عزت، غیرت اور عورت


 

عزت کیا ہے؟ کسی شخص کی قدر اس کی اپنی نظروں میں؟ یا وہ ضوابط جو روایتی معیار کردار تشکیل کرتے ہیں؟ لیکن عزت ایک اور چیز بھی ہے۔ یعنی عورت کا جنسی کردار۔ ہم جس معاشرے کا حصہ ہیں، یہاں عورت کو اپنی جنس پر کوئی اختیار نہیں۔ اس کی ذاتی زندگی اور مستقبل کے بارے میں فیصلے اس کے مرد رشتے دار ہی کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں جب کسی کے گھر بیٹی پیدا ہوتی ہے، یہ اس خاندان میں محض اضافہ نہیں ہوتا بلکہ اس کی پیدائش کو مسائل میں اضافہ سمجھتا جاتا ہے۔

اور بنیادی مسئلہ ”عزت“ کا ہی ہوتا ہے۔ اور بیٹی کی پیدائش پر خوشی منانا تو دور کی بات ”صبر اور نصیب کا لکھا ہوا“ کہہ کر والدین کو حوصلہ دیا جاتا ہے۔ عورت ایک ایسی ہستی جو اس پاک معاشرے میں سب سے زیادہ غیر محفوظ ہے۔ اور سارا پاک معاشرہ ہر وقت اس کی تاک لگائے بیٹھا ہوتا ہے۔ اور اگر خدا خدا کر کے اس کی بلوغت شادی تک قائم رہ جائے تو جان بخشی ہو سکتی ہے ورنہ! عورت نہ فرد ہوتی ہے، نہ انسان وہ ایک طرح کی غیر محفوظ چیز ہوتی ہے، جس سے ہر کسی کو خطرہ ہوتا ہے۔

”خطرہ“ اس قدر شدید ہوتا ہے کہ بچپن سے ہی لڑکیوں کے لئے اونچا بولنا اور ہنسا منع کر دیا جاتا ہے، اس کہ اگر بچی کو چھوٹی عمر میں ہی کنٹرول نہ کیا گیا تووہ بڑی ہو کر رسوائی کا سبب ہو سکتی ہے۔ لہٰذا چھوٹی عمر میں بچیوں کو سمجھ آ جاتی ہے کہ کون سی بات خاندان کے لئے باعث ننگ و عار ہو سکتی ہے۔ عورت کو کنٹرول کرنے کے لئے ناصرف فیوڈل اور قبائلی سماج کا سہارا لیا جاتا ہے، بلکہ مذہب بھی اس سلسلے میں ایک ہتھیار کا کام کرتا ہے۔ جس کی غلط اور بے بنیاد تشریحات اس سارے عمل کو طاقت بخشتی ہیں۔

غریب اور قبائلی سماج میں لڑکی کے جنسی رویے پر ذرا سا شک اس کی جان لے سکتا ہے۔ جب کہ شہری مڈل کلاس لڑکی کو کسی ایسے الزام کی پاداش میں گھر کے کمرے میں بند کر کے تشدد کا نشانہ بنا یا جا سکتا ہے۔ اسے اخلاقیات اور خاندان کی عزت پر طویل بھاشن دیے جاتے ہیں۔ چنانچہ خاندان کا یہ نظریہ عورت، اس کے اندر احساس گناہ پیدا کر دیتا ہے۔ ایسے معاشروں میں عورتیں خود بھی عورتوں کے سوشل کنٹرول کا ذریعہ بنتی ہیں۔ بسا اوقات، شدید پابندیوں والے گھرانے کی لڑکیاں کسی بھی مرد کے ساتھ شادی کر کے اپنے ماں باپ کے گھر کو جلد از جلد چھوڑ دینے کو ترجیح دیتی ہیں یا کسی بھی ایسے آدمی کے ساتھ بھاگ جاتی ہیں جو ان کے ساتھ ہمدردی کے دو بول بولتا ہے۔

