جہاں آباد کا شاعر اور بنگال کی دیپتی
تاریخ، سیاست اور ادب کے تعلق کی کہانی اتنی ہی پرانی ہے جتنی انسان اور طاقت کے ساتھ اس کی جڑت کی داستان۔ مذاہب کی تاریخ دیکھ لیں، قانون اور اصولوں کے بننے کی وجوہات ڈھونڈ لیں یا ایوانوں کی راہداریوں میں پہنچنے والوں کی داستان سن لیں، سب کہانیاں طاقت کے حصول اور اس کو برقرار رکھنے کی کوششوں میں لپٹی نظر آئیں گی۔ انسان نے سب سے زیادہ نقصان بھی اپنی ہی نسل کو پہنچایا ہے اور اسی کو سب سے زیادہ قابل نفرت بھی سمجھا ہے، یعنی اشرف المخلوقات اپنی نفرت کے لائل بھی کسی کو نہیں جانتا۔
اپنی طاقت کی تقویت اور اپنے بیانیے کے پرچار کے لئے ایوانوں اور محلوں سے نہ صرف تاریخ لکھی جاتی رہی بلکہ ادب اور آرٹ بھی بادشاہوں اور حکمرانوں کی مرضی سے تخلیق ہوتا رہا، یہ تاریخ اور ادب ہمیں ہر زمانے میں گزشتہ ادوار کی کہانی سناتا آیا ہے جس میں ظالم ہی مظلوم نظر آتا تھا۔
پھر ہار جانے والے نے اپنی کہانی کو سنانا شروع کیا اور ایک نیا موقف سامنے آیا، یہ متبادل بیانیہ تھا، الگ کہانی تھی، اس کہانی میں اول الذکر کہانی میں ظالم بن گیا۔
تیسری کہانی اس نے سنائی جو صرف اس تماشے کو دیکھ رہا تھا اور اس ظلم کو محسوس کر رہا تھا، یہ کہانی کار سب سے معتبر تھا، اسے نہ طاقت کی پرواہ تھی نہ ہمدردی کی فکر۔ اس کا مقصد صرف کہانی سنانا تھا، کردار بنانا تھا، کردار دکھانا تھا، واقعات کی پرتیں کھولنا اور وقت کو اتنے لمحے کے لئے روکنا تھا کہ وہ اپنے راز عیاں کرتا جائے۔
ایسی ہی ایک کہانی ہمیں اصغر ندیم سید نے اپنے نئے ناؤل ”جہاں آباد کی گلیاں“ میں سنائی ہے، کہانی کیا ہے انجام سے آغاز کی طرف الٹے پاؤں چلنے والی کہانی ہے، جو اختتام پر ایک ابتداء کو جنم دے دیتی ہے۔ کہتے ہیں ایک فرد کی موت پر اس کا کنبہ نیم مردہ سا ہو جاتا ہے، اور ایک رہنما کی موت کسی قوم کے ساتھ بھی اس سے کچھ کم نہیں کرتی۔ بھٹو کی موت نے پاکستانیوں کے ساتھ کچھ ایسا ہی کیا۔
جہاں آباد ایک علامت ہے، جس کے کئی معنی ناول کے متن میں پوشیدہ ہیں۔ ایک شاعر جو اپنے مزاحمتی لہجے کی پاداش میں اٹھایا جاتا ہے اور ایک آمر اس کی آواز کے خوف سے گھبرا کر اسے قید کر دیتا ہے، یہ وہی وقت ہے جب بہت سی آوازوں کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ کچھ کو ہمیشہ کے لئے خاموش کیا گیا اور کچھ کا لہجہ چھین لیا گیا، بھٹو صاحب پھانسی چڑھ چکے تھے اور ان کے عشاق ضیاء الحق کے رحم و کرم پر تھے۔
اس شاعر کا کوئی نام نہیں، یہ اپنی کہانی خود سنا رہا ہے، فرسٹ پرسن میں کہانی سنانا آسان نہیں، اور ناول لکھنا تو کہیں نازک کام ہے، صیغہ متکلم میں یا تو کہانی ہاتھ سے پھسلنے لگ جاتی ہے، یہ نہ ہو تو کہانی یا راوی میں سے کوئی ایک جذباتی ہو جاتا ہے۔ یہاں شاعر نے پھونک پھونک کر کہانی سنائی ہے اور روک روک کر سنائی ہے۔
شاعر کی بیوی اپنے کسی فوجی عزیز کی مدد سے شاعر کو اس جہاز کے مسافروں میں شامل کروا لیتی ہے جو بھٹو کے بچوں نے ایک جہاز کو اغوا کرنے کے بدلے رہا کرائے تھے۔ یوں شاعر ایک فوجی کی مدد سے لندن پہنچ جاتا ہے۔
سیاسی پناہ میں ابتدائی ایام گن گن کر بہت مشکل سے گزرتے ہیں، وہ مسلسل اپنی بیوی اور بھٹو کی پھانسی کی رات پیدا ہونے والے بچے کو یاد کرتا رہتا ہے، اس کے ساتھ اس کوارٹر میں ایک سندھی خدمت گزار ہے وہ بھی بھٹو کی محبت میں یہاں تک پہنچا ہے۔
