افسانۂ حیات کا عنوان ہے ماں!


ماں ایسی ہستی ہے جس کی بے لوث محبت اور بے پناہ قربانیوں کی داستانیں، دنیا کی قدیم و جدید تہذیبوں اور زبانوں میں صدیوں سے بیان کی جا رہی ہیں۔ ماں اس کیفیت کا نام ہے جو دل میں طاری ہوتی ہے الفاظ اس کیفیت کو بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ ماں کی عظمت، خدمت، رفعت و بلندی، محبت و الفت اور شان کو ہر تہذیب، مذہب اور ہر رنگ و نسل کے لوگوں میں تسلسل سے بیان کرنے کے باوجود کوئی ایک کہانی، ایک اقتباس، ایک بحر، ایک سطر اور ایک لفظ ایسا تخلیق نہیں کیا جا سکا جو ماں کی ذات کا مکمل احاطہ کرسکے۔

دنیا میں آنکھ کھولنے سے نو ماہ پہلے جو رشتہ ایک ماں اپنے بچے کے ساتھ بناتی ہے وہ بچپن، لڑکپن، جوانی اور شعور کی منزلیں طے کر کے آخری سانس تک کوئی بنا کسی صلے کے اپنی ذات کا پل پل بچے کے نام کر کے نبھاتی ہے۔

جاری ہے نسل آدمی جس کے وجود سے
ماں بندگان رب میں وہ تخلیق کار ہے
کہتے ہیں ماں کی گود ہے وہ پہلی درسگاہ
جس پہ تمام زیست کا دار و مدار ہے

آج یعنی 14 مئی بروز اتوار کو دنیا کے کئی ممالک میں ماؤں کا عالمی دن جوش و خروش کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ ماؤں کے عالمی دن کو منانے کا مقصد ماں کی محترم ہستی کی عظمت کو ایک دن تک محدود کرنا نہیں بلکہ اس کا مقصد اس دن کے ذریعے لوگوں میں اس مقدس رشتے کی اہمیت کا اجاگر کرنا اور اس کے لیے عقیدت و احترام کے جذبات پیدا کرنا ہے۔

”مدرز ڈے“ کا آغاز یونانی تہذیب میں ہی شروع ہو گیا تھا۔ یونانی تہذیب میں دیوتاؤں کی ماں گرہیسار دیوی کی تعظیم میں یہ دن منایا جاتا تھا۔ اس دن کو سرکاری طور پر تسلیم کروانے کے لیے فلاڈلفیا کی خاتون اینا جاروس نے سر توڑ کوششیں کیں۔ اینا کی ماں امن کی علم بردار تھیں اور جنگ کے دوران زخمی جوانوں کی مرہم پٹی کیا کرتی تھی ان کا انتقال 1905 ء میں ہوا۔ اینا جاروس نے اپنی ماں کی یاد میں دنیا میں سب سے پہلے باقاعدہ ”مدرز ڈے“ گریفٹن ویسٹ ورجینیا کے ایک چرچ اینڈریو میتھدسٹ میں منایا اس وقت یہ سرکاری طور پر منظور نہ تھا۔ فلاڈلفیا کو اس دن کی حیثیت منوانے کے لیے کئی سال لگے اور بالآخر 1914 ء میں اس وقت کے امریکا کے صدر ”ووڈرو ولسن“ نے اسے سرکاری طور پر منظور کر لیا۔

اینا کی جدوجہد یہیں ختم نہیں ہوئی تھی کیونکہ اینا اس دن کو تجارتی مقاصد کا ذریعہ نہیں بنانا چاہتی تھی۔ وہ سمجھتی تھی ماؤں کے لیے بچوں کے تحائف سے زیادہ ان کا وقت قیمتی ہے اس لیے ان کی خواہش تھی اس دن کو مہنگے تحائف، پھولوں اور کارڈز کی نذر نہ کیا جائے بلکہ اس کی جگہ ماؤں سے محبت کے اظہار کے لیے بچے اپنے ہاتھ سے خط لکھیں اور اپنی ماؤں کو خود کھانا اور کیک بنا کر کھلائیں تاکہ اپنے جذبات کا بہتر اظہار کرسکیں۔

لیکن افسوس کچھ برسوں میں ہی مختلف پرنٹنگ کمپنیاں میدان میں آ گئیں اور اس کے بعد پھولوں اور تحائف دینے پر اکسانے والے اشتہارات بھی شروع ہو گئے۔ ان سب سے پریشان ہو کر اینا نے ان کے خلاف مہم چلانا شروع کردی۔ اس دوران وہ ان کمپنیوں کے خلاف مظاہرے بھی کرتی رہیں اور ایسے ہی ایک مظاہرے کے دوران 1925 ء میں انہیں امن خراب کرنے کے جرم میں گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ اینا 1948 ء میں اس دنیا سے کوچ کر گئیں لیکن ان کی کوششوں سے دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف مہینوں میں ماں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ”مدرز ڈے“ منایا جاتا ہے۔

مائیں پڑھی لکھی اور باشعور ہوں تو نسلیں سنوار لیتی ہیں۔

بچے کی تربیت کا آغاز ماں کے پیٹ سے ہی شروع ہوجاتا ہے۔ ڈسکوری چینل کی ایک ریسرچ کے مطابق رحم مادر میں بچوں کو مخصوص عرصے کے دوران کچھ خاص آوازیں سنائی گئیں اور پیدائش کے بعد جب وہ آوازیں دوبارہ سنائی گئیں تو بچہ ان آوازوں سے مانوس تھا۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ ماں اور بچے کے درمیان جذباتی رشتہ رحم مادر میں ہی پروان چڑھنے لگتا ہے اور ماں اپنے بچے کے لیے جو احساسات محسوس کرتی ہے وہ انہیں سمجھ سکتا ہے۔ ماں کا پیار چاندی سا چمکتا، آب رواں سا شفاف اور موتی سا حسیں ہے۔ اس کی الفت و پاکیزگی پر کسی طور شک نہیں کیا جاسکتا۔ زندگی کا پہلا رشتہ یعنی ماں ہی وہ عظیم ہستی ہے جو نسلوں کو سنوارنے کا ہنر جانتی ہے۔

نپولین نے ماؤں کی تعلیم و تربیت کو بہتر کرنے کی اہمیت پر کہا تھا۔
”تم مجھے پڑھی لکھی مائیں دو، میں تمہیں تعلیم یافتہ نسلیں دوں گا۔“

بدقسمتی سے وقت کے ساتھ ساتھ یوم مادر کو جدت پسندی میں شامل کرتے رہنے سے اس دن کی اصل اہمیت و قدر کھوئی ہوئی سی معلوم ہوتی ہے۔ پہلے اس دن کو کارڈز، پھولوں اور تحائف کے ذریعے کمرشلائزڈ کیا گیا اور اب اس کے ساتھ ساتھ مختلف سوشل میڈیا ایپس پر چند لفظی پوسٹ لگا کر یا ماں کے ساتھ تصویر لگا کر سمجھ لیا جاتا ہے اس دن کا حق ادا ہو گیا۔

حالانکہ سال کا ہر ایک دن ماں کا ہے جس کے ہونے سے ہم ہیں۔ دنیا کا ہر ایک فرد اپنی ماں کے ہونے سے ہے تو ماں کی قدر و منزلت کو ایک دن تک محدود کردینے سے اس مقدس ہستی کی تعظیم و توقیر کو ادا نہیں کر سکتے۔ اس دن کو منانے کے لیے منوانے والی اینا کا بھی یہ مقصد ہرگز نہ تھا۔

ہمت و شجاعت، عزم و حوصلے کے ساتھ ایک ماں جہاں اس کی تخلیق کا مرحلہ سر انجام دے کر پیر پیر چلنا سکھاتی ہے وہیں سمندر میں کھڑی کسی بڑی چٹان کی طرح اپنی اولاد کی طرف بڑھنے والی ہر مشکل کو اپنے سینے پر سہتی ہے اور تاعمر صرف خالص بے غرض محبت نچھاور کرتی ہے۔ صرف یہی نہیں اس کے ساتھ ساتھ گھریلو انتظامی امور کی منتظم، روایات و رواج کی پاسدار، وفا و مہر کا پیکر اور سینے پر احساسات کی جھیل بنا کر، زندگی کی دھوپ میں مثل سایۂ ابر رحمت چھاؤں بنتی ہے۔ یہ عظیم ہستی ہر دن ہماری توجہ، خلوص، وقت اور محبت کی حقدار ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سال کے ایک دن یعنی ”مدرز ڈے“ کو افسانۂ حیات کے عنوان یعنی ماں سے محبت اور ماں کے حقوق کے شعور و آگہی کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔

اے میری ماں مجھے ہر پل رہے تمہارا خیال
تم ہی سے صبح مری میری شام تم سے ہے
یہ کامیابیاں عزت یہ نام تم سے ہے
اے میری ماں مرا سارا مقام تم سے ہے
امجد اسلام امجد

Facebook Comments HS

One thought on “افسانۂ حیات کا عنوان ہے ماں!

  • 16/05/2023 at 12:43 شام
    Permalink

    Wah wah mera bhai chaa gya bht khoob likha hai MashaALLAH MashaALLAH Maa chez hi asi hai

Comments are closed.