سنہ 1967 کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ (بلاگ کا تیسرا حصہ)
مصری افواج کے کمانڈر عبدالحکیم امیر نے اسرائیلی ٹینکوں کی وجہ سے جب مصری ٹینکوں کا برا حشر ہوتا دیکھا تو وہ دل برداشتہ ہو گئے، انھوں نے عجلت میں فوری پسپائی کا حکم دے دیا، جس کا اسرائیلی زمینی اور فضائی افواج نے مزید فائدہ اٹھایا، پسپا ہوتی ہوئی افواج جو کہ فضائی کور کے بغیر ہی پسپا ہو رہی تھیں، مزید خطرناک صورتحال میں پہنچ گئی، پسپائی کا پلان ترتیب نہ دیے جانے کی وجہ سے مصری افواج کا نقصان بڑھ گیا، جو عددی اعتبار سے اسرائیلی افواج سے بڑی تھیں۔ یوں سمجھیں فضائی برتری نہ ہونا کوئی گناہ ہو گیا ہو جیسے۔ پسپا ہوتی مصری افواج کا تعاقب کرتے اسرائیلی طیاروں اور ٹینکوں نے موقع غنیمت جان کر مزید جارحانہ طرز پر تیز جنگ لڑی، اور مصری افواج کو شدید ضرب لگائی۔
مشرقی محاذ (اردن )
میدان جنگ میں مصری افواج کا برا حال تھا، لیکن باوجود اس کے اردن کے شاہ حسین کو مصر کے صدر جمال عبد الناصر کی ضرورت سے زیادہ حوصلہ افزاء فون کال موصول ہوئی، اس میں کہا گیا، ہر محاذ پر اسرائیل کو شکست کا سامنا ہے، ایسے پیغامات کے بعد اردن کا توپ خانہ حرکت میں آ گیا، اسرائیلی حکام نے اردن کے بارڈر پر مناظر دیکھے تو امریکا سے اردن کی پوزیشن کے حوالے سے پوچھا کہ اردن کیا چاہتا ہے؟ بتایا جاتا ہے یہ بات چیت ابھی شروع ہی ہوئی تھی کہ مشرقی بیت المقدس اور اردن کے علاقوں سے اسرائیلی پوزیشنز اور شہری علاقوں پر گولہ باری شروع ہو گئی، اردن کی افواج کا پلان کا نام طارق بن زیاد کے نام پر آپریشن طارق رکھا گیا، اس کے مقاصد میں اسرائیل کو شمال اور جنوب میں تقسیم کرنے کا تھا، بحیرہ روم تک قبضہ کرنا تھا، اسرائیلی حکومت اور فوج کو مزید سوچنا نہیں پڑا، اردن کا محاذ بھی کھل گیا۔ اس جنگ کا سب سے اہم حصہ فضائی جنگ کا تھا، جو بلاگ کی اگلی قسط میں موجود ہے۔
5 جون 1967 دوپہر 11 بجے کے وقت اسرائیلی بری افواج کے 55 ویں پیراشوٹ بریگیڈ نے یروشلم کے پاس اردن کی افواج پر حملہ کیا، یہی بریگیڈ یروشلم میں داخل ہونے والا پہلا اسرائیلی فوجی یونٹ تھا، بیت المقدس، مسجد اقصیٰ اور دیوار گریا اب اسرائیلی کے قبضے میں جا چکے تھے۔ یوں فلسطین کی مکمل آزادی کے لئے لڑی جانے والی جنگ میں عرب افواج کو جنگ کے پہلے دن ایک شدید جذباتی ضرب لگی۔ 7 جون کو یروشلم پر اسرائیلی افواج نے مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔ اور جنگ کے اختتام تک بقیہ مغربی کنارہ اسرائیل کے قبضے میں تھا۔
شامی افواج
شامی افواج ایک عام فوجی قوت سے زیادہ ایک سیاسی قوت تھی اپنے ملک کی، شام میں اپنے عرب اتحادیوں کا ساتھ دینے کے لئے آپریشن جہاد کے نام سے کارروائی کرنا تھی، شام کی جانب سے مصر اور اردن کی طرح لیکن کوئی خاص حملہ آور کارروائی نہیں ہونی تھی، گولان ہائٹس سے اسرائیلی افواج کو دباؤ میں رکھنا اور گولان ہائٹس میں اپنی پوزیشنز کا دفاع کرنا یہ بنیادی مقصد تھا۔ جنگ سے پہلے 7 اپریل 1967 کو شام کے دارالحکومت دمشق کے پاس اسرائیلی طیاروں نے چھ مگ اکیس گرا کر شامی فضائی قوت پر دھاک بٹھا دی تھی، شام کی جانب سے وزیر دفاع بشار الاسد (موجودہ صدر حافظ الاسد کے والد، بعد میں شام کے صدر بنے اور تادم مرگ شام کے صدر رہے ) نے اعلان جنگ کیا، شامی افواج زیادہ تر روسی ساختہ ہتھیاروں سے مسلح تھیں، لیکن ان کے پاس دوسری جنگ عظیم کے جرمن پینزر ٹینک بھی تھے، بتایا جاتا ہے 40 پینزر ٹینکوں کے حوالے سے بتایا جاتا ہے شاید فرانسیسی حکومت کی جانب سے دیے گئے۔