عربی زبان میں کنوارپن کے لئے ”عذرا“ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ اس کے متبادل میں مردوں کے لئے اسی طرح کا معنی دینے والا کوئی مذکر لفظ موجود نہیں ہے۔ یعنی کنوارپن صرف لڑکی کے لئے ہے، مرد کے لئے نہیں۔ کنوارے مرد کے لئے کہا جائے گا کہ ابھی اس نے کوئی جنسی تجربہ نہیں کیا۔ جو لڑکی اپنی کنوار پن کھو بیٹھے تو اسے جسمانی یا اخلاقی موت دی جا سکتی ہے۔ شادی کی رات اگر وہ سماج کے خود ساختہ معیار کے مطابق ”کنواری“ نہیں پائی گئی تو صبح اسے طلاق دی جا سکتی ہے۔

اور یہ طلاق اسی سکینڈل کے ساتھ جوڑ کر دی جاتی ہے اور آناً فاناً محلے برادری میں خبر پھیل جاتی ہے۔ ایسی لڑکی خواہ معصوم ہی کیوں نہ ہو لیکن وہ اسے ثابت نہیں کر سکتی اور نہ ہی اسے موقع دیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں ہر آئے روز غیرت کے نام پر قتل بھی ہوتے رہتے ہیں۔ مرد، رشتے دار عورت کے کسی مرد کے ساتھ تعلقات کے شبہے پر اسے قتل کر دیتا ہے۔ ایسے مجرموں کے ساتھ سماج، ریاست اور عدلیہ رعایت اور نرمی کے ساتھ پیش آتی ہے۔ اسی طرح کے جرائم ہمارے ہاں قبائلی اور دیہاتی ماحول میں زیادہ ہوتے ہیں۔

انہی غیر سائنسی تصورات کے جلو میں لڑکی کے لئے پہلا صدمہ ”حیض“ کا تجربہ ہوتا ہے۔ چوں کہ لڑکیوں کو کہا جاتا ہے کہ پردۂ بکارت پھٹنے سے لہو بہتا ہے وہ بے چاری پہلے حیض کو اپنے کنوار پن کے چلے جانے پر محمول کرتی ہے۔ جنسی تعلیم کے فقدان کی وجہ سے اسے اس کے بارے میں کوئی علم نہیں ہوتا۔ اکثریت کے ذہنوں میں بہت سے ایسے سوالات ہوتے ہیں جن کے سائنسی جواب ان کے پاس نہیں ہوتے۔ ماؤں کے ذہنوں میں بھی اور ہی طرح کے خوف پل رہے ہوتے ہیں۔ حیض پر ان کا پہلا سوال ہوتا ہے : ”کوئی مرد تو تمھارے پاس نہیں آیا؟ ، یا تم کہیں گری تو نہیں؟ اس طرح کی یقین دہانی کے بعد وہ بیٹی کو اصل صورت حال سے آگاہ کرتی ہے۔

اس معاشرے میں میاں بیوی کی زندگی کیسی ہوتی ہے؟ جب یہ سوال ایک عورت سے پوچھا گیا تو اس کا جواب تھا ؛ ”میرے خاوند کے سب سے اہم چیز سیکس اور کھانا ہے،“ بیوی کے ساتھ افہام و تفہیم کی کوئی ضرورت نہیں۔ بیوی کے ساتھ دو میٹھے بول بول لینا ضروری نہیں۔ مرد معمولی بات پر چلا سکتا ہے، طلاق کی دھمکی دے سکتا ہے۔ اور اگر عورت مرد کے ساتھ جنسی فعل میں جوابی شرکت کرے تو یہ سمجھا جاتا ہے یہ ”چالو“ ہے۔ اور اب بحیثیت بیوی اس پر بھروسا نہیں کیا جا سکتا۔

عورت کو سکھایا جاتا ہے کہ اس نے سونے کے کمرے میں اپنے خاوند کے ساتھ اچھی طرح پیش آنا ہے۔ اس کی جنسی طلب کو پورا کرنا ہے، کیوں کہ یہ اس کی خدا کی طرف سے مقرر کردہ ”مقدس ڈیوٹی“ ہے۔ یہ اس کے وقار کے خلاف ہے کہ وہ خاوند سے محبت کی طلب گار ہو۔ اور یہ بھی سکھایا جاتا ہے کہ مردوں کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا لہذا وہ اپنے مرد کی ہر خواہش خود پوری کرے تاکہ وہ باہر کہیں منہ نہ مارے۔ اگر ایک عام عورت سے پوچھا جائے کہ کیا سیکس اس کے بھی اہم ہے؟ تو اس کا جواب ہو گا۔ نہیں۔ عورتوں کی اکثریت یہ سمجھ لیتی ہے کہ اس سلسلے میں وہ مردوں سے مختلف ہوتی ہیں۔ جنس میں دل چسپی ان کا مسئلہ نہیں ہے۔

