تین ملکی یاترا اور سفید لفافہ

سفری دوستوں کے ساتھ بیٹھے بیٹھے باتوں ہی باتوں میں بات نکلی کہ دس پندرہ دنوں کے لیے کسی غیر ملکی یاترا پر نکلنا چاہیے، وقت اور منزل کا طے ہوا۔ موسم، معاشی، سماجی اور کام کے حالات دیکھ کر فیصلہ کیا کہ جولائی کا مہینہ گھومنے کے لیے ٹھیک رہے گا۔ کام کار سے بے فکر، آسودہ چار دوستوں کا کارواں بنا۔ یوں تو گروپ کی ریل گاڑی کے انجن ہیں پر باقی دوستوں کا کسی نہ کسی وجہ

Read more

سفرنامہ ”نیپالی نینھن“، بھیگی یادیں اور صحبت بلوچ

سفرنامہ ایک یادوں کا گلدستہ ہوتا ہے جس میں لکھاری کئی رنگ بھر کے اسے حسیں کر دیتا ہے۔ سفرنامے کو پڑھنے والا اس میں کھو جاتا ہے اور ان دیکھی وادیوں میں گھومتا پھرتا رہتا ہے، اسے نہ فقط اس علاقے کے سماجی، معاشی، ثقافتی، علمی و ادبی، تہذیب و تمدن، تاریخ کا علم مل جاتا ہے پر ساتھ ساتھ سفری ضروریات اور ضروری کاغذات سے بھی آشنا ہو جاتا ہے۔ صحبت بلوچ صاحب جو دادو شہر میں رہائش

Read more

سندھی سرائیکی سانجھ

آٹھ فروری کو ثقافت و سیاحت ڈپارٹمنٹ سندھ کی طرف سے آرٹس کونسل کراچی میں ”سندھی سرائیکی سانجھ“ کے نام سے پروگرام منعقد کیا گیا۔ سندھو ماتھری اور سرائیکی وسیب ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں، انہوں نے بہت کچھ لٹا کے بھی ”درد اور دریا“ کی شدت بھری گہرائی کا انتر کسی کو نہیں دیا ہے۔ دونوں کے اندر سے بہتی ہوئی نیا ان گنت کہانیوں کو جنم دیتی ہے۔ اس درد کے عمیق رشتے نے کئی افسانے

Read more

لاہوتی۔ گیتوں کے رقص کا میلا

باتوں باتوں میں دس برس بیت گئے، ”وہ جو اکیلا چلا تھا جانب منزل مگر، لوگ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا“ ۔ ”لاہوتی میلو“ اور ”دی اسکیچز بینڈ“ کے روح رواں سیف سمیجو جب ایک دہائی پہلے جامشورو کے پہاڑوں سے سرگوشیاں کرتے اور چہل قدمی سے اپنے اندر سے گنگناتے ”لاہوتی میلو“ کے سفر کی ابتدا کر رہا تھا، اس وقت ان کے علم میں یہ نہیں تھا کہ کل لوگوں کی بے پناہ محبت و چاہت، گیتوں

Read more

لاجک کے دیس کا رہواسی۔ رانومل ملانی

لفظ، لفظ سکھاتا ہے ؛ آدمی، آدمی بناتا ہے۔ میرے کانوں میں آج بھی میرے ایک محترم استاد کے الفاظ گونجتے رہتے ہیں، جو انہوں نے کالج کے دنوں میں کہے تھے۔ یوں تو لاکھوں اساتذہ اپنے فرائض دل و جان سے ادا کر رہے ہیں پر نہ تو کچھ کردار دماغوں کے ساتھ ساتھ دلوں پر بھی سحر طاری کر دیتے ہیں، ان کی کہی گئی باتوں کا اثر زندگی کے ہر موڑ پر رہنمائی کرتا ہے، ان کے

