صحافیوں کے خون سے آلودہ پاکستان کی تاریخ

حیات اللہ خان وزیرستان کے علاقے کا ایک نڈر اور بے باک صحافی تھا۔ کہا جاتا ہے اس کی دلیرانہ صحافت کی وجہ سے بیک وقت القاعدہ، طالبان، پاکستانی اور امریکی انٹیلی جنس ایجنسیاں ’اس کو اپنا دشمن سمجھتی تھی۔ جہاں طالبان اور القاعدہ کی وجہ سے امریکہ جیسی سپر پاور کی نیندیں حرام تھی‘ وہاں وہ ان تنظیموں کے گڑھ میں روزانہ چین کی نیند سوتا تھا۔ مگر دسمبر، 2005 میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوا، جس کو منظر عام لانے کے گناہ کا کفارہ حیات اللہ کو اپنی اور اپنی بیوی کی جان دے کر چکانا پڑا۔
دراصل 6۔ 2005 میں پاکستان کا قبائلی علاقہ فاٹا دنیا کا خطرناک ترین علاقہ شمار کیا جاتا تھا۔ اور حیات کا بچپن اور جوانی اسی علاقہ میں گزری تھی ’جس کی وجہ سے وہ اس علاقہ کے چپے چپے سے واقف تھا۔ یہاں تک کہ اگر کوئی بین الاقوامی صحافی اس علاقے میں کوریج کو آتا تو وہ بھی اس کی مدد طلب کرتا۔ 9 / 11 کے بعد جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو طالبان اور القاعدہ کے رہنماؤں کی ایک بڑی تعداد فاٹا کے علاقوں میں آ بسی۔ اور حیات نے اپنی صحافیانہ ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے ان علاقوں میں طالبان، القاعدہ اور امریکی کارروائیوں کی دیدہ دلیری سے رپورٹنگ کرنا شروع کردی‘ جو کسی قیمت ان کے لیے قابل ہضم نہ تھی۔ 1 دسمبر، 2005 کو القاعدہ کے تیسرے بڑے لیڈر ابو حمزہ رابعہ کو امریکہ نے شمالی وزیرستان میں ڈرون حملہ سے ہلاک کر دیا۔ لیکن حکومت پاکستان نے دعوی کیا کہ ابو حمزہ بم بناتے ہوئے ایک حادثہ کا شکار ہوا ہے۔ اور امریکہ نے بھی اس موقف کی حمایت کی۔
مگر حیات قبائلی علاقے سے گہری واقفیت کی وجہ سے حادثہ کے مقام پر فوراً جا پہنچا اور وہاں پہنچ کراس نے جب امریکی ہیل فائر میزائل کے ٹکڑوں کو دیکھا تو ان کی تصاویر بنا لیں۔ اور اس کے بعد اس نے سارے واقعے کو اردو کے ایک مشہور اخبار اوصاف میں شائع کر دیا۔ اور ساتھ میں ان تصاویر کو بھی وائرل کر دیا ’جس سے چند لمحوں میں پورے پاکستان میں ہلچل پھیل گی۔ لوگوں نے سڑکوں پر آ کر احتجاج کرنا شروع کر دیا۔ جگہ جگہ امریکہ اور حکومت کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے۔
کیونکہ بین الاقوامی قانون کے مطابق کسی بھی ملک پر اس طرح کا حملہ، اس کے عزت وقار اور آزادی پر براہ راست حملہ سمجھا جاتا ہے۔ اور ساتھ یہ UN Charter کے 2 ( 4 ) آرٹیکل کی کھلم کھلا خلاف ورزی تھی‘ جو کسی بھی ملک کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری کی ضمانت دیتا ہے۔ مگر اس وقت کی حکومت جو امریکہ سے اربوں روپے بٹور رہی تھی ’خاموش رہی۔ بلکہ حیات کو اس گستاخی کی پاداش میں پہلے اغواء کیا اور پھر چھ ماہ بعد قتل کر کے اس کی لاش کو شمالی وزیرستان کے ایک علاقے میں پھینک دیا گیا۔
اور یہی نہیں اس کی بیوی جو اس کے بچوں کا واحد سہارا تھی اس کو بھی بم سے اڑا دیا گیا۔ بدقسمتی سے حیات کا کیس تو چلا مگر نہ اس کی انکوائری رپورٹ منظر آئی اور نہ ہی مجرموں کا تاحال پتہ چلایا جا سکا۔ افسوس پاکستان کی تاریخ ایسے سینکڑوں صحافیوں کی شہادتوں سے بھری پڑی ہے۔ کل حیات تھا، آج ارشد شریف اور اس کے بعد کوئی دوسرا ہو گا۔ میڈیا جس کو کسی بھی ملک کا چوتھا ستون سمجھا جاتا ہے، پاکستان میں حکومت کسی کی بھی ہو اس کو ہمیشہ سنسرشپ کا سامنا رہا ہے۔
Reporters without Border کی رواں سال میں جاری ہو نے والی رپورٹ اس بات کا واضح ثبوت ہے ’جس میں پاکستان World Press Freedom Index میں 180 ممالک کی فہرست میں 150 نمبر پر ہے۔ اور اسی کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں سے اب تک سو سے زائد صحافیوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔ یہی نہیں International Amnesty بلوچستان کے ایک شہر خضدار کو ”Graveyard for Journalist“ قرار دے چکی ہے۔ حالانکہ 1973 ء کے آئین کا 19 آرٹیکل ہر پاکستانی شہری کو اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے۔ لیکن یہاں تو صحافی جو کسی بھی معاشرے کی آنکھ اور زبان سمجھے جاتے ہیں‘ جن کے بغیر جمہوریت کا پنپنا اور قانون کی حکمرانی نا ممکن ہے ان کے لئے کوئی گنجائش نہیں۔

