بلاول اور ”محبان وطن“

”چھاتی پر مونگ دلنا“ اردو محاورہ ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ منہ پر مخالفت کر کے ستانا، منہ توڑ، سخت اور دلیل کے ساتھ جواب دینا۔ مخالف جس لب و لہجہ میں اور انداز میں بات کرے اسے ایسا جواب دینا کہ اس سے کوئی جواب نہ بن پڑے۔ حفیظ جونپوری کے اشعار اور اردو کا یہ محاورہ بھارت کے شہر ”گوا“ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو کی شرکت پر ”محبان وطن“ کی ماتم کنائی پر یاد آیا۔ سوال یہ ہے کہ اگست 2019 ءمیں بھی اور اپریل 2022 ءتک تحریک انصاف برسراقتدار تھی۔ بھارت نے 2019 ءکے فیصلے سے رجوع نہیں کیا۔ تاہم شاہ محمود قریشی نے ٹائمز آف انڈیا کے انٹرویو میں ایس سی او اجلاس میں پاکستان کی شرکت کو ”کثیر الجہتی ضرورت“ قرار دیا۔
بین الاقوامی تعلقات میں کوئی بھی ریاست کسی ریاست کی مستقل دوست نہیں ہوتی۔ ہر ریاست کے اپنے مفادات ہوتے ہیں۔ دیکھنا پڑتا ہے کہ کس ملک سے قربت ریاست کے مفادات میں ہے۔ ریاستی مفادات کو جذبات کا غلام نہیں بنایا جاسکتا۔ چین کو ہر صورت راضی رکھنا آج کے حقائق میں ہماری اولیں ترجیح رہنا چاہیے۔ یہ باور کرایا جا رہا تھا کہ پاکستانیوں کی اکثریت بلاول کے دورہ بھارت کے خلاف ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کے باعث مقبوضہ جموں و کشمیر سے بھی یہی پیغامات آ رہے تھے کہ بلاول کو بھارت نہیں جانا چاہیے۔ ایسے حالات میں پاکستان کے دفتر خارجہ نے دعوت کا ہر پہلو سے جائزہ لیا اور حکومت نے دوسرے ریاستی اداروں سے بھی صلاح مشورہ کیا اور یہ طے پایا کہ یہ دعوت بھارت کی نہیں، ایس سی او کی طرف سے ہے جس کا ہیڈ کوارٹر بیجنگ (چین) میں ہے۔
چین ایس سی او کے اجلاس کی کامیابی کے لئے پاکستانی وزیر خارجہ کے گوا جانے کا خواہش مند تھا۔ اس لیے تمام تر اعتراضات کے باوجود بلاول بھٹو کے بھارت جانے کا فیصلہ کیا گیا۔ دسمبر 2022 ء میں بھارتی وزیر خارجہ کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے بلاول نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو قصائی قرار دیا تھا جس کے بعد اترپردیش میں بی جے پی کے لیڈر منو پال بنسل نے بلاول کے سر کی قیمت دو کروڑ روپے مقرر کی اور بی جے پی نے پورے بھارت میں بلاول کے خلاف مظاہرے کیے اور پتلے جلائے۔
جب بھارتی وزیر خارجہ نے ایس سی او ’شنگھائی کو آپریشن آرگنائزیشن ”اجلاس میں شرکت کی پاکستانی وزیر خارجہ کو دعوت دی تو ان کے قتل پر انعام مقرر تھا مگر بلاول نے کسی قاتلانہ حملے کے خطرے سے گھبراہٹ کا مظاہرہ نہ کیا۔ وہ لوگ جو پاکستان کو سفارتی تنہائی کے طعنے دے رہے تھے انہیں منہ کی کھانی پڑی کیونکہ پاکستان کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ دنیا کے دو مختلف ممالک میں عالمی رہنماؤں کے سامنے اپنی ریاست کا موقف پیش کر رہے تھے۔
وزیر خارجہ بلاول بھٹو کے تدبر اور سفارت کاری کی تعریف نہ کرنا بخیلی ہوگی۔ ان کے وزیر خارجہ بننے کے بعد دنیا میں پاکستان کا امیج پہلے سے بہت بہتر ہوا ہے۔ بلاول بھٹو نے تھوڑے عرصے میں ثابت کیا کہ وہ بھی اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو کی طرح اس میدان کے شہسوار ہیں۔ ان کے انداز گفتگو سے پتہ چلتا ہے کہ ان کا ہر ایشو پر گہرا مطالعہ ہے۔ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ دورہ بھارت میں بلاول بھٹو کوئی بھی ایسی بات کر سکتے ہیں، جسے بھارتی میڈیا اچھال کر پاکستان کے خلاف زہر افشانی کر سکتا ہے۔ لیکن انہوں نے گوا میں پریس کانفرنس کر کے بھارتی صحافیوں کے سوالوں کا خندہ پیشانی سے جواب دیا۔ بلاول بھٹو بارہ سال کے بعد بھارت کا دورہ کرنے والے پہلے وزیر خارجہ تھے یوں پاکستان میں بھی ان کے مخالفین کی تنقید لاحاصل رہی۔
بلاول نے گوا کا میلہ ایسا لوٹا کہ جے شنکر نے سیخ پا ہو کر تمام سفارتی آداب بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ کو دہشت گردی کی صنعت کا ترجمان قرار دے دیا۔ جے شنکر کے یہ ریمارکس انہی پر اس وقت الٹ گئے جب بھارت سے ہی یہ آوازیں اٹھیں کہ دہشت گردوں نے جس بلاول کی ماں چھینی، وہ دہشت گردوں کا ترجمان کیسے ہو سکتا ہے؟