Read more

خود سے جو سامنا ہوا

اتنی گہما گہمی ہے کہ فرصت ہی نہیں ملی، نہ کبھی کام ہونا نہ کلام۔ کئی برس ہو گئے خود سے ملے ہوئے۔ وقت کا پرندہ کہیں رکتا ہی نہیں۔ یوں تو اس چھوٹے جیون نے کئی لمبے پل بتائے ہیں، محفلوں کی اڑان سے لے کر خاموشی کی قبر میں بھی بنا کفن کے دفن ہوئے ہیں، آنکھوں نے حسن کو سرمستی سے جھانکا بھی ہے اور کان تو اس قدر موسیقی کے الاپ میں دفن ہوئے ہیں کہ

Read more

میرے دوست! مسئلہ کدھر ہے؟

روزمرہ کی زندگی میں کئی نوجوانوں سے ملاقات ہوتی ہے۔ ہر کسی کو پروردگار نے بہت ساری خوبیوں اور خاصیتوں سے نوازا ہے۔ جیسا کہ دنیا کے سارے کوٹیشن حالات کے تناظر میں لکھے گئے ہیں۔ یوں ہی انسان کبھی اسی حالات کے ہاتھوں مجبور تو کبھی وہی حالات اس پر مہربان رہتے ہیں۔ پر ایک عادت جو اسی ٹیکنالوجی کے وقت کی پیدائش ہے اور نئی نسل اس عادت کو اپنا اٹوٹ حصہ بنا چکی ہے وہ ہے ہر

Read more

موسیقی کا تہوار۔ لاہوتی میلو

ڈیجیٹل دور کے سمندر میں جب سوچ کی نیا انتہا پسندی، اکیلا پن، انا کی دوڑ اور ان گنے اور گھنے سامان کی گٹھڑی باندھ کر حالات کی لہروں کے اتار چڑھاؤ میں بھتی جا رہی ہے۔ نوجوان نسل روزی روٹی کے چکروں میں اپنے وجود سے بھی دور منزل سے بے خبر بس سفر ہی سفر میں ہے۔ جیون کے درخت خالی ہاتھوں سے حسیں سوچوں کے دلدل میں چھپے سقراطوں پر پھولوں کے کفن کی پرساد چڑھا رہے

Read more

تعلیم کی چھٹی اور دوسری طرف سنگل نصاب میں ہندو مسلم نفرت

اس کرونا کی وبا نے کئی معجزے جیسے لوگ ہم سے چھینے۔ گلیوں، محلوں اور شہروں نے سناٹے کی چادر پہن لی پر نہ تو پھل پھول، پودے، پرندے، ندیاں اور پورا ماحول آلودگی سے کافی حد تک پاک و صاف رہا ہے۔ بڑھاپا، حالت کی کشیدگی، پیسے کی تنگی یا کرونا کی یکجا لہریں بہت ساری بہتی ندیوں کو موت کے خاموش سمندر میں لے ڈوبی ہیں اور روانی دن بہ دن گھری ہوتی جا رہی ہے۔ نہ جانے کتنے حسین پودے، خوشبودار گل بننے سے پہلے مرجھا جائیں گے اور نہ جانے کتنے خوشبودار گلوں کی کو ملتا گل ہو جائے گی۔ پر یہ یقیں ہے دھرتی کے جنگل میں جتنے بھی پرندے جیوت بچیں گے ان کی عمریں دراز ہوں گی۔

Read more

کرونا ناول نے سندھ کی تعلیمی پر کتنا اثر چھوڑا ہے؟

کرونا ناول کی وبا نے جیسے پوری دنیا کو نئے ڈھنگ سے زندگی گزارنے کی اک چنوتی دے دی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے یے جامع پالیسیاں، طویل منصوبے، تجارتی پلان سب کے سب جیسے بہت سفر کر کے آئے ہوں اور تھکان کی چادر تان کے سو رہے ہوں۔ فطرت کے حسن کو بچانے والے پیروکاروں کے چہروں پر مسکراہٹ کی بوندیں برس رہی ہیں۔ اور وہ سکون کے کروٹ لے کے کہتے ہیں ؛ صدیوں سے انسان نے

Read more

سوک سینس کہاں سے ملے گی؟

یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم نے مہذب درجہ رکھنے کے لیے بہت سارے اچھے اچھے معاشی، سماجی، اخلاقی قانون بنائے ہیں پر افسوس کی بات یے ہے کہ یہ صرف یا تو بھاری جلد والی کتابوں میں دکھائی دیتے ہیں اور اسے پڑھتے وقت ہم انڈرلائین کرتے ہیں یا جب مہذب گفتگو چل رہی ہو تو ہمارے پاس حوالہ دینے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ بیٹھے ہوئے لوگوں کو اندازہ ہو کہ پڑھے لکھے لوگ گفتگو میں

Read more

ماں دیوالی پر بلاول ہمارے لیے کیا لایا؟

کل بلاول بھٹو زرداری کا بڑا جلسہ تھرپارکر کے شہر اسلامکوٹ میں تھا۔ سوشل میڈیا پہ بڑا شور چل رہا تھا، اور پیپلزپارٹی سے جڑا ہر منتخب نمائندہ اپنے اپنے لوگوں میں جا کر، گاڑیاں، کھانے پینے کا سامان پہنچا کر زیادہ سے زیادہ لوگ لانے کی کوشش کر رہا تھا۔ تصویروں میں سے ایک تصویر دیکھی جو کہ گاؤں کے لوگوں کی تھی، وہ اپنے ثقافتی لباس میں ملبوس تھے، دہوتی باندھی ہوئی تھی اور سر پر پگڑی۔ بارش

Read more

یاد، ماضی عذاب ہے یا رب

اب تو جیسے دنوں پر احسان کر کے جی رہے ہیں، وقت نے سیاہ لباس پہن لیا ہے، اسی فیصد سے زیادہ وقت موبائیل لے جاتا ہے پھر بھی جب کبھی احساس کی آوازیں دُور سے بلاتی ہیں تو ماضی کے بیتے حسین لمحے فوٹو البم بن جاتے ہیں۔ کئی جانے پہچانے چہرے من کے بن میں بسے پنچھی کو گھنے درختوں تلے سلا دیتے ہیں۔ وہ نظر سے نظر کا ملنا، وہ ہجر کا سحر سے ملنا، ان کہی

Read more

آؤ نہ مارے دیس تھر

آنکھوں نے انگڑائی لے کر، کانوں پر گرجتی ”َٹپ ٹپِ“ کی آواز کا سہارا لے کے من کے بھیتر برسوں سے ساون کی آمد کے لئے بے چین مسافر کو تھپکی دی۔ بادل ٹوٹ کے برسے ہیں، ریت کے ٹیلے شرارتی بچوں کی طرح چہل مچل کر رہے ہیں۔ موسم تو بس محبوب کی نظر بن گیا ہے، نظر جو اٹھے تو ادا ہے، جھکے تو حیا ہے۔ دیکھے تو بلا ہے، چلے تو صبا ہے اور ملے تو بس

Read more

مٹھی مسمار ہو چکا ہے

سورج کے ہمراہ جیسے ہی آنکھ کھلی، ٹک ٹک کی آواز نے من کے بھیتر بے چینی سی پیدا کردی۔ ہاتھوں سے کروٹ لی اور آنکھوں نے انگڑائی لے کے سردی کی دھوپ کو جذب کیا۔ دروازے سے جھانکا تو پڑوسی اپنے ہی احاطے کو ہتھوڑا مار رہا تھا۔ یہ مزدور بچارا، ٹھیلا چلانے والا، چونی آٓٹھنی ملا کے دکان بنایا تھا۔ ایک نایاب حسرت تھی، گھر گھر کے چکر کاٹنے کے بجائے اپنے ہی گھر میں دکان بنا کے

Read more