لاہوتی۔ گیتوں کے رقص کا میلا



باتوں باتوں میں دس برس بیت گئے، ”وہ جو اکیلا چلا تھا جانب منزل مگر، لوگ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا“ ۔

”لاہوتی میلو“ اور ”دی اسکیچز بینڈ“ کے روح رواں سیف سمیجو جب ایک دہائی پہلے جامشورو کے پہاڑوں سے سرگوشیاں کرتے اور چہل قدمی سے اپنے اندر سے گنگناتے ”لاہوتی میلو“ کے سفر کی ابتدا کر رہا تھا، اس وقت ان کے علم میں یہ نہیں تھا کہ کل لوگوں کی بے پناہ محبت و چاہت، گیتوں کے متوالوں کی عقیدت اس بیج کو ہرا بھرا اور گھنا درخت بنا دے گی جہاں نہ فقط صوبہ سندھ یا پاکستان بلکہ پوری دنیا کے فنکار اپنے فن سے لوگوں کے دلوں کو جیت لیں گے۔

”بہت کٹھن ہے راستہ تھوڑی دور ساتھ چلو“ کی طرح سیف سمیجو نے اپنی ٹیم اور دوستوں کو اس سفر کا ہمسفر بنایا۔ لاہوتی میلو کے سفر کی باتیں جو محض چند دوستوں سے ہوئی وہ جامشورو کی فضاؤں سے گونجتی ہر اس لوگ تک پہنچی جسے موسیقی سے محبت ہے۔ اور پھر ”مشکلات اتنی بڑھی کہ آساں ہو گئی“ ۔ سیف سمیجو نے نہ فقط محسوس کروایا پر ہر دھڑکتی دل کو یہ احساس دلوایا کہ موسیقی سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے جہاں دل تو بہکتے ہیں پر دماغ بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔

جب یہ بات سمجھ میں آئی کہ لوگوں کے دل احساس سے کروٹ لے رہے ہیں اور دماغوں کے توجہ درکار ہے تو اس دن سے لاہوتی کا ہر ایونٹ کسی اس وقت کے حالات کے مطابق کے ”تھیم“ سے جوڑا گیا ہے اور ”پینل ڈسکشنز“ میں اس ٹاپک کی اہمیت، تجاویز اور حل پر بھی بات کی گئی۔ لاہوتی میلو کا ہر تہوار لاکھوں لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا اور اس میں ہوئی بات کو سوشل میڈیا اور ٹریڈیشنل میڈیا پر بھی بھرپور طریقے سے رکھا گیا۔

کہتے ہیں کہ موسیقی دماغ پر اس طرح اثر انداز ہوتی ہے کہ جس قسم کی موسیقی آپ سنتے ہیں وہ آپ کے سوچنے اور دنیا کو دیکھنے کے انداز کو بدلنی کی صلاحیت رکھتی ہے۔ لاہوتی میلہ پاکستان کا واحد موسیقی کا میلہ ہے جہاں پر ہزاروں لوگوں کے احساسات جڑے ہوئے ہیں۔ لاہوتی نے ہر سال ملک بھر سے (خاص کر کے غیر پسماندہ علاقوں سے ) نئے ٹیلنٹ کو متعارف کروایا ہے۔ پچھلے برس تو لاہوتی میلو کے منتظمین نے دو ایوینٹس کروائے اور اس سے ملنے والے ساری رقم سیلاب متاثرین کی مدد کے لیہ دی۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ایک آدمی چاہے وہ کتنا ہی بڑا فنکار ہو، اپنے نام شہرت و دولت سے جڑا ہوا ہو جب تک وہ اپنے سارے کام کو کسی ادارے کی شکل نہیں دیتا تب تک سسٹین ایبلٹی ایک سوالیہ نشان ہوتی ہے۔ سیف سمیجو نے بڑی محبت، جستجو اور سنجیدگی سے جو مشن دس سال پہلے شروع کیا تھا آج وہ مکمل ادارہ بن چکا ہے۔

سیف اپنی طبیعت میں بہت ہی قلندر مزاج کا بندہ ہے۔ وہ گھوم پھر کے بہترین ٹیلنٹ ہمارے سامنے لے آتا ہے۔ اس نے غیر پسماندہ علاقوں کے لوگوں کو خاص ترجیع دے کر انہیں ایک پلیٹ فارم دیا ہے اور لاکھوں لوگوں کے دلوں میں اپنی پہچان بنائی ہے۔ اس حقیقت کو بھی ہم نا آشنا نہیں کر سکتے کہ جب کیسٹ کلچر بیٹھ گیا اور ٹیکنالوجی نے اس کی جگہ لی اس بدلتے وقت سیف جیسے آرٹسٹ نے وقت کی تبدیلی کی اچھی طرح تول ناپ کی اور لاہوتی کا پلیٹ فارم جدت کو لے کر آگے بڑھا اور وہ لوگ جو کیسٹ کی دنیا کے بادشاہ تھے اور بدلتی دھارا میں بہت ہی پیچھے رہ گئے تھے انہیں بھی لاہوتی میں اسپیس ملا اور جدت کی بات سمجھ میں آئی۔