مزید کچھ چیکوسلواکیہ اور اسپین سے بھی شام کو ملے۔ اپنے وقت میں اچھے بکتر سے مسلح تھے، لیکن نئی تیز رفتار جنگ میں شاید اتنے زیادہ کارآمد نہیں تھے، مشام کی جانب سے 8 جون جمعرات کی دن ڈھلنے کے بعد گولا باری شروع کردی گئی، گولان ہائٹس پر شامی توپ خانے پر اچھی پوزیشن میں تھے، جن کی حفاظت ٹینک مامور تھے، اسرائیلی فوج نے جب حملہ شروع کیا تو اس کو فضائی مدد بھی حاصل تھی بتایا جاتا ہے تقریباً چار سو ٹن کا گولہ بارود شامی افواج پر اسرائیلی فضائیہ نے گریا، آٹھ تاریخ کو شروع ہونے والی جنگی کارروائی دس جون کو اسرائیلی افواج کے گولان ہائٹس پر مکمل قبضے کے بعد ختم ہو گئی۔
مشرقی محاذ (شام)
دوستوں کو بتاتا چلوں اسرائیل کے لئے یہ محاذ مصری محاذ سے اس لحاظ سے مختلف تھا کیوں کہ مصری محاذ خالصتاً ایک فوجی محاذ تھا، مصری عددی برتری یقیناً ایک خطرہ تھی لیکن اسرائیل کے لئے شام سے اپنے لئے پانی کی سپلائی کو محفوظ بنانا بہت اہم تھا، جو خطے میں نقشے بازی (علاقائی تقسیم ) کرتے ہوئے فرانسیسی اور برطانوی آقا چھوڑ گئے تھے، بحوالہ (نمبر 2 ) صفحہ نمبر 6 1923 میں گولان کی پہاڑیاں (گولان ہائیٹس) پر مشمول دریائے اردن اور دیگر آبی ذخائر فرانسیسی زیر انتظام ملک شام کو دے گئے تھے، یہ آبی وسائل پھر اس ملحقہ زرخیز زمین اور دیگر معاملات پر عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان ایک حل طلب تنازعہ بدستور چلا آ رہا تھا، گولان ہائٹز کا رقبہ 1200 میل ہے۔
فلسطین کے مسئلے کو سمجھنے کے حوالے سے ہم پاکستانیوں کی بدقسمتی یہ بھی ہے ہماری ٹیکسٹ بکس اور دیگر کتب میں فلسطین اور اسرائیل تنازعہ سے جڑی جامع معلومات کا فقدان ہے، عرب اسرائیل جنگوں کے حوالے سے جب میں نے اس پر قلم اٹھا یا تو اس کمی کا احساس شدت سے ہوا، کیوں کہ مغربی کتب ان تمام معاملات میں اسرائیل کی جانب جھکاؤں دکھاتی ہیں، جبکہ وہ غاصب قوت ہے۔
اسرائیل کی 129 بٹالین نے دوسری جنگ عظیم کے امریکی ساختہ شرمن ٹینکوں اور ہالف ٹریک بکتر بن گاڑیوں کی مدد سے آگے بڑھنا شروع کیا، شام کی جانب سے توپ خانے کا استعمال کیا گیا، شامی افواج نے یہاں دوسری جنگی عظیم کے جرمن پینزر ٹینک استعمال کیے، جو 75 ملی میٹر کی توپ سے مسلح تھے، جو شرمن ٹینک کے پرانے حریف تھے۔
حوالہ جات
مصر کے محاذ پر جنگ
حوالہ اردن کا جنگ میں شامل ہونا
نمبر دو (The Six Day war۔ 1967 Syria Jordan (Campaign) )
https://www.pdfdrive.com/six-days-of-war-june-1967-and-the-making-of-the-modern-middle-east-e190065450.html
https://www.forces.net/news/six-days-war-fifty-years-continued-insecurity
https://www.usatoday.com/story/news/world/2017/06/05/israels-six-day-war-has-become-50-year-conflict/102317656/
https://jcpa.org/jordanian-tanks-crossed-the-jordan-valley-in-the-1967-war-against-israel/
https://www.idf.il/en/mini-sites/wars-and-operations/operation-moked-1967/



