منظروں کا جدید صورت گر
اک کتاب، اک خواب، اک چراغ کی خواہش کرنے والی/ والے کا چیلنج اپنے گرد و پیش کچھ سکون آور گھنٹوں کی طلب اور حصول ہے جو اب ہماری زندگیوں کا خاصہ نہیں رہا۔ صبح برقی آلۂ چشم کشا (الارم) سے لے کر دیر شب اس صوتی و سمعی بت طناز ( موبائل فون) کے ناز و انداز اور نخرے اٹھاتے اٹھاتے اہل دیر و عجم اس قابل کہاں رہ پاتے ہیں کہ کسی دلکش سرورق کی کتاب کو دیر تلک پڑھ کر اپنے سرہانے اس امید پیہم و پختہ کے ساتھ رکھ پائیں کہ کل صبح دوبارہ سطر سطر لطف اندوز ہوں گے
ان زمینوں کا مقدر اب شور اور شوریدگی کے سوا کچھ نہیں!
خوش بخت تھی کہ عمر بھر کتاب سے محبت رہی۔ جو طویل رفاقت میں بدل گئی۔ یہی شوق تدریستین دہائیوں تک حزر جاں رہا۔ پھر جامعہ کی قسمت بدلی اور ڈاکٹر شاہد صدیقی علم و ادب کی بہار جاں فزا لئے مشعل کتاب اور رہروان قلم کے جلو میں آن وارد ہوئے۔ اگلے چار سال یوں گزرے کہ چہار جانب علم و ادب کے کنج سبز تھے اور ہم جیسے پر شوق ہم رکاب۔
جامعہ کا ڈنکا بجا اور خوب بجا!
پرنم آنکھوں اور وارفتہ دلوں کے ساتھ ان ادبی محافل کے باسی گویا ”ہر چند کہیں تھے پہ نہیں تھے“ کے مصداق گویا خود فراموشی کی کیفیت سے گزر رہے تھے
انہی دنوں میں محترم اظہار الحق صاحب سے ملاقات ہوئی۔ پہلی ملاقات میں ہی شاعری، نثر، مقامی تاریخ کے سر تا پا سچے داعی اور ساتھ ہی ایک خود آشنا اہل قلم پایا۔ پنڈی گھیب، فتحجنگ اور مکھڈی حلوے کے ذکر نے بمع حفظ مراتب باہم گفتگو آسان کر دی اور یوں شاہد صاحب نے حسب میلان گروہ ادب کو وسعت آشنائی دی۔
فیس بک ( یک طرفہ) پہ کالم پڑھنے کا سلسلہ چل نکلا۔ اور یوں اظہار صاحب کے وسیع تر حلقہ ارادت کے بالواسطہ متاثرین میں شامل رہی۔ گزشتہ دو سحریاں ان کی عطا کردہ نثر کی زیارت گریمیں گزریں۔ دل چاہا کہ ایک کمنٹری لکھوں جو کچھ کہ ذہن کی سماعتوں میں جا رہا ہے۔
عاشق مست جلالی بظاہر کالموں کا کو لاج ہے، مجموعہ افکار ہے، فکرمند ذہن اور حزن گزیدہ دل کے ساتھ لکھنے والے اور خوابوں کی تعبیر جاننے والے کے تجربے کا نچوڑ ہے، بہت سوں کے لئے ”بہت کچھ ہے“
اظہار صاحب حق گو ہیں حق شناسی کے عمل سے پیہم گھڑے ہوئے۔ جس نے سنار بنگلہ کے گیتسن رکھے ہوں۔ جن کے پرکھوں نے اولاد نرینہ کی تربیت میں عربی فارسی فنون کی گھٹی کا ذائقہ پہلی شرط قرار دیا ہو وہی تو الفاظ کی ڈوری میں خوابوں کے رنگ برنگے دھاگے بننا جانتا ہے۔
ءگل و گلزار کے اورنگ ہمہ رنگ پہ یہ نغمہ و آہنگ
مرے جھنگ و تلہ گنگ کی بہتی ہوئی لے۔
طاہر جعفر کی اس سریلی نثر کا ٹکڑا، مٹی اور لوک رنگوں کی محبت کا راز، جو اظہار الحق صاحب بتدریج اور مسلسل افشا کرتے جاتے ہیں۔ چاہے عربی فارسی روایت کے نثری ملبوس میں، شعر کے بہانے یا دیہی وسیب کے لبادے میں۔
بے دریغ سچ کا گواہ صرف لکھا ہوا حرف ہے!
کہنے کو اظہار الحق صاحب اعلی سرکاری عہدیدار ہیں۔ عمر بھر حرمت حروف کے حق کو مدنظر رکھنے اور زندگی کے چکنے گھڑے سے نارسائی، بیوفائی اور خودنمائی کے سارے کس بل نکال پھینکنے میں گزر گئی۔ اب بلیک کافی کی مانند کسیلے قومی و ذاتی تجربوں کے سچ کو سہولت سے کشید کرتے ہیں اور اتنی ہی آسانی سے بیان بھی۔
میرے لئے وہ ایسے صورت گر ہیں جو اپنی زرخیز زمینوں پہ ہل چلانے کے خواب، سبزہ زاروں پہ دوڑتے سجیلے شہسواروں، بوڑھے رقاصوں اور ڈھول کی مست تھاپ پہ لہراتے بدنوں کی بھولی خوشبو کو اپنی تحریروں کے نمایاں عنوانات قرار دیتے ہیں۔ مٹی کے صدیوں پرانے قدیم تر ہوتے رشتوں سے جڑے ایک پرامن اور خوبصورت معاشرے کا نقشہ بناتے ہیں اور جدیدیت میں پنہاں نئے خدشات کا تجزیہ انہی قدیم مناظر کی سیر کرواتے سہولت سے یوں بیان کرتے ہیں کہ دل پھر اسی کوئے ملامت کا طلبگار ہونے لگتا ہے اور خوابوں کے نگر نئی اڑن طشتریوں سے آباد ہونے لگتے ہیں۔ جیسا کہ
جو مٹی پاؤں کے نیچے آتی رہتی ہے
کبھی ہو گی اس کی داد رسی، کوئی آئے گا۔

