رام سنگھ کی رام کہانی
میں نے رام سنگھ سے ایک دو جملے 1947 کے فسادات کے آنکھوں دیکھے حال کے بارے میں کمیونٹی سنٹر میں ہم بزرگوں کی محفل میں سن رکھے تھے۔ جستجو پروان چڑھی کہ ایک غیر مسلم سے پوچھا جائے کہ اس نے کیا دیکھا اور اس پہ کیا بیتی۔ میں نے رام سنگھ سے اس کا فون نمبر لیا اور کچھ دنوں کے بعد اس کے گھر پہنچ گیا۔
رام سنگھ نے دروازہ کھولا تو میں اس کی بیٹھک میں کرسی پہ بیٹھ گیا۔ رام سنگھ اس گھر میں بیوی کے اسپتال منتقل ہو جانے اور وفات کے بعد بیس سال سے اکیلا رہ رہا ہے اور کمرے کی حالت سے لگتا تھا کہ اسی کمرے میں ہی سارا وقت گزارتا ہے، یہیں سوتا ہے اور اسی کو اپنا کتب خانہ بنایا ہوا ہے۔ کمرے کی فضا قدرے کثیف تھی اور اندھیرا بھی کافی تھا۔ میرے کہنے پہ اس نے تھوڑی کھڑکی کھولی اور بتی جلائی۔
دو چار رسمی باتوں کے بعد میں نے کاپی اور قلم نکالا اور آڈیو ریکارڈنگ شروع کر دی۔
’رام سنگھ، تم کب پیدا ہوئے؟‘
سنہ 1940
’کہاں پیدا ہوئے؟‘
’چنما گاؤں، تحصیل جگراؤں، ضلع لدھیانہ، بھارتی پنجاب میں۔
’پیدائشی مذہب کیا تھا؟‘
’میں سکھ خاندان میں پیدا ہوا اور ایک سکھ مذہب کے پیروکار کی حیثیت سے ہی پرورش پائی۔‘
’تمہارے گاؤں میں دوسرے مذاہب کے لوگ کتنے تھے؟‘
’تقریباً پچاس فیصد سکھ، پچیس فیصد ہندو اور پچیس فیصد مسلمان۔‘
’دنگے فساد سے پہلے گاؤں کا ماحول کیسا تھا؟‘
’بہت اچھا! سب لوگ مل جل کر رہتے تھے، ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں برابر کے شریک ہوتے تھے۔ گاؤں میں ایک مسجد بھی تھی لیکن اس وقت کوئی گردوارہ نہیں تھا۔‘
’اسکول کیسا تھا؟‘
رام سنگھ کچھ کھو سا گیا۔ ’اسکول بہت اچھا تھا۔ ہمارے استادوں میں مسلمان اور ہندو بھی تھے۔ یہ ایک پرائمری اسکول تھا جو میرے گھر سے صرف سو میٹر دور ہو گا۔ بچے بلا تفریق مذہب ایک دوسرے کے ساتھ کھیلتے اور دوست بنتے، ایک دوسرے کے گھروں میں آتے جاتے۔ ‘
’بٹوارے کے متعلق دنگے فساد کے کیا واقعات دیکھے؟‘
’پندرہ اگست 1947 کی بات تھی۔ میں اپنے اسکول میں استاد محمد گلزار صاحب کی کلاس میں تھا کہ باہر سے نعروں کی آوازیں آنے لگیں۔ ‘ بن کے رہے گا پاکستان ’۔ تھوڑی دیر بعد دوسری طرح کے نعروں کی آوازیں آنے لگیں‘ ایک رہے گا ہندوستان ’۔ نعروں کی آوازوں میں شدت آ گئی تھی۔ ہم سب اسکول کے اندر سہمے ہوئے تھے۔
پھر لڑائی کی آوازیں آنے لگ گئیں، ڈنڈوں اور کرپانوں کی آوازیں، زخمیوں کے کراہنے کی خوفناک صدائیں۔ ہم سب اسکول کے اندر تھر تھر کانپ رہے تھے۔ بس سب بچے اپنے اپنے گھروں کو جانا چاہتے تھے۔ اساتذہ بھی پریشان تھے کہ اس صورتحال سے کیسے نمٹا جائے۔ میں اس وقت تیسری جماعت میں اردو کی کلاس میں تھا۔
