بھٹو خاندان: نوآبادیاتی راج سے زلفی کی پھانسی تک۔ دوسری قسط


بارہ سال کی عمر میں ذوالفقار علی بھٹو کی منگنی 22 سالہ شیریں سے ہو گئی، وہ ان کے چچا خان بہادر احمد خان بھٹو کی بیٹی تھی، یہ شادی بھٹو کی مرضی کے خلاف ہوئی تھی، اس شادی پر نکتہ نظر ہے کہ بھٹو نے یہ شادی زمینی جائیداد کے حصول کے لیے کی تھی، اگرچہ شیریں زندگی بھر بھٹو کی اہلیہ ہونے کے باوجود محبت کے رشتے سے محروم رہی اور وہ لاڑکانہ میں ہی وفات پا گئی تاہم ان کے چچا کی جائیداد کا ایک تہائی حصہ بھٹو کو ضرور مل گیا۔

تقسیم ہند کے فوری بعد ، ذوالفقار علی بھٹو 5 ستمبر 1947 ء کو امریکا روانہ ہو گئے، یونیورسٹی آف ساؤتھ کیلیفورنیا میں تعلیم کے دوران بھٹو کی زندگی میں اتار چڑھاؤ رہا۔ سٹینلے ولپرٹ اپنی کتاب زلفی بھٹو میں لکھتے ہیں کہ مارگیریٹ، میری ایلن، Leili Bakhtiyar، Anne Reynoldsکے ساتھ بھٹو نے اپنے دل کا رشتہ استوار کیا، بمبئی قیام کے دوران بھٹو ہندوستانی فلم سٹار نرگس کے عشق میں بھی گرفتار ہوئے، جب اس عشق میں ناکامی ہوئی تو بھٹو نے ثریا کریم بھائی کے گھر رشتہ بھجوایا جس پر انکار کر دیا گیا۔ اس کے بعد ، بھٹو نے نصرت اصفہانی کے ساتھ ستمبر 1951 ء میں دوسری شادی کی، ان کی دوسری اہلیہ سے بے نظیر بھٹو کی پیدائش ہوئی۔

یکم اپریل 1948 ئیو نیورسٹی آف ساؤتھ کیلیفورنیا میں اسلامی ورثہ کے موضوع پر کانفرنس کا اہتمام کیا گیا، اس کانفرنس سے خطاب میں بھٹو نے کہا میں ایک دیندار مسلمان نہیں ہوں۔ میری دلچسپی اسلام کے سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی ورثے میں ہے، اس کے بعد انہوں نے اسلامی عقیدے کی ابتدائی تاریخ اور نظریاتی ترقی اور دنیا بھر میں اس کے پھیلاؤ کے بارے میں ایک مختصر وضاحت کی، ”ہماری پوزیشن قابل رحم طور پر غیر مستحکم ہے“ بھٹو نے مزید کہا کہ سامراج نے دنیا کے ہر حصے میں ہماری زندگیاں ختم کیں، ہمارا خون بہایا۔ مسلمانوں کی نوجوان نسل، جو انصاف پر مبنی ایک نئی قوت کی رہنما ہوگی، استحصال کا خاتمہ چاہتی ہے۔ ”ایک اسلامی کنفیڈریشن کے تحت مستقبل کی دنیا میں مسلمان زیادہ محفوظ ہوں گے۔ ہمت ہمارے خون میں ہے، ہم ایک عظیم ورثہ کے وارث ہیں، ہم کامیاب ہوں گے۔

ستمبر 1948 میں قائد اعظم محمد علی جناح کی موت کے فوراً بعد ، بھٹو نے واشنگٹن میں پاکستان کے پہلے سفیر ایم اے اصفہانی کو لکھا:ہم اس اہم لمحے میں یتیم ہو چکے ہیں جب ہمیں، قائد اعظم کی کسی بھی دوسری طاقت سے زیادہ ضرورت تھی، قائد اگرچہ اب ہم میں نہیں رہے لیکن ان کی پاکیزہ روح ہمارے ذہنوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔ اپنے خاندانی پس منظر کی بناء پر بھٹو کو واشنگٹن میں پاکستانی ایمبیسی تک رسائی حاصل تھی، یونیورسٹی کی چھٹیوں کے دن وہ ایمبیسی میں ہی سفارتی امور سیکھنے کے لیے آتے، جب بھٹو امریکا گئے تو وہ اس وقت برٹش انڈین شہری تھے۔