کوئی بھی کام آپ جب شروع کرتے ہیں چند ہی لوگ آپ کے خیال سے متفق ہو کر ساتھ دیتے ہیں۔ مجھے یاد ہے ؛ پہلے لاہوتی میلو انعقاد کرنے کے لیہ سیف کو کتنے درد جھیلنے پڑے، کیسے کیسے لوگوں سے ملنا پڑا، ”درد بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی“ ۔ کئی کہانیوں کے اندر کی کہانیاں سامنے آئے، خاص کر کے ”می ٹو تھیم“ پر جب فیسٹیول تھا، جن پر بھروسا کیا، لوگوں کو اسپیس دیا، ان کے کیس لڑے انہوں نے ہی دھوکے دیہ۔ نہ فقط یہ پر اس طرح کے کئی، سماجی، معاشی، رجعت پسندی، تعصب پرستی کے سلسلے آتے رہے پر سیف نے انہیں مسکراتے ہوئے جھیلا اور لاہوتی پر نہ فقط کبھی آنچ نہ آنے دی بلکہ دن بہ دن اسے نکھرنے دیا۔

سیف نے معاشرے کے مزاج کو فیض کے لفظوں میں اچھی طرح سے سمجھ لیا، ”چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے“ ۔ ہمارے معاشرے کا یہ مزاج ہے کہ ہر اچھے کام کے پیچھے لوگ پڑ جاتے ہیں، اور اس کی بنیادی دو وجوہات ہوتی ہیں یا منتظمین پسند نہیں ہوتے یا ہمیں بھی اس ایونٹ کا حصہ بناؤ۔ گر ہم اس ایونٹ کا حصہ نہیں تو یہ ایونٹ اچھا کیسے ہو سکتا ہے؟ پھر سوشل میڈیا ہمارا ہتھیار ہے اور ایونٹ کی برائیاں شروع، منتظمین پر لکھنا شروع۔

ہر سال ایونٹ میں اس طرح کے کئی فیس بک برگیڈ میدان میں اترتے ہیں یا اتارے جاتے ہیں۔ اوائلی دنوں میں تو سیف نے ایسے لوگوں کو سمجھانا بھی شروع کیا پر جب بات سمجھ میں آئی کہ ان کو ایونٹ سے نہیں اپنے ہونے اور نہ ہونے سے مطلب ہے پھر سیف کو بھگت کبیر کی بات سمجھ میں آ گئی کہ ”نندا ہماری جو کرے متر ہمارا سو ہی“ یا ”نندک میرے مت مرو، جیؤ آد جگاد“ ۔

اوشو (گرو رجنیش ) کہتے ہیں کہ ”موسیقی خود سے جوڑنے کے لیہ دھیان کا ایک راستہ ہے اور بہت ہی خوبصورت راستہ ہے۔ دھیان یا خاموشی بے آواز موسیقی کو سننے کا آرٹ ہے“ ۔ سنت کبیر کہتے ہیں، ”الفاظ کے بغیر موسیقی کا مطلب دماغ کو پیچھے چھوڑنا اور پھر آدمی کو دھیان کی طرف لے جانا ہے“ ۔ گرو رجنیش اور سنت کبیر کے لفظوں کو حقیقت میں تب سمجھا جب سیف سمیجو کی مدھر آواز کو سنا ”خود سے جدا ہو کر کس کو ڈھونڈ رہے ہو او پاگل کہاں خدا کو ڈھونڈ رہے ہو“ ۔

چھ اور سات مئی کو حیدرآباد کلب میں سجنے والوں لاہوتی میلو ہم سب کا ہے۔ موسیقی ہی انتہا پسندی کی سوچ کو ختم کر کے انسانیت کی طرف کھینچتی ہے۔ ”میں صوفی ہوں سرمستہ میرا کون پہچانے راستہ“ جب سیف یہ گیت گاتا ہے تب محسوس ہوتا ہے صوفی کا راستہ اس دور میں کتنا کٹھن اور دشوار ہو گیا ہے۔ اسے صرف وہی سمجھ سکتا ہے جو اس راستے پر چل پڑا ہو۔ سنت کبیر نے کہا ہے،

”میں میرو گھر جلایو اور بلیتو لیؤ ہاتھ،
جو کوئی جلائے گھر اپنا آئے ہمارے ساتھ ”۔

دس سال کے طویل سفر کی کہانی تو سیف سمیجو سنائے گا۔ پر اس کے ساتھ اس ایونٹ میں ملکی اور غیر ملکی آرٹسٹ کو سننے کا موقع ملے گا۔

مجھے امید ہے موسیقی سے محبت کرنے والے تمام انسانیت کے سفیر لوگ اس موسیقی کے تہوار کا حصہ بنیں گے اور جھومیں گے اور گائیں گے اور سیف سمیجو اور لاہوتی کی پوری ٹیم کو مبارکباد بھی دیں گے کہ اس گھٹن اور پریشانی کے حالات میں بھی دن رات محنت کر کے ایک شاندار ایونٹ سجایا ہے۔

Facebook Comments HS