1967 کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ (بلاگ کا پہلا حصہ )
1956 ء میں لڑی جانے والی دوسری عرب اسرائیل جنگ کے بعد خطے میں برطانیہ اور فرانس کا کردار سکڑ گیا لیکن اسی جنگ کی وجہ سے امریکہ اور روس کو پاؤ جمانے کا موقع مل گیا، امریکی جانتے تھے مصری صدر جمال عبدالناصر ہتھیار تو امریکہ سے حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن امریکہ پر بھروسا کرنے کو تیار نہیں، امریکی جانتے تھے اگر ایسا ہی جاری رہتا ہے یقیناً تو سویت روس کا کردار مشرق وسطیٰ میں بڑھ جانے کا امکان تھا جو امریکی مفاد کے لئے اچھا نہیں ہو سکتا تھا۔ وہیں ناصر اس وقت عرب دنیا کے قائد کی حیثیت سے ابھرے، ناصر کی قیادت میں عرب یکجہتی کا تصور پیش کیا گیا 1960 ء یہ نظریہ بھی سامنے آیا کہ عربوں کو اپنے لئے مشترکہ دفاعی نظام بھی وضع کرنا چاہیے، عرب لیگ میں شامل تیرہ ممالک نے جنوری 1964 میں مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں اس حوالے سے پیش قدمی بھی کی۔
1966 ء میں اسرائیل نے مغربی کنارے کے علاقے سمو پر ایک مکمل فوجی کارروائی کی، یہ علاقہ پرانے طے شدہ انتظام کی وجہ سے اردن کے زیر سایہ تھا جس وجہ سے اس علاقے میں اردن کی افواج موجود تھیں، اسرائیلی کارروائی کی وجہ سے پندرہ اردنی فوجی جاں بحق ہو گئے، اسرائیل کے اس آپریشن شریڈر سے پہلے تک اردن کے شاہ حسین ایک مخمصے کا شکار تھے وہ بالکل اسرائیل سے جنگ کے حامی نہیں تھے، وہ یہ سوچ رہے تھے اگر اسرائیل نے اردن پر حملہ کر دیا تو کیا مصر اور شام اس کی مدد کو آئیں گے یا نہیں، کہیں مصر کے صدر جمال ناصر ان کو قربانی کا بکرا تو نہیں بنا نے جا رہے لیکن اگر وہ باقی عرب ممالک سے ہٹ کر کوئی مختلف پوزیشن اختیار کرتے تو باقی بارہ عرب ممالک ناراض ہو جاتے، اسی چکر میں وہ اسرائیل کے ساتھ انٹیلی جنس روابط میں بھی رہے (بحوالہ صفحہ نمبر 126 کتاب Six day war june 1967 ) ۔
اعتماد کا فقدان بھی تھا اور بین الا اقوامی معاملات میں اتار چڑھاؤ کچھ اس نہج پر تھا کہ چھوٹی سی چنگاری بھی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی تھی، فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی کارروائی نے اردن کو بالکل دوسری جانب دھکیل دیا پھر مئی 1967 ء مصری پارلیمنٹ کے اسپیکر انور سعادت (جو جمال عبدالناصر کے بعد مصر کے صدر بنے ) روس کے دورے میں کو ڈپٹی پریمیئر کوسیجن سے ملے، اسی مہینے اردن کے شاہ حسین نے مصر کے جمال عبد الناصر کے ساتھ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے اور اپنی افواج کی کمانڈ مصر کے حوالے کر دیں، مصرنے اقوام متحدہ کے مبصروں اور تعینات شدہ افواج کو واپس بھیج دیا، اور مصر کی جانب سے 23 مئی کو اسٹریٹ آف تیران سے اسرائیلی بحری جہازوں کے گزرنے پر پابندی عائد کردی، مندرجہ بالا اقدامات کے ساتھ اردن نے مغربی کنارے کے دفاع کی تیاری شروع کردی اردن کی آرمی کے پاس امریکی ساختہ ایم۔ 47 اور ایم۔ 48 پیٹن ٹینک بھی تھے، جن کو امریکی ساختہ توپوں اور بکتر بن گاڑیوں کی سپورٹ بھی تھی، عراقی افواج نے بھی آرمر ڈویژن اردن اور اسرائیل بارڈر کی جانب بھیج دیں۔ دو جون کو سابق اسرائیلی آرمی چیف جنرل موشے دایان کو اسرائیلی کابینہ میں بطور وزیر دفاع شامل کر لیا گیا۔
فضائی قوت کا عنصر
جنگ ناگزیر ہو چکی تھی، علاقے میں موجود فضائی قوت کے عنصر کے بارے میں مشہور کتاب (Air Warfare in the Missile Age Lon O۔ Nordeen ) میں ذکر ہے ویسے اسرائیل کی فضائی قوت میں آٹھ سو پائلٹ اور ٹرینی پائلٹ موجود تھے، لیکن اس وقت کسی بھی ممکنہ جنگ میں ان کی تعداد ہزار سے با آسانی تجاوز کر سکتی تھی، پھر اس کے جنگی طیاروں کی تعداد چار سو سے زائد تھی، جس میں ٹرینرز بھی شامل تھے جو زمینی افواج کو مدد دینے کی صلاحیت رکھتے تھے، لیکن جنگ میں 247 طیاروں نے مجموعی طور پر شرکت کی، زیادہ تر فرانسیسی ساختہ طیارے تھے۔