اس طرح کے معاشروں کا ادبی لٹریچر بھی غور طلب ہے۔ ان کے ہاں اکثر محبت کی لوک کہانیاں مشہور ہوتی ہیں۔ لیکن ان قصوں میں عاشق اور محبوب کے تعلق کو واضح نہیں کیا جاتا۔ اور تقریباً ہر کہانی ایک جیسی ہی ہوتی ہے، اس کا اختتام کبھی ”ہیپی اینڈ“ پر نہیں ہوتا۔ جنرل ضیاء کے دور کا ایک واقعہ ذہن میں آتا ہے کہ ایک لڑکا اور لڑکی گھر سے بھاگ گئے، بعد ازاں وہ عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے بجائے کسی طرح کے تحفظ دینے کے، کوڑے مارنے کی سزا سنائی، حالاں کہ وہ جوڑا عیسائی مذہب سے تعلق رکھتا تھا۔ جن پر کسی طرح کی شرعی حد بندی جاری نہیں ہو سکتی تھی۔ مگر کیا، وہی سماجی گھٹن اور اس کی تشکیل و اثرات۔

ہمارے معاشرے میں میاں بیوی کے درمیان رفاقت اور دوستی کا کوئی تصور نہیں ہے۔ یہاں نہ دونوں کے تعلقات میں مساوات ہے اور نہ ہی خاوند دوست بنتا ہے۔ وہ گھر کا حاکم ہوتا ہے۔ میاں بیوی کے درمیان پیار کی زبان کا کوئی رواج نہیں۔ یہاں آپس میں ”شکریہ اور مہربانی“ کی کوئی گنجائش نہیں۔ بیوی آسانی کے ساتھ خاوند سے ایسی بات نہیں کر سکتی جو اسے پریشان کرتی ہو۔ ہمارے ہاں بیٹیوں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے خاوند کے ساتھ اپنے خاندان کی بات احتیاط برت کر کرے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ اسے بعد میں بیوی کے خلاف استعمال کرے۔ اس سوسائٹی میں میاں بیوی کے رشتے سے بہن بھائی کا اور ماں باپ کا رشتہ زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔

ہماری عورت کے لئے اس سماج میں نہ کوئی تفریح کا بندوبست ہے اور نہ ہی اس کے لئے فضول وقت ہے۔ آزاد معاشروں میں عورتوں کے وقت گزارنے کے شیڈول ہوتے ہیں۔ جس میں وہ کھیل بھی کھیلتی ہیں اور اپنے دوستوں اور فیملی سے بھی ملتی ہیں۔ اور یہاں اس کوئی پلائنر نہیں ہوتا، یہاں کی عورت کی بس یہی خواہش رہ جاتی ہے کہ اس کا شوہر گھر آئے اور وہ بیوی ہونے کی ڈیوٹی ادا کر سکے۔

میری ان باتوں کا مقصد ہرگز ایسا نہیں کہ عورت کو مغرب کی عورت کی طرح بالکل آزاد کر دیا جائے۔ وہ جہاں چاہیں جائیں، اٹھیں، بیٹھیں، بوائے فرینڈز بنائیں، جس کے ساتھ چاہیں جسمانی تعلق قائم کر لیں۔ بالکل ایسا نہیں، میں نے بس اس سماجی گھٹن کی طرف اشارہ کیا، جس نے عورت کو گہرے وجودی کرب کا شکار بنا دیا ہے۔ جس کے باعث شدت پسندانہ و باغیانہ رویے ہمارے سامنے آ رہے ہیں۔ ضرورت صرف اس امر کی کہ اس سماجی گھٹن کو ختم کیا جائے اور عورت کو تعلیم کے ذریعے باشعور بنایا جائے تاکہ وہ کم از کم اپنے جائز حقوق کے لئے تو آواز بلند کر سکے۔

Facebook Comments HS