بے بنیاد ذہن سازی کی غلطی

انسانی ذہن میں کسی مثبت نظریے کو راسخ کرنا ایک بڑا دشوار گزار اور دقت طلب کام ہے۔ کسی بھی نظریے کو انسانی ذہن میں بٹھانے کے لئے یا انسانوں میں اسے مقبول بنانے کے لئے ایک طویل عرصہ درکار ہوتا ہے۔ اس کی مثال ہمیں مذاہب کی دنیا میں بھی ملتی ہے اور دیگر نظریات کی ترویج کی تاریخ بھی اس کی گواہ ہے۔ دنیا کے بیشتر مذاہب اپنے اولین دور میں اتنے مقبول نہ تھے جتنے وہ بعد کے ادوار میں ہوئے۔ اسی طرح آپ مثال کے طور پر کارل مارکس کو دیکھ لیجیے۔
اس کی اپنی زندگی میں اس کے نظریات سے متفق لوگوں کی تعداد بہت کم تھی لیکن ایک طویل عرصے کے بعد اس کی مقبولیت عصر حاضر کے بیشتر مفکرین سے زیادہ تھی۔ جب مارکس کے نظریات کی شہرت دنیا بھر میں پھیل رہی تھی اور اقبال جیسا مسلم مفکر بھی اسے ایک پیغمبر بے کتاب کہہ رہا تھا تب مارکس کو اس دنیا سے رخصت ہوئے کئی دہائیاں گزر گئی تھیں۔
جب ہم قیام پاکستان کے بعد ہونے والی چھینا جھپٹی سے کچھ فارغ ہوئے تو اس وقت تک سیاسی عدم استحکام اپنی جڑیں ہمارے معاشرے میں بہت گہری کر چکا تھا۔ اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عسکری قیادت نے ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا۔ ہر حکومت کو اپنے جائز ہونے کا ایک جواز چاہیے ہوتا ہے۔ خواہ وہ بادشاہت ہو، جمہوریت یا مارشل لا، ایک اخلاقی جواز کے بغیر عوام پر حکومت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لہذا ہمارے مارشل لائی ادوار میں ذہن سازی پر بہت زور دیا گیا تاکہ عوام کے ذہنوں میں اپنے من پسند نظریات کو راسخ کر کے اپنے وجود کا اخلاقی جواز مہیا کیا جائے۔
اس قسم کی ذہن سازی کے لیے دو طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ایک تاریخ کو مسخ کرنا اور اس کی جگہ من گھڑت قصے کہانیوں کو فروغ دینا اور دوسرا عوام الناس میں ایک ہیجان پیدا کرنا۔ مارشل لاؤں میں ہیجان پیدا کرنے کے لیے جنگ اور جنگی بیانیہ ایک موثر طریقہ کار کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ ایوب خان صاحب کے دور میں ہم نے 1965 کی جنگ لڑی اور یحییٰ خان صاحب کے دور میں انیس سو اکہتر کی۔ ضیاء الحق کے زمانے میں ہم افغان جہاد کا حصہ بن گئے، ہم نے سیاچین کا محاذ گرم کر لیا اور مشرف صاحب کے دور میں ہم دوسری افغان جنگ کا حصہ بن گئے۔ ان جنگوں کو لڑنے کے لیے قوم میں ایک فرضی جذبہ حب الوطنی پیدا کرنا ضروری تھا جس کا کا تعلق جذبات سے زیادہ اور عقل سے کم تھا۔ کیونکہ جذبات اور ہیجان کی بنیاد پر ہی کسی نظریے کو جلدی بیچا جا سکتا ہے۔
ہمارے سیاسی ادوار عام طور پر جنگوں سے پاک رہے لیکن انہیں مارشل لاء ادوار میں کی جانے والی جنگوں کے ثمرات بھگتنے پڑے۔ تاہم ذہن سازی کا جو چسکا ہمارے مقتدر اداروں کو پڑ چکا تھا وہ نہ گیا۔ حسب معمول ذہن سازی کے لیے جھوٹے بیانیے، کھوکھلے نعروں اور ہیجان کا سہارا لیا گیا۔ اگر ہم زیادہ پیچھے نہ بھی جائیں تو آج سے قریب چالیس سال قبل اسی ٹیکنالوجی کے ذریعے ایم کیو ایم بنائی گئی۔ اس جماعت کی بنیاد ہی نفرت اور تعصب پر تھی: معاشرے میں موجود نا انصافی، ناہمواری اور تعصبات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا، ان برائیوں سے متاثرہ لوگوں کے جذبات بھڑکانا اور انہیں گروہی سیاست کی بھینٹ چڑھا دینا۔ یہ طریقہ کار کبھی کسی مثبت نتیجے کا حامل نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ عروس البلاد کراچی ایک اجڑے ہوئے قبرستان کا روپ دھار گیا۔ اس کے باسی چالیس سال سے ایک ذہنی تناؤ اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
یہ تجربہ کچھ اور علاقوں میں مذہب کے نام پر کیا گیا اور وہاں بھی اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے۔ بہت کم عرصے میں ایک کثیر تعداد کی ذہن سازی کا پروجیکٹ مکمل کر لیا گیا۔ لیکن اس کے جو اثرات ہمارے معاشرے پر مرتب ہوئے ان کو بیان کرتے ہوئے آنکھیں نم اور جگر پاش پاش ہو جاتا ہے۔ آج کے پاکستان میں ہر عمر اور ہر علاقے کے لوگ اس پروجیکٹ کے پروردہ لوگوں کے مذہب کے نام پر اٹھائے طوفان کو بھگت رہے ہیں۔
