رضوانہ شیخ کے شائزوفرینیا کے بارے میں چند اہم سوالات
محترم جناب ڈاکٹر خالد سہیل،
آداب و تسلیمات،
امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ میں بھی خیریت سے ہوں۔
آج شیزوفرینیا کے موضوع پر چند باتیں اور سوالات پیش خدمت ہیں۔
آپ راہنمائی فرمائیں۔
شیزوفرینیا ایک اہم اور پیچیدہ ذہنی مرض ہے۔ اس میں مریض ایک تصوراتی دنیا تخلیق کرلیتے ہیں۔ اسے ہم سراب بھی کہتے ہیں۔ مریضوں کی زندگی میں جس شے یا شخص کی کمی ہو، وہ اسے اپنے ذہن میں خود تخلیق کرلیتے ہیں۔ یا ذہن ان کو کوئی ایسی تصویر/دنیا دکھاتا ہے جسے وہ حقیقت سمجھ بیٹھتے ہیں۔ یوں وہ حقیقت سے الگ ایک تصوراتی دنیا کا حصہ بن جاتے ہیں۔
اس موضوع پر ڈرامے اور فلمیں بھی بن چکی ہیں۔ چند سال قبل ہم ٹی وی پر ایک سیریل ’سراب‘ آیا تھا جس میں سونیا حسین اور سمیع خان نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔
گزشتہ سال سینما کے پردے پر ایک شاندار تخلیق دیکھنے کو ملی جس کا نام تھا ’کملی‘ ۔ اس فلم میں مرکزی کردار ہماری میگا سٹار اداکارہ صبا قمر نے ادا کیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب، اگر آپ کو موقع ملے تو یہ فلم آن لائن ضرور دیکھیں (جب دستیاب ہو) ۔ ڈراما سیریل سراب اور فلم کملی دونوں میں ہیروئن ایک تصوراتی دنیا آباد کیے ہوئے ہوتی ہے، جو اس اور اس کے خاندان کے لئے کافی باعث تکلیف ہوتا ہے۔
اب میرے سوالات ملاحظہ فرمائیں :
+ کیا شیزوفرینیا کے مختلف لیولز ہوتے ہیں مثلاً ابتدائی یا نارمل، درمیانہ، اور شدید؟
+ تخلیقی صلاحیت کے حامل افراد بالخصوص رائٹرز بھی اکثر اوقات کچھ نہ کچھ سوچتے رہتے ہیں۔ میں خود بعض اوقات کسی کہانی کے تصور میں گم ہوتی ہوں۔ کبھی میں خودکلامی کرتی ہوں اور یوں لگتا ہے جیسے میرے اردگرد لوگ موجود ہیں۔ کیا اسے بھی شیزوفرینیا کی ایک شاخ سمجھا جائے؟
+ پاکستانی اور انڈین فلموں میں کئی نغمات ایسے ہیں جن میں کردار تصور میں اپنے محبوب/محبوبہ سے مخاطب ہوتے ہیں۔ اور بعض اوقات ہیرو/ہیروئن کسی غیر حقیقی چیز سے باتیں کرتے نظر آتے ہیں۔ مثلاً:
دیواروں سے باتیں کرنا اچھا لگتا ہے،
اے چاند، ان سے جا کر میرا سلام کہنا،
پریشاں رات ساری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ،
چندا توری چاندنی میں جیا جلا جائے رے۔
ان کے علاوہ اور بھی کئی ہیں۔ اس چیز کو آپ کیا کہیں گے؟ (اگرچہ فلم حقیقی نہیں ہوتی لیکن کرداروں کے جذبات، انسانی فطرت اور حقیقت ہی کی عکاسی کرتے ہیں۔ )
+ کیا شیزوفرینیا کے مریض کسی کو زخمی یا اس پر قاتلانہ حملہ بھی کر سکتے ہیں جب وہ اپنے حواس میں نہ ہوں؟
+ علاج کے بعد جب سراب اور تخیلاتی دنیا ختم ہو جاتی ہے تو مریض کا عمل اور رد عمل کیا ہوتا ہے؟
+ اگر شیزوفرینیا کی وجوہات دریافت ہو چکی ہیں تو کیا ہیں؟
ان سے کیسے بچا جاسکتا ہے؟
آپ کے قیمتی وقت کا نہایت شکریہ۔
جواب کی منتظر،
والسلام،
رضوانہ شیخ
…………………………………………
ڈاکٹر خالد سہیل کے جوابات
۔ ۔ ۔
محترمہ و معظمہ جنابہ رضوانہ شیخ صاحبہ!
