دو ارب کی شادی اور مزدوروں کی رکی ہوئی اجرت

اس شادی پر کچھ دو ارب روپے خرچ ہوئے تھے۔ یہ پاکستان کی اب تک کی مہنگی ترین شادی تھی۔ دو سال پہلے کی بات ہے جب ایک بہت بڑے کاروباری خاندان کی بیٹی کی شادی ایک دوسرے امیر کاروباری شخص کے بیٹے سے ہوئی تھی۔ کئی مہینوں تک چلنے والی تقریبات میں کروڑوں روپے خرچ کیے گئے۔ موسیقی کی نجی محفل کے لیے عاطف اسلم کو 50 لاکھ اور راحت فتح علی کو 55 لاکھ ادا کیے گئے۔ ابرار الحق کا کنسرٹ الگ۔ شادی میں شریک مہمانوں کے لئے لاہور کے ایک کنٹری کلب کو ایک سو بیس دن کے لئے بک کیا گیا۔ ہزاروں کی تعداد میں انواع و اقسام کے پھولوں سے شادی کا اسٹیج تیار کیا گیا تھا۔ مہمانوں کے لئے مٹھائی چوبیس کیرٹ سونے کے ورق میں لپٹی ہوئی تھیں۔
نکاح خواں ایک مشہور مولانا تھے جو ایم ٹی جے کے برانڈ ایمبیسڈر ہیں۔ انہوں نے نکاح پڑھانے کی مد میں دس لاکھ روپے لئے۔ اسٹیج پر آ کر نبی پاک اور صحابہ کرام کی سادگی پر درس دیا اور اپنی لینڈ کروزر میں بیٹھ کر روانہ ہو گئے۔
ابھی حال ہی میں عید سے پہلے اسی کاروباری خاندان کی ایک فیکٹری کے مزدوروں نے فیکٹری کے دروازے کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ پاکستان ٹو ڈے کی رپورٹ کے مطابق کچھ چار ہزار ملازمین کو پچھلے چار ماہ سے تنخواہ کی ادائیگی نہیں کی گئی ہے۔ ان مزدوروں کی بیوی بچے عید پر آس لگائے بیٹھے تھے کہ تنخواہ مل جائے گی اور وہ بھی نئے کپڑے پہنیں گے۔ وہ بھی باہر جا کر اچھا کھانا کھائیں گے۔ ان کے گھر میں بھی رونق ہو گی لیکن ان مزدوروں کے ساتھ کوئی وعدہ وفا نہیں کیا گیا۔ کچھ ملازمین کو جو عید سے پہلے وہاں مظاہرہ کر رہے تھے، ان کو دس ہزار روپے دے کر روانہ کر دیا گیا۔ بعد میں جو مزدوروں پہنچے، وہ اس رقم سے بھی قاصر رہے۔ ان ہی مزدوروں کے لئے جبار واصف نے کہا تھا،
اپنے بچوں کو بچا سکتا نہیں فاقوں سے
ان کو تعلیم دلانے سے بھی معذور ہوں میں
پیٹ بھر دیتا ہے حاکم مرا تقریروں سے
اس کی اس طفل تسلی پہ تو رنجور ہوں میں
اسی طرح ساحر لدھیانوی نے اپنی نظم تاج محل میں درست کہا تھا کہ
یہ عمارات و مقابر یہ فصیلیں یہ حصار
مطلق الحکم شہنشاہوں کی عظمت کے ستوں
سینہ دہر کے ناسور ہیں، کہنہ ناسور
جذب ہے ان میں ترے اور مرے اجداد کا خوں
اس کاروباری خاندان کو یہاں تک پہنچانے میں نجانے کتنے مزدوروں کی محنت اور لگن شامل رہی ہو گی۔ پیسے کمانا، زندگی میں آگے بڑھنا اور اچھی خوشحال زندگی گزارنا ہر انسان کا حق ہے مگر کسی کی حق تلفی نہیں ہونی چاہیے۔ ویسے تو یہ شادی پیسے کا ضیاع ہی تھی۔ ایک ہندوستانی اداکار نے اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ میرا گھر بہت بڑا ہے۔ رہتا میں دو سو گز پر ہی ہوں۔ باقی کی زمین پر میرا آہنکار رہتا ہے۔
یہ کاروباری شخصیت تبلیغی جماعت کو چندہ دینے میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ اس ملک میں مذہب دھندے سے زیادہ کچھ نہیں۔ مجھے اب تک سب سے زیادہ دھوکا نمازی پرہیزگار لوگوں نے دیا۔ تیس سال پہلے جب میں نیا نیا امریکہ آیا تھا تو میری سب سے زیادہ مدد میرے ان دوستوں نے کی جو شراب پیتے تھے اور ان کی لڑکیوں سے دوستی بھی تھی۔ مذہب سے دور ان دوستوں نے مجھے اپنے گھر میں رکھا اور میری ہر طرح سے مدد کی۔ جب کہ دوسری طرف صوم و صلوۃ کے پابند لوگوں کی طرف سے دھوکے کے سوا کچھ نہ ملا۔ بالکل اسی طرح تبلیغی جماعت کو چندہ دینے والی اس کاروباری شخصیت نے مزدوروں کو ان کی اجرت نہیں دی۔ وہ مزدور جن کی محنت سے آپ کو یہ دولت ملی۔ جن کے دم سے آپ کی فیکٹری چلتی ہے۔ جن کے ہاتھوں کی صناعی نے آپ کے ماربل کے پتھر اور ٹائلز بنانے۔ آپ اپنی بیٹی کی شادی میں سونے کے ورق میں لپٹے ہوئی مٹھائی بانٹیں اور آپ کی فیکٹری کا لاچار مزدور اور اس کے معصوم بچے بھوکے سوئیں؟
ان امیروں نے غریبوں کے لئے صرف مذہب چھوڑا ہے تاکہ وہ ان امیروں کے خلاف آواز بلند نہ کر سکیں۔ جن مولانا صاحب نے اس شادی کا نکاح پڑھایا تھا وہ منبر پر بیٹھ کر بیان دیتے ہیں کہ یہ دنیا تو عارضی جگہ ہے، اصل ٹھکانہ تو جنت ہے۔ حرم میں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں کے برابر۔ رمضان کے آخری عشرے میں شب قدر کی عبادت ہزاروں سال کی عبادت سے بہتر ہے۔ جنت میں ایک مرد کے لئے ستر ستر حوریں ہیں جن کی آنکھیں ایسی تو بال ایسے۔ جن کی رنگت گلاب جیسی اور جن کا جسم بلور کی طرح نازک۔ غریب مزدور یہ سب باتیں سن کر اپنے ساتھ ہوئی ہر نا انصافی سہ جاتا ہے اور آخرت پر توکل کر لیتا ہے۔ دوسری طرف یہ بیان کرنے والا دنیا کی تمام آسائشوں سے مالا مال ہے۔ وہ ڈیزائنر کپڑوں کی دکانیں کھول رہا ہے لیکن اس کے اسٹور پر کام کرنے والوں مزدوروں کو اچھی تنخواہ کبھی نہیں ملے گی۔
بوجھ کاندھوں سے کم کرو صاحب
دن منانے سے کچھ نہیں ہوتا