اچانک محمد گلزار صاحب نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اسکول سے باہر لے آئے۔ باہر جو حال میں نے دیکھا تو مجھے لگا کہ میرا سارے اعضاء منہ کے ذریعے باہر نکل آئیں گے، گلی لاشوں اور زخمیوں سے اٹی پڑی تھی، گلی میں خون اس طرح بہا ہوا تھا جیسے بادلوں نے پانی کے بجائے خون برسایا تھا۔ میں چیخیں مار مار کر رونا چاہتا تھا لیکن وحشت کی وجہ سے گنگ ہو چکا تھا۔ گلزار صاحب نے مجھے کھینچا اور میں خوف کے مارے ان سے چپک گیا۔
جلدی جلدی انہوں نے لاشوں سے بچتے بچاتے گلی کو پار کیا اور دو منٹ کے بعد وہ میرے گھر کے دروازے پہ کھڑے تھے جہاں میرے والدین انتہائی سہمے ہوئے انتظار کر رہے تھے کہ جیسے ہی دنگا فساد ختم ہو وہ مجھے لینے کے لئے اسکول پہنچ جائیں۔ گلزار صاحب نے مجھے والدین کے حوالے کیا اور تیزی سے اسکول کی طرف چلے گئے۔ جب بھی میں اپنے گاؤں جاتا تھا اپنے محسن گلزار صاحب سے گلے لگ کر ملتا تھا، اب تو وہ فوت ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ اپنے پرانے جاننے والے ہندو مسلم سکھ سب سے بغلگیر ہو کر ملتا ہوں۔
اس خونریزی کے بعد ماحول کچھ عرصے خراب رہا لیکن بعد میں صلح صفائی، معافیوں اور شاید کچھ لوگوں کی ہجرت کے بعد ماحول بتدریج بہتر ہو گیا۔ فسادات کے دوران مسجد کو تباہ و برباد کر دیا گیا تھا، اس کو بھی مسلمانوں نے آہستہ آہستہ دوبارہ بنوا لیا۔
رام سنگھ کی کہانی کینیڈا آنے کے بعد بھی بہت دلچسپ ہے۔ 1975 کا سال تھا اور کینیڈا کے وزیٹر ویزے کی میعاد کا آخری دن تھا۔ رام سنگھ فٹ پاتھ پہ اداس بیٹھا ہوا تھا۔ کینیڈا میں مزید رکنے کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی تھیں۔ اچانک ایک آدمی اس کے پاس آیا اور اس سے پریشانی کا سبب پوچھا۔ رام سنگھ کی مشکلات کو سن کر اس نے بتایا کہ فلاں ویلڈنگ کی ورکشاپ پہ جا کر رفیق سے کام کے لئے بات کرو۔ رفیق نے اسے ملازمت کی پیشکش کی لیکن یہ بتایا کہ سیفٹی کے قانون کے مطابق ویلڈنگ کا کام کرنے کے کیے اسے اپنی پگڑی اور کڑے کو خیرباد کہنا پڑے گا۔ رام سنگھ نے اپنی پگڑی کو اپنے تن سے جدا کیا اور کڑا کٹوایا کیونکہ وہ کسی بھی طرح سے اتر نہیں رہا تھا۔ پگڑی اور کڑا اتارنے پہ بقول رام سنگھ اس کا دھرم وہیں ختم ہو گیا تھا۔
رام سنگھ نے ورکشاپ سے ملازمت کے کاغذات لئے اور امیگریشن ڈیپارٹمنٹ جا کر ویزے کی میعاد بڑھا لی۔ کچھ عرصے کے بعد اس نے امیگریشن کے لئے فارم بھر کر بھیج دیے۔
رام سنگھ نے ویلڈنگ کا کام سیکھ لیا اور اسی دوران اپنے مسلمان ساتھی کے ساتھ مسجد جانا شروع کر دیا۔ نماز میں کیا پڑھنا ہے، یہ تو اسے پتا نہیں تھا، اور نہ ہی اس نے سیکھا۔ بیس سال وہ ویلڈنگ کرتا رہا اور اپنے دوست کے ساتھ نماز بھی پڑھتا رہا۔ اس نے سب کو یہی بتایا کہ وہ مسلمان ہو گیا ہے۔ اس کی برادری کے کچھ لوگ ناراض ہوئے اور رام سنگھ سے ملنا جلنا چھوڑ دیا۔ بیس سال کے لمبے عرصے تک ویلڈنگ کرنے سے اس کی بینائی بہت کمزور ہو گئی تھی۔