بھٹو نے سٹوڈنٹ کونسل کے پلیٹ فارم سے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا وہ پہلے ایشین ممبر تھے، بھٹو کے سیاسی شعور اور لبرل جمہوری نظریات کا اظہار امریکی سینیٹ الیکشن کے دوران ہوا جب انھوں نے 1950 ء میں رضا کارانہ طور پر ری پبلکن پارٹی کے امیدوار رچرڈ نکسن (امریکی صدر) کے خلاف ڈیموکریٹ امیدوار ہیلن ڈگلس کی الیکشن مہم چلائی۔ بھٹو نے، یونیورسٹی سیاست کے دوران ہی خود کو سوشلسٹ قرار دیا، انھوں نے Harold Laski ’s Grammar of Politics، مارکس، اینگلز کو پڑھنے کے بعد سوشلسٹ تصورات اختیار کیے۔

سٹوڈنٹ کونسل کے پلیٹ فارم سے انھوں نے پین اسلام ازم، فلسطینی عربوں کے لیے قومیت، مراکش، تیونس اور الجزائر کے لیے فرانسیسی حکمرانی سے آزادی، ویتنام کی آزادی کے لیے آواز اٹھا رہے تھے۔ وہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر اپنے سیاسی جوہر دکھانے کے لیے پر عزم تھے، وہ مسلمانوں، درحقیقت تیسری دنیا کو سوشلزم کی طرف لے کر جانا چاہتے تھے جس میں مغربی دنیا کا تسلط باقی نہ ہو۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سے بی ایس آنرز پولیٹیکل سائنس کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد ، بھٹو 1950 ء میں برطانیہ چلے گئے۔ یہاں انھوں نے کرائسٹ چرچ کالج، آکسفرڈ میں داخلہ حاصل کیا، اور قانون کی ڈگری کے تقاضوں کے پیش نظر وہ لنکنز ان میں بھی رہے جہاں سے قائد اعظم محمد علی جناح سے بیرسٹر کی ڈگری حاصل کی تھی۔ ماسٹر ڈگری مکمل کرنے کے بعد ، سر شاہنواز بھٹو کے دوست پروفیسر ایس این گرانٹ بیلی نے ذوالفقار علی بھٹو کو ساؤتھمپٹن یونیورسٹی کی لاء فیکلٹی میں پارٹ ٹائم اسسٹنٹ لیکچرار مقرر کرایا، گرانٹ بیلی نے بھٹو کے والد کو بذریعہ خط اس لیکچر شپ کے بارے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ بھٹو کا پڑھانا کئی زاویوں سے اہمیت کا حامل ثابت ہو گا۔

بھٹو کا جاگیردارانہ پس منظر، تقسیم ہند سے قبل قائد اعظم محمد علی جناح سے بمبئی قیام کے دوران مسلسل ملاقاتیں، دوران تعلیم سوشلزم کی جانب مائل ہونا، اور امریکا و برطانیہ کے سیاسی کلچر نے انھیں پاور کوری ڈور تک پہنچنے کا ہنر سکھایا۔ بھٹو 1951 ء میں پاکستان واپس آ گئے۔ بیرسٹر بھٹو اسی پی اینڈ او لائنر پر کراچی واپس آئے جس پر مستقبل کے جسٹس دوریب پٹیل بھی سوار تھے، بیرسٹر بھٹو نے کراچی کی پرانی انڈین ائر لائنز کی عمارت میں معروف سالیسٹر رام چندانی ڈنگومل کے چیمبرز کی اوپری منزل پر ایک دفتر میں قانون کی پریکٹس کا آغاز کیا، اب بھٹو کی زندگی کے نئے باب کا آغاز ہونے والا تھا۔ بیرسٹر فخرالدین ابراہیم، بعد میں پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور سندھ کے گورنر بھی ڈنگومل کے چیمبر میں پریکٹس کرتے تھے، یہاں ان کی ملاقاتیں بھٹو سے ہوئی۔

