کینیڈا سے پاکستان براہ راست پروازیں
آج کل سوشل میڈیا پر ایک خبر گرم ہے، جسے پڑھ کر کینیڈا میں رہنے والے ہر پاکستانی کا دل بلیوں اچھلتا ہے۔ خبر کچھ یوں ہے کہ کینیڈا کی ایک نجی ایئرلائن پاکستان کے لئے براہ راست پروازیں شروع کرنے جا رہی ہے۔ کینیڈا سے پاکستان کے سفر کی طوالت اور مشکلات کے بارے میں سوچ کر بدن میں جھرجھری سی اٹھتی ہے۔ فی الوقت پی آئی اے ہی واحد ائر لائن ہے جو ٹورانٹو سے براہ راست پاکستان کے لئے پروازیں چلاتی ہے۔ ٹورانٹو سے تقریباً چودہ گھنٹے کی ایک طویل پرواز کے بعد آپ لاہور، کراچی یا اسلام آباد براہ راست پہنچ سکتے ہیں۔
اتنے لمبے دورانیے کی مسلسل پرواز کافی تھکا دینے والی ہے، پر یہ طویل دورانیے کی پرواز کی آپ کو اور بہت سی مشکلات سے بچا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹورانٹو اور اس کے گردونواح میں رہائش پذیر زیادہ تر پاکستانی، پی آئی اے کی تمام تر خامیوں کے باوجود، پاکستان کے سفر کے لئے اسی پرواز کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن اگر آپ ٹورانٹو میں نہیں رہتے تو آپ کو ٹورانٹو پہنچنے کے لئے پہلے ایک ڈومیسٹک فلائیٹ لینی پڑتی ہے۔
کینیڈا رقبے کے اعتبار سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے یہاں اندرون ملک مسافتیں بہت طویل ہیں۔ مغربی کینیڈا سے ٹورانٹو کا سفر، بذریعہ ہوائی جہاز، چار سے پانچ گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔ اندرون ملک سفر کے لئے کینیڈا میں دو ہی بڑی ہوائی کمپنیاں ہیں، سرکاری ائر لائن ائر کینیڈا اور ایک نجی ائر لائن ویسٹ جیٹ۔ ان دونوں کمپنیوں کی پروازوں کے کرایوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا۔ کم آبادی اور شہروں کے درمیان فاصلے زیادہ ہونے کے باعث کینیڈا میں اندرون ملک سفر یورپی ممالک اور امریکہ کی نسبت مہنگا ہے۔ مغربی کینیڈا سے، اکثر اوقات، یورپ اور امریکہ کی پروازوں کے کرائے کم ہوتے ہیں بہ نسبت ٹورانٹو کی پرواز سے اور اکثر آپ کو مناسب منسلک پروازیں بھی نہیں ملتی، جو آپ کو پی آئی اے کی فلائٹ سے جوڑنے کے لئے بروقت ٹورانٹو پہنچا سکیں۔
اسی لئے مغربی کینیڈا میں رہنے والے، مجھ جیسے، زیادہ تر اوورسیز پاکستانی پہلے یورپ کی پرواز لیتے ہیں پھر وہاں سے کسی خلیجی ریاست کی ائر لائن پر سفر کرتے ہیں جو پہلے انہیں کسی خلیجی ریاست میں لے جاتی ہے، جہاں سے انہیں بالآخر پاکستان کے لئے پرواز ملتی ہے۔ اس سارے سفر میں عموماً تیس سے چالیس گھنٹے لگتے ہیں، جس میں پروازوں کے دورانیے کے علاوہ، دنیا کے مختلف ہوائی اڈوں پر انتظار کی کربناک گھڑیاں بھی شامل ہیں۔
اس سفر کے دوران آپ کو اکثر ہوائی اڈوں پر بہت سا پیدل چلنا پڑتا ہے اور متعدد بار سکیوریٹی چیکنگ جیسے مراحل سے بھی گزرنا پڑتا ہے، جو آپ کی تھکاوٹ میں بہت زیادہ اضافہ کر دیتا ہے اور مجھ جیسا کمزور دل انسان گھبرا کر تہیہ کر لیتا ہے کہ دوبارہ یہ سفر نہیں کرنا۔ لیکن کیا کیجیے کہ وطن کی محبت اور اپنوں سے ملنے کی چاہ کچھ عرصے بعد پھر سے یہ سفر کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
ایسے میں کینیڈا کی ایک نجی ائر لائن کی طرف سے پاکستان کے لئے پروازیں شروع کرنے کی خبر ایک تازہ ہوا کے جھونکے سے کم نہیں اور جب کینیڈا کی نجی ائر لائن کا ذکر آئے تو ذہن میں ویسٹ جیٹ کا نام ہی آتا ہے، جس کا ہیڈ کوارٹر مغربی کینیڈا کے شہر کیلگری میں ہے۔ اسی وجہ سے یہ خبر پڑھ کر گمان گزرا کہ ویسٹ جیٹ کیلگری سے پاکستان کے لئے براہ راست پروازیں شروع کرنے جا رہی ہے، لیکن خبر کی تفصیل پڑھ کر مایوسی ہوئی۔ فیسبک کی زیادہ تر پوسٹوں میں نجی ائر لائن کا نام زارا ائر ویز بتایا جا رہا ہے، جبکہ زارا ائر ویز نامی کوئی ائر لائن کینیڈا میں وجود ہی نہیں رکھتی۔ انٹرنیٹ سرچ سے پتہ چلا کہ زارا ائر ویز تنزانیہ کی ایک نجی ائر لائن ہے جس کی کینیڈا کے لئے کوئی پروازیں نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی ایسے شواہد ملے کہ وہ کینیڈا کے لئے کوئی پروازیں شروع کرنے جا رہی ہے۔
تو پھر یہ خبر کہاں سے آئی؟ انٹرنیٹ پر مزید سرچ کرنے پر پاکستان کے ایک نامور انگریزی اخبار ”دی نیشن“ کی ویب سائٹ پر سولہ مئی کو شائع ہونے والی خبر ایک خبر ملی جس کے مطابق کینیڈا کی ایک پرائیویٹ ائر لائن، جس کا نام درج نہیں، ٹورانٹو سے پاکستان کے تین شہروں لاہور، اسلام آباد اور کراچی کے لئے، اگست سے پروازیں شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اس مقصد کے لئے پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کو اجازت نامے کے لئے درخواست جمع کروا چکی ہے۔
اس خبر کی تصدیق کے لئے میں اب تک پاکستان سول ایوی ایشن، ائر کینیڈا اور ویسٹ جیٹ کی ویب سائیٹیں کھنگال چکا ہوں لیکن مجھے یہ خبر کہیں نہیں ملی۔ معلوم نہیں یہ خبر سے کہاں سے آئی ہے اور کس نے پھیلائی ہے لیکن اس پر اس وقت تک یقین نہیں جاسکتا کہ جب تک کوئی ادارہ باضابطہ اس کا اعلان نہ کر دے۔ امید ہے کہ یہ خبر سچ ہو گی اور کینیڈا میں مقیم پاکستانیوں کو سفر کے لئے ایک مزید آپشن ملے گی۔


