بوسنیا کی چشم دید کہانی (35)

میونخ کے سینٹر ہی میں اُس مشعل کو بھی دیکھا جو اولمپک کھیلوں کے دوران شعلہ فشاں رہی تھی۔ میں نے لوگوں کو اپنے درمیان اس کی موجودگی کو اس طرح محسوس کرتا ہوا نہیں پایا جتنی مجھے امید تھی۔ یہ شاید اس لیے تھا کہ زندہ قومیں اپنی پہچان کو ماضی تک کبھی بھی محدود نہیں رکھتیں ۔
سہ پہر ڈھلنے پر میں واپس ریلوے اسٹیشن پہنچا۔ میں نے میونخ سے براستہ فرینکفرٹ ایمسٹر ڈیم کا واپسی ٹکٹ پہلے ہی خرید لیا تھا۔ بوسنیا سے چلتے ہوئے اقبال کے مشورے کی روشنی میں میرا ارادہ براستہ برلن ایمسٹرڈیم جانے کا تھا۔ لیکن میونخ پہنچنے کے بعد جب پتہ چلا کہ اس روٹ کا کرایہ بھی زیادہ ہے اور وقت بھی زیادہ درکار ہے تو میں نے اپنا ارادہ بدل دیا۔ میونخ سے فرینکفرٹ کے لیے شام کے اوقات میں براہِ راست گاڑی دست یاب نہ تھی۔ چناں چہ راستے میں گاڑی تبدیل کرنا مجبوری تھی۔ جرمنی میں ریلوے کا نظام بہت مستعد ہے۔ میونخ سے گاڑی روانہ ہوتے ہی میں نے گارڈ سے رابطہ کیا۔ اُس نے نظام الاوقات کا کتابچہ نکال کر مجھے کھڑے کھڑے بتا دیا کہ مطلوبہ اسٹیشن کے فلاں پلیٹ فارم پر یہ گاڑی اتنے بجے پہنچے گی اور فرینکفرٹ کے لیے فلاں نمبر پلیٹ فارم سے مجھے اتنے بجے اگلی گاڑی ملے گی۔ ایسا شخص کہ جس کے ملک میں ریل گاڑیوں کے اوقاتِ آمدورفت اتنے ہی غیر یقینی ہوں کہ جتنا اعتبارِ دوستیِ جسم و جاں، جہاں ان کی آمد کے وقت اور پلیٹ فارم کا تعین قلیوں سے ملی بھگت کے ساتھ کیا جاتا ہو، اُس کے لیے ان معلومات کی صحت پر یقین ایسا آسان نہ تھا، لیکن بعد کے تجربے نے ثابت کیا کہ جرمن گارڈ نے جو فرمایا مستند تھا۔
فرینکفرٹ کے 23 پلیٹ فارموں پر محیط وسیع و عریض قلعہ نما ریلوے اسٹیشن پر میری گاڑی رات گیارہ بجے کے قریب پہنچی۔ بارش جو سارے رستے ہم سفر رہی تھی اب کچھ ہلکی ہو گئی تھی۔ اسٹیشن کے لمبے برآمدے میں ایک طرف سیاہ فاموں کے سٹال تھے جو میری رنگت کے مسافروں کو دیکھتے ہی حلال برگر کی آوازیں بلند کر رہے تھے۔ میں نے صلائے عام کے نتیجہ میں بالائے شبہ دستیاب خوراک کو نظر انداز کرنا مناسب نہ سمجھا اور پانچ مارک میں پیٹ بھر لیا۔ بہ شکریہ مرزا و میمن رہائش کے لیے مناسب کرائے والے ”ہوٹل ایران” کا پتا پہلے ہی میرے پاس تھا۔

