حقدار
شام کی خنکی بڑھتی جا رہی تھی۔ نبیلہ رحم بھری نگاہوں سے دروازے کو دیکھ رہی تھی۔ ایک آس تھی جو اب معدوم ہوتی جا رہی تھی۔ آخری عشرے کے پہلے دن سے انتظار تھا کہ ابھی کوئی آئے گا اور فطرانہ کی رقم دے جائے گا جس سے عید کا دن تو کٹ جائے۔
نبیلہ کی زندگی ایسی نہیں تھی۔ دو سال قبل ایک حادثہ میں اس کے شوہر عبدالکریم کے حادثہ سے قبل وہ ایک اچھی زندگی گزار رہی تھی۔ سال میں پانچ نہیں تو دو تو جوڑے لازمی بناتی۔ بچے بھی ہر موقع پر اپنی حسرتیں پوری کرتے۔ مگر پھر ان کی معمولی زندگی کو نظر لگ گئی۔ تین وقت کا کھانے والے دو یا پھر ایک وقت کو آ گئے۔ جوانی کی معذوری کو سہارا دیتے ہوئے سیدھے مگر کٹھن قدموں کا انتخاب کیا۔
زکات کی وہ حقدار تھی مگر اس نے زکوۃ کے ساتھ اپنے ہاتھوں کو بھی جنبش دی۔ لوگوں کے گھروں میں صفائی اور برتن دھونے شروع کیے۔
جب لوگوں نے دیکھا کہ یہ تو کما رہی ہے تو عطیہ کم کرنا شروع کر دیا۔ حالانکہ ضرورت تو اب بھی اس کو تھی۔ پانچ گھروں کے کام کرنے کے بعد اس کو سات ہزار ملتے تھے جو اس رقم سے بہت کم تھے جو اس کے گھر کی گاڑی کو چلا سکتے۔
آج کے اس مشکل زمانہ میں سات ہزار کچھ بھی نہ تھے۔ مگر اس نے ہمت نہیں ہاری اللہ پر توکل رکھتے ہوئے کام جاری رکھا۔ ہمارے ہاں لوگ مانگنے والوں کو تو دے دیتے ہیں مگر سفید پوش یا دیہاڑی دار کو کم ہی۔ جب اس نے کام شروع نہیں کیا تھا تو اتنے مل جاتے تھے کہ وہ اپنے بچوں کی ضروریات پوری کر سکے۔ مگر اب اس کو آثار نظر نہیں آرہے تھے۔
پانچ سال کی علیزہ اور سات سال کے علی احمد کو اپنے کپڑوں کا بے صبری سے انتظار تھا۔ نبیلہ کو ان کا انتظار رائیگاں ہوتا نظر آ رہا تھا۔ بچوں کے اترے ہوئے چہرے دیکھ کر نبیلہ خود کو روک نہیں پائی جس نے نہ مانگنے کا سوچا تھا اب بچوں کی خوشی کے اگے مجبور تھی۔
زکات اس کا حق تھا جو خدا نے اس کے لیے مقرر کیا تھا۔ ہاں اس نے خود نہ مانگنے کا عہد کیا تھا مگر اب بحالت مجبوری اس نے اپنے عہد کو پس پشت ڈالا اور ملک ہاؤس کی طرف روانہ ہوئی۔
فطرانہ کی رقم مانگنے کے لیے دل کو بڑا کیا اور من من کے قدم اٹھائے۔ ہزار لفظوں کی جوڑ توڑ کے بعد جب اپنا مدعا بیان کیا جن نظروں سے بیگم ملک نے دیکھا نبیلہ کا دل کیا زمین پٹھے اور وہ سما جائے۔
دیکھو نبیلہ میں جانتی ہوں تم پر لگتا ہے مگر اور بھی بہت لوگ ہیں جن کو ہم دیتے ہیں ہم نے تو ان کو دے دیا چلو اب تم مانگنے آ ہی گئی ہو تو یہ لو۔ اپنا دوپٹے کے کونا سے تڑا مرا بیس کا نوٹ پکڑا دیا اور آنکھوں سے ایسا تاثر دیا کہ چلو بیبی نو دو گیارہ ہو۔ پیچھے سے ہلکی آواز میں طنز کے نشتر چلائے کہ عادت ہو گئی ہے مانگنے کی اچھا خاصہ تو کما رہی ہے اسے کیا ضرورت مانگنے کی مگر نہیں جی ان کو تو ہم جیسا دکھنا ہے۔ جتنی اوقات ہو اتنا نہیں کریں گے۔
