آئین بلوچستان کے حقوق کی حفاظت کیوں نہیں کر سکا؟


پاکستان میں اکثر اس قسم کی جذباتی تقریریں سننے کو ملتی ہیں کہ ہم اپنے ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کے لئے جان کی بازی لگا دیں گے۔ مقررین یہ نکتہ فراموش کر دیتے ہیں کسی ہتھیار کے حصول کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ وہ اس ملک کے لوگوں کی حفاظت کرے۔ اگر کسی بھی ہتھیار کی حفاظت کے لئے پوری قوم کو جان ہتھیلی پر رکھ کر زندگی گزارنے پڑے تو اس کا کیا فائدہ؟

اسی طرح پاکستان کے موجودہ آئین کو پچاس سال مکمل ہو گئے۔ اس خوشی میں پارلیمنٹ میں سیمینار بھی منعقد کیا گیا۔ اس بحث سے قطع نظر کہ کون قصور وار ہے اور کون نہیں ایک حقیقت واضح ہے کہ آج بھی پاکستان اسی طرح بحرانوں کا شکار ہے جس طرح اس وقت بحرانوں میں گھرا ہوا تھا جب یہ آئین بنایا گیا تھا۔ گاہے بگاہے یہ نعرے تو سننے میں آتے ہیں کہ ہم ہر قیمت پر آئین کی حفاظت کریں گے لیکن اس مرحلہ پر ان حقائق کا تجزیہ کرنا ضروری ہے کہ کیا آئین پاکستان کے عوام کے حقوق کی حفاظت کر سکا کہ نہیں۔ اور اگر اس کا جواب نفی میں ہے تو کون قصور وار ہے اور اس کا حل کیا ہے؟

آئین میں بہت سے حقوق کی ضمانت دی گئی ہے۔ کیا پاکستان میں یہ حقوق محفوظ ہیں؟ اس کالم میں آئین کی صرف ایک شق میں درج حق کا جائزہ لیا جائے گا۔ آئین کی شق 158 ملاحظہ فرمائیں :

” صوبے میں قدرتی گیس کا کوئی سرچشمہ واقع ہو اسے اس سرچشمے سے ضروریات پوری کرنے کے سلسلہ میں، ان پابندیوں اور ذمہ داریوں کے تابع جو یوم آغاز پر نافذ ہوں پاکستان کے دیگر حصوں پر ترجیح ہو گی۔“

ہم جانتے ہیں کہ موجودہ آئین اپریل 1973 میں منظور ہوا اور اسی سال اگست میں نافذ بھی ہو گیا۔ اس وقت پاکستان میں کون سا صوبہ کتنی قدرتی گیس پیدا کر رہا تھا اور اسے اس پیداوار میں کتنا حصہ مل رہا تھا؟ 1952 میں سوئی (بلوچستان) کے مقام پر قدرتی گیس کے وسیع ذخائر دریافت ہوئے اور 1955 سے پاکستان کے مختلف حصوں میں قدرتی گیس کی سپلائی شروع کر دی گئی اور وقت کے ساتھ اس سپلائی کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا۔

جب ہم 1955 سے 1970 تک کے عرصہ کا جائزہ لیتے ہیں تو اس دوران بلوچستان پورے پاکستان میں قدرتی گیس کی پیداوار کا 91 فیصد سے بھی کچھ زائد حصہ پیدا کر رہا تھا۔ لیکن ان پندرہ سالوں میں بلوچستان کو اس میں سے کتنا حصہ دیا گیا؟ اس تمام عرصہ میں بلوچستان کو قدرتی گیس کا صفر حصہ دیا گیا۔ یہ تضاد ایسا نہیں تھا جسے نظر انداز کر دیا جاتا۔ مشرقی پاکستان کے علیحدہ ہونے کے بعد تو ایسے معاملات میں اور بھی محتاط ہو جانا چاہیے تھا۔ اس لئے آئین بنانے والوں نے بجا طور پر یہ شق آئین میں شامل کی تھی۔ لیکن اب جائزہ لیتے ہیں کہ اس آئینی ضمانت کے بعد کیا اس زیادتی کا مداوا کیا گیا؟

