اور ریڈ لائن کراس ہو گئی
عمران خان ہماری ریڈ لائن ہے۔ فواد چوہدری سمیت پی ٹی آئی والوں کا یہی جملہ آج ان سب کا امتحان لے رہا ہے۔ کیونکہ آخر کار وہ ریڈ لائن کراس ہو گئی۔ دیکھنا یہ ہے کہ چھ مہینے سے ریڈ لائن، ریڈ لائن کی رٹ لگا قانون کو چیلینج کرنے والے مزید کیا کر سکتے ہیں۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ گرفتاری کے فوراً بعد جذباتی کارکنوں نے خود بھی کئی ریڈ لائن عبور کر دیے۔ مثلاً جی ایچ کیو کے گیٹ کو عبور کرنا، کور کمانڈر ہاؤسز کے دروازوں پر احتجاج اور توڑ پھوڑ، موٹر ویز ریڈیو سٹیشن سمیت متعدد سرکاری عمارتوں اور سرکاری و غیر سرکاری گاڑیوں سمیت املاک کو نذر آتش کرنا ایسے اقدامات نہیں جس کو آسانی سے نظر انداز کیا جا سکے۔
خاص کر ایک ایسے وقت میں جب یہ سب کچھ ایک قانونی گرفتاری کے خلاف احتجاج کے نام پر ہو رہا ہو۔ قانونی کا لفظ اس لئے استعمال کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی گرفتاری کو قانونی قرار دے کر پی ٹی آئی والوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ عمران خان کی گرفتاری کے بعد کی صورتحال پر بعد میں بات کریں گے پہلے ذرا اس بات کا جائزہ لیتے ہیں۔ کہ عمران خان نے اپنی گرفتاری سے پہلے کتنے ریڈ لائن عبور کر لئے تھے جس کے بعد دوسروں کو مجبوراً ان کی گرفتاری کی ریڈ لائن کراس کرنا پڑی۔
مثلاً خود دعوی کرتے ہیں کہ ان کے خلاف ایک سو بیس سے زیادہ ایف آئی آر درج ہے مگر اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہوئے اب تک وہ کسی کیس میں پولیس کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ کیا یہ ملکی قوانین کا مذاق اڑانا اور ریڈ لائن کراس کرنا نہیں؟ فارن فنڈنگ، توشہ خانہ چوری اور القادر ٹرسٹ جیسے کرپشن کے کیسز میں بھی ایک سال سے ٹال مٹول سے کام لے رہا تھا۔ کبھی عدالتوں کے دائرہ اختیار کو چیلینج کیا جاتا ہے، کبھی وکیل تبدیل کرتا ہے کبھی صحت کا بہانہ اور کبھی قتل کا۔ جس کی وجہ سے اب تک ان پر فرد جرم تک عائد نہیں ہو سکی۔ کیا یہ سب ملکی قوانین اور ریاست کے ریڈ لائن نہیں۔ ؟
القادر ٹرسٹ کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے۔ عمران خان نے بطور وزیر اعظم، نواز شریف کے ایون فیلڈ اپارٹمنٹ کے خلاف برطانیہ کی تحقیقاتی ایجنسی این سی اے کو درخواست دی، این سی اے نے تحقیقات کی اور شریف فیملی کو کلین چٹ دے دیا لیکن اس تحقیقات کے دوران ملک ریاض کے فلیٹس کا پتہ چلا جب اس کی تحقیقات کی گئی تو پتہ چلا کہ جو رقم پاکستان سے منتقل ہوئی وہ غیر قانونی تھی۔ ملک ریاض کے فلیٹس ضبط کیے گئے نیلام ہوئے، پاکستان کو 192 ملین پاونڈ اس غیر قانونی فلیٹس کے ادا کیے گئے مگر عمران خان نے برطانیہ کی جانب سے فراہم کردہ 192 ملین پاونڈز خزانے میں جمع کرانے کی بجائے ملک ریاض کو دیے۔
اور اس کے بدلے میں مبینہ طور پر ملک ریاض نے 440 کینال اراضی القادر ٹرسٹ اور 240 کنال اراضی بنی گالا میں بشری بی بی کی فرنٹ ویمن کے نام پر منتقل کی، ہیرے جواہرات اور نقد لینے کا بھی الزام ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ عمران خان نے چوری نہیں ڈکیتی کی ہے اور قوم کے 192 ملین پاونڈز قومی خزانہ میں جمع کرنے کے بجائے ایک ایسے سمری کی منظوری پر ملک ریاض کو دیے، جس کو پڑھنے اور کھولنے کی بھی کابینہ کو اجازت نہ تھی۔