یہ میری خوش بختی ہے کہ آپ جیسی ذہین ’حساس اور نڈر ادیبہ نہ صرف میرے کالم پڑھتی اور کمنٹ کرتی ہیں بلکہ مجھ سے دلچسپ اور فکر انگیز سوال بھی پوچھتی ہیں۔ اس خط میں آپ نے ایک اہم ذہنی بیماری کے بارے میں چند اہم سوالات پوچھے ہیں۔
SCHIZOPHRENIA
کی ذہنی بیماری پاکستان میں شائزوفرینیا اور کینیڈا میں سکزوفرینیا کہلاتی ہے۔ یہ ایک ایسی پراسرار بیماری ہے جو ساری دنیا میں ایک فیصد لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔ اس بیماری کے بارے میں بہت کچھ جاننے کے باوجود ہم بہت کچھ نہیں جانتے اسی لیے ساری دنیا میں سائنس طب اور نفسیات کے ماہرین اور محققین اس کے ڈھکے چھپے رازوں سے پردے اٹھانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔
رضوانہ شیخ صاحبہ!
چونکہ آپ کے سوالات کے جوابات سے بہت سے قارئین بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں اس لیے میں آپ کے سوالوں کا چند قسطوں میں جواب دوں گا۔ پہلی قسط میں آپ کو اور قارئین کو اپنے ایک شائزوفرینیا کے مریض کی کہانی سناتا ہوں تا کہ اس سنجیدہ موضوع پر گفتگو کا آغاز ہو سکے۔ اگلی قسطوں میں مکاتب فکر ’وجوہات‘ تشخیص اور علاج کے بارے میں تفصیل سے لکھوں گا۔
۔ ۔
اپنے ایک شائزوفرینیا کے مریض کی کہانی۔ پہلی قسط
۔ ۔
میرے مریض کا نام جسٹن (فرضی) تھا۔ وہ ایک خوبصورت ’ذہین اور تخلیقی صلاحیتوں کا مالک جوان تھا لیکن حد سے زیادہ حساس طبیعت کا مالک تھا۔ چونکہ اس کے چہرے پر چند کیل اور مہاسے تھے اس لیے وہ سمجھتا تھا کہ وہ نہایت بدصورت ہے۔ وہ بہت شرمیلا انسان تھا اور دوسرے لوگوں سے بہت کم ملتا جلتا تھا۔ وہ تمام دن شہر کی گلیوں میں بے مقصد گھومتا پھرتا اور رات کو اپنے گھر جا کر سو جاتا۔
شائزوفرینیا کی تشخیص کے بعد کئی ڈاکٹروں نے اس کا علاج کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی افاقہ نہ ہوا۔ وہ جب بھی کوئی دوا کھاتا وہ اس کے سائڈ ایفیکٹس سے گھبرا جاتا۔
جب وہ میرے زیر علاج آیا تو میں بھی نیا نیا ماہر نفسیات بنا تھا میں نے بھی بہت کوشش کی لیکن میں بھی اس سے وہ رشتہ قائم نہ کر سکا جو ایک معالج اور مریض کے درمیان ہونا چاہیے۔ میں جب بھی اس سے ملتا مجھے یوں محسوس ہوتا جیسے وہ مجھ سے جذباتی طور پر بہت دور ہو۔ میں جتنا قریب آنے کی کوشش کرتا وہ اتنا ہی دور ہوتا جاتا۔
جب اس کی طبیعت بہتر ہونے کی بجائے بدتر ہونے لگی تو میں نے اسے مشورہ دیا کہ وہ شائزوفرینیا کے وارڈ میں داخل ہو جائے۔ اس نے میرا مشورہ مانا اور داخل ہو گیا۔ اس وارڈ کے ایک بزرگ تجربہ کار اور قابل ماہر نفسیات نے اس کی ادویہ بدلیں لیکن اس سے بھی فائدہ نہ ہوا۔
دھیرے دھیرے مجھے احساس ہوا کہ اس کا ذہنی مرض دوائیوں کے علاج سے بہت آگے جا چکا تھا۔ وہ ایک داخلی کرب میں مبتلا تھا اور ہر روز اپنی صلیب اپنے کندھوں پر اٹھا کر چلتا تھا۔ ایسی صلیب جو اس کے لیے بہت بھاری تھی۔
