الیکشن۔ الیکشن۔ الیکشن
پاکستان اس وقت شدید بحران سے گزر رہا ہے۔ اس ملک میں طبقاتی جنگ ہمیشہ سے جاری ہے۔ امیر اور دولتمند نہیں جانتے کہ غریب کے گھر کا چولہا کیسے جلتا ہے۔ اس ملک میں غریب تو پہلے ہی بیچارے خستہ حال تھے۔ اب مڈل کلاس طبقہ بھی بے روز گاری اور ہوشرباء مہنگائی سے سخت پریشان ہے۔ غریبوں کے چہروں کی مسکراہٹ تو پہلے ہی چھن گئی ہوئی ہے۔ اب سفید پوش بھی بھیک مانگنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ غربت سے تنگ آ کر گداگر عورتیں نے جسم فروشی شروع کردی ہے۔
ان کی مجبوری و بے بسی کا قصوروار کون ہے۔ ریاست یا وہ خود غرض لوگ جو اپنی خواہشات کی تکمیل اور اپنے محلوں کی آرائش و زیبائش غریبوں کی لاشوں پر کر رہے ہیں۔ ضعیف مرد و خواتین اپنی راتوں کی نیندیں پوری کرنے کی بجائے مفت آٹا لینے کے لئے لمبی قطاروں میں کھڑے ہو جاتے۔ ان میں سے بعض اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ کچھ لوگ گھر چلانے کی خاطر اپنی بچیوں کی عظمت کو داؤ پر لگا نے کے لئے مجبور ہو جاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ غریب کو محض پیٹ کی آگ بجھانے سے غرض رہ گئی ہے۔
انتہا یہ ہے کہ لوگ مذہب تبدیل کرنے پر بھی سودے بازی کرنے لگے ہیں۔ جرائم میں کئی گناہ اضافہ ہو گیا ہے۔ کسی کا مال و عزت محفوظ نہیں رہی۔ اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے لوگ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ اور کچھ سیاسی لوگ الیکشن الیکشن کھیل رہے ہیں۔ سننے میں آیا ہے کہ اس دفعہ عید کی خرید داری نہ ہونے کے برابر رہی کیونکہ ہر چیز عام آدمی کی بساط سے باہر نکلتی جا رہی ہے۔ بازار میں مختلف دکانوں پر خرد و نوش کی چیزوں کے اپنے اپنے ریٹ ہیں۔
کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اوورسیز میں بیٹھے غریب و لاچار کا دکھ دیکھ تو سکتے ہیں مگر محسوس نہیں کر سکتے۔ اپنی شان اور بڑائی کے لئے اپنی پسندیدہ سیاسی شخصیات کو مضبوط کرنے کے لئے چندہ بھیجتے ہیں جو اقتدار کے علاوہ بات ہی نہیں کرتے۔ جنہوں نے ملک کو اس سخت سیاسی و معاشی بحران میں دھکیل دیا ہے۔ سیاست اور عدلیہ کے درمیان فاصلے بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ پورا معاشرہ اخلاقی اقدار کو پیروں تلے روندتا چلا جا رہا ہے، سوشل میڈیا بے لگام گھوڑے کی طرح آزاد ہے۔
آئے روز آڈیوز لیک ہو رہی ہیں۔ نجانے ملک میں کیا تماشا چل رہا ہے۔ ججز کے خاندان بھی محفوظ نہیں رہے۔ ایسی آڈیو لیکس کی تحقیقات کیوں نہیں کی جا رہیں۔ عدلیہ اس بات کا نوٹس کیوں نہیں لیتی کہ اسمبلیاں توڑی ہی کیوں گئیں تھیں۔ بس الیکشن کی رٹ لگی ہوئی ہے۔ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ الیکشن سے مسائل حل ہو جائیں گے۔ کیا پی ٹی آئی اور دوسری سیاسی پارٹیوں میں دشمنیاں ختم ہو جائیں گی؟ کیا انتخابات منصفانہ ہوں گے ؟
کیا کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا؟ کیا سب کو انتخابات قابل قبول ہوں گے ؟ کیا الیکشن سے ملک میں پیدا ہونے والی سیاسی کشیدگی ختم ہو سکے گی؟ کیا جنرل الیکشن جو اکتوبر 2023 میں ہونے ہیں ان کا انتظار ناپید ہو چکا ہے؟ پاکستان کی عوام بتیوں کے پیچھے بھاگنے کی عادی ہو چکی ہے۔ جس نے بھی کے پی کے اور پنجاب کی صوبائی اسمبلیاں توڑنے اور قومی اسمبلی سے استعفے دینے کا مشورہ دیا تھا، پی ٹی آئی کے ساتھ نہایت بھونڈا مذاق تھا۔
حالانکہ قومی اسمبلی سے استعفے دینے کے عمل کو پی ٹی آئی کے اپنے بہت سے لوگوں نے اچھا فیصلہ قرار نہیں دیا تھا۔ اگرچہ استعفوں پر پی ٹی آئی نے یوٹرن لے لیا، جس کا کوئی خاص فائدہ نہ ہوا۔ موجودہ حکومت امپورٹڈ سہی مگر اسمبلی میں بیٹھنے کو تیار ہی نہ ہونا کہاں کی دانشمندی ہے۔ امریکی سازش یا اسٹیبلشمنٹ کی غلطی یا پی ڈی ایم کا جوش دلانا ایک طرف۔ بندے میں خود بھی تو عقل ہوتی ہے کہ نہیں۔ اب جنرل باجوہ کو مورد الزام ٹھہرا نا مسلے کا حل تو نہیں ہے۔
ابھی بھی وقت ہے سنبھلنے کا ۔ اعلیٰ عدلیہ تو سیاسی معاملات کو بھی عدالت میں حل کرنا چاہتی ہے۔ وہ حکومت اور پی ٹی آئی کو مذاکرات کے ذریعے سیاسی بحران سے نکلنے پر زور کیوں نہیں دے رہے۔ جبکہ پی ٹی آئی پہلے ہی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لئے بیٹھنے کو تیار نہیں۔ لوگ یہ بھی کہنے پر مجبور ہیں کہ پاکستان پر عدلیہ کی حکومت ہے۔ کیونکہ پی ٹی آئی کے ہی بڑے ہر بات پر حکومت کو دھمکیاں دیتے ہیں کہ وہ سپریم کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اس وقت سیاسی بحران جوش سے نہیں ہوش سے نکلے گا۔ اور دوسری طرف آئی ایم ایف قرض دینے کو تیار نہیں۔
اوورسیز میں رہنے والوں کی یہ بہت بڑی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ملک پاکستان میں بھڑکتی ہوئی سیاسی آگ پر پانی ڈالیں، تیل نہیں۔ الیکشن کی رٹ چھوڑ کر ملک کے لئے دعائے خیر مانگیں اور اپنے اپنے سیاسی لیڈران سے ملک بچاؤ کی اپیل کریں۔ تاکہ ملک سیاسی بحران سے باہر نکل پا سکے اور غریب عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔

