سنہ 1967 کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ (2)
یہ جنگ فضائی برتری کی اہمیت سمجھنے کے لئے بہت اہم سبق دیتی ہے، اسرائیل انٹیلی جنس نے مصری اور شامی فضائی پائلٹس کے فضاء میں زیادہ اور کم موجود ہونے کے اوقات کی معلومات بھی حاصل کر لیں تھیں، اس لئے جب اسرائیلی لڑاکا طیارے حملہ آور ہوئے تو مزاحمت نام کی کوئی چیز ان کے مقابل نہیں آئی بتایا جاتا ہے ایک بڑی تعداد میں مصری ائر فورس کے طیارے زمین پر کھڑے کھڑے ہی راکھ کا ڈھیر بن گئی، فضائی برتری کے حصول کے بعد اسرائیل کے لئے زمینی لڑائی کافی سہل ہو گئی۔
مصری فضائیہ نے یمن میں تعینات اپنی فضائی قوت سے کسی حد تک اس چھ روزہ جنگ میں واپسی کی وہیں دوسری جانب اردن کی فضائیہ کے ساتھ یہ معاملہ نہیں ہوا جیسا ہم نے مصری فضائیہ کے معاملے میں دیکھا، وہاں پاکستانی پائلٹس موجود تھے جنھوں نے عراق اور اردن کی فضائی قوت کو کافی حد تک بچا لیا، یہ تاریخی حقیقت بلاگ میں آگے شائع ہونے والی اقساط کا حصہ ہوگی۔
مصری علاقے میں جنگ ( مغربی سیکٹر )
اسرائیلی کے جنوب مغربی سیکٹر میں مصر کے ساتھ صحرائے سینہ سے نہر سوئز تک کا علاقہ میدان جنگ بنا، فضائی برتری کے حصول کے بعد اسرائیلی بری افواج خصوصاً ٹینکوں کے لئے میدان کافی حد تک صاف تھا، کہیں مزاحمت ہوتی بھی تو زمینی مدد کے لئے اسرائیلی فضائیہ آسمان سے حملہ آور ہوجاتی، مختلف ذرائع سے مختلف اعداد و شمار مصری افواج کے حوالے سے بتائے جاتے ہیں (بحوالہ نمبر دو سائمن ڈنسٹن کی کتاب The Six Day War 1967۔ Sinai Campaign ) پیدل افواج میں مصر کے 18 انفنٹری بریگیڈ، ایک پیر ٹروپر بریگیڈ، چھ آرمرڈ بریگیڈز، دومیکانائزڈ بریگیڈ پر مشتمل تھے۔
مصری اور اور اسرائیلی افواج کا تقابل
ٹی۔ 55 ٹینک جو سویت یونین سے حاصل ہوئے تھے، یہ ٹینک صحرائی جنگ کے لئے ایک اچھا ہتھیار تھا (آج بھی دنیا بھر کے مختلف ممالک میں زیر استعمال ہے، اس کے ترمیم شدہ ورژن بھی موجود ہیں ) لیکن فضائی کوور نہ ہونا جیسے اس گراں قدر ہتھیار کو تباہ ہونے کے لئے چھوڑ دینے والا معاملہ تھا، اسرائیلی افواج کو جنگ کے ابتدائی گھنٹوں میں فضائی برتری مل چکی تھی، پھر مصری ٹینکوں کا سامنا امریکی ساختہ ایم۔ 48، برطانوی ساختہ سنچورین اور فرانسیسی ساختہ اے ایم ایکس۔
13 جیسے ٹینکوں سے ہونا تھا، روسی ٹی۔ 55 کی 100 ملی میٹر مین گن کے ساتھ ایم 48 ٹینک کی 90 ملی میٹر توپ کا مقابلہ تھا، ڈرائنگ بورڈ پر دونوں ٹینکوں کے ڈیزائن میں کوئی خاص بڑا فرق نہیں، استعداد کار بھی ایک جیسی ہی سمجھی جاتی تھیں، مغربی میڈیا جب ڈاکو مینٹری دکھا تا ہے تو مصری افواج کے پاس 1000 ٹی۔ 55 اور اسرائیل کے پاس 700 ایم۔ 48 ٹینک کی تفصیلات دیتا ہے، مصری افواج کے پاس روسی ٹی۔ 34 / ٹی 80 بھی تھے، جو تقریباً متروک آئٹم تھے، دوسری جانب اسرائیلی افواج کے پاس شرمن تھے، لیکن بہتر اس لحاظ سے کے ان پرانے ٹینکوں پر فرانسیسی اے ایم ایکس ٹینک کی توپیں نصب کی گئیں تھیں، دیگر ہتھیاروں میں اپ ڈیٹ کی گئیں، مصری افواج نے روسی مشیروں سے تربیت لی، اسرائیلی افواج کو فرانسیسی اور امریکی تربیت ملی ہوئی تھی، لیکن اپ ڈیٹ کا فیکٹر اسرائیلی کم تعداد میں بہتر ٹینکوں کے حق میں تھا، مصر کے پاس بھی کچھ شرمن موجود تھے جن کے ٹرٹس اے ایم ایکس۔ 13 ٹینکوں کے تھے، لیکن یہ کتنے تھے، اس کا ڈیٹا فی الوقت دستیاب نہیں۔ کتاب (بحوالہ نمبر دو) سینائی میں مصری ٹینکوں کی تعداد 930 بتائی گئی ہے، مصری افواج کے مشن کا نام ”قہر۔“ تھا، جنگی نتائج تو بتاتے ہیں قہر بھی ٹوٹا کہیں اور جاکر۔ یعنی الٹا مصری افواج پر!