اور اسی کیس میں آج وہ نیب کی حراست میں ہے۔ اگرچہ مولانا فضل الرحمن اور مریم نواز سمیت بعض حکومتی عہدیداروں کی خواہش تھی کہ عمران خان کو بہت پہلے گرفتار کیا جاتا مگر عدالتوں کی جانب سے نرم گوشہ، بلکہ مادری محبت کی وجہ سے وہ اب تک کھلے عام پھرتے اور حکومت قانون اور مخالف سیاستدانوں کو چیلینج کرتے رہے۔ آخری ریڈ لائن عمران خان نے چند دن پہلے عبور کی جب انھوں نے ایک مرتبہ پھر ایک حاضر سروس جرنیل کا نام لے کر الزام لگایا کہ وہ مجھے قتل کرنے کے درپے ہے۔
اس پر نہ صرف آئی ایس پی آر کا سخت ردعمل سامنے آیا بلکہ واقفان حال کا کہنا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے دوسرے ہی روز عمران خان کی گرفتاری دراصل اسی ریڈ لائن کو کراس کرنے کا نتیجہ ہے۔ عمران خان کو رینجرز نے گرفتار کیا پولیس نے یا پھر نیب نے، کس کیس میں گرفتار کیا اور کہاں سے کیا یہ باتیں اہم نہیں ہے اہم بات یہ ہے کہ موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی طشت ازبام ہمدردی اور نرم گوشے کی موجودگی میں حکومت کب تک اس کو پابند سلاسل رکھ سکتی ہے۔
بلکہ میرے خیال میں تو عمران خان کی قید و بند کی طوالت یا اختصار ہی اس بات کی گواہی دے گی کہ اسٹیبلشمنٹ کیا چاہتی ہے۔ اگر وہ عمر عطا بندیال کی موجودگی اور خواہش کے باوجود رہا نہیں ہوتے ہیں تو اس کا مطلب ہو گا کہ اس کو صرف کرپشن کیسز کی نہیں بلکہ عسکری ریڈ لائن کراس کرنے کی سزا بھی دی جا رہی ہے۔ بصورت دیگر وہ چند دن بعد رہا ہو جائیں گے البتہ ہر دو صورتوں میں عمران خان کے مخالفین فائدہ اٹھا چکے۔ یعنی ایک تو پی ٹی آئی کا بزعم خویش یہ دعوی کہ عمران خان پر کوئی مائی کا لال ہاتھ نہیں ڈال سکتا ہے اس خود ساختہ خوش فہمی یا غلط فہمی کو توڑ دیا گیا۔
دوسری بات یہ کہ دو چار کیسز میں ان پر فرد جرم عائد ہوگی اور باقاعدہ مقدمہ شروع ہو گا۔ تیسری بات یہ کہ انہی کیسز میں ان کی نا اہلی کی طرف پیش رفت شروع ہو جائے گی۔ اور چوتھی بات یہ کہ نہ صرف کارکنوں کا غرور ختم کر دیا گیا بلکہ غیر قانونی ردعمل نے پی ٹی آئی رہنماؤں کو بھی بیک فٹ جانے پر مجبور کیا اور وہ بھی ریاست کے سخت ردعمل سے خوف زدہ ہیں۔ ساتھ ہی ان مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث کارکنوں کے خلاف جب قانون حرکت میں آئے گا تو ہزاروں سر گرم کارکنوں کی مشکلات شروع ہوگی اور وہ مزید احتجاج کی بجائے اپنی اپنی صفائیاں دینے اور کیسز لڑنے پر مجبور ہوں گے ۔
اگر حکومت بے شمار گرفتاریوں اور سختی کی بجائے صرف ان ملزمان کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی بلاک کردے۔ تو ان میں سے ہزاروں لوگ گھروں میں بیٹھ کر تماشا دیکھنے اور سوشل میڈیا پر کمپین چلانے پر اکتفا کریں گے۔ اسی کو کہتے ہیں کہ سو سنار کے ایک لوہار کا۔ عمران خان نے درجنوں ریڈ لائن عبور کیے اور حکومت نے صرف ایک، مگر یہ سنار کی نہیں بلکہ لوہار کی وار ہے۔ جس کا درد اور اثر دیر تک محسوس کیا جائے گا۔