ہم 1970 سے 1982 تک کے برسوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ ان برسوں میں نو سال موجودہ آئین نافذ العمل تھا۔ اس دوران بلوچستان پورے پاکستان کی قدرتی گیس کا 84 فیصد پیدا کر رہا تھا لیکن آئین میں دی گئی ضمانت کے بعد اس صوبہ کو اس میں سے کتنا حصہ دیا جا رہا تھا؟ افسوس سے لکھنا پڑتا ہے کہ ان سالوں میں بھی بلوچستان کو اس پیداوار کا صفر فیصد حصہ دیا گیا۔ یعنی ان برسوں میں پورے ملک کے عقلمندوں کو یہ خیال بھی نہیں آیا کہ آئین کی رو سے تو ترجیح بلوچستان کو دینی چاہیے تھی لیکن ہم نے تو ان کو سرے سے قدرتی گیس کی سپلائی دی ہی نہیں۔

اب اگلے دس سالوں کا ذکر کرتے ہیں۔ 1983 سے 1993 تک بلوچستان پورے پاکستان کی قدرتی گیس کی پیداوار کا 68 فیصد پیدا کر رہا تھا اور اسے حاتم کی قبر پر لات مار کر اس پیداوار میں سے صرف دو فیصد قدرتی گیس عطا کی جا رہی تھی۔ اور اس کے اکثر اضلاع کو اس نعمت سے محروم رکھا گیا تھا۔ اس طرح آئین کی رو سے جو ترجیح اسے ملنی چاہیے تھی وہ نہیں دی جا رہی تھی۔ 1993 سے 2000 تک بلوچستان میں قدرتی گیس کی پیداوار کا نصف پیدا ہو رہا تھا اور اسے دو فیصد سے تھوڑا سا زائد حصہ اس پیداوار میں دیا گیا۔

اب صورت حال یہ ہے کہ سندھ میں قدرتی گیس کی پیداوار بلوچستان سے بڑھ چکی ہے اور 2005 سے 2014 تک بلوچستان میں قدرتی گیس کی پیداوار 20 فیصد رہی اور اسے اس میں سے 7 فیصد حصہ دیا گیا۔

(A Cry for Justice By Kaiser Bengali P 3)

لیکن یہ صورت حال تب پیدا ہوئی ہے جب پچاس سال بلوچستان کے ذخائر کو نچوڑا گیا ہے اور اس صوبہ کو اس کے حصہ سے محروم رکھا گیا۔ اس دور میں اگر کسی علاقہ کو توانائی سے محروم کر دیا جائے تو یہ علاقہ لازمی طور پر پسماندہ رہے گا۔ اس پس منظر میں اب یہ کافی نہیں کہ بلوچستان کو اس کی پیداوار مکمل طور پر دے دی جائے بلکہ ضرورت اس بات کی ہے ماضی کی اتنی بڑی زیادتی کا مداوا بھی کیا جائے تاکہ بلوچستان میں موجود غربت اور پسماندگی کو دور کیا جا سکے۔

اس محرومی کا کیا نتیجہ برآمد ہوا؟ ایک اندازہ کے مطابق بلوچستان میں باون فیصد گھرانے غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ خیبر پختون خواہ میں 32 فیصد اور سندھ میں 33 فیصد گھرانے اس معیار پر غربت کی چکی میں پس رہے ہیں اور پنجاب میں 19 فیصد گھرانے غربت کا شکار ہیں۔

(Clustered Deprivation: District Profile of Poverty in Pakistan, Author: Arif Naveed and Nazim Ali)

گو کہ ہر معاملہ کو مختلف زاویوں سے پرکھ کر مختلف نتائج تک پہنچا جا سکتا ہے اور بحث بھی کی جا سکتی ہے لیکن بہر حال یہ فرق اتنا معمولی نہیں کہ اسے سرسری طور پر نظر انداز کر دیا جائے۔ اس کا وہی نتیجہ برآمد ہو سکتا تھا جو کہ اب تک ہم ملاحظہ کر رہے ہیں۔ فقط فوجی آپریشن سے ایسے مسائل کبھی حل نہیں ہوتے۔ کچھ ہوشمندی کا مظاہرہ بھی کرنا پڑتا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے ایک فیصلہ میں اس بات پر اظہار افسوس کیا ہے کہ اب تک مشترکہ مفادات کی کونسل میں قدرتی گیس کی تقسیم کے مسئلہ کو اطمینان بخش طریق پر حل نہیں کیا جا سکا۔ لیکن کیا صرف اظہار افسوس یا معذرت نصف صدی کی زیادتیوں کا مداوا کر سکتی ہے؟ ذمہ دار کون ہے؟ اور ایسے مسائل کا کیا حل ہے؟

Facebook Comments HS