یہ ہوٹل اسٹیشن کے متوازی سڑک پر مشرق کی سمت کوئی ایک ڈیڑھ کلو میٹر کے فاصلے پر برلبِ سڑک واقع تھا۔ میں نے اسٹیشن سے نکلنے سے پیشتر اپنی چھتری سنبھال لی تھی۔ رات کا وقت تھا اور بوندا باندی بھی جاری تھی، اس کے باوجود ٹریفک اچھی خاصی تھی۔ اکّا دکّا ریستوران کھلے ہوئے تھے۔ کچھ کا عملہ دکان بڑھانے کی تیاری میں مصروف تھا۔ ہر طرف خاموشی اور سکوت تھا۔ میں پیدل ہوٹل ایران تک چلا آیا۔ یہاں سنگل کمرے کا کرایہ 40 مارک اور ڈبل کا 60 مارک یومیہ تھا۔ اتفاق سے کوئی سنگل کمرہ اس وقت خالی نہیں تھا۔ مدِ مقابل چوں کہ ایک ایرانی تھا لہٰذا اس سے کمرے کے کرائے پر بھاؤ تاؤ کرتے ہوئے جھجک محسوس نہ کی۔ نتیجہ بھی مثبت نکلا اور 10 مارک کی رعایت کے بعد معاملہ طے ہو گیا۔ اس میں حسبِ روایت صبح کا ناشتہ بھی شامل تھا۔ کمرے میں Independent ڈش کی سہولت بھی میسر تھی لیکن اس وقت اس کے کسی بھی چینل پر کوئی ایسا پروگرام نہیں دکھایا جا رہا تھا جس سے اس کے قبلے کی درستگی مشکوک ٹھہرتی۔ رات کافی ڈھل چکی تھی۔ سفر کی تکان اور کمرے کا ماحول نیند کی طرف راغب کر رہے تھے۔
اپنے ہاں اہلِ اقتدار جس بے دردی سے سرکاری سہولیات کا استعمال کرتے ہیں ویسی ہی بے دردی سے ایک سیاح مفت فراہم کردہ ناشتے سے استفادہ کرتا ہے۔ یہ ناشتہ ہمیشہ اس نکتہ نظر سے کیا جاتا ہے کہ دوپہر کے کھانے کی طلب کا امکان کسی صورت باقی نہ رہے۔ یہ دستور سیاحت چوں کہ ہماری فطرت کے عین مطابق تھا، لہٰذا ہم نے ہر سفر کے دوران مختلف النسل سیاحوں سے یگانگت کا خوب مظاہرہ کیا۔
اگلی صبح ناشتہ اسی انداز میں کیا گیا۔ میں ہلکی ہلکی بارش میں ہوٹل سے نکل کر ریلوے اسٹیشن کی سمت پیدل چل پڑا۔ میرا ارادہ یہ تھا کہ اسٹیشن سے بہ ذریعہ ٹرام شہر کے مختلف حصوں کا چکر لگاؤں گا اور شام کو اپنی اگلی منزل ایمسٹرڈیم کے لیے روانہ ہو جاؤں گا۔ اسٹیشن سے ذرا ادھر پی آئی اے کے دفتر پر نظر پڑی۔ غیر ارادی طور پر اس کے عملے سے ملنے کی خاطر دفتر کے اندر چلا گیا۔ کاؤنٹر پر دو خواتین کے ہمراہ موجود ریاض خان صاحب بڑے تپاک سے ملے۔ بغیر کسی تعارف کے صرف پاکستانی ہونے کے ناطے ملنے کو آنے پر شکریہ ادا کیا اور چائے سے تواضع کی۔ انھوں نے بعد میں اپنے جی ایم صاحب سے ملوایا جنھوں نے پی آئی اے کا ایک سفری بیگ اس ملاقات کی نشانی کے طور پر تحفتاً پیش کیا۔ میں نے اس اجنبی کے ساتھ اس قدر مانوسیت کا اظہار کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور پھر اجازت چاہی۔ پی آئی اے کے دفتر سے باہر نکلتے ہوئے مجھے میرا کے الفاظ یاد آ رہے تھے
"کتنے خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کا کوئی ملک ہوتا ہے اور جن کی کوئی پہچان "

دریائے مائین کے ارد گرد پھیلا ہوا فرینکفرٹ مکمل طور پر ایک جدید شہر ہے جہاں کوئی پرانی عمارت مشکل ہی سے دکھائی دیتی ہے۔ نیو یارک کی جو صورت تصویروں میں دیکھی، ویسے ہی نقش اس شہر کے بھی پائے۔ مائین کے آر پار پھیلے ہوئے فرینکفرٹ کے مختلف حصوں کو بہ ذریعہ ٹرام دیکھنے کے بعد میں ایک ٹرام اسٹیشن پر اترا اور پھر اس کے قریب واقع اُس بازار کا رُخ کیا جو عرف عام میں ایشیا سینٹر کہلاتا ہے۔ یہ بازار ایک وسیع سڑک کے دونوں طرف کوئی میل ڈیڑھ میل سیدھا پھیلا ہوا ہے جہاں گاڑیوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ اسے ایشیا سنٹر اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہاں زیادہ تر کاروبار ایشیائی باشندوں، خاص طور پر بھارتیوں کے ہاتھ میں ہے۔ شہر کے دوسرے حصوں کے مقابلے میں یہاں خریداروں کی زیادہ تعداد بھی ایشیائی باشندوں ہی پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہاں نہ صرف برصغیر کے تمام روایتی لباس بہ آسانی دستیاب ہیں بلکہ چٹخارے دار کھانے بھی۔ اس بازار کے ایشیائی رنگ میں بھنگ وہ سیکس شاپس ڈالتی ہیں جو گورے چلاتے ہیں اور جہاں اس جذبے کے حیوانی پن کو ہوا دینے کا ایسا ایسا سامان ملتا ہے کہ لگتا ہے کہ اہلِ مغرب کا فلسفہ حیات مصطفیٰ زیدی سے کچھ زیادہ مختلف نہیں
زندگی جسم کی خواہش کے سوا کچھ بھی نہیں
خون میں خون کی گردش کے سوا کچھ بھی نہیں
اس بازار کے اختتام پر اگر آپ ناک کی سیدھ میں چلتے جائیں تو گوئٹے کے مجسمے سے گزر کر آپ فرینکفرٹ کے سینٹر میں پہنچ جاتے ہیں۔ یہ فرینکفرٹ کا سب سے بارونق بازار ہے جس کے درمیان چار رویہ چنار کے درخت ایک خاص ترتیب سے لگے ہوئے ہیں۔ دونوں طرف خریداری کے بڑے بڑے مراکز واقع ہیں جو خریداروں اور تماش بینوں دونوں کی توجہ کا یکساں مرکز بنتے ہیں۔ کیا انسانی ہنر اور کیا نسوانی حسن، یہاں ہر جلوہ صد جلوہ ہے اور دید کا احسان اُٹھائے بنا چارہ نہیں۔
Facebook Comments HS

