خواتین اساتذہ کے مسائل کب حل ہوں گے؟


میری آنکھوں کے سامنے دو خبریں گردش کر رہی ہیں، ایک خبر کو ایک سال کے قریب ہونے والا ہے جس میں محکمہ تعلیم حکومت پنجاب کے کرتا دھرتا حضرات نے اعلان کیا تھا کہ خواتین اساتذہ کو جلد ہی ذرائع آمد و رفت کے لئے سکوٹی مہیا کی جا رہی ہیں اور ایک مصدقہ ذرائع سے موصول ہونے والی خبر میرے دل پر بجلی کی طرح کڑک رہی ہے کہ موجودہ سی ای ایجوکیشن بہا ول پور نے چند گرلز پرائمری سکولوں کا معائنہ کیا اور خواتین اساتذہ کے خلاف انکوائری اور معطلی کے احکامات اس لئے جاری فرما دیے کہ وہ اپنے چھوٹے بچوں کو ساتھ لے کر آئی تھیں اور ٹیچرز ڈائری بھی مکمل نہیں تھی، بالائے ستم یہ کہ صفائی کا کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں تھا۔

شاید ہم میں سے اکثریت اس امر سے بخوبی واقف ہے کہ محکمہ تعلیم نے آج تک خواتین اساتذہ کے مسائل کے حل کے لئے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے ۔ میرے مشاہدے میں ہے کہ یہ وہ واحد شعبہ ہے جس میں شریف، غریب اور سفید پوش خاندان کی لڑکیاں ایک طویل سفر کر کے پس ماندہ دیہہ کے علاقوں میں غریبوں کے بچوں کو تعلیم دینے کے لئے جاتی ہیں، ان میں سے اکثریت کی آدھی تنخواہ تو طویل سفر کے اخراجات میں ختم ہو جاتی ہے، سونے پر سہاگہ یہ کہ محکمہ تعلیم نے ان کے تین سے چھ ماہ کے نوزائیدہ بچوں کے لئے کسی قسم کی کوئی سہولت مہیا نہیں کی۔

ترقی یافتہ ممالک کی طرح اگر ہر شہر میں خواتین اساتذہ کے بچوں کے لئے نرسری ہوم بنا دیے جائیں تو کوئی بھی خاتون اپنے بچوں کو سکول میں کیوں لے کر آئے۔ دیکھا جائے تو ہر گھر میں ساس، ماں، خالہ یا پھوپھی جیسی بوڑھی خواتین موجود نہیں ہوتیں جو ان کے بچوں کو ان کی غیر موجودگی میں سنبھال سکیں۔ اس کے علاوہ یہ واحد شعبہ ہے جس میں خواتین اساتذہ کا استحصال کیا جاتا ہے۔ گھر سے نکلتے ہی وہ لاوارث ہو جاتی ہیں۔ انکوائری کے لئے دفتروں کے دھکے، ٹرانسپورٹ کے حصول کے مردوں کی نادیدہ نظریں، والدین کے متعصبانہ اور دھمکی آمیز روئیے اور پورے معاشرے کے استحصال آمیز سلوک سے بچتے بچاتے جب وہ سہ پہر کو گھر واپس پہنچتی ہیں تو ان کا دل خون کے آنسو رو رہا ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ اس وقت اساتذہ کو دیا جانے والا کنوینس الاؤنس چار ہزار روپے سکہ رائج الوقت سے کم ہے اور ایک 35000 روپے سے کم تنخواہ لینے والی معلمہ کو ہر ماہ دس ہزار سے بارہ ہزار روپے کرائے کی مد میں ادا کرنے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر وہ گھر میں اپنے نوزائیدہ بچے کے لئے ایک آیا کا بندوبست بھی کرے تو اس کی تنخواہ ایک بچے کی آیا کے لئے کم پڑ جائے گی۔

دنیا کے غریب ترین ممالک میں خواتین اساتذہ نایاب ہیں، مثال کے طور پر کوٹ ڈی آئیور، لائبیریا اور چاڈ میں خواتین تمام اساتذہ کا 15 فیصد سے بھی کم ہیں۔ لیکن ترقی یافتہ خواتین اساتذہ کا حصہ تیزی سے بڑھتا ہے اور کوئی بھی ایسا ملک نہیں ہے جس میں خواتین اساتذہ کا حصہ مرد اساتذہ کی فی کس 8,000 ڈالر مجموعی قومی آمدنی (GNI) سے کم ہو۔ دیکھا جائے تو عالمی سطح پر، تقریباً 60 فیصد اساتذہ خواتین ہیں۔ یورپ، لاطینی امریکہ، اور شمالی امریکہ میں خواتین اساتذہ کا تعلیم میں تقریباً 70 فیصد حصہ ہو چکا ہے۔

پرائمری گریڈ کی سطح پر، برطانیہ میں خواتین اساتذہ کی 70 فیصد تک پہنچ گئی اور ارجنٹائن میں 85 فیصد خواتین اساتذہ تدریس کے شعبہ سے منسلک ہیں۔ عالمی بنک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پرائمری اور ایلیمنٹری سطح پر خواتین اساتذہ کا حصہ کم از کم 70 سے 75 فیصد ہے، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ خواتین اساتذہ کی ایک کثیر تعداد خاندان کی کفالت میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اس ساڑھے چار لاکھ پرائمری اساتذہ میں سے 226000 خواتین اساتذہ محکمہ تعلیم کے شعبے میں اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

