے کا سامنا ہے!
عمران خان و ہم نواؤں کو اقتدار ملا تو قبل از وقت اپنی ناکامی سے کیوں کھویا؟ نواز شریف ہوں کہ آصف زرداری یا ان سے قبل والے، استحکام پاکستان میں ان کے کردار تھا، نہیں تھا تو خان حکومت اور ہم نواؤں نے اپنے عمل سے خود کو مختلف ثابت کیوں نہ کیا؟ ملک جھوٹ اور دوسروں کو برا کہنے یا بلیک میل کرنے سے نہیں، کچھ کر دکھانے سے چلتے ہیں، اور حقیقت بھی کوئی چیز ہے!


