سیاسی فیصلوں کی قیمت: خود کردہ را علاج نیست

ہر روز بار رومز میں ہی نہیں اب تو گلی محلے میں عوامی سطح پر سپریم کورٹ پر پھبتیاں کسی جا رہی ہیں۔ عدالتی نظام کی یہ تنزلی چند دنوں، ہفتوں، مہینوں میں نہیں آئی، اس میں برسوں لگے
وقت کرتا ہے پرورش برسوں حادثہ ایک دم نہیں ہوتا۔
اس کی بنیاد عدلیہ کا نظریہ ضرورت بنا۔ ماوراء دستور اقدام کو قانونی شیلٹر یہیں سے ملا۔ جس کے لیے آئین کو ری رائٹ کرنے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا گیا؟
پاکستان میں جمہوریت جمہور کی رائے دہی سے نہیں ”پس پردہ گٹھ جوڑ“ سے آتی رہی۔ ہمارے سیاستدان بھی ایک دو سرے کی ٹانگیں کھینچنے، مٹھائیاں بانٹنے اور مارشل لاؤں کے جواز اور عدم جواز پر عدلیہ کے فیصلوں کو آئین کی درست تعبیر اور غلط تعبیر میں الجھے رہے۔ ”کنگ پارٹی“ کے ذریعے غیر قانونی اقدامات کو پارلیمنٹ سے سندات بھی جاری کی جاتی رہی۔ عدالتوں میں ججز پی سی او کے تحت حلف اٹھاتے اور ”سنہری پردوں“ کے پیچھے ڈور ہلانے والوں کے ہاتھوں داشتہ بکار آید کے طور پر استعمال ہوتے رہے۔ آئین اور قانون کی من مانی تشریحات اور آئین ری رائٹ کروانے میں مصروف رہے۔ ذاتی مفادات کو قومی مفاد باور کراتے ہوئے ملک و قوم کے ساتھ کھلواڑ کھیلنے میں مصروف رہے۔
مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ تینوں ستونوں کا آئین میں دائرہ کار موجود ہے۔ مگر یہ تینوں ستون ایک دوسرے کے کام میں مداخلت کرتے رہے۔ جسٹس منیر کے نظریہ ضرورت سے شروع ہونے والا سلسلہ جسٹس افتخار چوہدری کے جوڈیشل ایکٹو ازم کہہ لیں یا جوڈیشل مارشل لاء سے ہوتا ہوا موجودہ سپرمیسی اور بالا دستی کی جنگ تک پہنچا۔ جوڈیشل ایکٹو ازم نے پارلیمنٹ کو ایک طرح سے مفلوج کر دیا عدلیہ نے پے در پے سیاسی فیصلے صادر کرنے شروع کر دیے۔ عوامی نمائندوں کو گھر بھیجنے کا جو کام پہلے اسٹیبلشمنٹ کرتی رہی وہ کام عدلیہ نے اپنے ذمہ لے لیا۔
وکلاء تحریک جو سپریم کورٹ، عدالتی آزادی اور خود مختاری کے لئے چلی تھی، وکلاء تنظیموں کی قربانیوں کا ثمر یہ ملا کہ سپریم کورٹ صرف چیف جسٹس تک محدود ہو گئی۔ کہتے ہیں ”خود کردہ را علاج نیست“ اپنے کیے کا کوئی علاج نہیں ہوتا۔ یہی رویہ اب سپریم کورٹ کے فیصلوں کو متنازع بنانے کا ذریعہ بن گیا ہے۔
گزشتہ کچھ مہینوں میں دیے جانے والے عدالتی فیصلے نقد و جرح کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ ایک مقدمے میں جو بینچ بنایا گیا اس سے کچھ ججز الگ ہو گئے اور بعض کو الگ کر دیا گیا۔ اختلافی نوٹسز میں ٹھوس وجوہات اور سنجیدہ قانونی نکات اٹھائے جانے کے بعد واضح طور پر کہا گیا کہ فیصلہ 4 / 3 کا تھا مگر چیف جسٹس نے اپنے ہم خیال ججوں کے ساتھ مل کر فیصلے کو 2 / 3 کا قراردیا اور ملک میں ایسی سیاسی ہلچل برپا کی گئی جس نے عدالت عظمی اور نظام عدل پر ایک سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
صوابدیدی اختیارات کے خوفناک استعمال نے اس کے تباہ کن اثرات نے ملکی سیاست، معاشرت اور معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور ملک انارکی کی طرف بڑھ رہا ہے مگر چیف جسٹس غلطی تسلیم کر نے کے بجائے اپنے کیے کو آئین سے تعبیر کر رہے ہیں۔
سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا اور ”ٹرکوں پر ٹرینڈز“ چل رہے ہیں وہ انتہائی قابل شرم ہیں۔
موجودہ ججز اپنے فیصلوں سے یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ سپریم کورٹ نے جوڈیشل مارشل لاء لگایا ہوا ہے۔ جب ملک کی سب سے بڑی عدالت کے ججز آرٹیکل 10، 25 اور 34 اور اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کر کے اپنی مرضی کو قانون قرار دیں اور چیف جسٹس یہ توجیح کریں کہ وہ آئین کی پاسداری اور ملک میں جمہوریت کے لئے یہ اقدام کر ر ہے ہیں تو پھر کہنا پڑے گا:
