پاکستان میں سال 2022 میں انسانی حقوق کی صورت حال کی رپورٹ

سال 2022 میں اسلام آباد کیپیٹل کے علاقے میں گھریلو تشدد کے نو مقدمات درج ہوئے۔ اسی عرصے کے دوران اسلام آباد میں بلاسفیمی کے بھی نو ہی مقدمات درج ہوئے۔ سال 2022 میں ہی حکومتی اداروں نے خود صرف پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں 516 لوگوں کو اغوا کیا۔ اس کے علاوہ انکوائری کمیشن برائے جبری گمشدگی کے مطابق 2210 مسنگ پرسنز کے مقدمات ابھی تک بے نتیجہ ہیں اور ان کی فیملیز دھکے کھا رہی ہیں۔ پاکستان میں انسانی حقوق کی رپورٹ تو یہی ہے۔ باقی معلومات اضافی ہیں۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے سال 2022 کی ”سٹیٹ آف ہیومن رائٹس“ رپورٹ جاری کر دی ہے۔ اس رپورٹ میں دکھوں کی ایک لمبی لسٹ ہے۔ صاف لگتا ہے کہ پاکستان کی ایک بڑی آبادی کو اس دنیا میں موجود تقریباً ہر دکھ کا سامنا ہے۔ دکھوں کا سامنا ہونے کا مطلب ہے بنیادی انسانی حقوق کا پورا نہ ہونا۔ احتیاطاً تھوڑا سا اضافی نوٹ یہ ہے کہ جسمانی، جنسی اور نفسیاتی تشدد سے بچاؤ بھی تمام انسانوں کے بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے۔ اور تمام تر بندوبست کے باوجود اگر کسی انسان کے خلاف تشدد کا واقعہ ہو جاتا ہے تو پھر انصاف کرنا، اس کے نقصانات اور منفی اثرات کا ازالہ کرنا اور اس کی مکمل بحالی کا بندوبست کرنا بھی بنیادی انسانی حقوق میں ہی آتا ہے۔
رپورٹ میں پاکستانی شہریوں کو درپیش اہم مسائل کا ذکر کرتے ہوئے تعلیم، صحت، واش، ہاؤسنگ، انصاف، امن و امان، جمہوریت اور شہری حقوق جیسے کہ تحریک، اظہار رائے اور ایسوسی ایشن بنانے کی آزادی پر قدغن کا ذکر کیا گیا ہے۔ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی اور سیلاب کے نتیجے میں ہونے والی تباہی اور تکلیفوں کا ذکر کیا ہے۔ مہاجرین کے مسائل کا ذکر ہے جو کہ اندرون اور بیرون ملک سے ہیں۔ جیل خانہ جات اور قیدیوں کے مسائل کا ذکر ہے۔ عورتوں، بچوں اور ٹرانس جینڈر اشخاص کی شخصی آزادیوں کی خلاف ورزیوں کا ذکر آتا ہے۔ در حقیقت پاکستانی عوام کے مسائل کی ایک حتمی لسٹ بنانا تو ممکن ہی نہیں۔ اس خراب صورت حال کی بہت ساری وجوہات ہیں۔ لیکن ایک خاص وجہ کا ذکر کرنا ضروری ہے۔
انسانوں کی خوشی شخصی آزادی میں پنہاں ہے۔ اچھی ریاستیں ایسا بندوبست کرتی ہیں کہ شہریوں کی شخصی آزادی کی حفاظت ہو۔ شخصی آزادی کے دفاع کے لیے عام طور کچھ زیادہ اخراجات کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ریاست نے صرف دل بڑا کرنا ہوتا ہے تاکہ شہری اپنے خرچے پر اپنی مرضی کی زندگی جی سکیں۔ پاکستان ان ریاستوں میں سے ہے جہاں پر شخصی آزادی کے تحفظ پر وسائل خرچ کرنے کی بجائے شخصی آزادی سلب کرنے پر وسائل خرچ کیے جاتے ہیں۔ اس منفی کام پر گورنمنٹ اور معاشرے کے بے پناہ وسائل کے زیاں کے ساتھ ساتھ لوگوں کے دکھوں میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔ ان ”جرائم“ کے پیچھے بھاگنے کی ضرورت نہیں جن سے کسی کا بھی نقصان نہیں ہوا، بلکہ لوگ خوش ہوئے ہیں۔
