کتاب: ”مذہب، سائنس اور نفسیات“: فلاح انسانیت کی جانب ایک اہم پیش رفت
جائزہ نگارہ : لبابہ نجمی
زیر مطالعہ کتاب ”مذہب، سائنس اور نفسیات“ جس کے چیدہ چیدہ آرٹیکل ہمیں اس ”ہم سب“ سائیٹ پر وفتا فوقتاً پڑھتے رہے اور اس کی بہت سے قارئین کی خواہش بھی رہی کہ جلد ہی مکمل کتاب اردو ترجمے کے ساتھ قارئین کے لیے شائع ہو۔ یہ کتاب جو دو اہم شخصیات پروفیسر محمد سہیل زبیری اور ڈاکٹر خالد سہیل کی باہم کاوش کا نتیجہ ہے، جو سائنس، نفسیات، ادب کی دنیا میں کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ بلکہ ہمیں یوں کہنا چاہیے کہ ڈاکٹر خالد سہیل فرد کو بحیثیت انسان اس کے اصل شرف سے آگاہ کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جس کا وہ حق دار ہے۔
جس کا ذکر میں ان کے کارہائے نمایاں بیان کرتے ہوئے آگے تحریر کروں گی۔ یہ کتاب جسے ادب کی کسی قدر روایتی جہت خطوط نگاری کو جدیدیت کے ساتھ ہم تک پہنچایا۔ روایتی خطوط نگاری کی تکنیک میں میں خطوط یک طرفہ تکنیک میں لکھے جاتے تھے یعنی مکتوب نگار کو مکتوب الیہ کی جانب سے جوابی خط کیا موصول ہوا، اس کا جواب ساتھ موجود نہ ہوتا مگر ان مصنفین نے خطوط میں مکالماتی انداز اپنا کر قاری کے لیے اسے قابل فہم
بنا دیا۔ اس کتاب پر مزید کوئی تمہید باندھے جانے سے پیشتر کتاب کے مندرجات پیش نظر کیے جانا ضروری ہیں۔
حصہ اول: محمد سہیل زبیری کے سوانحی خطوط
حصہ دوم: خالد سہیل کے سوانحی خطوط
حصہ سوم: سہیل زبیری کے سائنسی اور فلسفیانہ خطوط
حصہ چہارم : خالد سہیل کے نفسیاتی اور فلسفیانہ خطوط
حصہ پنجم: پاکستان اور امن کے معمار
کتاب کے دو ابواب سوانحی خطوط پر مشتمل ہیں۔ جن میں ان صاحبان کی زندگی کی سرگزشت ہے۔ دونوں اشخاص کی نمایاں مقام تک پہنچنے کے لیے زندگی جد و جہد اور در جدوجہد ہے۔ ڈاکٹر سہیل زبیری نے اپنی علم طبعیات میں پی ایچ ڈی کی تعلیم کے لیے اس وقت تک پاکستان میں کسی بھی یونی ورسٹی میں اس وقت 1974 ءتک اس کی سہولت موجود نہیں تھی۔ اس لیے گریجویشن کے بعد پی ایچ ڈی پروگرام کے لیے بیرون ملک کا سفر ضروری تھا۔ جس کے لیے آپ نے امریکہ کا سفر طے کیا مگر یہاں کی ثقافت اور رہن سہن سے متاثر ہوئے بنا آپ نے اپنی تعلیم پر توجہ برقرار رکھی۔ آپ استاد کے اس کردار کو بہت واضح کرتے ہیں کہ اتالیق کا کام صرف طلباء کو معلومات دینا نہیں بلکہ کردار سازی میں جب تک معلم اپنا کردار شامل اور ثابت نہ کرے طلباء کی شخصیت کی تعمیر ادھوری رہے گی۔
ڈاکٹر صاحب نے اپنے پی ایچ ڈی کے لیے ”راچسٹر یونی ورسٹی“ کا انتخاب کر لیا لیکن یہ موضوع ”کوانٹم آپٹکس“ ایک دشوار اور متنازعہ تھا۔ جسے ڈاکٹر سہیل زبیری نے کامیابی سے مکمل کیا۔ جناب زبیری صاحب نے لیزر فزکس اور کو آنٹم آپٹکس پر 400 سے زائد مضامین تحریر کیے۔ اس کتاب کے توسط سے ہم طبیعیات اور مابعد الطبیعیات کے نظریے کو بھی باآسانی سمجھ سکیں گے۔