اب ذرا ان کے سکول معمولات کا جائزہ لیجیے کہ جیسے ہی سکول پہنچتی ہیں مانیٹرنگ افسر اور اسسٹنٹ ایجوکیشن، ڈپٹی ایجوکیشن افسر کے خوف اور ہدایات کی وجہ سے پورے سکول کی صفائی کروانی ہے، اس مقصد کے لئے ان کے پاس کوئی خاکروب تو کجا، جھاڑو خریدنے کی استطاعت بھی نہیں ہوتی۔ سکول کی صفائی، مرمت، رنگ و روغن کا مکمل خرچہ نان سیلری بجٹ سے ادا کرنا ہوتا ہے جو اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مصداق اتنا کم ہوتا ہے کہ ہر ماہ ہیڈ ٹیچر کو اپنی تنخواہ سے کچھ نہ کچھ دینا پڑتا ہے ورنہ ہو سکتا ہے کہ خاکروب صفائی نہ کرنے آئے۔

اس کے علاوہ کوئی بھی سکول کی معلمہ بچیوں کو صفائی کے لئے نہیں کہہ سکتی ورنہ میڈیا اور افسران مل کر ان کا جینا حرام کر دیتے ہیں۔ ابھی صفائی کے معاملات درمیان میں ہوتے ہیں کی ڈینگی سرگرمی کے لئے روزانہ کی بنیاد پر چار عدد تصویریں افسران بالا کو لازمی بھیجنا پڑتی ہیں اور ہر تصویر کے درمیان چار سے پانچ منٹ کا وقفہ بھی ضروری ہے ورنہ دس اور گیارہ بجے کے بعد شو کاز نوٹس آ جاتا ہے کہ آپ سوئے ہیں، ابھی تک ڈینگی ایکٹیویٹی نہیں بھیجی گئی۔ میرا سب اہل علم سے یہ سوال ہے کہ جو تصاویر معزز اساتذہ روزانہ کی بنیاد پر بھیجتے ہیں ان کا کیا حاصل حصول ہے؟

نجی تنظیم فافن نے ایکٹیو سٹیزنز پروجیکٹ (اے سی پی) کے تحت پاکستان کے مختلف پرائمری سکولوں کا ایک سروے کیا۔ اے سی پی رضاکاروں نے پاکستان بھر میں مارچ اور اپریل 2012 کے دوران 450 پرائمری سکولوں کی نگرانی کی۔ اس پروجیکٹ کے رضاکاروں کے زیر نگرانی 450 پرائمری اسکولوں میں سے 93 % سینیٹری ورکرز کے بغیر تھے، 74 % کے پاس کوئی سیکیورٹی گارڈ نہیں تھا اور 62 % کے پاس چپراسی نہیں تھی۔ جہاں تک میرے مشاہدے کی بات ہے کہ گزشتہ سال کی بارشوں کے دوران ضلع بہاول پور کے بہت سے پرائمری سکولوں کی باؤنڈری وال گر گئی تھیں جو چھ ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک دوبارہ تعمیر نہیں ہو سکیں۔

جب ایک پرائمری سکول میں خواتین کے پاس کوئی خاکروب، گارڈ، چپڑاسی تک موجود نہیں تو وہ سکول کو رنگ و روغن کیسے کروائیں گی؟ بازار سے جھاڑو کیسے سکول تک لائیں؟ اگر بجلی کا کوئی مسئلہ ہے تو اپنے گھر سے 40 یا 50 کلومیٹر کی دوری پر موجود سکول کے لئے ایک الیکٹریشن کہاں سے بلائیں؟ ایک رنگ ساز، الیکٹریشن، پلمبر، مستری، بڑھئی اور ٹوائلٹ صاف کرنے والا، اس خاتون معلمہ سے منہ مانگی مزدوری لے کر چلا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی سیکڑوں ایسے مسائل ہیں جن کا ذکر کرنے سے میری تحریر طوالت کا شکار ہو جائے گی لیکن اگر موجودہ حکومت تعلیم کو اپنی اولین ترجیح بنانا چاہے تو یہ ناممکن ہے کہ خواتین اساتذہ کے مسائل کا تدارک نہ کیا جا سکے۔

اگر صوبائی حکومت ضلعی سطح پر صرف تین سے چار بڑی بسوں کا انتظام کر دے تو تمام خواتین اساتذہ با آسانی اپنے اپنے سکول وقت پر پہنچ سکتی ہیں۔ میرے یہ ذاتی مشاہدے میں ہے کہ جن پرائمری اور ایلیمنٹری سکولوں میں درجہ چہارم یا نان ٹیچنگ سٹاف مہیا کیا گیا، وہ مختلف دفاتر میں پا بند کر دیا جاتا ہے جو افسران اعلیٰ کی کوٹھیوں پر مالی کا کام سرانجام دینے کے علاوہ گھر کا سودا سلف لانے اور محکمے کی ڈاک پہنچانے کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔

خواتین اساتذہ کا سب سے بڑا مسئلہ ان کے شیر خوار اور نوزائیدہ بچے ہوتے ہیں، اس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ ایسی تمام اساتذہ جو شہر سے دیہات کے سکولوں میں آتی ہیں ان کے لئے ضلعی سطح پر ایک جدید نرسری ہوم بنایا جائے جہاں معلمات کے بچوں کی تربیت اور پرورش ممکن ہو سکے تاکہ وہ سکون سے اپنے اپنے سکولوں میں تدریسی فرائض سرانجام دے سکیں، لیکن جب میں اپنے ملک عزیز کے نظام کو دیکھتا ہوں تو مجھے ایک خواب گراں لگتا ہے۔ ایک ایسا ملک جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ خدا کے سہارے چل رہا ہے، کیا اس میں ایسا خواب دیکھنا ممکن ہے؟

Facebook Comments HS