مرزا غالب کی جمالیات


 

غالبؔ اسلامی برصغیر کے اس پر آشوب عہد میں تھے جب ٹیلی گراف، انفیلڈ اور دخانی جہازوں نے طاقت کا پانسہ یکسر مغرب میں پلٹ دیا تھا۔ مغلوں کی حکومت تو 1803ء میں اسی سمے دم توڑ چکی تھی جب جنرل لیک کی فوجیں دہلی میں داخل ہوئیں۔ اس وقت لال قلعے کے مکین مادھولال سندھیا کے زیر نگیں تھے۔ ویسے بھی آئندہ چند برسوں میں مغل بادشاہ کو صرف دو لاکھ سالانہ کا وظیفہ خوار بن کر رہنا تھا۔ غالبؔ صرف ایک عہد کے خاتم ہی نہیں بلکہ وہ ایک بالکل نئے عہد کے ایسے نقیب بن کر آئے جو اپنی تہذیبی کسمپرسی پر کڑھنا بھی جانتا ہو اور مغرب کے سلسلے میں نتائجی رویہ رکھنے کا جبر بھی سہتا ہو، وہ شخص جسے ہم صحیح معنوں میں عجمی و عربی تہذیب کا نمائندہ کہیں اور جو ایرانیوں کی طرح پورے ہندوستان میں صرف امیر خسرو ہی کو واحد فارسی شاعر مانے اور خود کو فارسی لب و لہجہ میں اس طرح ڈوبا ہوا محسوس کرے جیسے لوہے میں جوہر، فارسی سے اردو کی طرف یوں ہی متوجہ نہ ہو سکا تھا۔

غالب غالباً آخری آدمی ہوتے جو اپنے اردو اشعار سے داد طلبی چاہتے، وہ تو اردو شعر بھی اس لئے کہہ لیتے کہ اردو بہرحال مغلیہ زوال کے ساتھ ساتھ دربار میں در آئی تھی اور جب سے شاہ عالم نے اردو شاعری شروع کر دی تھی، محلات شاہی بھی اردو ہی مستعمل تھی، لیکن غالبؔ کا خاندان ہندوستان میں شاہ عالم ہی کے زمانے میں آیا اور بڑی حد تک فوجی تھا۔ اسی لئے مغلوں کے یہاں صدیوں کے بعد جو تہذیبی خلط ملط رونما ہوا تھا وہ غالب ؔ کے لیے ابھی اس قدر طے شدہ مسئلہ نہیں تھا۔

اس لئے انہیں اس پر بھی فخر ہے کہ ان کا استاد عبدالصمد ہر مز تھا جو پہلے زرتشت کا پیرو تھا، غالب ؔ نے انہی سے منطق و فلسفہ پڑھا تھا۔ اپنے استاد کے بارے میں غالب ایک خط میں لکھتے ہیں کہ ”یہ سامان پنجم کی نسل میں سے تھے، معہذا منطق و فلسفے میں مولوی فضل حق مرحوم کی نظیر اور مومن موحد و صوفی صافی تھے۔“ انھیں غالب ؔ نے جاماسپ عہد اور بزر جمہر دوراں کہا۔ ایک ایسے سماج میں جس کا عجمی و عربی ڈھانچہ میر تقی میرؔ کے زمانے ہی میں متزلزل ہو چکا ہو اور اٹھارہویں صدی کے آخر تک جنوب سے بڑھتے ہوئے انگریز، بنگال، بہار، اڑیسہ اور مشرقی یوپی تک چھا چکے ہوں، روہیلوں کی طاقت کو ختم کر دیا گیا ہو اور انیسویں صدی کے پہلے نصف حصہ میں سندھ، بلوچستان، پنجاب اور سرحد کا الحاق مکمل ہو چکا ہو، اب امید کی کرن کہاں سے پھوٹے۔

غدر سے ایک سال قبل اودھ کی اس حکومت کا خاتمہ ہو چکا تھا جس کے سربراہ کو 1814ء میں بادشاہت کے خطاب سے سرفراز کیا گیا تھا۔ غالب ؔ کے سامنے ایک طویل ڈرامے کا آخری سین کھیلا جانا تھا اور مرد بیمار کی آخری ہچکی سنائی دینے والی تھی۔ لیکن غالب ؔ عنفوان شباب ہی سے واقف تھے کہ 1818ء میں مرہٹوں کے استیصال کے بعد اب صرف انگریز ہی سب سے بڑی طاقت ہیں۔ اور جب وہ اپنے خطوط اور دیگر نگارشات میں انگریزوں کا ذکر کرتے ہیں تو یہ حقیقت ڈھکی چھپی نہیں رہتی۔

شاہد و مے زمیاں رفتہ و شادم بہ سخن
کشتہ ام بیددراں باغ کہ ویراں شدہ است

غالبؔ کی نتائجی فکر نے انہیں ایک جمالیاتی نقطۂ نظر بھی دیا۔ جمالیاتی نقطۂ نظر درحقیقت ادیب کا وہ واضح یا غیر واضح سیاسی و فکری ایقان ہوتا ہے جو فن میں در آتا ہے۔ جمالیات یا ذوقیات سے مراد ذوق کی نشوونما نہیں، جس طرح ترقی پسندوں کی جمالیات ادب برائے زندگی کی کوکھ سے پھوٹتی ہے اور رجعت پسندوں کی ادب برائے ادب کے چسکے سے، یا ان دو متضاد نظریوں کے درمیان نیم مذہبی و نیم روشن خیالی کے نظریے سے۔ ہم پیچیدہ زبان میں کیوں گفتگو کریں بلکہ سیدھے سادے طریقے سے یہ کہیں کہ ہر فن پارہ اپنے خالق کی فکر کا عکس ہوتا ہے :

خوشت باد غالبؔ بساز آمدن
نوا سنج قانون راز آمدن

اگر فن اور ذہن دو مختلف چیزیں ہو سکتی ہیں تو یہ الگ بات ہے لیکن غالب ؔ کی فکر تصوف اور معروضی نتائجیت کے درمیان آویزش کا ایک گراف ہے، ایسا اس لئے ہے کہ مسلم ہندوستان کی فکر پر تو تصوف کا غلاف چڑھ چکا تھا اور اس دنیا کو وہم، خیال، التباس اور باطل سمجھنے کی فکری افعالیت نے جینے کا حوصلہ چھین لیا تھا۔ اس دنیا کو مسافر خانہ سمجھتے سمجھتے جو فکر پروان چڑھی وہ جیتی جاگتی حقیقتوں کا کس طرح مقابلہ کرتی؟ یا تو وہ بہادر شاہ ظفرؔ کی طرح کہتے :

دنیا دارو دنیا چھوڑو دنیا میں بدنامی ہے
اس دنیا کے ترک کیے سے ہوتی نیک انجامی ہے

اس پس منظر میں ہم اگر غالب ؔ کی شاعری کا مطالعہ کریں تو ہمیں غالبؔ کے اشعار میں خاص قسم کی متصوفانہ قنوطیت اور موت کی خواہش پر ہر دم غلبہ آور حقیقت پسندی سے متصادم نظر آتے ہیں۔ غالبؔ کی جمالیاتی اقدار سچ کو سچ ماننے پر اصرار کرتی ہیں، چاہے وہ تلخ ہی کیوں نہ ہو۔ میر ؔمرہٹوں کے فتنوں کے گرد بار کے اس پار دیکھنے پر مصر نہیں ہیں۔ لیکن غالبؔ برقی تار کی موجودگی میں گھوڑوں کے ذریعے ترسیل کے نظام کو ہیچ گردانتے ہیں اور یہی وہ شعور ہے جو انھیں اپنے زمانے کے شعراء میں جدید تر بنا دیتا ہے۔

غالب ایک ایسے معاشرے کا ادراک رکھتے تھے جو ہمیں آج دو تین نسلوں بعد حاصل ہوا ہے۔ اس لئے بعض اوقات وہ اپنے شعور اور سریع الفہمی سے چڑ اٹھتے ہیں اور یہ وہ چڑ ہے کہ اگر وہ زندہ ہوتے تو ہم ان کی پگڑی اچھالتے کیوں کہ ذہانت اور خاص کر ”غالبانہ ذہانت“ بہت جلد دشمن پیدا کر لیتی ہے لیکن بہر حال ان کی موت نے ہم سے ان کی معجز نما ذہانت کا لوہا منوا لیا ہے۔ اب غالبؔ پرستی اس حد تک بھی ریاضت کی طالب نہیں جتنی کہ تجریدی آرٹ کے شوقین اپنی آہ اور واہ کے نظام کو مرغوب کرنے کے لئے ضروری سمجھتے ہیں۔ اس میں غالب کا قصور کم ہے، ان کی شاعری کی ہمہ گیری کا بہت زیادہ۔

غالب ؔ کا جمالیاتی وجود ان کے رد عمل کے سلسلوں میں دیکھا جائے تو انہیں کے چیلنج کا مقابلہ کرنے پر اکساتا ہے۔ وہ انگریزی اثرات کو دیکھ کر وہی چیخ بلند کرتے ہیں جو عربوں کے مفتوح ایران نے بلند کی تھی اور پھر اس موڑ پر آ جاتے ہیں جہاں عربوں سے مقابلہ انہی کی زبان اور بود و باش اپنا کر کیا جا سکتا ہے۔ میں ان حضرات کے لئے جو جمالیات سے مراد صرف حسن پرستی لیتے ہیں، یہ عرض کروں گا کہ غالب بلا کے حسن پرست تھے اور انھوں نے اپنے اشعار میں حسن کی ندرت جوئی کا مظاہرہ کیا ہے، اس کا عکس عبدالرحمٰن چغتائی کے مرقعوں میں کسی حد تک آ گیا ہے۔ عجمی فنون لطیفہ سے غالب ؔ کا گہرا ربط تھا اور حسن کو Transient دیکھ کر جو تاسف انہیں ہوتا تھا وہ غالباً عشق کی دوامی کیفیت سے پورا ہو جاتا تھا جسے وہ کائنات کی غایت سمجھتے تھے، لیکن غالب ؔ کے یہاں عشق زیادہ تر مجازی اصطلاح کے طور پر آتا ہے۔

