روسی ادب کیوں اور کیسے پڑھا جائے؟
روس کا زیاد حصہ ایشاء میں ہونے کے باوجود ایک وسیع حصہ یورپ میں ہے لیکن تاریخی طور پر روس یورپ سے یکسر جدا ہے۔ نہ روس یورپ میں وقوع پذیر ہونے والے نشاۃ ثانیہ، جمہوریت، انسان دوستی، برابری کی تحریکوں سے متاثر ہوا نہ یورپی ادب سے۔ بلکہ یورپ اور روس کے ادب میں فرق بعد المشرقین ہے۔
روسی ادیبوں کا معاشرتی مطالعہ گہرا ہونے کے سبب وہ انسانی نفسیات کو گہرائی سے بیان کرتے ہیں۔ تجربات کو اس کی اصلی شکل میں سپرد قرطاس کرنا روسی ادیبوں کا خاصا ہے اور روسی ادب زندگی کے زیادہ نزدیک ہے۔ خاص طور پر ہمارے علاقے کے لوگوں کے مسائل تو آج بھی ویسے ہی ہیں جو انیسویں صدی کے روس کے تھے۔ اسی لئے ایک یورپی سے زیادہ وہ ہمارے مزاج کے قریب ہیں۔
چوں کہ زندگی دکھ سے معمور ہے اسی لئے روسی ادب بھی دکھ کی گہری دھند میں لپٹی ہوئی ہے، بقول شخصے روسی کردار، مصنف اور بعض دفعہ لکھاری خود بھی دکھ جھیل رہا ہوتا ہے۔ بقول اسلم انصاری ”تمام دکھ ہے“ ۔
محبت جیسا پاکیزہ اور ضروری جذبہ بھی دکھ سے عاری نہیں اور عام زندگی کی طرح روسی ادب میں محبتیں المناک انجام سے دوچار ہوتی ہیں۔ ہالی وڈ اور بالی وڈ کی ہپی اینڈنگ نہیں ہوتی۔ چاہے وہ اننا کاریننا اور ورونسکی کی محبت ہو، یا فیلوپونا اور پرنسس مشکن کی۔
روسی ادیب جس بہترین انداز میں معاشرے میں پائے جانے والے برائیوں کو واضح کرتے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہے اور یہ سب وہ ایک ایسے معاشرے میں کر رہے ہوتے ہیں جو درجہ بندی، منافقت اور لالچ کے اندھیرے میں رچ بس چکا ہے۔ یہ سب عموماً اخلاقی بحثوں کے دوران بہتے کہانی میں بیان کیا جاتا ہے۔
ان سب کو جاننا اور اپنے معاشرے میں اپنے رویے کے متعلق آپ کا تجزیہ اور رویہ کیا ہونا چاہیے اس کے لئے روسی ادب پڑھنا ناگزیر ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ روسی ادب پڑھا کیسے جائے؟
روسی ادب میں دو مسئلے سب سے زیادہ پریشان کن ہیں ایک کتابوں کی ضخامت اور دوسری ان میں پائے جانے والے ناموں کی شکل بدلتی صورتیں۔ روس میں سردیاں لمبی ہونے کی وجہ سے شام جلد ہوجاتی ہے تو راتیں بھی لمبی ہوجاتی ہیں اور باہر نکلنا مشکل ہوجاتا ہے اسی لئے روسی ادیبوں نے جو ناول لکھے وہ لمبی کہانیوں پر مشتمل تھیں۔ کیونکہ پڑھنے والوں کے پاس بھی فرصت تھی۔ جو آج کے قاری کے لئے سؤ جان ہے۔ آج کا قاری فیس بکی پوسٹ پڑھتا ہے اس کا اسٹیمنا اتنا نہیں تو وہ روسی ناول پڑھ نہیں سکتا۔
اس کا بہترین حل یہ ہے کہ آپ وقت مقرر کریں اور موبائل وغیرہ پاس نہ رکھ کے کم از کم دو گھنٹے روز پڑھے یا ناول کو دو حصوں میں بانٹ دیں۔
دوسرا مسئلہ جس کی شکایت بہت سے دوست کرتے ہیں اور یہ مسئلہ میرے بھی ساتھ تھا وہ ہے روسی ناولوں میں ایک ہی شخص کے تین چار نام: جو کنفیوژن کا سبب بنتے ہیں۔
مثلا:
دوستوفسکی کے ایک ناول سے اقتباس ؛ ”الیکسی صبح سے پریشان تھا۔ اس نے مقامی بازار جا کر اپنے بھائی سے ملنے کا فیصلہ کیا۔ راستے میں وہ چرچ سے واپس آتے ہوئے اپنے والد سے ملا۔ اس کے باپ نے ہاتھ ہلا کر پکارا،“ الیوشا! آپ کیسی ہو؟ ”الیکسی اپنے والد کے پاس گیا اور انہوں نے ایک ساتھ گھر چلنے کا فیصلہ کیا۔ واپسی پر، انہوں نے بوسیدہ لکڑہارے کے دکان کو عبور کیا۔ جس نے ان کا مذاق اڑایا،“ لگتا ہے لیوشا نے اپنے والد کے ساتھ سازباز کر لی ہے ”! مندرجہ بالا مثال میں، الیکسی ایلوشا ہے اور لیوشا ایک ہی ہے۔
یوں ایک ہی شخص کے تین نام۔ یہ ان کا کلچر ہے اپنا خود کا نام ہوتا ہے وہ اس نام کو کوئی بھی عرف دے سکتے ہیں اس کا ایک چھوٹا ورژن بنا سکتے ہیں دوسری والد کا اور تیسرا عموماً خاندان کا نام ہوتا ہے لیکن مسئلہ وہ اولین نام ہی ہوتا ہے۔
اس مسئلے کے بھی دو حل ہیں پہلی یہ کہ کافی قلم لیں کردار آتے جاتے ہیں ان کے نام لکھتے جائیں۔ جہاں محسوس ہو کہ پچھلا کردار ایک اور نام سے پکارا جا رہا ہے وہ اس کردار کے سامنے لکھیں آہستہ آہستہ سارے کردار یاد ہوں گے۔ دوسرا یہ کہ پڑھتے جائیں کچھ ناول یا افسانے پڑھنے کے بعد ان ناموں کی عادت پڑھ جائے گی جو بعد میں آسان ہوجائیں گی۔ اور اس طرح آپ روسی ادب اور اوریجنل ادب سے آشنا بھی ہوں گے۔ جو شعوری آگاہی کے لئے بہت ضروری ہے۔
ایک اضافی نوٹ یہ کہ روسی ادب پڑھنے کے لئے ایک اور چیز بھی بہت ضروری ہے اور وہ ہے روسی تاریخ۔ آپ جنگ اور امن کو بغیر روس کے تاریخ پڑھے نہیں سمجھ سکتے یہ اور اس جیسے بہت سے مشہور روسی ناول اس بات کے متقاضی ہیں کہ آپ پہلے روسی ادب پڑھیں پھر آپ یہ ناول پڑھیں۔ آپ کو اس خطے اور اس کے لوگوں کی تاریخ اور تاریخ انقلاب کا اچھی طرح جب شعور ہو گا تو ان ناولوں کا مزہ دوبالا ہو گا۔
اب جب آپ درج بالا چیزوں کو نظر میں رکھیں گے اور مطالعہ کریں گے تو آپ کو روسی نالوں کے عظمت کا اندازہ خوب خوب ہو گا۔


