کراچی کے ذہین وکلاء اور سید باراک اوباما
ستائیس اپریل 2023 کو کراچی میں سپریم کورٹ کے ایک احمدی وکیل علی احمد طارق صاحب کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ گرفتاری زیر دفعہ 298 Bدرج ہونے والی ایف آئی آر کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ جبکہ اسی تھانہ سٹی کورٹ کراچی میں 21 نومبر 2022 کو علی احمد طارق صاحب کے خلاف اسی نوعیت کے الزام کے تحت زیر دفعہ 298 B/C کے تحت ایف آئی آر درج کی جا چکی تھی۔ حالیہ ایف آئی آر میں ایک الزام یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ اس وکیل کا نام علی احمد طارق ہے اور اس نے عدالت میں اپنے آپ کو سید علی احمد طارق کے نام سے ظاہر کیا ہے۔
ان دونوں دفعات کے تحت احمدی بعض اصطلاحات مثال کے طور پر صحابی، رضی اللہ عنہ، اہل بیت اور ام المومنین، خلیفۃ المسلمین، خلیفۃ المومنین اور امیر المومنین استعمال نہیں کر سکتے۔ اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر نہیں کر سکتے۔ اس غرض کے لئے قانون میں Pose as a Muslimکے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ اور انگریزی کے یہ الفاظ اس طرز پر مبہم ہیں کہ الزام لگانے والا اس دفعہ کے تحت روزمرہ کے معمولات کو کھینچ تان کر اس کے تحت جرم بنا کر مقدمہ درج کرا سکتا ہے۔ چنانچہ نام کے ساتھ ’سید‘ کے الفاظ استعمال کرنے پر علی احمد طارق صاحب کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ روزنامہ ’امت‘ میں علی احمد طارق صاحب کے متعلق یہ سرخی شائع ہوئی ہے ”علی احمد طارق خود کو سید ظاہر کر رہا تھا“ ۔
اور اس گرفتاری کی یہ عجیب دلیل بیان کی گئی ہے کہ چونکہ لفظ ’سید‘ شعائر اسلام میں سے ہے، اس لئے ہم احمدیوں کو اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ اس لفظ کو استعمال کریں اور پھر پاکستان میں سانس لینے کی غلطی بھی کریں کیونکہ یہ لفظ مسلمانوں میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد کے لئے مخصوص ہے۔
اگرچہ اس بو العجبی کا علمی احاطہ کرتے ہوئے عجیب معلوم ہوتا ہے لیکن چونکہ اب وطن عزیز میں ناموں کے مسئلہ پر گرفتاریاں شروع ہو گئی ہیں، اس لئے مناسب ہو گا کہ یہ جائزہ لیا جائے کہ اس لفظ کا استعمال حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد تک محدود ہے یا لغت میں اس کے کچھ اور معانی بھی بیان ہوئے ہیں۔
جن قابل وکلاء نے یہ مقدمہ درج کرایا ہے اور اس گرفتاری کے لئے حسب سابق کالا کوٹ پہن کر ہلڑ بازی بھی کی ہے، ہو سکتا ہے ان کے علم میں یہ بات ہو کہ ’سید‘ عربی زبان کا لفظ ہے اور اگر کسی لفظ کا مطلب تلاش کرنا ہو اس غرض کے لئے لغت کو دیکھنا پڑتا ہے۔ اگر یہ حضرات تھانے جانے سے پہلے لغت دیکھ لیتے تو شاید یہ تکلیف اٹھانے کی نوبت نہ آتی۔
مشہور عربی لغت المنجد میں ’سید‘ کا پہلا مطلب ’سردار‘ لکھا ہے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ سردار کا تعلق کسی بھی مذہب یا مسلک سے ہو سکتا ہے۔ چونکہ اسے مذہبی بحث بنا کر جذبات بھڑکائے جا رہے ہیں تو لازمی طور پر مذہبی اعتبار سے اس کا جائزہ لینا پڑے گا۔
قرآن مجید کے الفاظ کی معروف ترین لغت امام راغب کی ’مفردات القرآن‘ ہے۔ اس میں لفظ ’سید‘ کے کیا معانی درج ہیں؟ اس میں لکھا ہے کہ بڑی جماعت کے سردار کو اور ہر فاضل انسان کو ’سید‘ کہتے ہیں۔ اور اس کے ثبوت کے طور پر ان دو آیات کریمہ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ سورۃ یوسف کی آیت 25 میں زلیخا کے خاوند اور مصر کے وزیر کو اس عورت کا ’سید‘ کہا گیا ہے۔ اس لغت میں لکھا ہے کہ اس شخص کو اس لئے سید کہا گیا ہے کیونکہ وہ اپنی بیوی کا نگران اور منتظم تھا۔
سورۃ الاحزاب کی آیت 67 میں گمراہ لوگوں کے سرداروں کو ان کے سادات کا نام دیا گیا ہے اور ہم یہ جانتے ہیں کہ ’سید‘ کی جمع ’سادات‘ ہے۔ جب عربی کا ایک لفظ قرٓن مجید میں صرف مسلمانوں کے لئے مخصوص نہیں ہے تو پھر مذہبی بنیادوں پر یہ دلیل کس طرح دی جا سکتی ہے کہ یہ لفظ صرف ’مسلمانوں‘ کے لئے مخصوص ہے اور کسی اور کے لئے اس کا استعمال اتنا بڑا جرم ہے کہ اسے گرفتار کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔
یہ بات حیران کن ہے کہ اب ایک مذہبی طبقہ اس بات پر زور دے رہا ہے کہ ’سید‘ کا لفظ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کی اولاد سے مخصوص ہے، حالانکہ اب سے پہلے یہی طبقہ یہ فتوے دے رہا تھا کہ یہ لفظ صرف ان محدود معانی میں استعمال نہیں ہوتا۔ تفہیم دین میں یہ فتویٰ ملاحظہ ہو۔
”موجودہ دور میں لفظ سید ایک مخصوص ذات کے لئے لوگ استعمال کرتے ہیں حالانکہ سید کوئی ذات نہیں بلکہ کتاب و سنت کی رو سے شرافت اور بزرگی اور سرداری کے لئے یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔“
(تفہیم دین مرتبہ ابو الحسن مبشر احمد ربانی ناشر دارالاندلس ص 73 و 74 )
اس سے بھی ایک قدم آگے جا کر یہ جائزہ لیتے ہیں کہ اس دور میں اہل عرب دوسری اقوام کے بڑے لیڈروں سے خط و کتابت کرتے ہوئے کیا الفاظ استعمال کرتے ہیں؟ ذیل میں الجزیرہ پر شائع ہونے والے ایک بلاگ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرپ کے نام خط کا آغاز ان الفاظ سے کیا گیا ہے :
السید دو نالد ترامب، تحیة وبعد
(https://www.aljazeera.net/blogs/2016/11/13/رسالۃ الی۔ دو نالد۔ ترمب)
کیا اس خط کو لکھنے والے صاحب پر اس پاداش میں مقدمہ چلا کر جیل میں ڈالا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ایک غیر مسلم لیڈر کے بارے میں ’سید‘ کے الفاظ کیوں استعمال کیے جبکہ یہ لفظ تو صرف کسی مسلمان کے بارے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اور یہ لفظ بہت سی غیر مسلم اہم شخصیات کے لئے بھی استعمال ہو رہا ہے۔ چنانچہ جب کردستان کے ایک لیڈر نے عراق میں امریکی سفیر کا خیر مقدم کیا تو یہ خبر ان الفاظ میں شائع ہوئی
استقبل فخامة السید نیجیرفان بارزانی رئیس اقلیم کو ردستان، ظھر الیوم الاربعاء، 30 آذار 2022، السید ماثیو تو لر سفیر الولایات المتحدة الامریکیة فی العراق
(https://presidency.gov.krd/ar/the-president-of-the-kurdistan-region-receives-the-american-ambassador/)
اس خبر میں امریکی سفیر کے لئے سید کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ کیا کراچی کے وہ ذہین وکلاء جنہوں نے علی احمد طارق صاحب کے خلاف یہ مقدمہ درج کرایا ہے، ایسے اخبارات کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ درج کروائیں گے کیونکہ وہ ایک غیر مسلم سفیر کے لئے ’سید‘ کا لفظ استعمال کر رہے ہیں۔
اگر کوئی نظریہ سعودی عرب سے درآمد کیا جائے تو ہم پاکستانیوں کے لئے ہر حال میں قابل قبول ہوتا ہے اور اگر اس کو پیش کرنے والے کا تعلق سعودی شاہی خاندان سے ہو تو کیا کہنے۔ اس کالم کے آخر میں یہ عاجز سعودی شہزادہ ترکی الفیصل کے ایک مضمون کا حوالہ پیش کرتا ہے۔ یہ صاحب شاہ فیصل کے صاحبزادے ہیں اور سعودی عرب میں بہت سے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ ان کا ایک مضمون دنیا میں بہت مشہور ہوا تھا اور دنیا کی مختلف زبانوں میں اس کے تراجم بھی شائع ہوئے تھے۔ اس کا عنوان تھا
” لا۔ یا سید اوباما“ یعنی ”نہیں سید اوباما“ یہ مضمون سابق امریکی صدر باراک اوباما کو مخاطب کر کے لکھا گیا تھا۔
(https://www.alarabiya.net/politics/2016/03/14/لا۔ یا۔ سید۔ اوباما)
ملاحظہ فرمائیں کہ اس مضمون میں امریکی صدر باراک اوباما کے نام سے پہلے ’سید‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ کراچی کے بعض وکلاء کے جذبات اتنے مشتعل ہو گئے کہ علی احمد طارق صاحب نے اپنے نام کے ساتھ سید کیوں لگایا، کہ انہوں نے تھانہ سٹی کورٹ کراچی کا گھیراؤ کر لیا۔ مناسب ہو گا کہ وہ اب ایک لائن بنا کر سعودی سفارت خانہ کے سامنے کھڑے ہوں اور بصد ادب عرض کریں کہ آپ کے شہزادہ صاحب نے ایک مسیحی امریکی صدر کے لئے سید کا لفظ استعمال کر کے ہمارے جذبات کو اتنا مجروح کیا ہے کہ درد نا قابل برداشت ہو رہا ہے۔ براہ مہربانی شہزادہ ترکی بن فیصل السعود کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے۔ کیا یہ جذباتی وکلاء ایسا کر سکیں گے؟ یا کم از کم پاکستانی حکومت سے مطالبہ کریں کہ جو مالی مدد سعودی عرب سے مل رہی ہے اسے واپس کر کے ہمارے زخموں پر مرہم رکھا جائے۔ کیا وہ ایسا کر سکیں گے؟ توبہ کرو۔ رب نیڑے کہ گھسن۔


