آج زرداری بہت یاد آئے


گھر پہنچا تو والدہ زار و قطار رو رہی تھیں۔ پوچھنے پہ جواب دینے کے بجائے انہوں نے ٹی وی اسکرین کی طرف اشارہ کیا۔ بریکنگ نیوز چل رہی تھی کہ راولپنڈی میں بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا۔ ایک لمحے کے لیے آنکھیں ساکت ہو گئیں۔ کچھ بھی سوچنے سمجھنے میں بہت دیر لگی۔ تفصیلات کے مطابق راولپنڈی میں جلسہ گاہ سے واپسی پہ گاڑی کا سن روف کھولنے پہ باہر نکلنے سے کسی اندھی گولی کا شکار ہو کر بے مثال بینظیر کروڑوں مداحوں کو افسردہ چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملیں۔ یہ ایک ایسی خبر تھی جو آئندہ کا ملکی منظر نامہ واضح کرنے کے لیے کافی تھی۔ اور سیاست سے نابلد افراد بھی اندازہ لگا سکتے تھے کہ اب ملک کے حالات کس نہج پر جائیں گے۔ لیکن یہاں سے حالات نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔

اسلام آباد ایکسپریس وے پر نواز شریف کے قافلے پہ حملے نے حالات کو مزید گمبھیر بنا دیا تھا۔ ایسی صورتحال میں ہنگامے شروع ہو چکے تھے۔ بینظیر کی شہادت نے معاملات کو سیاسی طور پر نازک بنا دیا تھا۔ جلاؤ گھیراؤ کی صورتحال ملک کو ایک تباہی کی طرف دھکیلے جا رہی تھی۔ ایسے حالات میں بھٹو خاندان نے جس استقامت کا ثبوت دیا اس کی احسان مندی کسی نا کسی حوالے سے آج بھی اداروں کے درمیان موجود ہے۔ سابق صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری کا ایک نعرہ ایسا تھا جس نے نا صرف تمام حالات کو سنبھال لیا بلکہ سیاسی حالات کو بہتری کی طرف لے جانے میں بھی ایم کردار ادا کیا۔

اگر پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت چاہتی تو حالات کے اپنے حق کے لیے ایسے استعمال کر سکتی تھی کہ بے پناہ سیاسی فوائد حاصل ہو سکتے تھے۔ معاملات کو عالمی سطح پر اپنے حق میں استعمال کرنے کے علاوہ پاکستان میں اپنے مخالفین کو نکیل ڈالنا بھی بہت آسان ہو جاتا۔ لیکن ”پاکستان کھپے“ کے ایک نعرے نے حیران کن حد تک معاملات کو سنبھالتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کا سیاسی قد بھی بڑھا دیا۔ ان حالات میں صدر آصف علی زرداری نے جس طرح معاملات کو سنبھالا اور آنے والے وقتوں میں جیسے بلاول نے ذمہ دارانہ قیادت کا خلا پر کیا اس پہ بھٹو کی جماعت کی نا صرف توصیف بنتی ہے بلکہ معاملہ فہمی کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔

اگر اس وقت پیپلز پارٹی کی قیادت پاکستان کھپے کے نعرے کو عملی جامہ نا پہناتی تو بہت آسانی سے اس پورے معاملے کے صوبائی جنگ میں دھکیلا جا سکتا تھا اور لیاقت علی خان کی شہادت، بھٹو کی پھانسی اور اب بینظیر کی شہادت کو موضوع بنا کر صوبہ پنجاب کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑی جا سکتی تھی لیکن اس سے نا صرف اجتناب برتا گیا بلکہ وقت نے ثابت کیا کہ یہ جماعت حقیقی معنوں میں وفاق کی نمائندہ جماعت بن کر ابھری۔

عمران خان کی گرفتاری کے بعد جس طرح پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان نے جلاؤ گھیراؤ اور نفرت کو پروان چڑھانا شروع کر دیا ہے ان حالات میں پاکستان تحریک انصاف کی قیادت میں سے کون ہے جو پاکستان کھپے کا نعرہ لگا سکے؟ زرداری سے لاکھ اختلافات سہی لیکن حقیقت یہ ہے کہ کرپشن کی داستانوں کے باوجود اس شخص نے پاکستان کو توڑنے کے بجائے جوڑا۔ اور آج کے حالات میں جائزہ لیں تو عمران خان اور ان کی پارٹی کی دوسرے درجے کی قیادت جلاؤ گھیراؤ میں سے اپنے مفادات تلاش کر رہی ہے۔

شاہ محمود قریشی جو حاصل کرنا چاہ رہے ہیں اس پرتشدد ماحول میں سے اس کی نوید سننا چاہ رہے ہیں۔ اسد عمر ہوں یا فواد چوہدری، اس قیصر ہوں یا پرویز خٹک، کوئی ایک رہنما بھی ایسا نہیں ہے جو اس وقت ان حالات میں تشدد کے راستے کی نفی کر رہا ہو۔ بلکہ تمام رہنما شاید اس سوچ کے ساتھ پورے معاملے میں سیاست کر رہے ہیں کہ عمران خان ایک ایسا دیوتا ہے جو نا گرفتار ہو سکتا ہے نا وہ کوئی گناہ کر سکتا ہے اور اگر عمران خان گرفتار ہوا تو پھر کچھ نہیں چھوڑیں گے۔

آپ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت سے پس پردہ پوچھ لیجیے کہ کیا عمران خان بینظیر سے بڑا سیاستدان ہے تو آپ کو جواب نفی میں ملے گا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ باقاعدہ کوئی منشور نہیں، کوئی ایجنڈا نہیں، کوئی لائحہ عمل نہیں، صرف پرتشدد کارروائیوں سے، کارکنان کو حملوں پہ اکسا کے، توڑ پھوڑ کے ذریعے مرکزی قیادت اپنے مقاصد پورے کرنا چاہتی ہے۔ اسی لیے اس موقع پر آصف علی زرداری کی شدت سے یاد آ رہی ہے کہ کس درجہ زیرک انداز میں اس انسان نے بینظیر کی شہادت کے بعد کے معاملات کو سنبھالا تھا۔ کیسے اس زیرک سیاستدان نے خود پہ بے پناہ کرپشن الزامات کے باوجود پیپلز پارٹی کے دور اقتدار میں بطور صدر اپنے اختیارات پارلیمان کو واپس کر کے اپنا سیاسی قد بڑھا لیا گیا۔

Facebook Comments HS