دھرتی ماں


میں بازار سے گزر رہا تھا۔ اچانک میری نظر ایک بوڑھی اماں پر پڑی جو ایک دکان کے پاس کافی پریشان بیٹھی تھیں۔ بوڑھی اماں کی پریشانی دیکھ کر میرے قدم خود بخود ان کی جانب بڑھنے لگے میں نے پاس پہنچ کر پوچھا اماں! خیریت ہے؟ آپ اتنی پریشان کیوں بیٹھی ہو؟ اماں نے اپنی گردن جھکا لی میرے دوبارہ پوچھنے پر جب انہوں نے میری طرف دیکھا تو میں کانپ کر رہ گیا اماں کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔ چہرے کی جھریوں سے آنسو ایسے بہہ رہے تھے جیسے چہرے پر نہریں بہہ رہی ہوں میں نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو انہوں نے کہا بیٹھ جا۔

میں ان کے پاس بیٹھ گیا تو بولیں سنو! میرا نام دھرتی ہے میں ان کا نام سن کر حیران ہو گیا ان کی آواز میں صدیوں کی تھکن تھی۔ انہوں نے کہا بیٹا میں دھرتی سب کی ماں ہوں میرے سینے پر چلنے والے انسان، جانور میری فضاؤں میں اڑنے والے پرندے، میری کوکھ سے جنم لینے والے درخت یہ سارے میری اولاد ہیں یہ دریا یہ سمندر میری چھاتی سے بہتے ہیں یہ ہوائیں میری سانسیں ہیں جو اب انتہائی آلودہ ہو چکی ہیں۔

میں اماں کی باتوں بڑے انہماک سے سننے لگا انہوں نے کہا بیٹا یہ جو آنسو میری آنکھوں سے بہہ رہے ہیں۔ نئے نہیں بلکہ ایک عرصے سے بہہ رہے ہیں میرے سینے پر بسنے والی میری اولاد میں سے ایک قسم ایسی بھی ہے جنہیں میرے خالق نے عقل سلیم عطا کی ہے۔ اس کا نام انسان ہے انسان کا نام لیتے ہی اماں دھاڑیں مار مار کر رونے لگیں میں نے بمشکل انہیں چپ کروایا اور پوچھا اماں جی انسانوں نے کیا، کیا ہے؟ اماں چند لمحے خاموش رہنے کے بعد بولیں بیٹا تم یہ پوچھتے ہو انسانوں نے کیا کیا؟

بلکہ یہ پوچھو انہوں نے کیا نہیں کیا۔ انہوں نے میرے جسم کو سینکڑوں ٹکڑوں میں بانٹ دیا میرے جسم کے ایک ایک چپے کی خاطر انہوں نے اپنے ہی نسل کو ختم کرنا شروع کر دیا۔ گو انہوں نے میرے جسم کو بانٹ دیا پر میں تو ماں ہوں میری ممتا تو نہیں بٹ سکتی۔ جب میں اپنے جسم کے ٹکڑوں کے لیے انسانوں کو مرتا ہوا دیکھتی ہوں۔ جب جب ان کے جسموں کے ٹکڑے کٹ کٹ کر میرے سینے پر گرتے ہیں جب ان کا لہو ندیوں کی طرح بہتا ہے تو میرا دل پھٹنے لگتا ہے۔

ان انسانوں نے اپنی ہی نسل کے انسانوں کو مارنے کے لئے تلواروں خنجروں بندوقوں سے لے لے کر ٹینک توپیں، راکٹ، مزائل اور ایٹم بم بنائے زہریلی گیسیں تیار کیں انہوں نے میری چھاتی کو چیر کر اس میں ایٹمی تجربات کیے میری کوکھ کو بنجر کر دیا

بموں اور میزائلوں کی دھول نے میری سانسوں کو آلودہ کر دیا ہے انہی بموں سے ان انسانوں کے ننھے ننھے بچے بھی مارے جاتے ہیں جن کی نہ کوئی ذات ہوتی ہے نہ فرقہ نہ مسلک نہ مذہب جو صرف معصوم ہوتے ہیں۔ میرے کانوں میں میٹھا رس گھولنے والے قدرت کا عظیم تحفہ چہچہاتے ہوتے رنگ برنگے پرندے بھی اس انجانی آفت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

اماں نے پھر رونا شروع کر دیا میں نے کچھ حوصلہ دے کر اماں کی ڈھارس بندھائی تو بولیں بیٹا یہ عقل سلیم کے مالک مختلف گروہوں میں بٹ چکے ہیں ہر گروہ دوسرے گروہ سے برتری حاصل کرنے کے چکر میں ہے ان گروہوں میں بہت سے اچھے انسان بھی آئے جنہوں انہیں اچھی زندگی گزارنے کے اصول بتائے لیکن ان ظالموں نے اپنے مسیحاؤں پر ظلم کے پہاڑ توڑے ان کے خاندان تک ختم کر دیے۔

خدا کی لعنت ایسے مردودوں پر اپنے جسم سے بم باندھ کر آتے ہیں اور سینکڑوں گھروں میں صف ماتم بچھا جاتے ہیں۔

میری نظر میں وہی گروہ اچھا ہے جو انسانیت کا بھرم قائم رکھتے ہوئے انسان ہونے کا حق ادا کرے گا میں کسی کو اچھا نہیں کہہ سکتی سبھی نے مجھے دکھ پہنچایا اور خوں رلایا ہے۔

میں صدیوں سے یہ خون بہتا ہوa دیکھ رہی ہوں اب میرا دماغ ان صدمات سے بھر چکا ہے میرے سینے پر بنے یہ ظلم و جبر کے ناسور کسی دن پھٹ جائیں گے۔ تو پھر ہر طرف زلزلے آئیں گے بڑے بڑے سیلاب آئیں گے ہر طرف تباہی مچ جائے گی اور تم انسانوں کے ساتھ ساتھ میری دوسری اولاد بھی مفت میں ماری جائے گی جو عقل سلیم سے بے نیاز ہے۔

جا تو بھی چلا جا تو میرا درد کیا بانٹے گا جو اپنی نسل کے ساتھ ہی مخلص نہیں مجھے اماں کے چہرے پر آنسوؤں کے ساتھ ساتھ شدید غصہ دکھائی دینے لگا میں نے اماں کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لینے کی کوشش کی تو میرے ہاتھ مٹی کے ایک ڈھیر میں دھنس گئے جو شاید کسی دکاندار نے اپنی چھت پر ڈالنے کے لئے منگوایا تھا میرے سامنے مٹی کا ایک ڈھیر تھا اور اماں کا چہرہ غائب تھا!

Facebook Comments HS