طارق فتح اور بھارتی نیوز میڈیا کا نقصان


پاکستان میں اکثریت کے نزدیک متنازع اور بھارتی انتہا پسندوں کے نزدیک ہیرو سمجھے جانے والے، پاکستانی نژاد کینیڈین صحافی، مصنف اور میڈیا ایکٹیوسٹ طارق فتح تہتر برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ طارق فتح پیدا تو پاکستان میں ہوئے لیکن وہ فخر سے خود کو ہندوستانی بتاتے تھے۔ ابتدائی تعلیم اور پھر عملی زندگی کا آغاز پاکستان سے کرنے کے بعد انہوں نے سعودی عرب میں بھی وقت گزارا پھر وہاں سے ہمیشہ کے لیے کینیڈا چلے گئے۔ ویسے دھرتی سے محبت کی بات تھی تو وہ پاکستان سے بھارت بھی جا سکتے تھے۔ اپنی اس ہجرت کا سبب انہوں نے پاکستانی معاشرے میں پھیلی مذہبی انتہا پسندی اور آمریت کو قرار دیا تھا۔ طارق فتح ہمیشہ بھارتی چینلز پر بیٹھ کر مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف بولتے ہوئے نظر آتے تھے۔

ان کے نظریات اور خیالات سننے کے بعد اس بات کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا تھا کہ انہیں صرف فوجی آمریت سے ہی شکایت نہیں تھی بلکہ وہ پاکستان، مسلمانوں اور عرب ممالک سے بھی سخت نالاں تھے۔ حتیٰ کہ قائد اعظم کی ذاتی زندگی کو لے کر بھی انہوں نے کئی بار غیر اخلاقی زبان استعمال کرنے سے گریز نہیں کیا۔ ان کے دنیا سے چلے جانے کے سبب یقیناً بھارتی نیوز میڈیا کا ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔

جب جب بھارت میں کوئی نیا ہندو مسلم تنازع کھڑا ہوتا یا پاکستان و بھارت کے درمیان کشیدگی کا کوئی نیا واقعہ ہوتا تو بھارتی میڈیا فوراً طارق فتح کی خدمات سے استفادہ کرتا۔ انہیں بھارت میں ہونے والی ہندوتوا انتہا پسندی یا بی جے پی کی ہندو مسلم فساد پالیسی پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ نہ انہوں نے کبھی بھارتی حکومت کی اسلام یا پاکستان مخالف طرز سیاست پر سوال اٹھایا۔ بلکہ جب نپور شرما نے حضرت محمد ﷺ کی شان میں گستاخی کی اور قطر نے اس معاملے میں مداخلت کی تو وہ بھارتی حکومت کی قطر کے آگے جھکنے کی پالیسی پر خاصے برہم نظر آئے۔

وہ بھارتی آرمی پر اکثر اس معاملے میں تنقید کرتے نظر آتے تھے کہ وہ پاکستان کے خلاف کوئی سخت کارروائی کیوں نہیں کرتی۔ دوسرا وہ پاکستان میں علیحدگی پسند گروہوں کی حوصلہ افزائی کے لیے اکثر سندھ اور بلوچستان کے لوگوں کے ہمدرد بن جاتے اور صوبوں کے مابین نفرت پھیلانے جیسے بیانات دیتے نظر آتے۔ انہیں برصغیر میں مسلمان حکمرانوں کی آمد پر بھی افسوس تھا۔ وہ مسلمان بادشاہوں کے ظلم و ستم کے قصے تو بیان کرتے لیکن ہندو راجاؤں اور اس خطے میں آریاؤں کی آمد کے بعد دراوڑی قوم پر بربریت کو وہ گول کر جاتے۔ انہیں مسلم معاشرت میں ہزار خامیاں نظر آتیں لیکن ہندوستان میں ذات پات کا بٹا ہوا نظام اور نچلے طبقے پر ہونے والی ناانصافیوں پر وہ آنکھیں موند لیتے۔

وہ اکثر پاکستان اور بھارت کے مسلمانوں کو اس بات پر بھی تنقید کا نشانہ بناتے کہ وہ اپنے بچوں کے نام خالص ہندوستانی نہیں بلکہ عرب مسلمانوں کے نام پر رکھتے ہیں جیسے مسلمان اپنے بچوں کے نام ظفر تو رکھ لیں گے لیکن وجے نہیں رکھے گے کہ دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے۔ مگر حیرت اس بات پر بھی ہوتی ہے کہ خود انہوں نے اپنی بیٹیوں کے نام سیتا، گیتا یا انجلی کے بجائے نتاشا اور نازیہ رکھے۔ سلمان رشدی کے نظریوں کی تعریف کرتے طارق فتح کا معاملہ اب ان کا اور خدا کا ہے۔ مگر ان سے اختلاف یہ رہا کہ ظلم اور برائی کے خلاف آواز اٹھانے والا اگر سچا ہو تو وہ محض کسی ایک فرقے کو ہی تنقید کا نشانہ نہیں بناتا۔ وہ جہاں برائی دیکھتا ہے اس کا برملا اظہار کرتا ہے۔ پھر چاہے وہ ہندووں یا مسلمان، بھارتی ہو یا پاکستانی، فوجی ہو یا سیاستدان۔

بھارتی نیوز میڈیا میں پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف بولنے والوں کو ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔ ہمارے کچھ نام نہاد صحافی اور ایکٹیوسٹ بھی آج کل بھارتی چینلز اور سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف ہی زہر اگلتے نظر آتے ہیں۔ جب کے نریندر مودی کا نام لیتے ہوئے ان کی آنکھیں عقیدت سے جھک جاتی ہیں۔ یہ گروپ بھی بی جے پی کی انتہا پسند سیاست پر انجان بن جاتا ہے۔ اس کا فائدہ انہیں یہ بھی ہوتا ہے کہ ان کے یوٹیوب چینلز پر بھارتیوں کی بڑی تعداد ان کی فالورز ہوجاتی ہے۔ یہ بیچارے بھی طارق فتح کے دنیا سے چلے جانے پر خاصے افسردہ ہیں۔

Facebook Comments HS