کیا سندھ میں بھٹو اب بھی زندہ ہے؟


پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں دعوی ’کیا ہے کہ ”ہمیں اب بھٹو کی وجہ سے نہیں مگر کام کی وجہ سے ووٹ ملتے ہیں!“ زمینی حقائق کو پیش نظر رکھا جائے تو زرداری صاحب کی اس بات سے مکمل اتفاق کرنا ذرہ مشکل ہے کیونکہ پیپلز پارٹی کو ووٹ ملنے اور 15 سال سے مسلسل سندھ میں حکومت میں رہ کر نیا رکارڈ قائم کرنے کی وجہ صرف ان کی حکومتی کارکردگی نہیں ہو سکتی۔ 15 سال کے دوران کیے گئے صحت، تعلیم، انفرا اسٹرکچر، آبپاشی، ٹرانسپورٹ، زراعت، میرٹ پہ ملازمتیں دینے اور دیگر شعبوں میں کیے گئے ترقیاتی کام ضرور کیے ہیں مگر اس سال کے 267 ارب روپے کے سندھ کے ترقیاتی بجٹ میں سے صرف 126 ارب روپے خرچ کیے گئے ہیں، پچھلے 15 سال سے یہ ہی ہو رہا ہے کہ آدھے سے زیادہ بجٹ اس پارٹی کی حکومتوں سے کبھی بھی استعمال نہیں ہو سکا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ سندھ کی جو ترقی ہوئی ہے وہ اس سے دگنی ہو سکتی تھی اگر حکومت اچھی ہوتی۔

19 ویں صدی میں سندھ کا دورہ کرنے والے انگریز لکھاریوں نے بھی لکھا ہے کہ ”سندھ وہ دھرتی ہے جہاں صدیوں تک کچھ نہیں بدلتا!“ اور ابھی تک پورے ملک میں یہ عام تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ سیاسی طور پر نصف صدی سے بھی زیادہ عرصے سے سندھ بظاہر ذوالفقار علی بھٹو کی کرشماتی شخصیت کے سحر میں ڈوبا ہوا ہے اور تصور کیا جاتا ہے کہ دیہی سندھ کے لوگ ابھی تک پیپلز پارٹی کو صرف بھٹو کے نام پہ ووٹ دے رہے ہیں، یہ تاثر سو فیصد غلط بھی نہیں۔ بھٹو صاحب کے نام پہ 1988 اور 1990 کی دہائی کے شروع میں خوب ووٹ ملے تھے۔ ان پہلے ایک دو انتخابات کے نتائج کی روشنی میں اس وقت عام کہا جاتا تھا کہ پیپلز پارٹی کی ٹکٹ اگر بجلی کے کھمبے کو جاری کی جائے تو بجلی کا وہ کھمبا بھی جیت جائے گا۔

اس وقت یہ بات درست تھی، یہ ہی وجہ تھی اس وقت سندھ کے بڑے بڑے سردار اور الیکٹیبل بھوتار پیپلز پارٹی کے ٹکٹ ہولڈرز سے بری طرح ہار جاتے تھے اور کئی بااثر بھوتار بھی پارٹی کی ٹکٹیں حاصل کرنے کے لیے خود جوق در جوق چل کر 70 کلفٹن آتے اور محترمہ بینظیر بھٹو کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوششیں کرتے نظر آتے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو جیسی قدآور شخصیات کی جان کی قربانیوں کی بدولت ملنے والا ووٹ وقت گزرنے کے ساتھ کم ضرور ہوا ہے لیکن مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے۔

دسمبر 2007 میں بینظیر کے بہیمانہ قتل کے بعد پیپلز پارٹی کو پورے ملک میں ایک بار پھر ہمدردی کا ووٹ ملا تو اس کے بعد زرداری صاحب نے اپنی مخصوص مفاہمتی حکمت عملی اختیار کی جس کے نتیجے میں پارٹی نے وفاق میں مخلوط حکومت بنائی جس نے ملکی تاریخ میں پہلی بار اپنی 5 سالہ مدت پوری کی یہ اور بات ہے ان کے پہلے وزیراعظم گیلانی عدالت سے نااہل ہو گئے تھے اور پرویز اشرف کو نیا وزیراعظم لگایا گیا تھا اور زرداری صاحب خود صدر مملکت منتخب ہوئے، یہاں صرف سندھ کا احاطہ کر رہے ہیں طوالت سے بچنے کے لیے باقی صوبوں، اور آزاد کشمیر کو چھوڑ دیتے ہیں۔ پارٹی نے سندھ میں بھی 12 سال بعد اپنی حکومت قائم کی جو تسلسل سے چل رہی ہے اور اپنی تیسری مدت مکمل کرنے والی ہے۔ اس میں زرداری صاحب کی مفاہمتی حکمت عملی کا بھی دخل ہے جس کے ذریعے کچھ دو ، کچھ لو کا نسخہ پارٹی کو ووٹ دلانے میں ایک حد تک مددگار ثابت ہو رہا ہے۔