پانچ گھروں کی چوکھٹ پر جانے کے بعد نبیلہ کے ہاتھ میں ڈیڑھ سو روپیہ تھا جس سے وہ اپنی بیٹی کے لیے جوتے بھی نہ خرید سکی۔ ستائیسویں شب تھی۔ صلاۃ الحاجات پڑھنے کے بعد گڑ گڑا کر دعا مانگی کہ اے اللہ غیب سے مدد فرما اور مجھے اس پریشانی سے نکال۔ ساری رات عبادت کے بعد صبح صبح ملک صاحب کے گھر کام کے لیے گئی آج ان کے گھر دعوت تبلیغ تھی۔
تبلیغ کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔ نعت شریف کے بعد عالمہ نے رمضان کی مناسبت سے زکات کا موضوع چنا۔ مختلف احکامات کے بعد جب اس نے بولا تو یوں لگا کہ جیسا نبیلہ کے ہر مسئلہ کا حل خدا نے بھیجا ہو۔ ہم بحیثیت قوم ہر کام میں اگے ہوتے ہیں مگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے آم بھی گٹھلیوں کے دام بکے ہم صدقہ و خیرات رمضان کے لیے مختص کر دیتے ہیں تاکہ ایک کا ستر ملے۔ زکات ہر اس مسلمان پر فرض ہے جس کے پاس ساڑھے سات تولے سونا یا ساڑھے باون تولے چاندی کی مقدار یا اس کا مالیت جتنا پیسہ یا کسی اور صورت میں ہو۔
سونا کا نصاب کے ہم مالک نہ بھی ہوں تو چاندی کے ضرور ہوتے ہیں مگر ہم لوگ صرف سونا کا نصاب دیکھ کر خود کو بری الذمہ سمجھتے ہیں۔ قرآن پاک میں زکات کے آٹھ مصارف ہم نے سمجھ رکھا ہے زکات صرف اسے دیں گے جو یتیم اور بیوہ ہے۔ جس کا شوہر بستر پر پڑا ہے وہ کما کر نہیں دے سکتا کیا وہ جب بیوہ ہوگی تب وہ حقدار ہو گی۔ آپ کی زکات کی حقدار وہ اب بھی ہیں۔ ارے یہ تو فاروقی صاحب ہیں پردیس میں آ کر بھیک مانگ رہے ہیں تبھی تو اتنے امیر ہیں۔
ہو سکتا ہے ان کی جیب کٹ گئی ہو اور ان کے پاس دمڑی بھی نا ہو۔ تم ان کی امداد کرنے کے بجائے ان کی تشہیر کرو۔ زکات ان کو بھی دے سکتے ہیں۔ کیونکہ وہ غریب الوطن ہے۔ مصارف میں شامل ہیں۔ ارے اس کے پانچ بیٹے ہیں پھر بھی لوگوں سے مانگتی ہے ارے جب اس کے پانچ بیٹے اتنا کما کر نہ لا سکے کہ وہ تین وقت کا کھا سکے تو زکات اس پر بھی لگتی ہے۔ ارے اس کا بیٹے باہر کے ملک ہوتے ہیں پر بھی مہینے کے آخر میں ادھار مانگتی ہے شرم بھی نہیں آتی۔ کیا باہر کے ملک پیسے درختوں پر ہوتے ہیں ان گزارا نہیں ہوتا اس لیے وہ ادھار مانگتی ہیں۔ کیا وہ ان کو واپس بلا لے اور ایک دن کے لیے بھی آپ کی محتاج ہو جائے تب آپ کو سکون آئے گا۔
اسلام نے شوہر کے زندہ یا مردہ پر زکات نہیں فرض کی بلکہ ہر اس پر جائز ہے جو اپنی زندگی کی گاڑی دھکیل نہیں سکتا۔ آپ پانچ سو کی چیز دے کر پانچ لاکھ لوگوں میں تشہیر کرتے ہو اسلام تو کہتا ہے ایسے دو کہ دوسرا ہاتھ کو پتہ نہ لگے۔
کسی رشتہ دار محلہ دار کے گھر جاکر کسی کو بہن بول کر پیسہ پکڑا دو کسی کو ماں تو
کسی کو بیٹی۔ خدارا لوگوں کی عزتوں کے ساتھ سودا مت کریں۔
۔
بیگم ملک کو بھی اپنے رویے کا اندازہ ہو گیا۔ چاند رات کو نبیلہ عبدالکریم اور اس کے بچوں کے
لیے کپڑے اور دیگر لوازمات لے کر اپنے رویہ کی تلافی کی۔
۔ ۔
زکات کے حقدار سفید پوش ( ریڑھی والا، چھابڑی فروش، پھل فروش، ڈیلیوری بوائے، دکان پر کام کرنے والا مزدور، جس کی تنخواہ اس کے اخراجات کا بار نہ اٹھا سکے ) ہیں۔
خدارا اپنے اردگرد کے لوگوں کا خیال رکھیں تاکہ بروز قیامت اللہ کے حضور شرمندہ نہ ہوں۔