بھٹو نے کراچی میں بار میں شمولیت اختیار کی اور سندھ کلب کے ممبر بنے، یہاں وہ آئینی قانون کے مسائل پر بات کرنے میں دلچسپی لینے لگے، سندھ مسلم لاء کالج میں آئین کے موضوع پر لیکچر دیتے، آئینی سوالات پر مضامین لکھتے، جن پر ان دنوں میں کراچی اور لاہور میں مباحثے ہو رہے تھے۔ اس وقت پاکستان کی دستور ساز اسمبلی آئین کی تیاری کے مشکلات سے دوچار تھی، ایسا آئین جو پاکستان کی 56 فیصد بنگالی آبادی کے نمائندوں کے لیے قابل قبول ہو، پنجاب کے 28 فیصد نمائندوں کے لئے جہاں سے فوج اور سول بیوروکریسی کی 85 فیصد بھرتیاں تھیں۔

سرحدی مسلمانوں، سندھیوں، پٹھانوں اور بلوچوں نے بھی اپنے مخصوص صوبائی تحفظات کو بھی دور کرنا ضروری تھا۔ مذکورہ بالا تمام طبقات و گروہوں کے درمیان اختلافات گزشتہ سات سال سے ختم نہیں ہو سکے، حتیٰ کہ 1940 ء میں قرار داد پاکستان منظور ہونے کے سات سال بعد بھی، مسلم لیگ کی لیڈر شپ آئین کا خاکہ تشکیل دینے میں ناکام رہی، یوں 14 برس سے دستور کا سنگین مسئلہ حل نہیں ہوسکا تھا۔ اسی اثناء میں گورنر جنرل غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی تحلیل کر دی۔

پاکستان نے مڈل ایسٹ ٹریٹی آرگنائزیشن (METO) یا بغداد پیکٹ میں شمولیت اختیار کی، جسے بعد میں سینٹو کا نام دیا گیا، اور ساتھ ہی ساتھ ساؤتھ ایسٹ ایشیا ٹریٹی آرگنائزیشن (سیٹو) ، اور امریکہ کے ساتھ ایک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، 1953 ء میں لاہور میں مارشل لاء کے نفاذ کے لئے متحرک کردار ادا کرنے والے اسکندر مرزا کو، میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی، جنرل مرزا کو محمد علی بوگرہ کی کابینہ میں وزیر داخلہ اور فوج کا کمانڈر ان چیف بنا دیا گیا اور جنرل محمد ایوب خان کو وزیر دفاع بنا دیا گیا۔

اسکندر مرزا، میر جعفر خاندان کے سپوت تھے، جنرل مرزا، بھٹو کے والد سر شاہنواز بھٹو کے انتہائی قریبی دوست رہے۔ دریں اثناء، صوبائی انتخابات میں مسلم لیگ کو یونائیٹڈ فرنٹ کے ہاتھوں شکست، اور ملک کو ون یونٹ میں تبدیل کرنے کے بعد ، سیاسی پارہ چڑھ گیا۔ یوں، ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستان کی سیاست میں انٹری کا سنہری موقع میسر آیا۔

بھٹو نے، 1954 ء میں ون یونٹ کی عوامی سطح پر مخالفت سے اپنی سیاست کا آغاز کیا، ون یونٹ کو صوبائی اکائیوں کا دشمن قرار دیا۔ بھٹو نے موقف اپنایا کہ ون یونٹ سے سندھ کی عظیم موہن جودڑو تہذیب، پنجاب کے آنے سرنگوں ہونے کے مترادف ہے اور ون یونٹ کا منصوبہ، سندھ کی تاریخ کا آخری باب لکھنے کی سازش ہے۔ بھٹو نے، ون یونٹ کی حمایت پر ایوب کھوڑو کی مخالفت کی، یہ وہی کھوڑو جاگیردار تھا جس نے بھٹو کے والد شاہنواز بھٹو کو 1937 ء کے الیکشن میں شکست دی تھی۔

