تنویر ملک اور ان کی پہلی تصنیف: شہر آشوب تلہ گنگ


ایک عوامی تاریخ

دل سے لکھے بھارے اکھر، صرف سنے تھے پڑھنے کا اتفاق تب ہوا جب شہر آشوب تلہ گنگ ورق ورق، فرد فرد، واٹس ایپ گروپ پہ پڑھی گئی۔ یہ اصلی نسلی قلمی جہادی گروپ شاھد سلیم مرحوم کی علمی و ادبی وراثت رہی۔ اب تنویر ملک صاحب کی قلم رو میں ہے

حلقۂ ارادت جامعہ قائد اعظم کے قدیمی ہونہاران اور پاسبانان عقل و دانش پہ محیط وہ گروہ روایت و فن ہے جو وسیع تر ایشیا، امریکہ، یورپ اور کینیڈا میں کار روزگار کے ساتھ ”سوز و ساز رومی اور پیچ و تاب رازی“ کی عمومی تصویر ہے اور یہاں اس تقریباً دو صد گروہ باصفا ”کے ایڈمن ( مرشد) تنویر ملک صاحب کی حالیہ تصنیف اول کا تذکرہ مقصود ہے۔

اس کتاب کا تذکرہ ایسا ہی ہے کہ جیسے کوئی اپنی اولین محبت، پہلے عشق کا بیاں چاہے، سوچو تو رگ جاں کا حصہ، دامن خیال جس قدر وسعت کا طلبگار، گویائی اتنی ہی کوتاہ قدمی کا شکار۔

گوری کرت ہزار۔ گوری کرت ہزار۔

کتاب کے ٹائٹل پہ دھیمے مگر پختہ رنگوں سے زمین کے ساتھ جڑے رشتوں کی تصاویر، لکھنے والے کی کیفیت قلب کو روشن کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

کتاب تکنیکی اعتبار سے ”عوامی تاریخ یعنی Subaltern Studies“ کے زمرے میں پڑھی جانی چاہیے جس پہ ریسرچ ارض پاک میں تقریباً عنقا ہے۔ چند نوجوان تاریخ کے جید قاری و محقق ہیاس قافلے کے سالاروں میں گنے جا سکتے ہیں ( علی قاسمی، علی رضا، عمر فاروق و دیگر چندے )

مقامی وسیب میں گندھے محاورات اور اصطلاحات خطے کی زبان، اس کی علامات اور معنی خیزی کی نہ صرف عمدہ مثال ہیں ( اولین بھی) بلکہ ”ورنیکلر اپلائیڈ لنگوئسٹکس“ ( مقامی اطلاقی لسانیات) کے اسکالرز کے لئے سنجیدہ تحقیق و ترویج کی متقاضی بھی۔

(صفحات 116 سے 123ملاحظہ فرمائیں۔

گزشتہ صدی کے آخری دو عشروں تک ارض پاکستان میں پسماندہ و درماندہ طبقات آبادی (marginalised classes) پہ تحقیق خال خال ہی رہی۔ دوتین نسلیں ”ہندوستان کی تاریخ اور یورپ سے اس کے موازنے“ میں ہلکان رہیں۔ اور یوں تاریخ کا عوامی عمیق مطالعہ نہ کر پانے کا الزام بھی تاریخ کے اساتذہ کے شانوں پہ ہی ڈالا جاتا رہا۔ قومی اداروں اور نصاب میں عربی و فارسی زبان و ادب کے بتدریج زوال نے پاکستان کی دھرتی اور اس کے ثقافتی رنگوں کے ہولے ہولے اجالنے منظر کو استقامت بخشی۔ معاشرے کے ”مستند نظر انداز گروہ“ (طبقے تو صرف اعلی ہی گنے جاتے رہے ) پہ تحقیق عالمی سطح پہ ہویدا ہوئی۔ اور یوں یہ قافلہ پیادگان تحقیق نئے ذوق و شوق کے ہمراہ عازم سفر ہوا۔

اگرچہ زیر تبصرہ کتاب کابل اور لاہور کے تاریخی سنگم پہ واقع تلہ گنگ کی تقسیم اور بعد از تقسیم ( قیام پاکستان) کے دیہی وسیب کی ذاتی یادداشت ہے مگر تنویر ملک نے تاریخی ہیئت و ترکیب سے اسے ایک نفسیاتی و تحقیقی عمل سے گزارنے کی غیر شعوری کوشش کی ہے جو ان کی تاریخ کے مضمون میں تربیت اور عملی اجارہ داری کا ثبوت فراہم کرتی ہے۔ نوجوان ریسرچر ایسے کسی موازنے کو سہولت سے ڈھونڈنے میں کامیاب تو نہیں ہو سکتے ہاں زیر تبصرہ تصنیف سے مستفید ہونے کے امکانات کافی روشن ہیں۔

تین سو سے بھی کم صفحات پہ مشتمل یہ کتاب اپنی بنت میں بے ساختہ ہے الفاظ میں سہل ہے جس میں دھریک اور رات کی رانی کی خوشبو رچی ہے کیوں نہ ہو خمیر جو ٹھہرا!