کتاب کے دوسرے مصنف ڈاکٹر خالد سہیل جن کی زندگی اپنے بچپن سے ہی کٹھن مراحل سے عبارت ہے۔ جس کا آغاز آپ کے والد کے طویل ذہنی عارضہ سے ہوتا ہے۔ اس بارے میں ڈاکٹر سہیل زبیری کے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہتے ہیں۔
سہیل زبیری:۔ آپ اکثر اپنے والد کی بیماری کا تذکرہ کرتے ہیں، جس نے آپ کی زندگی پر دیر پا اثرات مرتب کیے۔ ان کی بیماری کیسے شروع ہوئی اور اس بیماری نے کس طرح ان کی آئندہ زندگی بدل کر رکھ دی؟ ایک نفسیات دان بننے کے لیے، آپ کے فیصلے کے محرکات کیا تھے؟
خالد سہیل:۔ ہر صبح جب اپنے مریضوں کو دیکھنے کے لیے کلینک کی طرف روانہ ہوتا ہوں تو میرا دل تشکر سے لبریز ہوتا ہے۔ مجھے اپنے کام سے عشق ہے اسی لیے میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ میں نے زندگی میں ایک دن بھی کام نہیں کیا۔ جب میں نوجوان تھا تو میں سوچتا تھا کہ میں نفسیات دان بنوں۔ میرا گرین زون سائیکو تھراپی کلینک، اسی خواب کی تعبیر ہے۔ میری عمر دس سال تھی، جب میرے والد عبد الباسط، ایک ذہنی بحران کا شکار تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میرے والد اس کیفیت میں رات کو تاروں سے باتیں کرتے تھے اور دن کے وقت ایک ہی جگہ پر کھڑے گھنٹوں خلا کو گھورتے۔ وہ دن میں درجنوں گلاس پانی پی جاتے اور پھر انھیں با ر بار واش روم جانا پڑتا۔ لیکن کسی بھی روحانی معالج اور نفسیات دان سے فائدہ نہ ہوسکا۔ ڈاکٹر صاحب کا انسان دوست ماہر نفسیات بننا، جن کا دل پوری انسانیت سے بلا کسی امتیاز محبت سے سرشار ہے، اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
حصہ چہارم با عنوان ”خالد سہیل کے نفسیاتی اور فلسفیانہ خطوط“ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ جس میں سیگمنڈ فرائیڈ کے نظریات پر نہایت مفصل اور سیر حاصل معلومات فراہم کرتے ہیں۔ سیگمنڈ فرائڈ سے ڈاکٹر صاحب کے متاثر ہونے کی وجوہات بھی بیان کی گئی ہیں۔ سہیل زبیری کے اس سوال پر کہ سیگمنڈ فرائڈ نے ایسے کیا نئے نظریات پیش کیے، جو ان کی وفات کے 100، سو سال بعد بھی زندہ و کار آمد ہیں؟
ڈاکٹر سہیل نے فرائیڈ کی تحلیل نفسی اور سائیکو تھراپی کی تھیوریز کو اس سوانح میں شامل کیا ہے۔ اس حصہ میں انسانی شخصیت کے پانچ رخی پہلو بڑی فصاحت کے ساتھ ایگو، سپر ایگو، کانشیئس، پری کانشیئس اور ان کانشیئس جیسی اصطلاحات کی وضاحت عام فہم انداز میں کی گئی ہے۔ مزید یہ کہ وہ کیا (Iddبیان کیے گئے۔ جن میں اڈ
حالات و واقعات ہوتے ہیں جس میں انسانی ذہن میں کس مرحلے پر خلل واقع ہو جائے۔ اس کا بقیہ حصہ نفسیات کے حوالے سے مکاتب فکر کے نظریات کو شامل کرتا ہے۔
ڈاکٹر صاحب اس کے بعد اپنے گرین زون فلسفے اور طریق علاج کو متعارف کرواتے ہیں۔ یقیناً کتاب کے اس پارے کو خصوصاً خطے کے افراد کے لیے مریض کی علامات، وجوہات اور گرین زون تھراپی کے طریقہ علاج کا پڑھنا ضروری ہے تاکہ ہمارا پاکستانی سماج کسی بھی ذہنی عارضے میں مبتلا افراد کو نیم پاگل، پاگل اور مخبوط الحواس ہونے کا