27 سالہ بھٹو، اپنی سیاسی زندگی کے لیے پر عزم تھے، 1957 ء میں والد کی وفات کے بعد ، خاندانی جائیداد بھٹو کی ملکیت ہو گئی، ان کا بھائی امداد علی بھٹو جگر کے کینسر سے انتقال کر گیا۔ 1955 ء میں بلوچستان کے مکران ساحل پر تیل کے ذخائر تلاش کرنے کے لیے امریکا کی ہنٹ آئل کمپنی کو کنٹریکٹ دیا گیا، 1934 ء سے قائم اس امریکی کمپنی کے لئے بھٹو قانونی مشیر مقرر ہو گئے، یوں انھیں امریکیوں کے با اثر افراد کے ساتھ روابط قائم کرنے کا موقع میسر آیا۔

بھٹو کی سیاسی زندگی میں ایک نیا موڑ آیا جب ان کے خاندانی دوست جنرل اسکندر مرزا نے اکتوبر 1955 ء میں غلام محمد کو برطرف کر کے گورنر جنرل کا عہدہ سنبھالا۔ بمبئی میں شاہنواز بھٹو کی وزارت کے دوران، جنرل مرزا کے انجینئر چچا بمبئی حکومت کے لیے کام کرتے تھے، یوں مرزا اور بھٹو خاندان کے قریبی مراسم ہوئے۔ بھٹو خاندان کی دعوت پر جنرل مرزا، ہر سال شکار کے لیے لاڑکانہ آتے، یہاں ان کی ملاقاتیں ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ ہوئیں، گورنر جنرل کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ، جنرل مرزا لاڑکانہ شکار کے لیے آئے اور اگلے سال کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان کو بھی لاڑکانہ شکار کے لیے لے کر گئے، یوں بھٹو کی ایوب خان کے ساتھ ملاقاتیں ہوئی۔ دونوں جرنیلوں نے بھٹو خاندان کی فراخدلی سے مہمان نوازی کا لطف اٹھایا، شاندار دعوتوں اور شاندار پارٹیوں کو اچھے کھانے اور عمدہ شراب اور وہسکی نے خوب محفلیں سجائیں۔ مجھے (اکمل سومرو) بھی سندھ میں اس شکار گاہ جانے کا اتفاق ہوا جہاں یہ محافل ہوتی تھیں۔

ملکی سیاست میں، نئے آئین کی منظوری، قومی سیاست پر عوامی لیگ کا غلبہ تھا، موجودہ پاکستان کے تمام صوبوں کی حیثیت ختم کر کے، ون یونٹ میں تبدیل کر دیا گیا جس کے خلاف سندھ میں سخت رد عمل ہوا۔ حسین شہید سہروردی نے بھٹو کو عوامی لیگ میں شامل ہونے کی دعوت دی مگر بھٹو نے یہ دعوت قبول نہیں کی۔ دسمبر 1956 ء میں (آل انڈیا) مسلم لیگ کا صفایا ہو چکا تھا، قیام پاکستان کے صرف 9 سال بعد ہی لیگ کی سیاست کا خاتمہ ہونا، بہت سارے سوالات کو جنم دے رہا تھا، جنرل مرزا کے دباؤ پر ڈاکٹر خان صاحب کی ریبپلکن پارٹی نے عوامی لیگ سے اتحاد کر لیا تھا، مرزا نے بھٹو کو ری پبلکن پارٹی میں شمولیت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، لیکن یہ کوشش بے سود رہی۔ بھٹو کا ماننا تھا کہ کامیاب جمہوری پارٹی وہ ہے جو ایک مستقل نظریاتی مقصد کو برقرار رکھتی ہے، 1947 ء کے بعد مسلم لیگ منہدم ہو گئی، لیگ نے خود کو زندہ رکھنے کے لیے اپنے نظریے کی از سر نو تعریف تشکیل نہیں کی، جیسے ہی قیام پاکستان کو وقت گزرنے لگا، لیگ عملی طور پر دم توڑ گئی۔