کہانی اپنی روانی میں آتی ہی ہے کہ مصنف لندن میں مقیم پاکستانیوں کی کہانیوں کے ساتھ ساتھ کئی ان افراد کے قصے اپنی کہانی میں ملاتا جاتا ہے جو درحقیقت ناول کے چھوٹے چھوٹے ابواب ہیں اور ناول کی بنیادی کہانی کو سہارا دیتے ہیں، ان میں نہ صرف غیر قانونی طریقے سے وہاں تک پہنچنے والوں کے قصے ہیں بلکہ کئی قانونی طریقوں کو اپنانے والوں کی بے ایمانیوں کا تذکرہ ہے۔ وہاں پاکستانیوں کے کامیاب ہونے کی مثالیں ہیں تو ساتھ ہی ان کو کامیاب کرنے والوں کے راز بھی۔
راوی وہاں ملنے والے لوگوں کی اور ان سے بننے والے تعلق کی کہانی سناتے سناتے اسے کئی جگہوں پر پاکستان، ضیاء کے مارشل لا اور بین الاقوامی سیاسی صورت حال کے ساتھ یوں جوڑتا آتا ہے کہ ان افراد کی کہانی اور ان سے راوی کا تعلق صرف ایک قصہ نہیں لگتا بلکہ اس کے سنانے کا مقصد کچھ اور ہوتا ہے۔
یوں کہیں کہیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ روانی میں بہت سہل انداز میں بہتی ہوئی یہ کہانی ناول کے روایتی انداز سے کہیں مختلف ہے، کیونکہ بہت سے کرداروں کو بہت مختصر سکیل پر بنایا گیا ہے، اور یوں محسوس ہوتا ہے ایسے کئی کردار تھے جو ایک لائن میں ٹھہرے ہوں اور کہانی کو ایک کردار سے لے کر اگلے کردار کو منتقل کر رہے ہوں۔ اردو ناول میں یہ تکنیک کم کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ بہت سارے کرداروں کے ساتھ ناول کو چلانے کے لئے یہ ایک کامیاب طریقہ سمجھا جا سکتا ہے۔
بہت سے کردار تو ان قیدیوں کی صورت سامنے آتے گئے جن کی ترجمانی راوی عدالت میں کر رہا تھا۔ ان کے مترجم ہونے کے سبب وہ کئی باتیں جان رہا ہے، اور یہ وہ سب لوگ ہیں جو اور دیسوں سے راوی کی طرح ہی یہاں آئے ہیں۔ سب کے آنے کی کہانی الگ ہے، سب کا درد اور مجبوری الگ ہیں۔
تین کردار لندن کے اس دورانیہ میں مسلسل راوی کے ساتھ چلتے ہیں۔ طیفا بٹ، جو ایک ہندوستانی/پاکستانی ہوٹل کا مالک ہے، اور شاعر کا وہاں آنا جانا رہتا ہے، وہی بہت سے راز عیاں کر رہا ہے اور کئی مزید کرداروں سے متعارف کراتا ہے، یہ ایک مکمل کاروباری آدمی ہے، جو اپنی جیب سے سوچتا ہے اور وہیں اس کا دل دھڑکتا ہے۔
سولنگی دوسرا ایسا کردار ہے، جو اسی جہاز میں آیا ہے، اور ایک ہی مکان میں ساتھ رہنے کے لئے آیا ہے، مگر ایک سندھی جاگیردار کا لندن میں بھی ملازم ہونا بہتر سمجھ کر وہاں جا پناہ ڈھونڈتا ہے۔ یہ وہ معصوم شکل ہے جو ہمارے معاشرے میں ہمیشہ اکسپلائیٹ کرنے کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔
تیسرا کردار نادل کا سب سے منفرد کردار ہے، جو کہانی کا رخ بدل دینا ہے، جو اس پھیلاؤ کو سمیٹنے کا کام کرتا ہے، وہ کردار ایک رقاصہ کا ہے، دیپتی وہ واحد کردار ہے جس کے ساتھ شاعر کا تعلق عمومی تعلق سے کچھ گہرا ہوتا ہے۔ دیپتی اس شاعری کو اپنے رقص میں لاتی ہے جس کی وجہ سے شاعر جلا وطن ہوا تھا اور پھر وہ شاعری اسے کئی ممالک میں گھما کر واپس اپنے وطن لاتی ہے، کاغذوں پر لکھی جس شاعری نے جلا وطن کرایا وہ دیپتی کے تھرکتے بدن کے ساتھ شاعر کو واپس لاہور لے آئی۔
پورے ناول میں کہیں اصغر ندیم سید نے چونکا دینے کی کوشش نہیں کی، صرف کہانی سنائی اور کرداروں سے ملایا۔ دیپتی شاعر کے ساتھ پاکستان آ کر رقص کا مظاہرہ کرتی ہے اور اس شام شاعر کا وہ بیٹا اس تک آتا ہے جو بھٹو کی پھانسی والی رات پیدا ہوا تھا، وہ شاعر سے کتاب پر ایک اجنبی کی طرح دستخط لیتا ہے اور واپس پلٹ جاتا ہے، دور برآمدے میں اس کی ماں اس فوجی کے ساتھ ٹھہری ہوتی ہے جس نے شاعر کو باقی فوجیوں سے بچا بھیجا تھا۔ ناول کا اختتام ایسا ہے جو نہ صرف چونکا دیتا ہے بلکہ ناول کی اخری سطور کو واپس پہلے صفحے سے جا ملاتا ہے اور یوں لگتا ہے جیسے آپ نے تین سو صفحات نہیں پڑھے بلکہ تین صفحات پلٹے ہیں۔