ہے کائنات کو حرکت تیرے ذوق سے
پرتو سے آفتاب کے ذرے میں جان ہے
اور اگر ہم اسے حافظ کے اس شعر کی روشنی میں دیکھیں :
سعی سپہر و دور قمر را چہ اختیار
درگردش اند بر حسب اختیار دوست
اور پھر ان دو اشعار کے فوراً بعد یہ شعر پڑھیں :
ہستی کے مت فریب میں آ جائیو اسدؔ
عالم تمام حلقۂ دام خیال ہے

تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ غالب ؔ اپنی تمام تر رمینیت کے باوصف بھی برکلے کے فلسفے سے کسی قدر متاثر تھے۔ برکلے کا فلسفہ ہے کہ ان تک ملتے جلتے عجمی و عربی فلسفے کی بازگشتوں کے ذریعے آیا ہو کیوں کہ برکلے کے یہاں کافی حد تک شیخ الاشراق اور عراقی کا توارد ہے۔ غالب کی حسن پرستی انہیں باطنی اور ظاہری کثافتوں کی آرائشوں سے دور دیکھنا چاہتی ہے اور یہ حکم ہم ان سب حضرات پر لگا سکتے ہیں جو ایک خاص فکری پس منظر سے ردو قبول کی منزل سے گزرتے ہوں۔

ایک عام آدمی کی حسن پرستی اور ایک صاحب فکر کی حسن پرستی میں سے بڑا فرق یہی ہوتا ہے کہ ذہین آدمی اپنی حسن پرستی کے باوصف اپنی آراء میں ایک خاص قسم کا ارتباط اور تعمیم پیدا کر لیتا ہے۔ وہ اپنے تجربے کو اگر سبھی کا تجربہ بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو کم از کم اپنے تجربے کو ایک خاص قسم کی قابل ادراک ذہنی رو ضرور بنا دیتا ہے۔

غالب ؔ کسی بیرونی امداد کے منتظر نہیں تھے، اس لئے ان کی شکست خوردگی مکمل تھی۔ ان کے لئے انگریزی سامراج ایک ایسی حقیقت تھا جس سے متصادم ہونا ہلاکت کے علاوہ اور کیا ہو سکتا تھا۔ لیکن غالب ؔ نے ان شکستوں اور مضرتوں میں بھی پناہ کے گوشے تلاش کر لئے تھے اور کافی صحت مند گوشے تلاش کر لئے تھے۔

مری تعمیر میں مضمر ہے ایک صورت خرابی کی
ہیولیٰ برق خرمن کا ہے خون گرم دہقاں کا
لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی
چمن زنگار ہے آئینہ باد بہاری کا

ہمیں غالب کا برصغیر کی تاریخ اور مخصوص فکری روایت میں رہ کر مطالعہ کرنا چاہیے۔ ہمیں فوراً ہی نظر آتا ہے کہ غالب نے جس معاشرے میں جنم لیا تھا وہ عقیدہ پرستی کے بھیانک جمود میں گرفتار تھا اور اس صورت حال کے خاتمے کے لئے کس اندرونی انقلاب یا کسی طاقتور خارجی محرک کی ضرورت تھی اندرون معاشرہ تو ژولید گی کا سرطان پھیل ہی رہا تھا اور کافی وقت گزرنے پر معلوم ہوا کہ ہزاروں میل دور سے آئے تاجروں نے ہندوستان کی مارکیٹ کے ساتھ ساتھ ہندوستان پر قبضہ کر لیا ہے۔

فتح کی کنجی مشین ہے۔ مشینی انقلاب اور پھر اس مشینی انقلاب کے جلو میں وہ طاقتیں ابھریں جو مشین کی کوکھ سے پھوٹتی ہیں۔ اس کے لئے تعلیم کے مروجہ طریقے میں تبدیلی اور زندگی گزارنے کے لئے بنیادی نقطۂ نظر میں تبدیلی لانا ضروری تھی۔ غالؔب جدید مسلم ہند میں اس تبدیلی کے غالباً پہلے خواہاں تھے۔ ن سے پہلے شاہ عبدالعزیز تھے جنھوں نے سر سید سے پچاس سال پہلے یہ فتویٰ صاد ر کر دیا تھا کہ دہلی کالج میں مسلمان بچے انگریزی تعلیم حاصل کریں لیکن ادب و فکر کے میدان سے غالب کی آواز پہلی آواز تھی اور ان کی سیاسی جمالیات کیا تھی۔

چشم کو چاہیے ہر رنگ میں وا ہو جانا

Facebook Comments HS