اتنا نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ بند قبا دیکھ
خود اگر اپنے ادارے میں مشاورت کا عمل دخل ججز کی تقرری سے بینچز کی تشکیل تک نہیں تو پھر
آئین کی پاسداری کہاں؟ آئین کے نام پر ذات کی پروٹیکشن کے لیے اپنے صوابدیدی اختیارات کا غیر آئینی اور بے دریغ استعمال سے یہ آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ
ہم وزیر اعظم کی قربانی نہیں دیں گے ’ (خواجہ آصف) ۔ ‘ چیف جسٹس کو بلا کر پوچھا جائے کہ انھوں نے ہمارا ریکارڈ کیوں مانگا ’ (شاہد خاقان عباسی) ۔ ‘ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہاؤس کی بالادستی پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں ہو گا ’ (سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف) ۔
پاکستان میں سیاست دانوں کے عدلیہ سے گلے تاریخ کا حصہ ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی، یوسف رضا گیلانی کی نا اہلی سے لے کر نواز شریف کی سزا تک پاکستانی تاریخ اور سیاست متنازع عدالتی فیصلوں سے بھرپور ہے جن کے اثرات کی بازگشت آج تک ایوانوں میں سنائی دیتی ہے۔
پارلیمنٹ اور عدلیہ کی محاذ آرائی کس حد تک غیر معمولی ہے، اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ عمران خان اور ان کی جماعت ایک ایسے چیف جسٹس کی حمایت میں ریلیاں نکالنے کا اعلان کر چکی ہے جن کو خود 15 رکنی سپریم کورٹ میں تقسیم اور اختلافات کا سامنا ہے۔
عدلیہ اور پارلیمان میں محاذ آرائی پنجاب میں الیکشن کے انعقاد پر ازخود نوٹس کے بعد شروع ہوئی۔ پہلے خود حکومتی جماعتوں نے سپریم کورٹ کے بینچ پر اعتراضات کیے تو بعد میں عدالتی بینچ میں شامل ججوں کے الگ ہونے پر سپریم کورٹ میں تقسیم واضح ہوئی۔
چیف جسٹس کے ازخود نوٹس اختیارات کو بنیاد بناتے ہوئے حکومت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل متعارف کروایا۔
جس پر قانونی شکل اختیار کرنے سے پہلے ہی سپریم کورٹ نے حکم امتناع سے عملدرآمد روک دیا جسے پارلیمنٹ نے اپنے آئینی اختیارات میں مداخلت قرار دیا۔
اسی دوران سوشل میڈیا پر موجودہ اور سابق چیف جسٹس کے متعلق مبینہ آڈیوز نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ سپیکر قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ کو خط لکھ کر پارلیمانی کارروائی میں عدالتی مداخلت پر شکوہ کیا تو سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر بل پر پارلیمنٹ میں ہونے والی بحث کا ریکارڈ طلب کر لیا۔
اس عدالتی ہدایت پر قومی اسمبلی میں باآواز بلند تنقید کی گئی اور سابق چیف جسٹس کے بیٹے کی مبینہ آڈیو کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جبکہ چیئرمین پبلک اکاوئنٹس کمیٹی نور عالم خان نے سپریم کورٹ کے ججوں کی تنخواہوں اور مراعات کی تفصیلات کا 10 سالہ ریکارڈ 16 مئی کو عدالت کے پرنسپل اکاونٹنگ افسر سے طلب کیا اور عدم پیشی پر وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا اعلان کیا۔
یہ تنازع ایسے فیصلے سے شروع ہوا جس میں چیف جسٹس نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔
ماہرین قانون کی رائے میں سپریم کورٹ کو ہی پیچھے ہٹنا پڑے گا۔ معاملہ سپریم کورٹ کی جانب سے الیکشن کی تاریخ دینے سے شروع ہوا تھا جس کے لیے الیکشن کمیشن نے نظر ثانی کی درخواست دائر کی ہے۔
اب چیف جسٹس کے پاس دو راستے ہیں، یا تو فیصلے پر نظر ثانی کر لیں یا فل کورٹ بنا لیں۔ ’
چیف جسٹس نے اب تک فل کورٹ اسی لیے نہیں بنایا کیونکہ سپریم کورٹ میں اختلافات ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے نظر ثانی کی درخواست نے چیف جسٹس کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر غور کریں اور اپنے کیے کا علاج ڈھونڈنے کے لیے ایسا فیصلہ دیں جس سے یہ تنازع ختم ہو۔