جبکہ اسرائیل کے مقابلے میں عربوں کو ایک کے مقابلے میں تین کی برتری حاصل تھی، صرف مصری فضائیہ کے پاس چھ سو جنگی طیارے موجود تھے، 150 طیارے شام کے پاس تھے، 50 لڑاکا طیاروں کا بیڑہ اردن کی شاہی فضائیہ کا حصہ تھا، اردن فضائیہ برطانوی ائر فورس کے طرز پر ترتیب دی گئی اردن کے پاس برطانوی ساختہ ہاکر ہنٹر طیارے موجود تھے، بتایا جاتا ہے ایک اسکواڈرن کم و بیش بارہ ہنٹر اردن کی شاہی فضائیہ میں فضائی دفاع کی خدمات پر مامور تھے، عراقی فضائیہ کے پاس 220 جنگی طیارے تھے، یہی کتاب یہ بھی بتاتی ہے کہ اسرائیلی فیصلہ سازوں نے اسرائیلی فضائی قوت کو مصر کے خلاف فضائی برتری کا ایکشن پلان نہر سوئز کی جنگ سے پہلے ہی تیار کر لیا تھا، لیکن جب انھیں وسائل کی کمی کی وجہ سے ایسے اقدامات نہیں اٹھائے جو بعد میں آنے والی جنگ میں اٹھانا آسان تھا، پھر عراقی ائر فورس سے حاصل ہونے والے مگ اکیس پر مقابل سے لڑنے کی تیاری خوب ہو گئی میرے ایک پچھلے بلاگ میں ( موساد کا عراقی مگ 21 اسرائیل پہنچانے کا منصوبہ کیسے کامیاب ہوا) اس حوالے سے تفصیلات موجود ہیں۔
فضائی برتری کا حصول اسرائیلی فضائیہ کا جنگ میں پہلا اور فیصلہ کن اقدام
5 جون 1967 کی صبح اسرائیلی ائر چیف موٹی ہڈ کے آرڈر آف دی ڈے میں پیغام دیا گیا تھا ”اسرائیل کا جذبہ تو ہمارے ساتھ جو شا بن نون اور داؤد کے وقت سے ہے، 1948 اور 1956 کے جنگجوؤں ہم طاقت حاصل کریں گے کہ مصر یوں پر حملہ کرنے کی جو خطرہ بنے اسرائیل کی سلامتی، ہماری آزادی ہمارے مستقل کے لیے خطرہ بنے، اڑو اور دشمن پر چڑھ دوڑو، اسے ریگستان میں بکھیر دو تاکہ اسرائیل اپنی سرزمین پر نسل در نسل کے لئے محفوظ ہو“ اسی صبح 7 بجکر دس منٹ پر اسرائیلی لائٹ اٹیک اور ٹریننگ ائر کرافٹس میجز ٹرفوگا ائر کرافٹس کی پروازوں سے ہوا (بحوالہ صفحہ نمبر 170 کتاب Six day war june 1967 ) ان طیاروں سے وہ فریکوئنسیز استعمال کی گئیں جو فرانسیسی ساختہ مسٹیئر اور میراج استعمال کرتے تھے، یہ بھی تاثر دیا گیا یہ ایک روٹین کی ٹریننگ پروازیں ہیں، ان کے پیچھے اصل فائٹر ڈاسالٹ اور یگن اڑے ان کی پیروی میں پیچھے میراج طیاروں کے پورے ایک اسکواڈرن نے رمات ڈیوڈ بیس سے پرواز بھری، بعد میں 15 عدد دو انجنوں والے وٹور بمباروں نے ہٹزیرم ائر بیس سے پرواز کی، مزید لکھا ہے اسی کتاب میں 82 مصری ریڈار سائٹس کو چکمہ دینے کیے لئے 30 میٹر کی انتہائی کم بلندی پر یہ جہاز مصر کی جانب بڑھے، زیادہ تر طیاروں کا رخ بحیرہ روم کی جانب تھا، اس پہلی لہر سے طوفان مچانے جا رہے تھے، انھوں ریڈیو سائلنس بھی قائم رکھنا تھا، اس زمانے میں اسرائیل کے پاس مجموعی طور پر تقریباً ڈھائی سو طیارے موجود تھے جو تمام کے تمام آپریشنل تھے۔
یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ 60 فٹ کی بلندی پر محو پرواز اسرائیلی طیاروں کی خبر اردن کی جانب سے مصر کو فوراً بھیجنے کی کوشش کی گئی، لیکن مصریوں نے کچھ وقت قبل اپنے وائرلیس کوڈ تبدیل کر دیے تھے جس کی وجہ سے وہ پیغام کبھی مصر نہ پہنچ سکا، ہاں اسرائیلی طیارے ضرور مصریوں کے سروں پر پہنچ گئے جنہوں نے مصری فضائیہ کی 18 اڈوں اور ائر فیلڈز پر حملے کر کے قیامت ڈھا دی، لڑاکا و بمبار طیاروں کی ایک کثیر تعداد زمین پر کھڑے کھڑے ہی راکھ کا ڈھیر بن گئی، مصری فضائیہ میں شامل روسی ساختہ الیوشن آئی ایل۔ 28، مگ۔ اکیس اسرائیلی حملے میں تباہ کرنا پہلی ترجیح تھی، خصوصاً آئی ایل۔ 28 تاکہ جوابی حملے میں اسرائیلی شہروں کو نقصان کا خدشہ کم سے کم ہو۔ اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد گویا مصری فضائی افواج کی کمر ہی ٹوٹ گئی۔