اس نے کام کو خیر باد کہا اور کچھ عرصے کے لیے اپنے گاؤں چلا گیا۔ وہاں اس کی ملاقات ایک آنکھوں کے ڈاکٹر سے ہوئی جس نے رام سنگھ کو بتایا کہ اس کے پاس ایک ایسا نسخہ ہے جس سے رام سنگھ کی بینائی بالکل بحال ہو جائے گی، اس علاج کی فیس چار لاکھ روپے بتائی اور یقین دلایا کہ نظر ہمیشہ کے لئے سو فیصد صحیح ہو جائے گی۔ رام سنگھ نے کچھ سوچ بچار کے بعد اسے ہاں کردی۔ ڈاکٹر نے کچھ قطرے اس کی آنکھوں میں ڈالے اور رام سنگھ کی آنکھوں کو آگ لگ گئی۔
رام سنگھ چیخ ریا تھا اور ڈاکٹر اس دلاسے دے ریا تھا کہ یہ صرف دس منٹ کی بات ہے اس کے بعد جلن کم ہو جائے گی۔ دس منٹ بعد ڈاکٹر کے کہنے پہ اس نے آنکھیں کھولیں تو اس کو یقین نہیں آ رہا تھا۔ ہر شے دور یا نزدیک بالکل صاف نظر آ رہی تھی۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ ڈاکٹر کے کہنے کے مطابق اس کی آنکھوں کی بینائی اب تک بالکل درست ہے۔ جب رام سنگھ کینیڈا واپس آیا تو اس کی ملاقات ایک ایسے عیسائی سے ہوئی جس نے اسے چرچ لے جانا شروع کر دیا۔ رام سنگھ اب خود کو عیسائی کہتا ہے۔
رام سنگھ کی زندگی کا ایک اور عجیب واقعہ ملاحظہ ہو۔ رام سنگھ کے ایک گھٹنے میں شدید سوجن ہو گئی تھی۔ ڈاکٹر نے اسے دوا لکھ کر دی جو اس نے نہیں خریدی۔ اس نے سوجن کا علاج خود سے سوچا اور اگلے دن پیدل ائرپورٹ کی طرف چلنا شروع کر دیا۔ تقریباً چالیس کلومیٹر پیدل چلنے کے بعد وہ ائرپورٹ کی عمارت میں پہنچ گیا۔ وہاں تھوڑی دیر آرام کیا اور پھر گھر واپس پیدل ہی آ گیا۔ اگلے دن اس نے محسوس کیا کہ ٹانگ پہلے سے بہتر ہے۔ وہ مزید دو ہفتے تک روز بارہ کلومیٹر چلتا ریا۔ سوجن ختم ہو گئی تو ڈاکٹر کو بتایا تو وہ ہکا بکا رہ گیا اور پھر خوب ہنسا کہ میں اپنے دوسرے مریضوں کو بتاؤں گا کہ میرا ایک مریض دیوانہ ہو گیا ہے۔
جب رام سنگھ پرائمری اسکول میں تھا تو اس وقت پورے پنجاب کے اسکولوں کے نصاب میں اردو کا مضمون شامل تھا۔ اسی لئے اس نے حال ہی میں اردو کی ایک کتاب مجھ سے پڑھنے کے لیے لی تھی۔ جب میں اس کے گھر کتاب واپس لینے کے لئے گیا تو اس نے مجھے دو اردو کی کتابیں دیں جنہیں وہ پڑھ چکا تھا۔ میں یہ کتابیں دیکھ کر اس کی اردو زبان سے محبت سے متاثر ہو کر حیران بھی ہوا اور خوش بھی۔ ایک کتاب احمد فراز کا دیوان ’نابینا شہر میں آئینہ‘ اور دوسری کتاب اشفاق حسین کی شاعری انگریزی ترجمے کے ساتھ ”The ocean searches for me ’Translated by Baidar Bakht“ ہے۔ رام سنگھ جب ہماری محفل میں ہوتا ہے تو زیادہ تر خاموش رہتا ہے کیونکہ اس کو اردو بولنے کی عادت نہیں ہے۔ لیکن وہ باقاعدگی سے محفل میں شرکت ضرور کرتا ہے۔
رام سنگھ کی ذاتی زندگی میں کچھ اور بھی عجب واقعات ہوئے ہیں لیکن میں ان کو تحریر کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔ میں نے یہ مضمون اس کو پڑھ کر سنایا ہے اور اس کی اجازت سے ہی شائع کرنے کے لیے بھیج رہا ہوں۔