مصنف اپنے اصلی و ذاتی جوہر تلہ گنگ ”بیان“ کے گرو ہیں اور کتاب کے ابتدائی صفحات سے ہی قاری کو اپنے ناقہ سرمد پہ بٹھا کر من پسند حدی خوانی سے یوں سرشار رکھتے ہیں کہ دھواں ہوتے کرداروں کا اصلی روپ جھلمل جھلمل کرنے لگتا ہے۔ کہانی کے فن میں یہ پرکاری و سلاست ہرجا بجا بھی اور با افراط بھی! چاہے یہ لاھنی پانڈھی کے شیخ سراج دین کا ذکر خیر ہو، ابھرنی پانڈھی کے ڈاکٹر ظفر کا احوال ہو، قصائص تارکین تلہ گنگ ہوں یا یہاں کے اقلیتی باشندگان کے مخلوط خدو خال۔

ٹمن، لاوہ، تلہ گنگ اور عالمی قارئین و سامعین کی دلبستگی اور دلچسپی کے سامان بہم موجود۔

اب اگر موضوعات کتاب پہ نظر ڈالیں تو تلہ گنگی بیانیے / کلام کا لازمی اسلوب اپنی پوری آب و تاب سے دکھائی دیتا ہے

”الانی اور ماھئیے“ کا خوبصورت امتزاج

ہندوستانی ادب میں مغل، کولونیل ( نوآبادیاتی) اور پوسٹ کولونیل ( بعد از نو آبادیاتی) تینوں ادوار ”حزن“ سے لبالب ہیں۔ اسی لئے تو اس عہد کے لٹریچر کے مطالعے کا ایک ماڈلmelancholy یعنی ملال بھی ٹھہرا۔

(ماہیا ایسی صنف ہے جسے عصری روایات اور محبوب کی یاد کو باہم زندہ رکھنے کی کوشش کہا جا سکتا ہے )

تلہ گنگ شہر کی یادداشتوں اور مقامی تاریخ پر مبنی یہ کتاب ان دونوں اصناف کے ماڈل پہ مبنی ہو سکتی ہے جسے یاس بھری امید انگیزی کے ساتھ مرتب کیا گیا۔ اور مقامی لہجے کی خوشہ چینی اتنی مہارت سے کی گئی ہے کہ دوسرے لہجوں کے معانی کا مترادف ٹھہرے۔ قومی یعنی رابطے کی زبان کی باؤنڈریز کو سہولت کے ساتھ برتا گیا اور پنجابی زبان و ادب کے ناقدین کو عاجزانہ سرمستی اور بے پناہ تفاخر کے سرماۂ آبدار سے بھون دیا گیا۔ ء جنہاں عشق نمازاں پڑھیاں نیں ( جنہوں نے عشق کو عبادت سمجھا) وہ اس بھونے جانے کے ذائقے سے یقیناً آشنا ہیں!

وہی دکھایا اور سنایا جو وہ سنانا اور دکھانا چاہتے تھے
ء زندگی جب بھی تیری بزم میں لاتی ہے ہمیں
یہ زمیں چاند سے بہتر نظر آتی ہے ہمیں۔

جو اس تصنیف سے لطف اندوز ہو چکے ہیں ان کا احوال تو ہم جیسا ہی ہو گا باقی جو رہ گئے ان کے لئے صلائے عام ہے اس سے پہلے کہ ان کی زیر طبع ”سرکاری عمر کی یادداشتیں“ غیرسرکاری انداز میں سامنے آئیں!

اپنے مزاج کے برعکس مصنف پہ تبصرے سے معذور ہوں!
ء میں نیواں میرا مرشد اچا تے اساں اچیاں دے سنگ لائ
صدقے جاواں انہاں اچیاں کولوں جنہاں نیویاں نال نبھائ

( میں عاجز ہوں اپنے مرشد کی محبت میں جن کی نظر کرم سے میرے جیسوں کو بھی اعلی دماغوں کی صحبت میسر ہوئی)

Facebook Comments HS