فیصلہ ہمارا چلے گا


ہر انسان کے اندر خواہشات کی نمو کا ایک سلسلہ دراز موجزن رہتا ہے۔ کچھ کا اظہار ممکن ہو پاتا ہے تو بعض کی تکمیل۔ ہزاروں لاکھوں خواہشیں وہ ہیں جن پر دم تو نکلتا ہے لیکن ان کو لب اظہار عطا نہیں ہوتا تکمیل تو بس ایک خواب ہی رہتا ہے۔ غالب بھی کہتے پائے گئے۔ /ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے /بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے /

خواہشات کا پالنا، معاشرتی امن و مان کو نقصان پہنچائے بغیر ان کی تکمیل کی سعی کرنا کوئی جرم نہیں بلکہ اسی سے ہم آگے بڑھتے ہیں۔ اور اپنے مقاصد کی منازل طے کرتے ہیں۔ لیکن جب کچھ خواہشات کی تکمیل نقص امن کا باعث ہو۔ شخصی آزادی کو سلب کرنے والی ہو تو پھر بحیثیت معاشرہ یہ ذمہ داری بن جاتی ہے کہ ایسی سوچ کو لگام دینے کے لئے متحرک ہوا جائے۔ ورنہ اگر آج کسی دوسرے کی باری پر نہال ہیں تو کل اپنی باری پر حیران نہ ہوں۔ کوئی مدد کو نہیں آئے گا۔

آج کے دور بے ہنراں میں بدقسمتی یہ در آئی ہے کہ خود آگے بڑھنے کے بجائے دوسرے کو پیچھے کھینچنے کی عادت رواج پکڑ گئی ہے۔ دوسروں کے معاملات کو سدھارنے کا جنون زیادہ اور اپنی طرف توجہ کم ہے۔

معاشرہ میں بددیانتی، کم ناپ تول، ملاوٹ، جھوٹ، فساد، قتل و غارت، معصوم بچیوں کی عصمت دری، سکولوں کی ابتر حالت، حصول انصاف کی خاطر ایوان عدل کے سالوں چکر لگانے والوں کی کسمپرسی۔ اور وہ سینکڑوں ہزاروں مسائل جن کی فہرست طویل ہے، ہماری ترجیح نہیں۔ ان کو سدھارنے کی خواہش جنم نہیں لیتی۔ ہاں مگر ایک مسئلہ بڑا اہم آن پڑا ہے۔ خبر ہے کہ کراچی کے ایک ستتر سالہ بوڑھے سپریم کورٹ کے سینئر وکیل سید علی احمد طارق نے اپنے نام کے ساتھ ”سید“ لکھ دیا تو اصلاح معاشرہ کے خود ساختہ نقیب چشم زدن میں متحرک ہو کر اٹھے اور اس بڈھے کو تھانے پہنچا کر دم لیا۔

کوئی وقت تھا کہ اصول پسند دشمن بھی بعض اقدار کا خیال رکھا کرتے تھے۔ رواداری تو کب کی مرحوم ہو چکی اب تو انسانیت کا بھی جنازہ اٹھ گیا۔ کسی سے علم و عمل میں مقابلہ ممکن نہیں تو نام پر حملہ آور ہو جاؤ۔ سید لکھنے پر تھانے لے چلو۔

تاریخ پر ایک طائرانہ نظر بھی ڈالیں تو یہ خواہش کوئی نئی نہیں۔ ہر دور میں جبر سے فرد کی آزادی محدود کرنے والے طالع آزما موجود رہے ہیں۔ اپنی فکری کمزوری اور بصیرت کی کجیوں کو دور کرنے کے بجائے دوسروں پر قدغن کے پہرے بٹھانے میں ہی مصروف رہے۔

میں اگر سید ہوں تو ہوں۔ میں اگر احمد ہوں تو ہوں۔ کسی کے کہنے سے، ”سید“ نہ لکھنے پر مجبور کرنے سے نسبت تو بدل نہیں جائے گی۔ تاریخ سے سبق نہ لینے والوں کا حافظہ کمزور ہو سکتا ہے لیکن تاریخ کا حافظہ کمزور نہیں پڑا کرتا۔ انجام بھی وہی سامنے ہے جو پہلے ہوتا آیا ہے۔

ماضی میں بھی صاحبان اختیار کی خواہشات یہی تھیں کہ نام ہم رکھیں گے۔ فیصلے ہم کریں گے۔ حکم ہمارا چلے گا۔ معزز کون ہے اور کون ذلیل، سب ہماری مرضی سے طے ہو گا۔ پر نہ فیصلے رہے نہ حکم باقی رہے۔ نہ جبہ و دستار سلامت رہے نہ جاہ و حشمت و جلال کو بقا ملی۔ آپ بھی کوشش کر لیجیے، انجام مگر مختلف نہیں ہو گا۔

Facebook Comments HS