اسرائیلی زمینی حملہ
جون 1967 ء مصری فضائی ٹھکانوں پر اسرائیلی فضائیہ کی کارروائی کے بعد اسرائیلی زمینی افواج بھی حرکت میں آ گئیں، حملے کا آغاز آٹھ بجے صبح کو ہوا، اسرائیلی ٹینکوں کا غزہ میں خان یونس رفح اور گرد و نواح میں پرانے شرمن ٹینکوں اور روسی ساختہ ٹی 34 سے سامنا ہوا، جن کو فلسطینی مزاحمت کاروں کی مدد بھی حاصل تھی، غزہ پر گرفت مضبوط کرنے کے لئے اسرائیلی اسپیشل فورسز نے بھی حصہ لیا، جو اسرائیلی ساختہ اوزی لائٹ مشین گن سے مسلح تھے۔ ان کا کام رفح میں موجود مصری ٹینکوں سے مسلح افواج اورفلسطینی دستوں کو بیکار کرنا تھا، اسرائیلی افواج نے طے شدہ منصوبے کے مطابق صرف آگے بڑھنے کی ترتیب پر عمل کیا۔
تصویر کیپشن ؛ صحرائے سینا میں جنگ کے مناظر، عرب ممالک اور اسرائیلی افواج کے ہتھیاروں تعداد، اسرائیلی زمینی کارروائی نقشے کی مدد سے دیکھی جا سکتی ہے۔
جنرل ٹال کے ساتویں آرمرڈ بریگیڈ نے غزہ کے بعد اسرائیلی آرمی کا ہدف خان یونس رفح سے ہوتے ہوئے العریش پر قبضہ کرنا تھا۔ سینائی میں دوپہر جیراڈی پاس کے مقام پر گھمسان کی جنگ لڑی گئی، اب تک کا سب بڑا نقصان اس جنگ میں اسرائیلیوں نے اٹھا یا، لیکن فوراً حکمت عملی میں تبدیلی کی جس میں اسرائیلی افواج کو اچانک زیادہ اموات اور زخمیوں کو اٹھا نا پڑا، پلڑا حملہ آوروں کا ہی بھاری رہا، غزہ سے آنے والے سنچورین یونٹس نے یہاں جیراڈی میں مصری افواج پر عقب سے حملہ کیا، جو نتیجہ خیز رہا۔
مصر کی جانب سے العریش کو بچانے کے لئے چوتھے ٹینک ڈویژن شمال کی جانب روانہ کیا گیا، لیکن اسرائیل نے اس چال کو ناکارہ کرنے کے لئے نسبتاً جنوب سے جنرل یافی کے ٹینک ڈویژن کو بھیجا گیا، سنچورین میں بیٹھے اسرائیلی فوجی بہتر گن کی وجہ سے بہتر پوزیشن میں چلے گئے، زیادہ دور سے سوویت ساختہ ٹینکوں کو نشانہ بنایا۔ سنچورین بہتر حرکت پذیری کی وجہ سے اس جنگ میں بہتر انتخاب ثابت ہوئے۔
پھر مزید جنوب ابو اگیلا میں اسرائیلی افواج کے برطانوی ساختہ سنچورین کا سامنا روسی ساختہ ٹی 55 سے ہوا، تعداد میں کم ہونے کے باوجود سنچورین کے ساتھ اسرائیلی افواج بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ شاید بہتر دور مار گن تھی، اسرائیلی افواج نے جنگی تدبیر یہ رکھی تھی کہ آگے بڑھنے کا سلسلہ بہت زیادہ وقت کے لئے نہ رکے، یہ حربہ سینائی کی جنگ میں اہم رہا، اور فضائی سپورٹ جب دستیاب ہو تو کوئی ایسا مشکل بھی نہیں تھا۔
چھ جون کی رات ابواگیلا کے محاذ پر اسرائیلی افواج نے جنرل شیرون کی قیادت میں جنگ لڑی، بتایا جاتا ہے اسرائیلی افواج کے زیر استعمال فرانسیسی ساختہ اے ایم ایکس۔ 13 ٹینکوں نے یہاں برطانوی ساختہ سینچورین کے ساتھ مل کر میدان مارا، جن کے مقابل مصری آرمی یہاں پرانے ٹی۔ 34 ٹینک استعمال کر رہی تھی جو تعداد اور صلاحیت میں دونوں میں کم تھے۔ مزید جنوب میں مٹلا پاس پر اسرائیلی افواج نے جنرل ایرل شیرون کی قیادت میں قبضہ کیا، (شیرون بعد میں اسرائیل کے وزیر اعظم بھی بنے ) ۔