جنرل مرزا نے، بھٹو کو لاڑکانہ شکار کے موقع پر، کراچی کی میئر شپ کی آفر دی، بھٹو نے یہ آفر مسترد کر دی۔ اسکندر مرزا، اس سے قبل وزیر اعظم محمد علی کو تجویز پیش کر چکے تھے کہ بھٹو کی اقوام متحدہ میں تقرری کی جائے تاہم وزیر اعظم نے اس تجویز پر ویٹو کر دیا تھا۔ میئر شپ کی آفر مسترد کرنے کے بعد ، جنرل مرزا نے بھٹو کو ستمبر 1957 ء میں، سر فیروز خان نون کی قیادت میں اقوام متحدہ جانے والے وفد میں بھٹو کو شامل کر لیا گیا اور یوں بھٹو پاکستانی وفد کے ہمراہ نیو یارک روانہ ہوئے، بھٹو کے پاس کوئی سیاسی یا عوامی عہدہ نہیں تھا، وہ خاندانی و ذاتی تعلقات کی بناء پر حکومت پاکستان کی جانب سے اس وفد میں شامل ہوئے تھے، 30 سال کی عمر میں، بھٹو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی کمیٹی سے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے خطاب کیا۔

بھٹو، اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے قومی و بین الاقوامی سیاسی منظر نامے پر نمودار ہوئے۔ اکتوبر 1957 ء سے لے کر 1959 ء تک بھٹو نے اقوام متحدہ میں چار تقریریں کیں، ان تقریروں کا مطالعہ کرنے کے بعد ، بھٹو کی ذہانت، عالمی امور پر گہری نظر اور سفارت کاری کی مہارت نظر آتی ہے۔ نیو یارک سے واپسی پر، جنرل مرزا نے بہ طور صدر پاکستان، ذوالفقار علی بھٹو کو اپنی کابینہ میں بہ طور کامرس وزیر شامل ہونے کی دعوت دی، بھٹو نے یہ دعوت قبول کر لی اور وہ جنرل مرزا کی کابینہ میں شامل ہو گئے، یوں بھٹو صرف 30 برس کی عمر میں وزیر مقرر ہوئے۔

تقسیم ہند کے وقت ایوب خان صرف کرنل تھے اور چار سال بعد ہی وزیر اعظم لیاقت علی خان نے انھیں جنرل ڈگلس کی جگہ پاکستان فوج کا سربراہ تعینات کر دیا۔ کرنل سے جنرل بننے کا سفر صرف چار سال پر محیط تھا اور یہ دنیا کی ملٹری تاریخ میں انوکھی ترقی تھی، اس غیر فطری ترقی کا خمیازہ قوم نے پہلے مارشل لاء کی صورت بھگتا۔ جنرل مرزا نے ایوب خان کے سامنے سرنڈر کیا اور انھیں چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ 20 دن بعد جنرل ایوب کو پاکستان کا وزیر اعظم مقرر کر دیا گیا۔

کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرنے کے لیے انھیں وزیر اعظم مقرر کیا گیا تھا۔ اس کابینہ میں چار جرنیلوں سمیت ذوالفقار علی بھٹو بھی شامل تھے، جنرل ایوب نے بہ طور وزیر کابینہ اجلاس کی صدارت کی۔ جنرل ایوب نے وزارت عظمیٰ کو اپنی تنزلی تصور کیا کیونکہ وہ اسکندر مرزا کے ماتحت ہو گئے تھے۔ اسی شام ایوب خان نے تین جرنیلوں کو اسکندر مرزا کے گھر بھیجا، جس میں لیفٹیننٹ جنرل اعظم خان، لیفٹیننٹ جنرل واجد علی برکی، لیفٹیننٹ جنرل کے۔ایم شیخ شامل تھے۔ ان تینوں جرنیلوں نے اسکندر مرزا کو صدر کا عہدہ چھوڑنے پر دباؤ ڈالا، مرزا نے یہ عہدہ چھوڑ دیا اور اقتدار جنرل ایوب کے حوالے کر دیا، چنانچہ وزیر اعظم بننے کے 13 گھنٹے بعد ہی جنرل اسکندر مرزا، اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے اور ایوب خان کو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا گیا۔ جنرل ایوب صرف 13 گھنٹے وزیر اعظم رہے اور اگلے دن، صدر پاکستان کا حلف اٹھا لیا، وزیر اعظم کا عہدہ ختم کر دیا گیا۔ سبکدوش اسکندر مرزا، ایک مہینے بعد لندن منتقل ہو گئے، گیارہ برس برطانیہ قیام کیا اور وہیں انتقال کر گئے، انھیں پاکستان کے بجائے تہران میں دفن کیا گیا۔