دوسرے الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ سیکولر لبرل ریاستیں شہریوں کے حقوق پورے کرنے اور خوشیاں بڑھانے پر وسائل خرچ کرتی ہیں جب کہ مذہبی رجعت پسند ممالک کی حکومتیں شہریوں کے حقوق چھیننے پر وسائل خرچ کرتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ انسانی حقوق کی فراہمی اسی کے تحت آئے گی۔
سال 2022 کی اس رپورٹ میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے ملک کے ساتوں وفاقی اکائیوں یعنی، پنجاب، خیبر پختونخوا ، بلوچستان، سندھ، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال اور رپورٹ ہونے والی بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا احاطہ الگ الگ باب میں کیا ہے۔ لیکن کنکریٹ بات کرنے کے لیے اعداد و شمار کی کمی ہے۔ زیادہ تر ڈیٹا وہی ہے جو مختلف ہیلپ لائنز یا پولیس سٹیشنز پر رپورٹ ہوا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ انسانوں خاص طور پر غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والے، عورتیں اور بچے، ٹرانسجینڈر اور مذہبی اقلیتیں اپنے خلاف ہونے جرائم کو کم ہی رپورٹ کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ اس رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے وہ محض آئس برگ کی نوک ہی ہے۔
بہت سے دکھ ہیں جن کی تفصیل اس رپورٹ کا حصہ ہونی چاہیے تھی۔ مثلاً جبری شادی اور کم عمری کی شادی پاکستانیوں کی بھاری تعداد کا مسئلہ ہے۔ اسی طرح سے اپنی مرضی کے مطابق آزادی سے جنسی اور تولیدی صحت اور فیملی پلاننگ کے جدید طریقے استعمال نہ کر سکنا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اور بھی بہت سارے معاملات ہیں جو جدید غلامی میں آتے ہیں لیکن ان پر پاکستان میں کوئی ڈیٹا اکٹھا نہیں کیا جاتا اس لیے ان کی تفصیل اس رپورٹ کا حصہ نہیں ہے۔ حکومت چونکہ ان معاملات پر کوئی ڈیٹا اکٹھا نہیں کرتی اس لیے ایچ آر سی پی اور باقی این جی اوز کو اس سلسلے میں معلومات اکٹھی کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ یہ تمام معلومات اس رپورٹ کو مزید دلچسپ اور مفید بنائیں گی۔
اس رپورٹ میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی سرگرمیوں خاص طور پر ان کے اپنے ”حقائق تلاش کرنے کے مشنز“ کا ذکر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کس مسئلے پر ایچ آر سی پی کا نقطہ نظر کیا۔ یہ بات عام لوگوں کے لیے بہت دلچسپی اور آگاہی کا سبب ہے۔
اگر حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے یعنی ڈیٹا اکٹھا کیا جائے تو اسلام آباد کے علاقے میں گھریلو تشدد کے ہزاروں واقعات نکلیں گے اور بلاسفیمی کا شاید ہی کبھی کوئی واقع ہوا ہو۔ لیکن اسلام آباد میں رجسٹرڈ مقدمات کے مطابق دونوں کی تعداد برابر رہی۔ یہ صورت حال انتہائی خطرناک ہے اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے کام کو مزید اہم بناتی ہے۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان میں کام کرنے والے تمام لوگوں کا بہت شکریہ۔ پاکستان میں ان کے کام کی اشد ضرورت ہے۔

