پروفیسر ڈی شومین اور جون 1949 کی پیش گوئی


‎پردیس میں رہنے والوں کو دیس کی خبریں ٹی وی یا کمپیوٹر سکرین سے ملتی ہیں۔ پچھلے چند ماہ سے خبروں کے انبار میں جو خبر تواتر سے جلوہ گر ہو رہی ہے وہ یوں ہے کہ،

‎ ”اس ملک میں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا“ ۔

‎تحریک انصاف کے قائد جناب عمران خان ہوں، پی ڈی ایم کے سربراہ جناب فضل الرحمن، عدالت عالیہ و عظمی کے جج صاحبان یا فوج کے تعلقات عامہ کے ترجمان، سب تواتر سے یہی جملہ دہرا رہے ہیں۔

وطن عزیز جس بے یقینی اور بحران کا شکار ہے اس کے تناظر میں یہ بات بالکل درست ہے کہ اس ملک میں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا لیکن طاقت کے حصول اور اقتدار کی کشمکش میں جب ایک دوسرے کے مخالف فریق ایک ہی راگ الاپ رہے ہوں تو پھر سیاست کے طالبعلموں کے لئے یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ چند گھڑی رک کر واقعات کی ترتیب پر ذرا غور کریں۔

‎عمران خان کی کسی بھی بات کا تناظر دیکھنے میں مشکل یہ پیش آتی ہے کہ مطلب سمجھ آنے تک موصوف کوئی نیا بیان جاری کر کے اپنی کہی ہوئی بات سے یکسر پھر جائیں۔ تواتر سے بدلتے بیانات سے نا تو انہیں کوئی فرق پڑتا ہے اور نا ہی ان کے کارکنوں کو۔ باجوہ صاحب سب سے پرو ڈیموکریٹک آرمی چیف ہیں اور باجوہ نے میری حکومت گرائی کی انتہاؤں کے بیچ سفر میں خان صاحب کو صرف ایک سال کا عرصہ لگا۔ ماضی کو چھوڑ کر اگر گزشتہ چند دنوں کے بیانات پر ہی غور کیجیے تو جس دن عمران خان لاہور سے نکلے اس دن انہوں نے خود پر حملے کا الزام فوج کے ایک میجر جنرل پر لگایا۔

ایک دن نیب کی تحویل میں گزارنے کے بعد اگلے دن اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بی بی سی کے نامہ کیرولین ڈیوس کے سوال کے جواب میں کہا، ”یہ سیکیورٹی ایجنسیاں نہیں ہیں یہ ایک آدمی ہے، آرمی چیف۔ وہ پریشان ہیں کہ اگر میں اقتدار میں آیا تو میں انہیں ڈی نوٹیفائی کر دوں گا“ ۔ ایک دن میں ایک میجر جنرل سے فوج کے سربراہ پر الزام لگانے اور پھر اس کے تین دن بعد انہوں نے فرمایا کہ ان کی فوج سے کوئی لڑائی نہیں، غصہ ان کی طرف سے ہے مجھے نہیں پتہ کیوں؟

‎ایسے میں خان صاحب کے کسی بیان کا تناظر اور پس منظر دیکھنا ایک لاحاصل مشق کے سوا کچھ نہیں، تاہم ان کے کارکنوں کی دلجوئی کی خاطر ان کا یہ بیان دیکھ لینے میں کوئی حرج نہیں کہ کیا ماضی میں سیاسی کارکنوں کے ساتھ ایسا سلوک ہوا ہے جو تحریک انصاف کے کارکنوں کے ساتھ ہوا؟

‎پاکستان میں سیاسی کارکنوں پر جبر کی تاریخ نہ صرف طویل ہے بلکہ انتہائی دردناک بھی ہے۔ یہ ایک کالم کا نہیں کئی کتابوں کا موضوع ہے تاہم یاد دہانی کے لئے صرف اشاروں پر ہی اکتفا کرنا پڑے گا۔ سیاسی کارکن کی بالغ نظری اور سیاسی نظریے سے وابستگی کی کہانیوں سے کتابیں اور ویب سائٹس بھری ہوئی ہیں۔ سیاسی جبر کی داستان میں بابڑہ سے لے کر ماڈل ٹاؤن تک کئی خون آشام باب آتے ہیں۔ جنوری 65 کے فسادات سے لے کر 52 سے لے کر 71 تک بنگال کی سول وار، 48 سے لے کر 2007 تک بلوچستان اور 90 کی دہائی کے کراچی کے فوجی آپریشن یا ضیاء دور کا بدترین جبر جس میں لاتعداد سیاسی کارکن نشانہ بنے۔

لیاقت علی خان سے لے کر بے نظیر بھٹو تک، ہارون بلور سے لے کر شجاع خانزادہ تک، حسن ناصر سے لے کر شہباز بھٹی تک مقتولوں کی فہرست اتنی طویل ہے کہ درد دل ہو تو انسان گنتی سے دل شکستہ ہو جائے لیکن جن بچوں کے لئے سیاسی تاریخ مینار پاکستان کے جلسے سے شروع ہوتی ہو اور جن کی معلومات کا ذریعہ ٹویٹر اور فیس بک اور عادل راجا جیسے بھگوڑوں کی دی گئی اطلاعات ہوں۔ نادان جو عمران خان کے علاوہ ہر سیاست دان کو چور اور ہر سیاسی کارکن کو بریانی کی پلیٹ کا شہید سمجھتے ہوں ان سے کیا بحث؟