وہ ہسپتال میں داخل تھا لیکن کبھی کبھار مجھ سے ملنے آ جاتا تھا۔
ایک دن اپنے ماہر نفسیات کے بارے میں کہنے لگا
’میرا ڈاکٹر نہیں جانتا میں کس کرب میں مبتلا ہوں۔ میں ہر وقت ڈراؤنے خواب دیکھتا رہتا ہوں۔ رات کو بھی اور دن کو بھی۔ میں اس آسیب سے چھٹکارا پانا چاہتا ہوں لیکن ناکام رہتا ہوں۔ میرا ڈاکٹر بھی میری طرح بے بس ہے۔ ‘
پھر وہ ہسپتال چھوڑ کر گھر چلا گیا۔
ایک دن وہ مجھ سے ملنے آیا تو کہنے لگا
’مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ شاعر ہیں میں نے بھی ایک نظم لکھی ہے آپ کو سنانا چاہتا ہوں۔ اس کی انگریزی کی نظم کا مفہوم کچھ یوں تھا۔
میرے گھر میں
آؤ میرے گھر میں آؤ
میرا نام جہنم ہے
آؤ میں تمہیں اپنا کرب دوں
تا کہ تم بھی مضطرب ہو جاؤ
میرے گھر میں تاریکی کے شعلوں کے اس پار
ایک گھنٹی بجتی ہے
میں تمہیں اپنے خوف میں شامل ہونے کی دعوت دیتا ہوں
ایک وہ دور تھا جب میں دن رات خدا کے قرب میں جنت میں رہتا تھا
لیکن پھر میں نے شکست کھائی
اور خدا کے تخلیق کردہ اس جہنم زار میں آ گرا
اور نفرت کا عفریت بن گیا
میں انسان سے نفرت کرتا ہوں
اور اس کی روح پر مایوسی کا سایہ کرتا ہوں
میرا نام تباہی ہے
دنیا میں جتنی جنگیں اور قتل و غارت ہوئے ہیں
میری ہی وجہ سے وقوع پذیر ہوئے ہیں
میں جہنم کا شیطان ہوں
خدا ایک فاختہ ہے اور میں ایک عفریت
عفریت نے فاختہ کے کمزور پر کچل ڈالے ہیں
میری وجہ سے کرہ ارض پر انسانی زندگی
سسکتی اور کراہتی ہے
میں حرص کے گیت گاتا ہوں
میں جنگوں میں بربادی کا بگل بجاتا ہوں
انسانی چیخیں سن کر خوش ہوتا ہوں
ایک دن میں
خدا کی انسانی مخلوق کو
نیست و نابود کر دوں گا
آؤ شیطان میری روح کو سیاہ کر دو
آؤ میرے گھر میں آؤ
یہی جہنم ہے۔
اور پھر ایک دن وہ مریض مجھ سے ملنے آیا تو مسکرا رہا تھا۔ اس کے سراپا سے مسرت و انبساط کی شعائیں پھوٹ رہی تھیں۔ میں نے جسٹن کو اتنا خوش پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔
اس نے مجھے بتایا کہ وہ ایک دن مقامی کلب میں گیا جہاں اس کی ایک ناچنے والی رقاصہ سے ملاقات ہوئی تھی۔ وہ اس سے بڑی مہربانی سے پیش آئی تھی۔ وہ کچھ دیر تو کلب میں ہی گفتگو کرتے رہے اور پھر وہ ڈانسر کو اپنے گھر لے آیا۔ وہ ڈانسر اس پر اتنی مہربان ہوئی کہ بوس و کنار کے بعد اس کے ساتھ سو گئی۔ اس عورت نے اسے بتایا وہ وجیہہ بھی ہے اور اچھا عاشق بھی۔ اس رات اس مریض نے خود کو بھی حیران کر دیا تھا۔
وہ رومانوی و جنسی رشتہ چھ ہفتے قائم رہا۔ اس مریض نے مجھے بتایا کہ وہ چالیس دن اس کی چوبیس سالہ زندگی کے بہترین چالیس دن تھے۔
اور پھر وہ اسے چھوڑ کر چلی گئی اور اس کا دل ٹوٹ گیا۔