ایوب۔ بھٹو تعلقات کا نیا آغاز ہوا، کابینہ میں بھٹو نے جنرل ایوب کا اعتماد جیت لیا۔ بھٹو نے جنرل ایوب کو آئین پاکستان مرتب کرنے کی تجویز دی اور سیاسی اصلاحات کرنے پر زور دیا، چونکہ صدر کو کمانڈر ان چیف کا عہدہ چھوڑنا تھا، لہذا انہیں اپنا جانشین مقرر کرنا پڑا۔ لیفٹیننٹ جنرل محمد موسیٰ کو اس اہم عہدے کے لیے جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی، جس پر ایوب 1951 سے فائز تھے۔ اب ایوب خان کو جنرل موسیٰ کے برابر اپنے رینک کی فکر لاحق ہو گئی۔ چنانچہ، بھٹو نے ایوب کو مشورہ دیا کہ ان کا درجہ سب سے اوپر ہونا چاہیے لہذا انھیں فیلڈ مارشل کا عہدہ تشکیل دے کر، اس پر فائز ہو جانا چاہیے۔ یوں ایوب خان، پاکستان کے پہلے اور آخری فیلڈ مارشل مقرر ہو گئے اور جنرل موسیٰ کے اختیارات کو مزید کم کر دیا گیا۔

فیلڈ مارشل ایوب کو، بھٹو نے ایک قومی آئین لکھنے کی تجویز دی، وزیر تجارت کا منصب رکھنے کے 18 مہینوں بعد ، بھٹو نے نیشنل ری کنسٹرکشن بیورو اور وزارت اطلاعات کا قلمدان سنبھالا۔ تین ماہ بعد ، انھیں امور کشمیر، ایندھن، بجلی اور قدرتی وسائل کی وزارت بھی سنبھال لی، اس ذمہ داری کے بعد ، بھٹو سوویت یونین پہنچے، پاکستان میں تیل کے ذخائر کی تلاش کے لیے انھوں نے ماسکو میں اعلیٰ سطحی میٹنگز کیں کیونکہ پاکستان میں امریکا کی ہنٹ آئل کمپنی نے اپنا آپریشن بند کر دیا تھا۔

ایوب نے پاکستان میں بیسک ڈیموکریسی، ویلیج ایڈ کے منصوبے کا انچارج بھی بھٹو کو مقرر کر دیا، 1959 ء میں پاکستان میں بنیادی جمہوریتوں کا نظام متعارف کرا دیا گیا، اگرچہ بھٹو نے آئینی فریم ورک کے تناظر میں اس سسٹم کی تشکیل میں کردار ادا کیا تھا تاہم جب ایوب خان نے انھیں اپنی کابینہ سے نکالا تو یہی بھٹو تھے جنھوں نے اس نظام کو ”بنیادی فاشزم“ قرار دیا۔

سیاسی حمایت کو تقویت دینے کے لیے، ایوب خان نے سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ کیا اور انھوں نے پاکستان مسلم لیگ کے نام سے پارٹی بنا لی، ایوب نے 1962 ء میں بھٹو کو پاکستان مسلم لیگ کا جنرل سیکرٹری کا عہدہ سونپ دیا۔ بھٹو نے ایوب خان کی تعریف کرتے ہوئے کہا: ایوب ہمارا اتاترک ہے جس نے پاکستانی قوم کی عزت و وقار کو بحال کیا، انھیں صلاح الدین قرار دیا۔ یہ قربت کا نتیجہ تھا کہ ایوب خان نے بھٹو کو 1963 ء میں، 35 برس کی عمر میں پاکستان کا وزیر خارجہ مقرر کر دیا۔