‎دوسری طرف مولانا فضل الرحمن صاحب عدلیہ کے رویے پہ شاکی ہیں۔ اب کیا کیجیے کہ اسی عدلیہ نے جب 2002 میں پرویز مشرف کے ایل ایف او کو غیر قانونی قرار دیا تو یہ مولانا صاحب کا کرشمہ تھا کہ اسی ایل ایف او کو ستارہویں ترمیم بنانے میں مشرف صاحب کا ساتھ دیا۔ عدلیہ کے جسٹس صاحبان شکوہ کرتے ہیں کہ ایک سابق وزیر اعظم کو عدالت کے احاطے سے گرفتار کرنا غیر قانونی ہے لیکن کئی سابق وزرائے اعظم کو وزیراعظم ہاؤس سے گرفتار کرنے، اسی عدالت میں ایک وزیر اعظم کو سزائے موت سنانے، اسی عدالت کے ذریعے وزرائے اعظم کو نکالے جانے اور غیر جمہوری طریقے سے اقتدار پر قبضے کو جائز قرار دینے پر ان کو نہ کبھی کوئی تکلیف ہوئی اور نہ ان کے ضمیر کو کچوکے لگے۔ جہاں تک فوج کے تعلقات عامہ کے ترجمان یا بقول عمران خان صاحب آئی ایس پی آر صاحب کی بات ہے تو ان کو یہ سوال کسی اور سے

‎پوچھنے کی بجائے خود سے پوچھنا چاہیے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ عوام سے لے کر سیاستدانوں تک، دانشوروں سے لے کر شاعروں تک، کسانوں سے لے کر آئی ڈی پیز تک سب ان سے شاکی ہیں۔ سنہ 58 سے لے کر آج تک انہیں کیوں کمرے میں ہاتھی، مقدس گائے، محکمہ زراعت اور اس قبیل کے دیگر طنزیہ اشاروں کنایوں سے یاد کیا جاتا رہا ہے؟ جب تک اس سوال کا جواب خود طے نہیں کیا جائے گا معاملات جوں کے توں رہیں گے۔ اس دوران بھلے بنیادی جمہوریت اور قصاب خانوں پر جالیاں لٹکانے پر زور دیتے رہیں، جونیجو اور نماز کمیٹیوں کا فارمولا لگا لیں، نواز شریف کو پرکھ لیں، ظفراللہ جمالی اور ناظم مارکہ روشن خیالی کا نصاب رائج کر لیں یا پھر عمران خان اور انڈے مرغیوں کی افزائش کا تجربہ، نتیجہ ہر بار یہی نکلے گا جو اب آپ کے سامنے ہے۔

‎یہ درست ہے کہ اس ملک میں اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا۔ اس ملک کا قرضہ اس سے پہلے اتنا کبھی نہیں ہوا۔ یہاں بیروزگاری اس سے پہلے اتنی کبھی نہیں ہوئی۔ یہاں ڈالر، سونا اور پٹرول اس سے پہلے اتنا مہنگا کبھی نہیں ہوا۔ یہاں غیر یقینی اور مایوسی کی فضا اس سے پہلے اتنی کبھی نہیں ہوئی۔ یہاں بیک وقت، معاشی، سیاسی اور سلامتی کا بحران ایک ساتھ کبھی نہیں ہوا۔ فوج اور عدلیہ کے درمیان تناؤ، عدلیہ کی آپس میں تقسیم، عدلیہ کے خلاف دھرنے، فوج کے خلاف نعرے اور ان کے گھروں ہر حملے، خودکش دھماکوں اور دہشت گردی کی نئی لہر، آئی ایم ایف، امریکہ، دوست ممالک کا کسی بھی بیل آؤٹ پیکیج دینے میں ہچکچاہٹ، یہ سب ایک ساتھ اس سے پہلے کب ہوئے؟ اس صورتحال کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ فوج ہو یا عدلیہ، سیاستدان ہوں یا فوت شدہ سول سوسائٹی کسی کے پاس اس ابتری سے نکلنے کا کوئی حل نہیں ہے۔ عوام کے پاس امید کی کوئی کرن نہیں۔

‎پروفیسر ڈی شومین کا یہ مضمون جون 1949 میں نیویارک ٹائمز میں پاکستان کے بارے میں لکھا اور شائع ہوا تھا جس میں انہوں نے ایک تکلیف دہ پیش گوئی کی :۔

‏State of Pakistan recently came into being in South East Asia is a state manifest with enormous pitfalls unique to itself۔ It ’s existence is vulnerable as time will show۔ In less than half a Century the state will collapse because of its people۔ who are born with the chains of slavery whose thoughts cannot see love of free country and whose minds cannot function beyond the scope of personal selfish ends۔ Mark my words۔ I know their inside۔

ترجمہ:

”حال ہی میں جنوب مشرقی ایشیاء میں قائم ہونے والی ریاست پاکستان منفرد قسم کے اندرونی مسائل کا شکار رہے گی۔ وقت بتائے گا کہ اس کی بقا کمزوریوں سے مشروط رہے گی۔ یہ ریاست اپنے عوام کی وجہ سے یہ نصف صدی سے بھی کم عرصے میں تباہ ہو جائے گی۔ غلامی کی زنجیروں کے ساتھ جنم لینے والے عوام ایک آزاد مملکت کی اہمیت کا شعور رکھتے ہیں اور نہ ہی ان کے دماغ کمتر ذاتی مفادات سے آگے سوچنے کے اہل ہیں۔ میری الفاظ کو لکھ لیجیے، میں ان کے باطن سے واقف ہوں۔

ہو سکتا ہے کچھ منچلے یا خوش گمان لوگ کہیں کہ اس پیش گوئی سے پچیس سال زیادہ گزر گئے ہیں، مگر کیا ہم ایسے ہی ایک ہجوم کی طرح سال گزارتے رہیں گے یا کبھی قوم بھی بنیں گے۔ ”

زہرا نعمان

Facebook Comments HS