جمہوری تالاب کی گندی مچھلی
پچھلے ایک ہفتے میں پاکستان میں سیاسی انتشار کے نام پر جو دہشتگردی کا بازار گرم رہا اسے ہر طبقہ فکر دہائیوں تک یاد رکھے گا۔ عمران خان کی گرفتاری اور رہائی کے بارے میں عام آدمی شش و پنج کا شکار ہے۔ ایک ماہر قانون سے پوچھا کہ کمرہ عدالت اور احاطہ عدالت میں کیا فرق ہے تو اس نے کہا کہ قانون کے مطابق کمرہ عدالت سے ملزم کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا لیکن وہ جوں ہی کمرہ عدالت سے احاطہ عدالت میں آتا ہے تو اسے گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان کے سپریم کورٹ سے لے کر چھوٹی عدالتوں تک یہی پریکٹس ہے۔ اگر ایک ملزم جو کہ گرفتار ہو چکا ہو اس کا جسمانی ریمانڈ دیا جا چکا ہے۔ ہمارے قانون کے مطابق جب ریمانڈ کے دوران ضمانت نہیں دی جا سکتی تو اسے رہا کرنے کا تو سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ لیکن اگر ان تمام قوانین کی موجودگی میں جن کا اطلاق ملک کے ہر ملزم اور مجرم پر ہوتا ہے، پھر کیوں عمران خان کو حد سے زیادہ غیر منصفانہ ریلیف دیا گیا۔
اب سمجھ آئی کہ محترمہ مریم نواز، بینچ فکسنگ اور ہم خیال ججز کسے کہتی ہیں۔ چیف جسٹس کی غیر معمولی طرفداری بلکہ اسے تو میں محبت کی انتہا کہوں گا کہ جن مقدمات کا عمران خان کو علم بھی نہیں وہ خفیہ ہیں ان پر بھی سپریم کورٹ کی خاص نوازش سے ضمانت دے دی گئی۔ اگر عمران خان کو عدالتوں کی طرف سے قانون کا گلا گھونٹ کر اپنی پسند کے، محبت بھرے فیصلے سنائے جا سکتے ہیں تو پھر آپ پاکستان کے تمام ملزمان اور مجرمان کو چھوڑ کر ان سے معافی مانگیں کہ آج سے پہلے ہم سے غلطی ہو گئی یا پہلے دیے گئے فیصلوں کی طرح عمران خان کے مقدمات کا بھی فیصلہ کریں۔
عمران خان پر صرف ضمانت جیسی مہربانیاں نہیں کی گئیں بلکہ آپ کو جان کر حیرت ہو گی کہ ان کی حفاظت کی چیف جسٹس کو اتنی فکر تھی کہ جب عمران خان نے کہا کہ مجھے بنی گالا جانے دیا جائے تو عدالت کی طرف سے کہا گیا جناب آپ کو کسی صورت ایسی جگہ موو نہیں ہونے دیں گے، کہ کہیں آپ دوبارہ گرفتار یا اٹھا نہ لئے جائیں لہذا آپ کو دو آپشن دیتے ہیں یا تو آپ پولیس لائن کے ریسٹ ہاؤس میں رہ سکتے ہیں یا آپ اپنے چہیتے کارکن صدر پاکستان عارف علوی کے ساتھ صدر ہاؤس میں رہ سکتے ہیں۔
ابھی یہ فیصلہ بھی نہیں ہوا تھا کہ صدر ہاؤس میں عارف علوی نے عمران خان کی پسندیدہ ڈشز پکوانا شروع کر دیں اور مٹن وغیرہ بنوایا، صدر ہاؤس کا وی وی آئی پی کمرہ بھی صاف کرا دیا گیا۔ جب فیصلہ ہوا کہ وہ صدر ہاؤس نہیں بلکہ پولیس لائن کے ریسٹ ہاؤس میں قیام فرمائیں گے تو صدر عارف علوی خود صدر ہاؤس سے عمران خان کے لئے کھانا لائے۔
جب عمران خان کی گرفتاری کی خبر چیف جسٹس نے سنی تو ان کے (تعلق) نے جوش مارا اور عمران خان کی وجہ سے پاکستان آرمی کی تنصیبات کو پہنچنے والے ناقابل تلافی نقصان کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، سپریم کورٹ میں 51 ہزار پینڈنگ کیسوں کو یکسر بھولتے ہوئے منصف اعلی عمران خان کو سہولیات اور ریلیف دینے میں مگن ہو گئے۔ عمران خان اور چیف جسٹس کی لازوال محبت کو نہ صرف قوم نے بلکہ آرمی چیف نے بھی محسوس کیا وہ سمجھ گئے کہ ان کے ادارے کو پہنچائے جانے والے نقصانات پر چیف جسٹس عمران خان کی سرزنش نہیں بلکہ اپنی خواہشات اور محبت کا اظہار ہی کریں گے لہذا انہوں نے اسے خود نمٹتے کا فیصلہ کیا اور پھر، فوجی املاک پر حملہ، جلاؤ گھیراؤ کی کارروائیوں پر آرمی چیف کی جانب سے واضح پیغام دیا گیا کہ 9 مئی یوم سیاہ کی کارروائیوں کے تمام منصوبہ سازوں، مشتعل افراد، اس پر اکسانے اور عمل کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے اور پاک افواج اپنی تنصیبات کو جلانے کی مزید کسی کوشش کو برداشت نہیں کریں گی۔ جنرل عاصم منیر نے انفارمیشن وار فیئر اور غلط فہمیاں پیدا کر نیکی کوششوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا اور کہا کہ دشمن عناصر کی جانب سے مسلح افواج کو نشانہ بنانے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے، عوام کے تعاون سے ایسی مذموم کوششوں کو ناکام بنایا جائے گا۔
وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے بھی جناح ہاؤس میں ملوث تمام شرپسندوں کو 72 گھنٹے میں گرفتار کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ حکومتی وزراء کے بیانات سے لگتا ہے کہ تحریک انصاف کے خلاف عنقریب کوئی بڑا ایکشن ہونے جا رہا ہے۔ وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ جلاؤ گھیراؤ میں ملوث افراد تربیت یافتہ دہشتگرد تھے۔ اب تحریک انصاف پر پابندی کے علاوہ اور کوئی حل نہیں ہے۔ جبکہ وزیر دفاع خواجہ آصف بھی پارلیمنٹ کے ذریعے پی ٹی آئی کو کل عدم قرار دلوانے کی بات کر چکے ہیں۔ افواج پاکستان کی تنصیبات پر پی ٹی آئی کے حملوں کے بعد پاکستان کی پبلک میں اضطراب پایا جاتا ہے۔
عمران خان رہائی پر چیف جسٹس کے شکر گزار ہیں اور وہ انہیں جمہوریت کی آخری امید قرار دے رہے ہیں، لیکن فوجی قیادت پر ان کے الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔ موجودہ آرمی چیف پر الزامات لگاتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ان کے خلاف جو کوئی کر رہا ہے وہ ’یہ سیکیورٹی ایجنسیاں نہیں ہیں، یہ ایک آدمی ہے، آرمی چیف‘ ۔ ’فوج میں جمہوریت نہیں ہے، جو کچھ ہو رہا ہے اس سے فوج کو بدنام کیا جا رہا ہے‘ ۔ ’یہ سب براہ راست اس کے حکم سے ہو رہا ہے، وہ وہی ہے جو اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ اگر میں جیت گیا تو اسے ڈی نوٹیفائی کر دیا جائے گا‘ ۔
عمران خان کی گرفتاری اور رہائی کے دوران جو کچھ ہوتا رہا فوجی اداروں پر جس طرح حملے ہوئے فوج کے خلاف جو نازیبا نعرے بازی کی گئی انہوں نے کسی ایک عمل کی مذمت کرنا تک گوارا نہیں کی، بلکہ پیٹرول بم اور ہونے والے احتجاج کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا میں احتجاج ایسا ہی ہوتا ہے۔ اور جو عمل ان کے گلے پڑنے والے تھے ان کی اس شاطر آدمی نے تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔ اور کہا کہ جس طرح شیشے توڑ کر رینجرز نے گرفتار کیا جہاں تک مجھے پتا ہے اس سے اور زیادہ ری ایکشن آنا تھا۔ افواج پاکستان کی عمارتوں اور دفاتر کو آگ لگائی گئی لیکن عمران کہہ رہا ہے کہ اس سے بھی زیادہ ہونا چاہیے تھا۔ اور کبھی کہتا ہے کہ مجھے تو پتا ہی نہیں باہر کیا ہوا میں تو گرفتار تھا۔
آنے والے دنوں میں ملک کی بڑی سیاسی پارٹیوں اور دو اہم و حساس اداروں کے درمیان میدان جنگ تیار ہو چکا ہے۔ پی ڈی ایم پیر کے روز سپریم کورٹ کے سامنے دھرنے کی تیاریوں میں ہے۔ سپریم کورٹ کے سامنے پی ڈی ایم کا دھرنا غیر معینہ مدت کے لئے ہو گا۔ محترمہ مریم نواز بھی اسلام آباد پہنچ چکی ہیں جن کی ہدایت پر راولپنڈی کی نون لیگی مقامی قیادت سمیت سجاد خان اور ناصر محمود بٹ کی قیادت میں کارکنان کو اکٹھا کیا جا رہا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے انصار الاسلام کے رضاکاروں کو بھی اسلام آباد طلب کر لیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے بھی باقاعدہ دھرنے میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے۔ پی ڈی ایم کے مطابق چیف جسٹس ایک مجرم، ایک دہشتگرد، ایک کرپٹ اور ڈاکو کے ساتھ کھڑے ہیں بلکہ ہمارے خلاف وہ عمران خان کے ساتھ ایک فریق کے طور پر کھڑے ہیں اور جو اعلی عہدے پر منصف بھی ہو اور مجرم کے ساتھ فریق بھی بن جائے تو ایسے چیف جسٹس کے کسی بھی فیصلے کو ہم نہیں مانتے۔ چیف جسٹس اب ایک متنازعہ شخصیت بن چکے ہیں۔
پاکستان کی سڑکوں پر احتجاج، فوج اور عدلیہ کا سیاسی جماعتوں سے ٹکراو اور ابتر معاشی حالت ملک کو تباہی کی طرف لے جا رہے ہے۔ ایسے حالات میں ملک کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو چاہیے کہ آپس میں دست و گریباں ہونے کی بجائے مل بیٹھ کر پاکستان کو درپیش مشکلات کا حل تلاش کریں۔ لیکن لگتا ہے پاکستان کے جمہوری و سیاسی تالاب میں کسی نے ایک ایسی گندی مچھلی چھوڑ دی ہے جس نے سارے تالاب کو گند اکر دیا ہے۔ اس گندی مچھلی کو پالنے والے جب تک اسے تالاب سے خود باہر نہیں نکالتے، اس وقت تک پاکستان کا جمہوری تالاب صاف ہونے کے بجائے مزید گندا ہی ہوتا رہے گا۔ پاکستان کی غیور عوام کو قوی امید ہے کہ گندی مچھلی کو مزید بڑا ہونے سے پہلے اس پر قابل پا لیا جائے گا، کیونکہ ملک و قوم اب مزید گند کی متحمل نہیں ہو سکتے۔


