عمران خان کی گرفتاری کے بعد اَب آگے کیا ہوگا؟
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو جس کا بہت زیادہ خوف اور ڈر تھا، آخر کار، وہی ہوا اور عمران خان کو نیب کی جانب سے گرفتار کرلیا گیا۔ مگر افسوس صد افسوس! کہ عمران خان کو جس بات کی بہت زیادہ اُمید اور خوش فہمی تھی،اُن کی وہ تمنا پوری نہ ہوسکی اور ملک کے مقبول ترین سیاسی رہنما کو اُس کی جماعت کے کارکن گرفتار ہونے سے نہ بچا سکے۔ دراصل گزشتہ ایک برس میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکن اپنے مقبول قائد کو گرفتار ہونے سے بچانے کے لیئے اتنی بار اپنے گھروں سے نکل کر سڑکوں پر ذلیل و خوار ہوکر تھکن سے نڈھال ہوچکے تھے کہ جب اسلام آباد ہائی کورٹ میں حالیہ پیشی سے ایک رات قبل ٹوئٹر، فیس بک اور یوٹیوب پر پی ٹی آئی کارکنان کو احاطہ عدالت میں عمران خان کو گرفتار ہونے سے بچانے کے لیئے "ایمرجنسی کال”دی گئی تو غیر متوقع طور پر کروڑوں سیاسی کارکنان رکھنے کا دعوی کرنے والے سیاسی رہنما کو گرفتاری سے بچانے کے لئے پاکستان تحریک انصاف کے چند ہزار کارکنان بھی احاطہ عدالت میں جمع نہ ہوسکے۔
شاید کارکنان نے اپنی دانست میں یہ سوچا ہو گا کہ ہم ہر بار احاطہ عدالت میں اپنے محبوب قائد کو گرفتاری سے بچانے کے لیئے جمع ہو جاتے ہیں۔ مگر پولیس عمران خان کو گرفتار کرنے کی ہمت تو دکھاتی ہی نہیں ہے۔لہٰذا، اِس بار،کارکنان نے یہ فیصلہ کیا کہ جب تک پولیس عمران خان کی گرفتار ی کے لیئے پوری طرح سے سنجیدہ ہونے کا اُنہیں کوئی پختہ ثبوت مہیا نہیں کردیتی،تب تک وہ بھی پی ٹی آئی کی جانب سے سوشل میڈیا ویب سائٹس پر مشتہر کی جانے والی عمران خان کی متوقع گرفتاری کی اپیل کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیں گے۔یوں پاکستان تحریک انصاف کارکنان کی سیاسی تساہل پسندی کی وجہ سے عمران خان کو بغیر کسی مزاحمت کے گرفتار کرلیا گیا۔
واضح رہے کہ ایک شخص اپنی بدزبانی اور دریدہ دہنی سے کسی سماج میں جتنی آگ لگا سکتا ہے،یقینا اُس سے بھی کہیں زیادہ آگ عمران خان اپنے شعلہ بار بیانات سے ریاستِ پاکستان میں بھڑکاچکے ہیں۔ یہاں سوال یہ نہیں ہے کہ عمران خان کو انگاروں کی مانند دہکتی ہوئی نفرت آمیز گفتگو کرنے سے کیسے باز رکھا جائے؟۔بلکہ مسئلہ تو یہ درپیش ہے کہ عمران خان کی جانب سے بھڑکائی ہوئی سیاسی نفرت کی آگ کواَب بجھائے گا کون؟۔اُصولی طور پر تو یہ فریضہ پاکستان تحریک انصاف کے اُن مرکزی رہنماؤں کو انجام دینا چاہیئے تھا، جن کے سیاسی جھرمٹ میں عمران خان اپنے شب و روز بسر کرتے ہیں۔ مگر ایک لحاظ سے تحریک انصاف کے بالغ نظر بزرگ رہنماؤں کا کہنا بھی ٹھیک ہی ہے کہ "خان صاحب ہم سے مشورہ لیں یا اپنے کسی قریبی ساتھی کوکسی اہم سیاسی معاملہ میں تجویز دینے کے قابل سمجھیں گے، تب ہی تو اُن کی جماعت کا کوئی سیاسی رہنما اِس پوزیشن میں ہوگا کہ وہ اُنہیں معروضی سیاسی حالات و واقعات کے تناظر میں مدبرانہ اور صائب مشورہ دینے کا سیاسی رِسک لے سکے”۔ کیونکہ عمران خان کے سیاسی آستانے پر "زنانہ مرشد” کے علاوہ کسی دوسرے کوحتی کے خود عمران خان کو بھی غیر ضروری حیل حجت کرنے یا مستقبل کے سیاسی منصوبے بنانے کی اجازت ہرگز نہیں ہے۔ لہٰذا، سرِ دست، مرشدکے مرشد کے علاوہ دنیا میں کوئی ایسی شخصیت نہیں ہے، جو عمران خان سے یہ کہنے کی جرات کر سکے کہ "جناب عالیٰ! آپ کی روز مرہ،زہریلی گفتگو صرف مخالفین کے لیئے ہی نہیں بلکہ آپ کے اپنے رفقا کے لیئے بھی انتہائی ناقابل برداشت ہوتی جارہی ہے”۔