بلاول نے بھی موقع سے خوب فائدہ اٹھایا اور جے شنکر کو دندان شکن جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں کیوں بھول گیا؟ ہم پر دہشت گردی کا الزام لگانے والے بتائیں کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو پاکستان میں کیا کر رہا تھا؟ بھارت کے ہر الیکشن میں پاکستان کیوں اہم اور پاکستان کے الیکشن میں بھارت کیوں اہم نہیں ہوتا؟ بلاول نے کہا کہ بھارت کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات مقبوضہ جموں و کشمیر کی سابقہ آئینی حیثیت بحال ہونے تک نہیں ہو سکتے۔
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی حالات سے ناواقف لوگ ان قوتوں کے نمائندہ ہیں، جو چاہتی ہیں کہ پاکستان ایس سی او جیسی موثر تنظیم سے لاتعلق ہو جائے۔ بلاول بھٹو کا یہ کہنا درست ہے کہ فورم جلد یا بدیر اس خطے کا ”پاور ہاؤس“ ہو گا۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو بھارت کے دورے پر نہیں گئے تھے بلکہ بھارت میں ایس سی او کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس میں شرکت کے لئے گئے تھے۔ ایس سی او کا اجلاس اس کے رکن ممالک میں کہیں بھی ہو سکتا ہے۔ 2026ء میں ایس سی او کی چیئرمین شپ پاکستان کے پاس ہو گی۔
ایس سی او، 2001 ء میں بنی۔ پہلے اس کا نام ”شنگھائی فائیو“ تھا۔ چین، قازقستان، کرغیزستان، تاجکستان اور روس اس میں شامل تھے۔ بعد میں ازبکستان کو شامل کر کے اسے ایس سی او کا نام دیا گیا۔ اب بھارت اور پاکستان بھی اس کے مستقل رکن ہیں۔ چار ممالک افغانستان، بیلاروس، منگولیا اور ایران آبزرور جبکہ ترکی اور سعودی عرب سمیت آٹھ ممالک ڈائیلاگ پارٹنرز ہیں۔ یہ تنظیم یورپ اور ایشیا کے 60 فیصد رقبے اور دنیا کی 40 فیصد آبادی کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس کا نام ہی عندیہ دیتا ہے کہ مذکورہ تنظیم کا قیام ہمارے دیرینہ دوست چین کے تجارتی مرکز شنگھائی میں ہوا تھا۔ مقصد اس کا چین اور اس کے ہمسایوں کے مابین اقتصادی روابط کو مضبوط تر بنانا ہے۔
اس تنظیم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ علاقائی سیکورٹی کے معاملات دہشت گردی، انتہا پسندی کے خلاف اشتراک عمل کیا جائے۔ اور علاقائی ترقی کے لئے وسائل کا بندوبست کیا جائے۔ یہ تنظیم اب یورپ اور ایشیاء کی سیاسی، اقتصادی اور عالمی دفاعی آرگنائزیشن بن چکی ہے۔ ترقی اور تعاون کی بنیاد پر مشرق کی مغرب پر بالادستی قائم کرنے کی پرامن پیش رفت ہے۔ اس کے پلیٹ فارم سے ہم نہ صرف پرانی جکڑ بندیوں سے نکل سکتے ہیں بلکہ علاقائی ترقی سے بھی مستفید ہو سکتے ہیں۔ ہم نے مغربی بلاک میں رہ کر دیکھ لیا۔ اب مشرق کی طرف بھی رخ کر کے دیکھ لیں۔
ایس سی او اجلاس کے بعد چین کے وزیر خارجہ چن گانگ نے پاکستان کا دورہ کیا اور مشورہ دیا کہ اپنے ملک میں سیاسی استحکام پیدا کریں۔ بھارت کے ساتھ یہ حقیقت بھی یاد رکھیں کہ چین نے ہمارے رویہ کی قدر کی ہے۔ کن چانگ چین کے نئے وزیر خارجہ گوا سے پاکستان آئے اور پاکستان وہ پہلا ملک ہے جس کا دورہ انہوں نے کیا۔ ان کی موجودگی کے دوران افغان وزیر خارجہ کو اسلام آباد لانے کا بندوبست بھی ہوا۔ چین نے سہ طرفی مذاکرات کے ذریعے افغانستان کو قومی اور علاقائی استحکام اور خوشحالی پر توجہ دینے کے لیے متوجہ کیا۔ بلاول نے اپنی سفارت کارانہ مظاہرہ سے یہ ثابت کیا کہ دشمن کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو استدلال کے ذریعے اس کے سینے پر مونگ دلی جا سکتی ہے۔
شنگھائی کانفرنس میں بلاول نے بھارت کی جمہوریت، قانون پسندی کے جعلی پردے اور بین الاقوامی معاہدات سے کھلواڑ کو بے نقاب کیا۔ وطن عزیز میں ”محبان وطن“ بلاول پر کی جانے والی تیر افگنی پر غالب کا یہ شعر صادق آتا ہے :
تھی خبر گرم کہ غالبؔ کے اڑیں گے پرزے
دیکھنے ہم بھی گئے پر وہ تماشا نہ ہوا