انیس سو نوے کی دہائی سے اس ذہن سازی کے لیے لیے کرپشن کا لفظ ہماری سیاست میں ایک بنیادی مقام حاصل کر گیا ہے۔ اس بیانیے میں بوقت ضرورت غداری اور مذہب کا تڑکا لگایا گیا۔ اس وقت سے سے آج تک کوئی سیاستدان اور کوئی سیاسی حکومت پاکستان میں ایسی نہیں بنی جسے اس الزام کا سامنا نہ کرنا پڑا ہو۔ ماضی بعید تو اب بھی کسی حد تک ملفوف ہے لیکن پچھلے پندرہ برس کا احوال اب بہت حد تک آشکار ہو چکا ہے اور یہ بات اب تمام تر شواہد کے ساتھ سامنے آ چکی ہے کہ اس بیانیے کی تشکیل میں ہمارے مقتدر اداروں کا ایک بڑا فعال کردار رہا ہے۔ کرپشن کے بیانیے کے زیر اثر ہماری کئی نسلیں اپنی زندگی کا کوئی نہ کوئی دور گزار چکی ہیں۔ نوجوان نے اپنا بچپن، ادھیڑ عمر نے اپنی جوانی اور بوڑھے نے اپنی وسط عمری اسی بیانیے کی آتش میں سلگتے ہوئے گزاری۔
اس نعرے کی صدا اس قدر بلند آواز میں لگائی گئی کہ اس سے پورا پاکستان گونج اٹھا۔ چاروں صوبوں میں عوام کی ایک کثیر تعداد اس بیانیے سے متاثر ہوئی۔ لیکن تاریخ کا سبق یہ ہے کہ کھوکھلے منفی بیانیے صرف تخریبی نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔ حقیقی ترقی کے لئے لیے ایک مثبت بیانئے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہذا حالات کے جبر کے تحت ایک مرتبہ پھر مقتدر اداروں نے حکومت کی تبدیلی میں بظاہر ایک خاموش کردار ادا کیا۔ ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی وہی نتائج برآمد ہوئے جو کہ اس صورت حال میں نوشتہ تاریخ تھے۔ لیکن ہم ایک مرتبہ پھر بھول گئے تھے کہ جن کو بوتل سے نکالنا تو ہمارے اختیار میں ہے لیکن اسے اس کی مرضی کے بر خلاف دوبارہ بوتل میں بند کرنا ہمارے اختیار میں نہیں۔
ہمارے مقتدر ادارے ایک مرتبہ پھر اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے اور صورتحال پر قابو پانے کے لیے وہی طریقہ کار اختیار کر رہے ہیں جو انہیں آتا ہے یعنی ایک بیانیہ کی تشکیل۔ اب بھی ہمارا بیانیہ انہی غداری، کرپشن اور مذہب کی من چاہی تفسیروں پر مشتمل ہے۔ ہم ایک مرتبہ پھر بھول رہے ہیں کہ ماضی میں بھی ہم نے کئی بار ایسے ہی کیا تھا اور اس کے نتیجے میں پرانے گروہ تو کیا ختم ہوتے ہم کوئی نہ کوئی نیا گروہ تشکیل دے دیتے۔
سیاسی جماعتوں کی اس طرح کی توڑ پھوڑ سے ہم جو سیاسی خلاء پیدا کرتے ہیں اس خلاء کو کوئی نیا مہم جو پر کر دیتا ہے۔ ہم نجانے کب یہ سیکھیں گے کہ سیاست ایک عمل پیہم کا نام ہے اور قوموں کی زندگی میں تبدیلی راتوں رات نہیں آتی۔ حکومتوں کی کارکردگی کے پیمانے میں سب سے زیادہ وزن درست سمت کا ہوتا ہے اور قوموں کی ترقی میں سب سے زیادہ کردار اس درست سمت میں مسلسل سفر کا۔ سیاسی افراتفری، عدم استحکام اور مخاصمت ہر آنے والی حکومت کو اگلی انتخابی مہم میں اپنے رائے دہندگان کے سامنے پیش کی جانے والی کارکردگی کے حصول کے لئے ایک نہایت قلیل وقت دیتے ہیں جس میں کچھ نمائشی کام تو کیے جا سکتے ہیں لیکن ایسے طویل المیعاد منصوبے نہیں بنائے جا سکتے جو ملک و قوم کی حقیقی ترقی کے لئے نہایت ضروری ہوتے ہیں۔
جس طرح ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لئے ایک مضبوط فوج کی ضرورت کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا بعینہ ان جغرافیائی سرحدوں میں بسنے والے لوگوں کو ایک قوم کی طرح آپس میں یگانگت اور انسیت کے ساتھ رہنے کے لئے سیاست اور مستحکم سیاسی جماعتیں ناگزیر ہوتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی مصنوعی شکست و ریخت اور ان کی انکیوبیٹر میں پیدائش عوام میں تفریق کا باعث بنتی ہیں اور یہ تفریق ملک کو عدم استحکام سے دوچار کر دیتی ہے۔ 9 مئی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کو سیاسی انجینئرنگ کے لئے ہر گز استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ شر پسندی میں ملوث تمام افراد کو قانون کے مطابق بلا تفریق سزا دینی چاہیے لیکن ادارے کو اپنے غیر سیاسی رہنے کے فیصلے پر کاربند رہنا چاہیے۔


Very well said