جس کی تازہ ترین مثال آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس ہیں،جن کا کہنا ہے کہ "عمران خان اور اُن کے رفقا،پاکستان کی جڑیں کاٹ رہے ہیں”۔یاد رہے کہ فیصل واڈا کے بعد سردار تنویر الیاس پاکستان تحریک انصاف کے وہ دوسرے اہم ترین رہنما ہیں،جنہوں نے علانیہ عمران خان کے اندازِ سیاست کو سیدھے سادھے الفاظ میں ملک کے لیئے سیکورٹی رِسک قرار دیا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر سردار تنویر الیاس نے اتنی بڑی بات کیوں کہی؟ حالانکہ چند ہفتوں پہلے تک نہ صرف وہ اپنی جماعت کی جانب سے آزاد کشمیر کے سب سے موثر ترین منصب پر فائز تھے بلکہ وہ عمران خان کی اے ٹی ایم مشین کے طور پر بھی بروئے کار آرہے تھے۔ دراصل عمران خان کی ملکی سلامتی کے ذمہ دار، اداروں کے ساتھ محاذآرائی کی سیاست نے پاکستان تحریک انصاف کے اکثر رہنماؤں کو سخت شکوک و شبہات میں مبتلا کردیا ہے اور وہ اَب یہاں تک سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ کہیں عمران خان کو بین الاقوامی طاقتوں کی جانب سے وہی مشن تو نہیں سونپ دیا گیا ہے۔جسے ایک زمانہ میں بانی ایم کیو ایم چلایا کرتے تھے۔شاید یہ ہی وجہ ہے کہ عمران خان کی گرفتار ی کے بعد اُن کی جماعت کے اہم ترین رہنماؤں نے سڑکوں پر آکر احتجاج کی قیادت کرنے کے بجائے خاموشی کے ساتھ اپنے اپنے گھروں میں دبک کر بیٹھنا زیادہ مناسب سمجھا۔
یقینا عمران خان کی گرفتار ی کے بعداَب حکومتِ وقت کی جانب سے فوری طور پر جو بڑے اہداف حاصل کیئے جائیں گے۔اُن میں سرفہرست ہدف تو اِس بات سراغ لگانا ہی ہوگا کہ کیا گزشتہ ایک برس سے عمران خان کی سیاست ملک دشمن بین الاقوامی ایجنسیوں کے ایما پر تو نہیں چل رہی تھی؟۔ نیز عمران خان کی گرفتاری سے یہ بات بھی پوری طرح سے ثابت ہوگئی ہے کہ ریاست اپنی رِٹ جب چاہے اور جیسے چاہے قائم کرسکتی ہے۔ یعنی قانون کے نزدیک کسی کی خود ساختہ ریڈ لائن کو عبور کرنا معمول کی ایک کارروائی ہوتی ہے۔ جہاں تک اِس سوال کے درست جواب کا تعلق ہے کہ عمران خان کی گرفتار ی کے بعد اَب کیا ہوگا؟۔ تو اِس سوال کے چند متوقع اور غیر متوقع جوابات ہوسکتے ہیں۔مثال کے طور پر عمران خان کی گرفتار ی کے چندروز بعد بذریعہ ضمانت اِن کی رہائی عمل میں آسکتی ہے اور ضمانت پر رہائی کے چند ایام کے بعد پھر سے انہیں گرفتارکیا جاسکتاہے۔ یا انہیں ایک مقدمہ میں رہائی ملنے کے بعد عین اُسی لمحہ کسی دوسرے مقدمہ میں گرفتار کرکے بھی حوالہ زنداں کیا جا سکتاہے اور یہ سلسلہ غیر معینہ مدت تک بھی جاری رہ سکتاہے۔ یا آنے والے ایام میں عمران خان کی گرفتاری سے بننے والے پرتشدد کشیدہ حالات کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کی دوسرے درجے کی تمام قیادت کو بھی حراست میں لیا جاسکتاہے۔ جبکہ اِس امکان کو بھی ہر گزخارج از امکان نہیں قرار دیا جا سکتاکہ عمران خان کا پورا سافٹ وئیر ہی دوبارہ سے اَپ ڈیٹ کردیا جائے اور عمران خان رہائی پانے کے بعد ریاست مخالف بیانیہ سے مکمل طور پر توبہ تائب ہوکر خود کو دوبارہ سے حقیقی جمہوری سیاست کے دھارے میں شامل کر لیں۔