پارٹی کو ووٹ ملنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سندھ کی سطح پر اس کی متبادل قوتوں کا اپنے آپ کو حقیقی متبادل ثابت کرنے کے لیے فعال سیاسی کردار ادا کرنے کی بجائے صرف اسٹیبلشمنٹ پہ تکیہ کرنے سے پارٹی کو سندھ کا سیاسی میدان بہت حد تک خالی مل جاتا ہے۔ سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والی ایم کیو ایم سمیت تمام پی پی مخالف پارٹیاں 1985 سے لے کر بینظیر بھٹو کی شہادت کے سال 2007 تک 22 سال میں سے پورے 17 سال ترتیب وار غوث علی شاہ، جام صادق علی، مظفر حسین شاہ، لیاقت علی جتوئی، علی محمد مہر سے لے کر ارباب غلام رحیم کی سربراہی میں بننے والی چوں چوں کا مربہ سندھ حکومتوں کا حصہ تھیں اور اس عرصے کے دوران انتخابات کرانے کے لیے آنے والی تمام نگران حکومتوں میں بھی اکثریت ان ہی پارٹیوں کے لوگوں کی ہوتی تھی اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار کی بجائے واضح طور پر ”جانبدار“ تھی۔

اقتدار کی خالی ہونے والی کرسیاں بھرنے کے لیے پارٹی کے متبادل ہونے کے دعویداروں کو ایک طرح سے ہمیشہ گھر سے بلا کر سندھ کے اقتدار کی کرسیوں پہ بٹھاتی رہی یا پھر اقتدار پلیٹ میں رکھ کر پیش کرتی رہی، ان مخلوط حکومتوں میں شامل زعماء کی اکثریت کا نہ کوئی خاص نظریہ تھا، نہ سیاسی پارٹی، نہ کوئی رہنما، نہ سیاسی جدوجہد یا سیاسی رکارڈ تھا۔ شہری سندھ کے لوگوں کی منظم سیاسی پارٹی ایم کیو ایم تھی وہ دیہی سندھ والوں کے مقابلے میں تربیت یافتہ بھی تھے مگر ان کی اصول پسندی کا یہ عالم تھا کہ مسلم لیگ کی سندھ حکومت کے ساتھ اقتدار سے باہر نکل کر ، آنے والی پی پی کی حکومت کے ساتھ اگلے دن پھر اقتدار میں شامل ہو جاتے!

سندھ میں یہ مشق پورے 22 سال چلتی رہی، ”جانبداروں“ کے مرہون منت بار بار اقتدار میں آنے والے سندھ کے اس سیاسی کیڈر کے سب لوگ سمجھتے تھے یہ سب ہمیشہ کے لیے ایسے ہی چلتا رہے گا مگر بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پارٹی کی باگ ڈور زرداری صاحب کے ہاتھ میں آنے کے بعد انہوں محترمہ بینظیر بھٹو والی مفاہمتی حکمت عملی کو بالائے طاق رکھ کر اپنی ہاتھ جوڑ والی مفاہمتی حکمت عملی اختیار کی جو مفاہمتی سے زیادہ مصالحتی تھی اور انہوں نے پارٹی کے ان کے متعلق مشہور نعرے ”ایک زرداری، سب پہ بھاری“ میں ترمیم کر کے ”ایک زرداری، سب سے یاری“ کروا دیا، اپنی نئی مفاہمتی حکمت عملی اختیار کرنے کے بعد ان کے لیے پورے ملک سمیت سندھ میں اقتدار کے حصول اور اس کو تسلسل سے قائم رکھنے کے لیے کسی کے ساتھ مذاکرات خواہ لین دین کے لیے کسی بھی حد تک جانا آسان بن گیا تھا تب سے سندھ میں اقتدار کا کھیل اور اس کے اصول تبدیل ہو گئے ہیں۔

آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کی قیادت والی اس پیپلز پارٹی کو سندھ میں اکثریت سے ووٹ ملنے کی جو سب سے بڑی وجہ محسوس ہوتی ہے وہ پورے سندھ اور خاص طور پر کراچی شہر پر ملک کے باقی صوبوں سے آبادی کے شدید دباؤ کے نتیجے میں سندھیوں کا سندھ میں اقلیت میں تبدیل ہونے اور سندھ کی تقسیم یا کراچی کی علیحدگی کا خوف ہے جس نے سندھیوں کو لسانی اور ثقافتی طور پر بہت جذباتی بنایا ہوا ہے، اس کی وجہ سے سندھ کے عوام اس معاملہ میں ملک کی کسی اور سیاسی پارٹی پہ ٹرسٹ نہیں کرتے اور پیپلز پارٹی کی کوتاہیوں کو نظر انداز کر کے بھی اس پارٹی کے جھنڈے تلے متحد ہیں اور اسی کو مسلسل ووٹ دے رہے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments