ادارے مضبوط ہوں گے تو ملک مضبوط ہو گا


9 مئی پاکستان کی تاریخ کے بدترین دنوں کی طرح کا ایک دن بن گیا۔ تاریخ میں اس دن کو بھی سیاہ دن لکھا جائے گا۔ جو کام سات دہائیوں میں دشمن نا کر سکے وہ ایک دہائی میں ایک سیاسی جماعت نے کر دکھایا۔

فوج کسی بھی ملک کی شان سمجھی جاتی ہے۔ جتنی مضبوط فوج ہو گی اتنا ہی ملک کا دفاع مضبوط ہوتا ہے۔ اور جب عوام کے سینوں میں فوج کے لیے بغض اتنا بھر جائے کہ ایک سپاہی بھی محفوظ نا رہے تو اس ملک کا شیرازہ بکھرتے وقت نہی لگتا۔ چند جرنیلوں سے اختلافات کا مطلب یہ نہی کہ ہر خاکی وردی والے سے نفرت کی جائے۔ موجودہ فوجی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ قوم کے سپوتوں نے تو سنہ 65 اور 71 کے شہیدوں تک کو نا چھوڑا۔ شہیدوں کے مجسمے اور تصاویر تک کو توڑ دیا گیا۔ کیا یہ سب دیکھنے کے بعد اب کوئی ماں اپنی اولاد کو فوج میں بھیجنا چاہے گی۔ جب فوجی کو غیر محفوظ کرو گے تو کون فوج میں جائے گا؟

فوج چاہتی تو کل گولیاں چلا سکتی تھی۔ مگر جس طرح فوج کی جانب سے ایک گولی بھی نا چلائی گئی وہ یہ بات صاف ظاہر کر رہی ہے کہ فوج اب بھی عوام کے ساتھ ہے۔ فوج کا نام تو پی ٹی آئی قائد لیتے تھے، اس لیے فوج کے خلاف بغض دیکھنے میں آیا مگر قائد اعظم کا کیا قصور تھا جو جناح ہاؤس جلایا گیا۔ اسکولوں کو نذر آتش کیوں کیا گیا۔ اپنی فتح کی یادگاروں کو کیوں برباد کیا گیا؟

پاکستان میں ہمیشہ مسائل کو اتنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ دور اندیشی سے کام نہی لیا جاتا۔ صرف ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے چند لوگوں نے 2014 میں پی ٹی آئی کو کھلا چھوڑ دیا۔ اگر اس وقت پی ٹی وی پر کیے گئے حملے۔ املاک کی توڑ پھوڑ اور پولیس افسران کے ساتھ بد سلوکی پر کارروائیاں کی جاتیں۔ ریڈ زون پر ہونے والے تماشے کو روکا گیا ہوتا تو آج یہ دن نا دیکھنے پڑتے۔

2014 سے دیکھا جائے تو ہم نے صرف کھویا ہی ہے۔ عوام میں اشتعال اتنا بڑھ چکا ہے کہ آپ کسی سے اختلاف رائے کا اظہار کر ہی نہی سکتے۔ پڑھے لکھے حضرات ایسی بازاری زبان استعمال کرتے ہیں کہ کانوں کو ہاتھ لگائے انسان۔ میں ایک صحافی ہوں اور میرے نزدیک کوئی بھی جماعت اہم نہی۔ اہم ہے تو صرف پاکستان۔ مجھے ہر جماعت پر تنقید و تعریف کا حق ہے۔ لیکن پچھلے کچھ سال سے اپنے اردگرد موجود اپنے ہی دوست احباب کے رویوں کی وجہ سے تھک کر میں نے سیاست پر رائے دینا ہی چھوڑ دی ہے۔ لیکن 9 مئی کو جس طرح کی دہشت گردی دیکھنے میں آئی ہے جس طرح فوج کو کمزور کیا جانے لگا ہے میرا قلم خودبخود اٹھ گیا ہے۔

اس آرٹیکل کے بعد بہت سے لوگ کہیں گے کہ یہ پی ڈی ایم کی جانب سے لفافہ ملنے پر لکھا گیا ہے۔ کیونکہ یہی تو کہتے ہیں پی ٹی آئی والے۔ ہاں اگر یہ آرٹیکل پی ٹی آئی کے حق میں ہوتا تو پھر مجھے سراہا جاتا۔ مجھے ایک باعث عزت صحافی مانا جاتا۔ لیکن اپنی واہ واہ کے لیے میں اپنے قلم کے ساتھ غداری نہی کر سکتی۔ پی ٹی آئی نظریاتی جماعت نہی ہے۔ پی ٹی آئی میں شخصیت پرستی ہے۔ لوگوں کو یہ سمجھنا ہو گا کہ سیاسی جماعت وہ ہوتی ہے جس کے پاس نظریہ ہو۔ عمران خان کی شہرت ان کی پہچان ہے۔ لیکن اقتدار میں آ کر عمران خان وہ ڈلیور نہی کر پائے۔ پھر بھی عوام کی ان سے بے پناہ محبت ہے جو بہت کم رہنماؤں کو ملتی ہے۔

عمران خان کی اگر خواہش ہوتی تو ان کے چاہنے والے کبھی اتنے مشتعل نا ہوتے۔ مگر انہوں نے ایک دہائی عوام کو سکھایا ہی اشتعال ہے۔ جس کا ثبوت ان کے جلسوں میں کی جانے والی تقاریر ہیں۔ مجھے عمران خان سے صرف ایک اختلاف ہے وہ یہ کہ انہوں نے دو نسلیں برباد کی ہیں۔ انہوں نے دو نسلوں میں جو اشتعال بھرا ہے اس کے اثرات اگلی مزید دو نسلوں تک جائیں گے۔

9 مئی کو پاکستان کے بڑے شہروں میں فوج، پولیس اور دفاع سے جڑی اہم چیزوں پر جس طرح کے منظم حملے دیکھنے میں آئے، حساب اب صرف پی ٹی آئی یا پی ٹی آئی کے ورکرز کا نہی ہونا چاہیے۔ ہر اس شخص کا ہونا چاہیے جس نے اپنے ہاتھ پوری ایک دہائی باندھے رکھے اور ملک اس حال میں پہنچ گیا۔ پی ٹی آئی ورکرز کے ساتھ ساتھ سیاستدان، عدلیہ، میڈیا اور ان اعلی افسران کا بھی حساب ہونا چاہیے جن کہ شہ پر پی ٹی آئی کو کھلا چھوڑا گیا۔ اب حساب سب کا ہونا چاہیے۔ ادارے مضبوط ہوں گے تو ہی ملک مضبوط ہو گا۔ سب کالی بھیڑوں کا خاتمہ ضروری ہو گیا ہے۔

Facebook Comments HS