تھکاوٹ

سونیا اٹھو سات ہو گئے ہیں گھر سمیٹو۔
اف ہو اماں اٹھ جاؤں گی ابھی اٹھی تو روزہ لگ جائے گا میں نہیں ابھی اٹھ رہی۔ اور آپ بھی سو جائیں۔
…
اف ہو گیارہ ہو گئے آج کتنا لیٹ ہو گئی۔ انٹی کو برا لگے گا۔ اف پتہ نہیں صبح کیا بولا تھا اک تو نیند میں بولنے کا مسئلہ۔
السلام و علیکم انٹی۔ وہ معذرت میں لیٹ ہو گئی۔
سونیا نے شرمندہ لہجہ میں بولا۔
نہیں بیٹا جی معذرت تو ہمیں کرنی چاہیے کہ اپ کو اٹھانے کی غلطی کی۔
اور صبح صبح اپ کے سر پر بولنے لگ گئی۔
وہ انٹی دراصل مجھے وہ
بس کرو ڈرامے جاؤ اپنے کمرے میں۔ رعب دار آواز سے سجیلہ بیگم نے سونیا کو بھیجا۔
۔
ابھی بیس دن پہلے ہی سجیلہ بڑے چاہ اور مان سے سونیا کو حاشر کے لیے بیاہ لائی تھی۔ تیسرے دن سے ہی سونیا نے گھر کا انتظام سنبھال لیا۔
آج پہلا روزہ تھا۔ زندگی کے پچھلے بیس رمضان ایسے ہی گزرے تھے کہ روزہ رکھ کے سکول کالج گئے واپس آنے پر صرف سونا۔ فراغت میں بھی یہی حال رہا صبح کبھی نہیں اٹھتی تھی۔ آرام سے بارہ بجے اٹھا۔ آج سسرال کا پہلا روزہ اور آج ہی بے سکونی۔
دل کو بہت برا لگ رہا تھا اور یہ بھی پتہ تھا کہ کچھ غلط تو کہا نہیں ہو گا اور ویسے بھی یہ تو ایک سائیکو لوجیکل ایشو ہے نیند میں بولنا۔
حاشر بھی آج شام تک واپس آ رہا تھا۔
سسرالی رویہ کا اندازہ بھی نہ تھا مگر صبح کا رویہ کافی سمجھا رہا تھا کہ بی بنو اب عملی میدان میں اترو۔
۔ ۔
سہ پہر تین بجے کچن میں گھس کر پکوڑے، رول، دہی پھلکیاں اور فروٹ چاٹ بنائے اور ساتھ ہی عشائیہ کا بندوبست کر کے فریش ہونے کمرے میں گئی کہ حاشر آنے والا تھا۔
پیچھے سجیلہ نے پانی بنانا شروع کیا اور ساتھ جوڑوں کے درد کا ورد۔
اتنے میں حاشر داخل ہوا ماں کو کچن میں دیکھ کر اور بیوی کو بناؤ سنگھار میں مصروف دیکھ کر دھچکا لگا۔
اس کے سامنے تو سونیا کام کرتی تھی تو کیا پیچھے میری ماں۔
ارے بیٹا آ گئے۔ سجیلہ نے پیار سے بولا۔
جی امی۔ مگر یہ آپ کیا کر رہی ہیں۔ سونیا کدھر ہے۔
ارے بیٹا وہ۔ ارے چھوڑو میں تو صرف پانی بنا رہی ہوں۔
بتائیں نا امی کیا ہوا ہے۔
افطار کر لو بعد میں بات ہوتی ہے۔
ارے آپ گئے۔ سونیا کچن میں داخل ہوتے خوشگوار حیرت سے بولی۔
تو کیا نہ آتا۔ نہایت ہی ترچھے طریقے سے جواب دیتا کمرے میں گھس گیا۔
انہیں کیا ہوا امی۔ اور اپ کچن میں کیوں آئی۔ سونیا نے پیار سے بولا۔
ہنہہ کرتے سجیلہ نے باہر کی راہ لی۔
۔ ۔
”آج تم نے صبح امی سے کیا بولا“ حاشر کا غصہ سوا نیزے پر تھا۔
میں نے تو کچھ بھی نہیں کہا۔
ہاں ماں تو جھوٹی ہے تم کو صبح اٹھانے کمرے میں گئی تم نے مجھے کمرے سے نکلنے کو بولا اور کہا کیا سر پر کھڑی ہو۔ دو دن کے لیے حاشر گھر سے باہر کیا گیا تم نے تو رنگ ڈھنگ ہی اور کر لیے۔ یہ بھی نہ خیال آیا کہ بڑھیا روزے سے ہے۔ سجیلہ نے اپنے پاس سے چار باتیں جوڑ کر بتائی۔
پر امی میں نیند میں ضرور بات کرتی ہو لیکن آج تک ایسے نہیں بولی اپ کو غلط فہمی ہوئی ہو گئی۔ میں ایسے نہیں بول سکتی۔ سونیا حیرت سے خود کی صفائی دے رہی تھی۔
بکواس بند کرو حاشر کی گرج دار آواز اور اٹھے ہاتھ نے سونیا کی قوت گویائی چھین لی۔ اور جھک کر معافی مانگنے کا حکم نامہ جاری کیا۔
بھیگی آنکھوں سے معافی مانگ کر کچن میں چلی گئی اور باقی کام سمیٹے۔
دس بجے سب کاموں سے فراغت پاکر کمرے میں گئی حاشر سو چکا تھا۔
دونوں اطراف گرہ پڑ چکی تھی۔
حاشر کے لیے بد تہذیب اور سونیا کے لیے کانوں کا کچا ہو گیا تھا۔
زندگی کی گاڑی چلتی گئی بچے پیدا ہوتے گئے۔ حاشر اس بات کو بھول گیا مگر سونیا کے دل میں آج بھی تیر تھا۔
اس عرصے میں سجیلہ بیگم بھی چل بسی۔
نیند کی عادت کا پتہ بھی چل گیا۔ مگر زبان سے اظہار نہ کیا گیا۔ وقت خیر گزرتا گیا۔
۔
دس سال بعد ۔
سونیا بس کر دو تھکاوٹ ہو جائے گی۔ تین بجے سے کچن میں گھسی ہو۔ اب نو ہو گئے ہیں۔
سونیا کو وہ منظر یاد آیا کہ اتنی محنت کے بعد جب اٹھا ہاتھ دیکھا تھا تھکاوٹ تو ہڈیوں میں سرایت کر گئی تھی جو آج تک نہ اتر سکی۔
نہیں حاشر اپ جائیں میں سمیٹ کر آتی ہوں۔ اور پھر اسی تھکاوٹ کے ساتھ عمر بیتتی گئی۔