اس مریض نے اس عورت سے کہا کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے لیکن وہ خاموش رہی۔ وہ اسے اپنے گھر بلاتا لیکن وہ نہ آتی۔
اس کے بعد وہ مریض بہت اداس و غمزدہ رہنے لگا۔ اس کی حالت اتنی ابتر ہوئی کہ اسے دوبارہ ہسپتال داخل کروایا گیا اور ایک اور ماہر نفسیات نے اس کا علاج کیا۔
چند ہفتوں کے بعد اس کے والدین اسے اپنے گھر لے گئے جو ہسپتال سے دو سو میل دور تھا۔
چند دنوں کے بعد اس کے والدین ویکنڈ منانے کہیں گئے اور اسے اکیلا گھر چھوڑ گئے۔ جب وہ واپس آئے تو انہیں اپنے بیٹے کی بجائے اس کی لاش ملی۔ وہ خودکشی کر چکا تھا۔
دیوانے کے ہمراہ بھی رہنا ہے قیامت
دیوانے کو تنہا بھی تو چھوڑا نہیں جاتا
میں کافی عرصے تک سوچتا رہا کہ کیا اس مریض کی خودکشی کا تعلق اس کے جنسی تجربات سے تھا اور کیا جنسی جذبات کا تشدد کے جذبات سے کوئی رشتہ ہے؟
محترمہ رضوانہ شیخ صاحبہ!
آپ نے مجھے ایک فلم اور ایک سیریل دیکھنے کا مشورہ دیا ہے۔ میں بھی آپ کو ایک فلم دیکھنے کا مشورہ دیتا ہوں۔ اس فلم کا نام
EQUUS
ہے۔ اس فلم میں رچرڈ برٹن ایک ماہر نفسیات کا کردار ادا کرتے ہیں اور ایک نوجوان کا علاج کرتے ہیں جو اپنا ذہنی توازن کھو چکا ہوتا ہے۔ اس نوجوان نے ایک اصطبل میں چھ گھوڑوں کو ایک خنجر سے اندھا کر دیا ہوتا ہے۔ جب فلم میں کہانی کے پردے اٹھتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ وہ حادثہ اس واقعہ کے بعد ہوتا ہے جب وہ نوجوان اس اصطبل کے مالک کی بیٹی کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرتا ہے۔ وہ نوجوان ایک ایسے ذہنی بحران کا شکار ہوا جسے میں
sexual psychosis
کا نام دیتا ہوں۔
میرے مریض نے میرے ذہن میں بہت سے سوالات ابھارے اور میں نے ذہنی بیماری اور شائزوفینیا کے بارے میں تحقیق کی۔ اس مطالعہ سے جو کچھ میں نے جانا اور سیکھا وہ میں اگلی چند قسطوں میں آپ کے اور ’ہم سب‘ کے قارئین کے سامنے پیش کروں گا۔
محترمہ رضوانہ شیخ صاحبہ!
جہاں تک فنکار اور ذہنی بیمار کی ذہنی کیفیات کا تعلق ہے تو میرا موقف یہ ہے کہ دونوں غیر روایتی سوچ کے مالک ہوتے ہیں۔ دونوں گہرے پانیوں میں غوطہ لگاتے ہیں۔ فنکار گوہر مقصود لے کر واپس ساحل تک آ جاتا ہے اور کوئی غزل نظم افسانہ یا ڈرامہ تخلیق کرتا ہے جب کہ ذہنی مریض سمندر کی گہرائیوں میں غوطے لگاتا رہتا ہے کبھی کبھار ڈوب بھی جاتا ہے اور خیالی دنیا سے واپس لوٹ کر حقیقی دنیا میں نہیں آتا۔
اسے حقیقی دنیا میں واپس لانے کے لیے ادویہ ’تھیرپی اور علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔
(جاری ہے۔ )



Comparison between a shcispreinic person and a creative person! Thanks. I always thought about it but did not figure out words for it.
I meant schizophrenic person