بھٹو، کا سیاسی سفر بہت تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا اور وہ پاکستانی قوم کے صف اول کے حکمران بننے کی دوڑ میں تھے۔ بہ طور وزیر خارجہ، بھٹو اپنے دورے پر امریکا روانہ ہوئے، وہاں یہ امریکی صدر جان ایف کینیڈی سے ملے، اس ملاقات میں کینیڈی نے بھٹو سے کہا کہ اگر آپ امریکی ہوتے تو میری کابینہ کا حصہ ہوتے جس پر بھٹو نے جواب کہ اگر میں امریکی ہوتا، تو آپ میری کابینہ میں شامل ہوتے۔ بھٹو کے اس برجستہ جواب میں، ان کی خود اعتمادی کی جھلک نظر آئی۔

وزیر خارجہ بھٹو نے چین کے ساتھ اسٹرٹیجک تعلقات استوار کرنے کا آغاز کیا، 1963 ء میں پاکستان نے چین کے ساتھ معاہدہ کیا، بھٹو نے اس معاہدے پر دستخط کیے جس میں پاکستان نے کشمیر کے حصے پر چین کی خود مختاری کو تسلیم کیا، چین کے صدر چوین لائی نے 1964 ء میں پاکستان کا سرکاری دورہ کر کے نئے عہد کا آغاز کیا۔ پاکستان کی نئی سٹرٹیجک پالیسی پر امریکا کو تحفظات تھے اور یہ امریکی دباؤ کا اثر تھا کہ جنرل ایوب خان نے یہ بیان جاری کر دیا کہ ان کی حکومت کمیونسٹ ملک کے ساتھ گہرا رشتہ استوار نہیں کر سکتی اور نہ ہی پاکستان اپنے موجودہ اتحادیوں کو ناراض کرے گا۔

امریکی صدر کینیڈی کے قتل کے بعد ، بھٹو اور واشنگٹن کے درمیان خلاء بڑھ گئی۔ کشمیر تنازعہ پر، پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ نے ملک کو ایک نئی مشکل سے دوچار کر دیا۔ صدر ایوب نے جب 1965 ء میں واشنگٹن کا دورہ کیا تو لنڈن جانس نے ایوب خان پر دباؤ ڈالا کہ وہ وزیر خارجہ بھٹو کو عہدے سے فارغ کر دیں، وہ پاکستان کے لئے خطرہ ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم ہیرالڈ ولسن نے 1965 ء میں کہا: مجھے یقین ہے بھٹو ایک بدمعاش ہے۔ انھی دنوں ملائیشیا کے وزیر اعظم عبد الرحمن نے ولسن کو بتایا تھا کہ چین نے بھٹو کو سفارتی رسائی کے بدلے دس لاکھ ڈالرز ادا کیے تھے، اگرچہ اس الزام پر کوئی ٹھوس شواہد نہیں تھے البتہ ولسن نے بھٹو کو نا قابل اعتماد شخص تصور کیا۔

کشمیر تنازعہ پر دونوں ممالک کے درمیان معرکہ کا اختتام تاشقند معاہدے پر ہوا۔ معاہدے پر دستخط کرنے کے چند گھنٹوں بعد ، بھارتی وزیر اعظم لال بہادر شاستری کی ہوٹل کے کمرے میں پراسرار ہلاکت نے تہلکہ مچا دیا، غیر ملکی سر زمین پر وزیراعظم کی موت نے بہت سے سوالات کو جنم دیا، تاشقند فائلز کے عنوان سے نیٹ فلکس پر سیریز بھی شائع کی جا چکی ہے۔ معاہدہ تاشقند کے بعد ، جنرل ایوب اور بھٹو کے درمیان خارجہ امور پر اختلافات کا آغاز ہوا، بھٹو خارجہ پالیسی میں چین کو فوقیت دینے کے قائل تھے جبکہ جنرل ایوب امریکی بلاک سے جڑے رہنا چاہتے تھے۔ یہ اختلافات کی شدت کا عملی ثبوت تھا کہ 1966 ء میں بھٹو ایوب کابینہ سے الگ کر دیے گئے۔ یہاں سے پاکستان کی سیاسی تاریخ نئی کروٹ لیتی ہے۔ جاری ہے

Facebook Comments HS