سرٹیفکیٹ تھما دینے سے گریز کریں۔ گرین زون صحت مرکز یقیناً اس دور افتادہ میں ڈاکٹر خالد سہیل کی انسانیت کے لیے گراں قدر خدمت ہے جہاں مریض بنا ادویات سائیکو تھراپی اور گرین زون میں خود کو احساس توقیری محسوس کرتے ہوئے ذہن کی جان لیوا بیماریوں سے نجات پاتے ہیں جن کا سمجھا جانا ہمارے معاشرے میں دشوار ہے۔ ان افراد کی حالت اس شعر سے ظاہر ہے کہ:
ابن مریم ہوا کرے کوئی
میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
کتاب کے حصہ پنجم میں تارکین وطن مین نسل نو کے مسائل اور ملک کے باشندوں کے مسائل کی نشان دہی کے ساتھ حل کے لیے اقدامات تحریر کیے گئے ہیں۔ جن کو پڑھ کر ان پر مزید سوالات قائم کیے جانا ناگزیر ہیں۔ اختتامی حصہ امن کے معمار کے نام ہے۔ جہاں امن دنیا اور مشرقی خطے کی ضرورت کے نام ہے جسے بد امنی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ مختصر یہ کہ آپ جب کسی بھی اپنی ذہنی الجھن کا ذکر ڈاکٹر صاحب سے کریں آپ فوری طور پر اس کا کوئی مثبت حل پائیں گے۔ آپ کی شخصیت ایک مسیحا کی ہے جن کو خراج تحسین اس شعر سے پیش کیا جاسکتا ہے :
جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے وہ لوگ
آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں مگر ایسے بھی ہیں
وہ سوالات جو اس کتاب کے کچھ متن پر سوالات جو میری طرح اور قارئین کے ذہن میں ابھر سکتے ہیں :۔
جیسا کہ سیگمنڈ فرائیڈ نارمل فرد کی تعریف بیان کرتے ہیں کہ نارمل فرد وہ ہے جو محبت اور کام دونوں کامیابی سے لے کر چل سکے، کیا یہ ممکن ہے کہ فرد محبت اور کام میں توازن قائم کرسکے؟
خواب ہنوز ایک معمہ ہے؟ کیا خواب انسان کی زندگی سے کوئی رابطہ قائم کرسکیں گے یا یہ محض ہماری گہری نیند کا حصہ ہی ہوں گے؟
اس کتاب میں لڑکیوں میں موجود ذہنی مرض الیکٹرا کمپلیکس ہے، اس مرض کا ذکر لڑکوں کے حوالے سے تو واضح ہے لیکن لڑکیوں کے حوالے سے وضاحت کی ضرورت ہے۔
گرین زون فلسفہ، کے بارے میں یہ بتایا گیا کہ مرض کا شکار افراد خود کو ریڈ زون میں رکھنے کی کوشش کریں لیکن اگر حالات اس طرح سازگار نہ ہو سکیں یعنی ایسا ماحول میسر نہ آ سکے تو یہ فلسفہ کس طرح کام کرسکے گا؟
اس کتاب کے کل 208 صفحات ہیں اور بیشتر خطوط کے ذریعے کی گئی گفتگو مدلل موضوعات پر کی گئی ہے مگر مترجم نعیم اشرف صاحب جو فکشن ٹرانسلیشن میں ایک معتبر حوالہ ہیں، آپ کا اس کتاب کی اہمیت، قاری تک زبان کے حوالے سے ابلاغی ترسیل ممکن بنانے میں ایک اہم کردار ہے۔ جن کے ترجمے نے قاری کو ایک ایسی کتاب سے مستفید کیا جو انگریزی زبان میں شائع ہونے کے سبب شاید سب کے لیے قابل فہم نہ ہوتی اور اگر یہ نہ بھی ہو، تب بھی اس کتاب کے پیچیدہ موضوعات مترجم نے اس قدر سلیس ترجمہ کیے ہیں کہ نہ بوجھل پن محسوس ہوتا ہے نہ کہیں یہ احساس کے یہ ترجمہ کی گئی ہے کیوں کہ اکثر کتب کے تراجم متن کے مفہوم کو تبدیل کر دیتے ہیں لیکن آپ جب اس جائزے کو پڑھ کر کتاب کی جانب مبذول ہوں گے تو اس کے مزید گوشوں سے واقف ہو سکیں گے۔ جس کا سہرا جناب نعیم اشرف صاحب کو جاتا ہے۔


